پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مہر محمد داؤد)

۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

ریاستی، قانونی اور انتظامی جبر و استبداد

جماعت احمدیہ پر ظلم وستم کو مکمل طور پر ایک قانونی شکل دی گئی ہے بلکہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس کی سرپرستی بھی کی جا رہی ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعات واضح طور پر اقلیتوں اور خصوصی طور پر احمدیوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بناتی ہیں۔

نوکھر، گوجرانوالہ۔۲۹؍جنوری: ضلع گوجرانوالہ کے گاؤں نوکھر میں پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کے تحت ایک احمدی خاتون، ان کے داماد اور مقامی جماعت احمدیہ کے ایک عہدیدار کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ احمدی خاتون ایک لیڈی ہیلتھ ورکر ہیں۔ ان کو اس مقدمے میں اس وقت پھنسایا گیا جب ان کی ایک ہمسائی نے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کے لیے ایک مدرس کے متعلق مشورہ مانگا۔جب اس ہمسائی نے کہا کہ اگر اس وقت کوئی بھی مدرس دستیاب نہیں ہے تو ایک احمدی مربی سے اپنے بچوں کو قرآن پڑھا لو۔ تحریک لبیک کے شدت پسندوں نے اس بات کو جواز بنا کر ان پر مقدمہ درج کروا دیا جس میں ان کا مقامی راہنما جنید الرحمان پیش پیش تھا۔

۲۸؍جنوری کو پولیس نے موصوفہ اور ان کے شوہرکو پوچھ تاچھ کے لیے سینٹرل پولیس آفس میں بلایا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ اگلے روز پولیس نے موصوفہ، ان کے داماد اور ایک مقامی عہدیدار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس نے احمدی خاتون کو حراست میں رکھا لیکن ان کے شوہر کو جانے دیا کیونکہ ان کا نام مقدمے میں درج نہیں تھا۔ بعد ازاں انہیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا اور ۱۰؍روز کا ریمانڈ حاصل کر کے انہیں گوجرانوالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ اس نوعیت کے مقدمے میں اتنا لمبا ریمانڈ دیا جانا غیرمتوقع ہے۔ ۷؍فروری کو نوشہرہ ورکاں کے مجسٹریٹ عمر فاروق نے ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج نوشہرہ ورکاں حفیظ الرحمان کے سامنے اپیل کی گئی لیکن اس نے بھی اسے مسترد کردیا۔ اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی جسے ۲۶؍مارچ کو جسٹس راجہ غضنفر علی نے قبول کر لیا۔

