حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

آنحضرت ﷺ کا عشق الٰہی

(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۶؍دسمبر ۲۰۲۵ء)

اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جو نظارے ہمیں نظر آتے ہیں، احادیث میں ایسی کئی روایات ملتی ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خدا سے اس کی محبت کے طلبگار ہوتے ہوئے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِيْ يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ وَأَهْلِيْ وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ۔ (جامع ترمذی کتاب الدعوات باب دعاء داؤد: اللّٰھم انی اسألک حبک و حب من یحبک۔ حدیث 3490) اے اللہ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اےاللہ! تُو اپنی محبت مجھے میری ذات، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔

پس یہ وہ دعا ہے جو آج ہر اس شخص کو کرنی چاہیے جو آنحضرت ﷺسے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور جو یہ چاہتا ہے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کااظہار کرے۔ اللہ تعالیٰ کامحبوب بنے اور اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل فرمائے۔

اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن یزید خطمی انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرما اور اس کی محبت عطا فرما جس کی محبت مجھے تیرے حضور نفع بخشے۔ اے اللہ !میری پسندیدہ چیزیں جو تُو مجھے عطا کرے ان کو اپنی محبوب چیزوں کے حصول کے لیے میری قوت کا ذریعہ بنا دے اور میری وہ پیاری چیزیں جو تُو مجھ سے علیحدہ کر دے تو انہیں میرے لیے ان چیزوں کے حصول کے لیے طاقت کا ذریعہ بنا دے جنہیں تُو محبوب رکھتا ہے۔ (جامع ترمذی کتاب الدعوات باب دعاء: اللّٰھم ارزقی حبک و حب من ینفعی حبہ عندک۔ حدیث 3491)

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی کہ جو میری پسندیدہ چیزیں ہیں جو تُو مجھے عطا کرتا ہے ان کو اپنی محبوب چیزوں کے لیے بھی میری قوّت کا ذریعہ بنا دے، مزید طاقت بخش اور مَیں مزید ان چیزوں کو حاصل کروں جو تجھے محبوب ہیںاور ان کے ذریعہ مَیں مزید تیری محبت حاصل کرنے والا بنوں اور ان چیزوں کو حاصل کرنے والا بنوں جو تجھے پسند ہیں۔ اور فرمایا کہ جو میری پیاری چیزیں ہیں، جو چیزیں مَیں سمجھتا ہوں کہ مجھے پیاری ہیں یا میرے پیارے لوگ ہیں لیکن تُوا نہیں مجھ سے علیحدہ کر دیتا ہے تو میرے لیے ان چیزوں کو، ان باتوں کے حصول کے لیے طاقت کا ذریعہ بنا دے جنہیں تُو محبوب رکھتا ہے۔ جو چیزیں مجھ سے علیحدہ ہو گئی ہیں ان کی وجہ سے مایوسی نہیں ہونی چاہیے بلکہ مجھے اس کے بعد پھر طاقت ملے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ پسند نہیں تھیں اور اس نے مجھ سے علیحدہ کر دیں یا اللہ تعالیٰ کی یہی مرضی تھی، یہی رضا تھی تو جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی محبوب ہیں وہ مجھے مل جائیں۔ اللہ تعالیٰ مجھ سے ان چیزوں کو جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اگر لے لے تواے اللہ! جو تیری محبوب چیزیں ہیں ،جو پسندیدہ باتیں ہیں انہیں حاصل کرنے کے لیے مجھے طاقت عطا فرما۔ پس یہ اللہ تعالیٰ سے آپ کی محبت کا اظہار تھا۔

اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز نہیں پڑھی مگر آپؐ اس میں یہ کہا کرتے تھے کہ سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔ کہ پاک ہے تُو اے ہمارے ربّ! اپنی حمد کے ساتھ اے اللہ! مجھے بخش دے۔ (صحیح البخاری کتاب التفسیر باب سورۃ اذا جاء نصر اللّٰہ۔ حدیث 4967)

اللہ تعالیٰ سے محبت کے ایک واقعہ کا ذکر حضرت عائشہؓ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں سوئی ہوئی تھی تو مَیں نے رات میں آپؐ کو موجود نہ پایا۔ مَیں نے رات کے اندھیرے میں آپؐ کو ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپؐ کے پیروں پر لگا۔ آپؐ سجدے میں تھے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے تھے کہ مَیں تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں تیری ناراضگی سے اور تیرے عفو کی پناہ میں آتا ہوں تیری سزا سے۔ میں ثناء کو تجھ پر شمار نہیں کر سکتا تُو ویسا ہی ہے جیسے تُو نے اپنے آپ کی تعریف کی ہے۔ (صحیح مسلم (مترجم) اردو، جلد 2 صفحہ 240، کتاب الصلاة باب ما یقال فی الرکوع و السجود۔ حدیث 743۔ نور فاؤنڈیشن) یعنی میں تو تیری اتنی تعریف کر ہی نہیں سکتا جو تُو نے خود اپنے بارے میں کہا ہے۔ وہی تیری تعریف ہے۔

اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک جگہ فرماتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میرے ہاں باری تھی۔ میں سو گئی تو آپؐ خاموشی سے باہر تشریف لے گئے ۔مَیں نے گمان کیا کہ شاید آپؐ اپنی کسی دوسری بیوی کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ مَیں غیرت سے باہر نکلی تو کیا دیکھتی ہوں کہ آپؐ ایک کپڑے کی گٹھڑی کی طرح زمین پر سجدہ ریز ہیں۔ مَیں نے آپؐ کو کہتے ہوئے سنا: سَجَدَلَكَ سَوَادِي وَخَيَالِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي رَبِّ هٰذِهٖ يَدِي، وَمَا جَنَيْتُ عَلٰى نَفْسِي، يَا عَظِيْمُ تُرْجٰى لِكُلِّ عَظِيْمٍ فَاغْفِرِ الذَّنْبَ الْعَظِيْمَ۔ یعنی اے اللہ !تیرے لیے میرے جسم و جان سجدے میں ہیں اور میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔ اے میرے ربّ! یہ میرے دونوں ہاتھ ہیں جو تیرے سامنے دراز ہیں اور جو کچھ میں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔

اب آنحضرتﷺ تو ایسے کامل انسان تھے جن سے سوائے نیکیوں کے کچھ نظر ہی نہیں آتا لیکن آپؐ بھی یہ فرماتے ہیں کہ مَیں نے اپنی جان پر جو ظلم کیا وہ تیرے سامنے ہے۔ اے بہت عظمتوں والے !جس سے ہر بڑی سے بڑی بات کی امید کی جاتی ہے تُو سب بڑے گناہوں کو بخش دے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ کا عشق الٰہی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button