حضرت محمدﷺ کی محبت اور عبادت الٰہی کا بہترین نمونہ
(خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۶؍فروری۲۰۲۶ء)
اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اس معیارِ محبت کو قرآن کریم میں جس طرح بیان فرمایا ہے اس کی وضاحت گذشتہ خطبات میں ایک آیت کے حوالے سے کر چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔(الانعام: 163) کہ تُو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا اس آیت کی وضاحت تو گذشتہ خطبات میں ہو چکی ہے اس لیے دوبارہ اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پھر آپؐ کو فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:32)کا اعلان کرنے کا کہہ کر ہمیں بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگوں کو بتا دے کہ اگر میری اتباع کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تم اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکو گے۔ پس آپؐ کو یہ اعلان کرنے کا کہہ کر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی ان معیاروں کو حاصل کرنے کی ہدایت فرمائی ہے کہ اس کو حاصل کرنے کی حقیقی کوشش کرو۔
عبادت کے بارے میں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے ذریعے سے ہمیں بے شمار احکامات دیے ہیں۔
ایک جگہ فرمایا :وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ۔(الذاریات:57)اور میں نے جنّ و انس کو پیدا نہیں کیا مگر اس غرض سے کہ وہ میری عبادت کریں۔ پس واضح فرمایا کہ اگر تم میری پیروی کرنا چاہتے ہو تو سنو !کہ جس طرح میں نے انسان کی پیدائش کے مقصد کا ادراک حاصل کیا تم بھی یہ حاصل کرو اور اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو۔ تب ہی اپنے مقصد پیدائش کو پا سکو گے اور تب ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر سکو گے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے عبادت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک جگہ فرمایا :یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ۔(البقرۃ:22)کہ اے لوگو !تم اپنے ربّ کی عبادت کروجس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت کے معیار کو بلند تر کیا جائے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا ارۡکَعُوۡا وَاسۡجُدُوۡا وَاعۡبُدُوۡا رَبَّکُمۡ وَافۡعَلُوا الۡخَیۡرَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔ (الحج:78) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو !رکوع کرو اور سجدہ کرو اور اپنے ربّ کی عبادت کرو اور اچھے کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ احکامات ہمیں دیے تو اس کی انتہا بھی اپنے عمل سے کر کے دکھائی اور پھر ہمیں توجہ دلائی کہ حقیقی اطاعت اور پیروی تو تب ہی پوری ہوگی جب تم اس معیار پر اپنے آپ کو لانے کی کوشش کرو گے۔ آپؐ کی وہ دعائیں جو آپؐ نے اپنی امّت کے لیے کیں تب ہی ہمیں اپنی لپیٹ میں لیں گی اور ہمارے لیے فائدہ مند ہوں گی جب ہم آپؐ کے اسوہ اور احکامات کو ہمیشہ پیش نظر رکھ کر عمل کی کوشش کریں گے۔ صرف دکھاوے اور کہنے سے فیض حاصل نہیں ہو سکتا۔
بہرحال یہ نمونے جو آپؐ نے قائم فرمائے ان میں بہت سی مثالیں تو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ بعض اَور ہیں جو پیش کرتا ہوں۔
آپؐ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے بلکہ سوتے ہوئے بھی عبادت ہوتی تھی جیسا کہ آپؐ نے خود فرمایا ہے: میری آنکھ تو سوتی ہے لیکن میرا دل اللہ تعالیٰ کی یاد اور عبادت سے غافل نہیں ہوتا۔ (صحیح البخاری كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنُهُ وَلاَ يَنَامُ قَلْبُهُ،حدیث:3569)