۱۶۶ مراد،ضلع بہاولنگر۔۸ اور ۹؍مارچ: ۸؍مارچ کو ۱۶۶ مراد گاؤں میں قریبی علاقوں پنجگرائیں اور تنبہ کے رہائشیوں کے درمیان تنازع ہو گیا۔ اس جھگڑے کے دوران امجد سائیں نامی ایک نوجوان جو نشہ کا عادی اور دل کا مریض تھا، بے ہوش ہو کر گر گیا۔ ہسپتال لے جاتے ہوئے وہ شخص جاں بحق ہو گیا۔ اس سارے وقوعے کے دوران کوئی بھی احمدی موقع پر موجود نہ تھا۔ اس کے فوراً بعد تحریک لبیک کے شدّت پسندوں نے سوشل میڈیا پر ایک نفرت انگیز مہم کا آغاز کر دیا کہ امجد سائیں کی موت کے ذمہ دار احمدی ہیں اور امجد سائیں کو ’’اسلام کا سپہ سالار‘‘ کے نام سے پکارنے لگے۔ اس کے ساتھ ہی وہ احمدیوں پر مقدمہ درج کر نے اور احمدیہ مسجد کو گرانے کے لیے اپیلیں کرنے لگے۔ اسی شام ڈاہرانوالہ میں تحریک لبیک کے شدت پسندوں نے احتجاج کیا انہوں نے ٹائر جلا کر راستے روک دیے اور احمدیت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ پولیس موقع پر موجود تھی لیکن انہوں نے صرف ان شورشیوں سے مذاکرات کیے انہیں وہاں سے ہٹانے کے لیے کوئی بھی کارروائی نہ کی۔ ۹؍مارچ کو احمدیہ مسجد کے باہر پولیس کی نفری موجود تھی لیکن اس کے باوجود ان شورشیوں کا ایک جتھہ مسجد پر حملہ آور ہوگیا اور مسجد کی عمارت کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا۔ ان حملہ آوروں نے حفاظتی کیمرے بھی توڑ دیے اور مسجد کے اندر لگی ہوئی لائٹیں بھی۔ شدّت پسندوں کے دباؤ میں آکر پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات ۳۰۲، ۱۰۹، ۱۴۸، اور ۱۴۹ کے تحت جماعت احمدیہ کے سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمے میں الزامات عائد کیے گئے کہ احمدیہ مسجد اس گاؤں میں تنازعات کا سبب بن رہی ہے اور احمدیوں نے ختم نبوت کی ایک تقریب کو برباد کیا ہے اور امجد سائیں کو اس کے گھر میں تشددکر کے مارا ہے۔ مقامی جماعت احمدیہ کے عہدیداران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اور انہیں جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ بعد ازاں پولیس بھاری مشینری لے کر آئی اور احمدیہ مسجد کے مینار گرا دیے۔ مزید تشدد کے خوف سے احمدی افراد گاؤں چھوڑ کر وقتی طور پر دوسری جگہ منتقل ہوگئے۔ لیکن اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک لبیک کے شدّت پسندوں نے احمدی افرادکے گھروں کو لوٹ لیا۔

نارووال۔۲۰؍اپریل: تھانہ ندوکی ضلع نارووال میں چار افراد کے خلاف دفعہ ۵۰۶(ii) اور ۳۴ کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ اس مقدمے کا سبب جمشید اکبر نامی فرد کی جانب سے الزام لگایا جانا تھا کہ اسے احمدیوں نے ڈرایا دھمکایا ہے۔ یہ مقدمہ ا س سے پہلے درج ایک مقدمے کی ہی کڑی تھی جو کہ ۱۹؍ستمبر ۲۰۲۴ء کو چار احمدیوں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں دفعہ ۱۰۹ اور۲۹۵۔ب کے تحت درج کیا گیا تھا۔ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور پانچ ماہ حراست میں رکھنے کے بعد تین ملزمان کو ہائی کورٹ کے حکم نامے کے تحت ۴؍فروری ۲۰۲۵ء کو رہا کر دیا گیا تھا۔ ۳؍دسمبر کو سپریم کورٹ نے باقی دو کو بھی رہا کردیا۔ ۱۹؍اپریل کو جب مقدمے کی سماعت کے لیے یہ لوگ عدالت جا رہے تھے تو راستے میں ہی مخالفین نے ان احمدیوں کو گالی گلوچ کی اور خود ہی ڈی پی او کے پاس جا کر شکایت درج کروا دی کہ احمدیوں نے اسلحہ دکھا کر انہیں ڈرایا دھمکایا ہے۔ ڈی پی او نے ندوکی تھانے کے ایس ایچ او کو کہا کہ احمدیوں کے خلاف کارروائی کرے جس کے نتیجے میں اس نے احمدیوں پر ایک اَور مقدمہ درج کردیا اور دو احمدیوں کو حراست میں لے لیا۔

