اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
برموچ گوئی ضلع کوٹلی آزاد کشمیر
۱۱؍مارچ کو جماعت احمدیہ کے ممبر قربان حسین صاحب برموچ گوئی ضلع کوٹلی میں اپنی دکان کے اندر نماز ادا کر رہے تھے جب ان پر مخالفین کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔ اس وقت تک حملہ آوروں کے خلاف کوئی بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں شام کے وقت نامعلوم افراد کی جانب سے گاؤں میں موجود احمدی افراد کے گھروں پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔برموچ گوئی لائن آف کنڑول کے قریب ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جس میں تقریباً سات کے قریب احمدی گھر ہیں۔ اس گاؤں میں اس سے قبل بھی احمدیوں کو تشدّد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس میں احمدی افراد کی قبروں پر حملے بھی شامل ہیں۔
ملک گیر واقعات پر ایک نظر
۱۸؍اپریل کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران احمدیہ ہال کراچی کے باہر تحریک لبیّک کے شدّت پسندوں کا بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ ہجوم نے نمازیوں کا گھیراؤ کر کے تمام خارجی راستوں کو بند کر دیا۔ اور احمدیت مخالف نعرے بازی کرنے لگے۔ اس شورش کے دوران ہجوم نے ۴۶؍سالہ احمدی لئیق احمد چیمہ پر اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ یہ حملہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ پولیس اس موقع پر موجود تھی لیکن نہ تو اس پرتشدّد کارروائی میں مداخلت کی اور نہ ہی لئیق احمد چیمہ کو بچایا اور نہ ہی ہنگامی صورتحال کو قابو کرنے والے کسی ادارے کو اطلاع کی۔ ۲۰۲۳ء میں بھی احمدیہ ہال پر دو بار حملہ کیا گیا جس میں اس کے میناروں کو مسمار کیا گیا۔ جماعت احمدیہ کے قائدین نے کئی بار انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کیا کہ احمدیہ ہال پر مزید حملوں کا اندیشہ ہے لیکن انتظامیہ نے کسی قسم کا کوئی حفاظتی بندوبست نہیں کیا۔
لئیق احمد چیمہ کی شہادت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب ۲۰۲۵ء کے رمضان میں احمدیوں کے خلاف مذہبی پابندیاں اپنے عروج پر پہنچی ہوئی تھیں۔ احمدیوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کے لیے روکاوٹیں پیدا کی جارہی تھیں ،مسجدوں کو سیل کیا جارہا تھا اور جھوٹے مقدمات میں احمدیوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا۔ اس تمام صورت حال کے بعد پولیس نے موصوف کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی بجائے جماعت احمدیہ کے ممبران پر ہی مجرمانہ سرگرمی میں ملوّث ہونے کے متعلق کارروائی کا آغاز کر دیا۔
۵؍مئی کو پولیس نے پریڈی پولیس سٹیشن میں جماعت احمدیہ کراچی کی قیادت اور ۳۵ سے ۴۰؍نامعلوم احمدی افراد پر ایک مقدمہ درج کر لیا۔عبدالقادر پٹیل نے درخواست دی کہ ۱۸؍اپریل کو احمدی افراد نے احمدیہ ہال میں نماز جمعہ ادا کی۔ اسی دن جب لئیق احمد چیمہ کو شہید کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ اس وقت درج کیا گیا جب پولیس نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا تھا اور عبدالقادر پٹیل نے عدالت سے ضابطہ فوجداری کی شق 22-A اور 22-B کے تحت ایک حکم نامہ حاصل کیا۔ تاحال قاتلوں کے متعلق نہ تو کوئی کارروائی عمل میں آئی ہے اور نہ کوئی گرفتاری۔