آپؐ نے اپنے ماننے والوں کو بھی اس کی تلقین فرمائی کہ تمہارا معیار یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ پیش نظر رہے۔ اپنی عبادت کے معاملے میں کس باریکی سے آپؐ اپنا محاسبہ کیا کرتے تھے اس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہابیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی چادر میںنماز پڑھی جس میں نقش تھے۔ آپؐ نے اس کے نقشوں کو ایک نظر دیکھا ۔جب آپؐ فارغ ہوئے تو فرمایا:میری اس چادر کو اَبُو جَہْم کے پاس لے جاؤ اوراَبُو جَہْم کی اَنْبِجَانِی لوئی یعنی بغیر نقش کے سادہ چادر لے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے بے توجہ کر دیا ہے۔ یعنی ہلکی سی نظر بھی اس پر پڑی تو آپؐ کو یہ برداشت نہ ہوا کہ میں اس چادر کی طرف دیکھوں اور میری نظر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھر جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:مَیں اس کے نقش دیکھتا تھا اور میں نماز میں تھا تو میں ڈرا کہ وہ مجھے آزمائش میں نہ ڈال دے۔ (صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب إذا صلى فی ثوب لہ أعلام ونظر إلى علمها روایت 373)
اس کی شرح میں سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ نے لکھا ہے کہ اس باب کامضمون یہ ہے کہ کپڑے سادہ ہوں۔ ان میں ایسی چمک دمک نہ ہو جو توجہ ہٹائے۔ ذہنی ارتقاء کے ساتھ انسان بالطبع سادگی کی طرف مائل ہوتا ہے۔ لکھتے ہیں کہ آج کل بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سلیم الذوق لوگ کپڑے کے انتخاب میں سادہ رنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن بعض آج کل ایسے بھی ہیں جو اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور ان کی استری درست کرنے کی طرف توجہ ہوتی ہے۔ تو نماز میں تو پوری توجہ اس طرف ہونی چاہیے نہ کہ کسی کپڑے کی طرف۔ پھر لکھتے ہیں کہ نماز میں استغراق کُلّی کی ضرورت ہے۔ یعنی نماز تبھی حقیقی نماز ہو سکتی ہے جب انسان اس میں پوری طرح غرق ہو اور ڈوب کر نماز پڑھے۔ اس لیے شعائر اسلام نے نمازی کے ماحول میں ہر ایسی چیز کے وجود کو ناپسند کیا ہے جو اس کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ کس قدر کس توجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہتے تھے کہ ہلکی سی نظر بھی کسی ایسی چیز پر نہ پڑے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے توجہ ہٹانے والی ہو۔ اور اس بارے میں مختلف احادیث میں ذکر ہوا ہے کہ تصویریں نہیں ہونی چاہئیں، سامنے تصویروں والا کپڑا نہیں ہونا چاہیے اور سامنے ایسا پردہ نہیں ہونا چاہیے جس پر تصویریں بنی ہوں کیونکہ یہ ساری چیزیں نماز سے توجہ ہٹانے کی وجہ بن سکتی ہیں۔اس لیے ان سے روکا گیا ہے۔ نماز پڑھتے وقت ایسے پردے یا ایسی تصویریں سامنے نہ ہوں کہ جن کی طرف منہ کرنے سے توجہ ہٹ جائے۔ ایسی چیزیںقبلہ رخ نہ ہوں۔ (ماخوذ از صحیح بخاری مترجم (اردو)جلد 1 صفحہ 479)
اسی طرح آپؐ کے اعلیٰ ترین معیار کا ایک اَور ذکر ملتا ہے۔ حضرت جعفر بن محمدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا ہوتا تھا ؟تو انہوں نے فرمایا :چمڑے کا تھا ۔اس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوتے تھے۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا ؟تو آپؓ نے فرمایا: وہ پشم کا تھا۔ یعنی نرم اُون جانور کے جو بال تھے ان کا بنایا ہوا تھا۔ میں اس کی دو تہیں لگا دیتی تھی وہ ذرا نرم ہو جاتا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوتے تھے۔ ایک رات مَیں نے سوچا کہ کیوں نہ اس کی چار تہیں لگا دوں تاکہ یہ اَور زیادہ نرم اور آرام دہ ہو جائے تو آپؐ کے لیے زیادہ راحت کا باعث ہوگا۔ چنانچہ ہم نے اس کی چار تہیں لگا دیں ۔جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم نے رات میرے لیے کیا بچھایا تھا؟ حضرت حفصہ ؓکہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا وہ آپؐ کاہی بستر تھا ۔صرف ہم نے اس کی چار تہیں لگا دی تھیں تاکہ وہ آپؐ کے لیے زیادہ آرام دہ ہوجائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اسے پہلے جیسا ہی رہنے دو کیونکہ اس کی زیادہ نرمی میرے لیے رات کی نماز میں روک بن رہی تھی۔ (شمائل النبیﷺ صفحہ 134 باب ما جاء فی فراش رسول اللہ ﷺ، روایت 314، نور فاؤنڈیشن)
مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ کی بلند شان اور مقام ارفع کا ذکر