کوٹ مرزا جان، ضلع گوجرانوالہ۔جولائی: ۱۸؍جولائی کو ضلع گوجرانوالہ کے علاقے واہنڈو کے تھانے میں ۱۱؍احمدیوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۸۔ب اورج نیز ۵۰۶ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ یہ مقدمہ تحریک لبیک کے ایک شدّت پسند عبدالجبار نے درج کروایا اور مقدمے کا متن یہ تھا کہ ان احمدیوں نے نماز جمعہ ادا کی ہے۔ مقدمے میں پانچ نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ا س روز نماز جمعہ واہنڈو کی احمدیہ مسجد کے بجائے ایک احمدی کے گھر میں اد اکی گئی تھی۔واہنڈو تھانے کا ایس ایچ او ۱۰؍کے قریب پولیس اہلکاروں کے ہمراہ اس گھر میں داخل ہوا جہاں پر احمدی نماز جمعہ ادا کر رہے تھے۔ درایں اثناء اس گھر کے باہر تحریک لبیک کے شدّت پسند بھی جمع ہوگئے۔ پولیس اہلکار احمدیوں کو اپنے ساتھ اس گھر سے باہر لے گئی لیکن ان کو گرفتار نہیں کیا تاہم ان تمام احمدیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ کامونکی کے ایڈیشنل سیشن جج نے ۲۲ سے ۲۸؍جولائی کے درمیان ان تمام احمدیوں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی۔

بھڑی شاہ رحمان، ضلع گوجرانوالہ: ماہ جولائی میں ایک احمدی پر توہین کا جھوٹا الزام لگا کر دفعہ۲۹۸۔ج کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ۲؍جولائی کو کوٹ لدھہ کے پولیس سٹیشن میں سفیان کے خلاف جو مقدمہ درج کیا گیا اس کی سزا تین سال تک قید اوربھاری جرمانہ ہو سکتی تھی۔ چار ماہ تک پولیس کی تفتیش اور عدالتی سماعتوں کے بعد سفیان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔ یہ مقدمہ عثمان غنی نامی ایک شخص کی مدعیت میں درج کیا گیا لیکن بعد ازاں پولیس نے عثمان غنی کو ایک ڈکیتی کی واردات میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کے بعد یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ جھوٹا مقدمہ عثمان غنی نے ایک مقامی مولوی کے ساتھ ساز با ز کر کے درج کروایا تھا۔ اس پر عثمان نے چاہا کہ وہ مقدمہ واپس لے لے لیکن تحریک لبیک کے شدّت پسندوں نے عثمان غنی اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالا کہ مقدمہ ختم نہ کیا جائے۔ بلکہ پولیس اہلکاروں کو اس معاملے میں نرمی دکھانے کی کوشش پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔ تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے باوجودبھی احمدی کے مقدمے کو لٹکایا گیا۔ بالآخر اکتوبر ۲۰۲۵ء میں حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی گئی تو ہی پولیس اور انتظامیہ نے اس مقدمے کو بھی ختم کر دیا۔ اس مقدمے میں بھی معافی چار ماہ تک قانونی شکنجے میں پھنسے رہنے کے بعد ہوئی۔ اور اس سارے عمل میں کوئی بھی گواہ یا ثبوت پیش نہ کیا گیا۔

علی پارک، گوجرانوالہ: ۶؍جولائی کو سیٹلائیٹ ٹاؤن کے پولیس سٹیشن میں پولیس نے جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔ دو احمدیوں نے اپنے گردونواح میں بریانی کے ڈبے تقسیم کیے۔ یہ اتفاقاً ۱۰؍محرم کا دن تھا۔ فیضان احمد نامی ایک شخص کی شکایت پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور ایک احمدی کو حراست میں لے لیا۔۱۵؍جولائی کو سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ سدرہ نواز نے اس احمدی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ بالآخر چند ہفتوں بعد ان کی درخواست منظور کر لی گئی۔