اس کے کچھ ہی دن کے بعد بھلیر ضلع قصور میں ۱۹؍سالہ احمدی نوجوان محمد آصف کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ محمد آصف اپنے احمدی دوست اسنان احمد صاحب کے ساتھ گھر واپس آرہے تھے جب نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے تقریباً سو میڑ کے فاصلے پر ان پر حملہ کر دیا۔ محمد آصف کو کمر میں گولی لگی اور خون کے ضیاع کے باعث شہید ہوگئے جبکہ اسنان احمد صاحب کو ٹانگ میں گولی لگی لیکن ان کی زندگی محفوظ رہی۔ حملہ آور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ شہادت بھی عرصہ دراز سے مستقل انداز میں بھلیر میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیزی کا یک شاخسانہ ہے۔ اس شہادت سے دس سال قبل بار ہا احمدیوں نے ہراسانی ،دھمکیوں ،اپنے گھروں پر فائرنگ اور کھلے عام احمدیوں کے بائیکاٹ کے متعلق انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا۔
۱۶؍مئی کو معدہ کے امراض کے ماہر احمدی ڈاکٹر ۵۸؍سالہ شیخ محمد محمود صاحب کو سرگودھا میں فاطمہ ٹرسٹ ہسپتال کے باہر شہید کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر محمود صاحب کو ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے کئی بار دھمکیاں دی جا چکی تھیں۔ان پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے کچھ ہی دیر بعد اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی اہلیہ اور ڈرائیور کے ساتھ ہسپتا ل کے احاطے میں داخل ہو رہے تھے۔ حملہ آور نے ستھرا پنجاب کے صفائی کرنے والے ملازم کا یونیفارم پہن رکھا تھا۔ اس نے ڈاکٹر محمود صاحب کے پیچھے آکر ان پر حملہ کیا۔ اور ان کمر میں دو گولیاں لگیں۔ حملہ آور موٹر سائیکل پر اپنے ساتھی کے ساتھ موقع واردات سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ آور اس روز ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر موجود تھا اور ڈاکٹر محمود صاحب کے اوقات کار کے متعلق معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔ ڈاکٹر محمود صاحب کو سرگودھا سول ہسپتال لے جایا گیا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ پولیس نے دفعہ ۳۰۲ کے تحت ایک مقدمہ درج کر لیا۔
اسی طرح جماعت احمدیہ ملیر کراچی کے مقامی صدر جماعت طاہر محمود بھی صرف احمدی ہونے کے جرم میں مئی میںدو ماہ سےزائد عرصہ پولیس کی حراست میں رہنے کے بعد دوران قید ہی وفات پا گئے۔ انہیں ۱۰؍مارچ کو عدالت کے احاطے سے ہی اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب ان کی درخواست ضمانت مسترد ہو گئی تھی۔ ان کی گرفتاری کی وجہ تحریک لبّیک کے شدت پسندوں کا دھرنا تھا جو انہوں نے مقامی احمدیہ مسجد کو بند کر نے کے لیے دیا تھا۔ دوران حراست موصوف کی حالت بگڑ گئی تھی۔ جماعتی عہدیداران سے ملنے والی معلومات کے مطابق پولیس نے ان کو بروقت مناسب طبی امداد مہیا نہیں کی تھی۔جب ان کی حالت مزید خراب ہوگئی تو انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ دوران حراست ان کی ایسی خراب حالت پولیس انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کی آئینہ دار ہے۔ انہیں صرف ان کی احمدی شناخت کی وجہ سے حراست میں لیا گیا۔ تاہم ریاست مناسب طبی امداد کی فراہمی،دوران حراست انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی بگڑتی صحت کے ادراک کے باوجود غفلت کامظاہرہ کر کے اپنی ناکامی کی داستان رقم کرنے میں کامیاب رہی۔ریاست کی یہ ناکامی انتظامی کارروائی میں موجود اس شگاف کو واضح کرتی ہے جہاں ریاست آزادی سے محروم افراد کی جانب اپنی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ احمدیوں کو حراست میں لینا ایک عمومی قانونی کارروائی سے تجاوز کرکے کس طرح مذہبی تشدّد کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