170/10R۔ضلع خانیوال: ماہ جولائی میں شدّت پسندوں کی جانب سے 170/10R گاؤں کی دیواروں کو احمدیت مخالف شر انگیز تحریرات سے بھر دیا گیا۔ اس بات کی شکایت احمدیوں نے پولیس سے کی جس پر پولیس نے کہا کہ آپ خود سے ان تحریرات کو مٹانے کی کوشش نہ کریں۔بعدازاں پولیس نے خود ان تحریرات کو مٹانا شروع کر دیا۔اسی دوران کچھ احمدی افراد نے اپنے گھروں کے باہر لکھی ان تحریرات کو خود مٹایا جس کی ویڈیو مخالفین نے بنا لی۔ اور ان احمدیوں پر الزام عائد کر دیا کہ انہوں نے توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ ۲۰؍جولائی کو پولیس نے پرانے اورموجودہ مقامی صدران جماعت کو تھانے بلایا اور ان پر تحریرات مٹانے کا الزام لگا دیا۔ ڈی ایس پی نے فریقین کی باتیں سنیں۔ احمدیوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ انہیں خود تحریرات کو نہیں مٹانا چاہیے تھا۔ اس پر فریقین میں صلح ہو گئی۔ لیکن ۲۳؍تاریخ کو ایک مقامی وکیل کے اکسانے پر مقامی مذہبی گروہ نے پولیس کو مقدمہ درج کر نے پر مجبور کر دیا۔ اسی دوران تحریک لبیک کے شدّت پسندوں نے پولیس کو توہین کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر نے کے لیے کہا۔ اس پر پولیس نے دفعہ ۲۹۵۔الف کے تحت ایک مقدمہ درج کر لیا۔پولیس نے ایڈوکیٹ محمد افضل کی مدعیت میں چھ معلوم اور پانچ نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔۲۸؍جولائی کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ فیصل رشید نے تمام نامزد افراد کی عبوری ضمانت منظور کر لی۔

سانگلہ ہل ضلع ننکانہ: سانگلہ ہل میں پولیس نے مقامی شدّت پسندوں کے دباؤ میں آکر ایک احمدی تاجر کی دوکان کے باہر لگے بورڈ پر موجود اسلامی کلمات کو مٹا دیا۔ اس بورڈ پر دو سال سے لکھے ہوئے کلمہ اور ماشاءاللہ کے الفاظ کو ۲۵؍جولائی کو پولیس نے آکر مٹا دیا۔ پولیس اہلکار مارکیٹ میں آئے اور ان الفاظ پر پینٹ سے سپرے کر دیا۔ اس کے بعد مخالفین نے ایک اَور احمدی شخص کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالا۔ لیکن پولیس نے صاف انکار کر دیا۔ اس پر وہ لوگ عدالت پہنچ گئے اور سیکشن ۲۲-A کے تحت جج کے ذریعے پولیس کو مجبور کیا کہ وہ اس احمدی کے خلاف مقدمہ درج کرے۔ اس پر پولیس نے عدالت کوبتایا کہ یہ بورڈ دو سال سے آویزاں تھا اب اس بورڈ سے اسلامی الفاظ ہٹا دیے گئے ہیں۔ اس پر سیشن جج نے یہ مقدمہ خارج کر دیا۔

کلسیاں بھٹیاں۔ ضلع شیخوپورہ: ۲۹؍جولائی کو پولیس نے احمدیوں کے خلاف اس وقت مقدمہ درج کر لیا جب مخالفین نے احمدیوں کے ساتھ جھگڑا کیا۔ پولیس نے مختلف دفعات جن میں نقض امن کی دفعہ بھی شامل تھی ۲۴؍افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ مقدمے درج کرنے کے فوراً بعد پولیس نے ایک احمدی کو گرفتار کر لیا۔ اس سارے معاملے کا آغاز ۲۸؍اگست کو اس وقت ہوا جب مخالفین نے ایک جلوس احمدیہ مسجد کی طرف نکالا۔ جلوس میں شامل شرپسندوں نے احمدیت مخالف نعرے بازی کی اور احمدیوں کو اکسانے کی کوشش بھی۔جب احمدیوں نے جلوس کو مسجد کےقریب جانے سے روکا تو جھگڑا شروع ہوگیا۔ اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ ان شرپسندوں نے ہی جان بوجھ کر احمدیوں سے جھگڑا شروع کیا پولیس نے احمدیوں کو ہی مورد الزام ٹھہرا دیا۔ ۳۰؍اگست کو سات نامزد احمدیوں اور ایک مخالف نے ایڈیشنل سیشن جج شیخوپورہ محمود احمد کی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دی جسے جج نے ۸؍ستمبر کو سماعت تک منظور کر لیا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: پریس ریلیز: محب وطن پاکستانی احمدیوں کو عبادات سے روکنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button