باغبانپورہ۔ لاہور: ۴؍جولائی کو جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ۲۵؍سالہ نوجوان کو پولیس نے اس وقت اپنی حراست میں لے لیا جب ایک مقامی بازار میں تحریک لبیّک کے شدت پسندوں نے اس پر حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے موصوف کو ایک تصویر کے ذریعے پہچانا جس کی تشہیر تحریک لبیّک کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کی گئی تھی۔یہ تصویر کئی ماہ قبل اس وقت لی گئی تھی جب شالیمار ٹاؤن میں احمدیہ مسجد پر مخالفین کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور مسجد کو فوراً خالی کرنا پڑا تھا۔ حملہ آوروں نے موصوف کو زبردستی موٹر سائیکل پر بٹھا کرملتان روڑ چوبرجی پولیس سٹیشن تک پہنچایا۔ انہوں نے پولیس کے سامنے موصوف کے موبائل فون میں موجود مواد اور تصاویر تک رسائی حاصل کی اور پولیس کو مجبور کیا کہ وہ اس پر توہین کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کریں۔ رات بھر موصوف کو وہیں رہنا پڑا۔ اگلے روز پولیس نے ان کے گھررابطہ کیا اور غیر رسمی طور پر معاملات حل کرنے کی تجویز دی۔ موصوف کے گھر والوں کو اس معاملے کو حل کرنے کے لیے بھاری رقم کی ادائیگی کرنا پڑی۔اس سب کے بعد ان حملہ آوروں پر کسی قسم کا کوئی بھی مقدمہ درج نہ کیا گیا۔
ضلع ساہیوال۔۱۲؍ستمبر: چک نمبر 111-6 ضلع ساہیوال کے رہائشی جماعت احمدیہ کے ممبر ظفر اللہ خان پر ان کی دوکان کے باہر آتشیں اسلحہ سے حملہ کیا گیا لیکن وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔ موصوف نے اپنی کار اپنی دوکان کامران سپرے سینٹر کے باہر کھڑی کی جو کہ فارم ہاؤس اڈا 11L-6R کے پاس واقع ہے۔ احاطہ سے باہر جاتے وقت موصوف نے دیکھا کہ قریب ہی دو نقاب پوش ایک موٹر سائیکل پر سوار کھڑے ہیں۔ ان کی موجودگی کو مشتبہ سمجھتے ہوئے وہ واپس فارم ہاؤس کے احاطے کی طرف چلے گئے اور صدر دروازے کے قریب کھڑے ہو گئے۔ کچھ ہی لمحوں بعد ان حملہ آوروں نے ۳۰؍ بور کے پستول سے ان پر گولیاں برسائیں جن سے وہ بچ نکلے۔ حملہ آور گولیاں برسانے کے فورا ًبعد وہاں سے فرار ہو گئے۔ اس حملے کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو کی گئی۔ موقع واردات پر پہنچ کر پولیس نے جائزہ لیا اور ایک مقدمہ درج کر لیا۔ ملٹری انٹیلیجنس نے بعد ازاں اس علاقے کی جیو فینسنگ کی اور گاؤں کے افراد سے تفتیش کی۔
جوہر آباد۔ ضلع خوشاب۔۲۹؍دسمبر: جماعت احمدیہ کے ایک ممبر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر تقریباًً پانچ بج کر چالیس منٹ پر اپنی زرعی زمین سے اپنے گھر واپس آرہے تھے جب ایک حملہ آور نے پیچھے سے ان پر گولی چلا دی۔ گولی ان کے پیٹ سے آر پار ہو گئی۔ موصوف کوفوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں پر مناسب طبی امداد مہیا کی گئی۔ جوہر آباد میں عرصہ دراز سے جماعت احمدیہ کے خلاف ظلم وستم کا بازار گرم ہے۔ مخالفین احمدیت مقامی جماعت احمدیہ کو تحقیر و تشدّد کا نشانہ بنانے کے لیے حیلے بہانے سے کوئی نہ کوئی شورش برپا کیے رکھتے ہیں۔ جس میں نماز جمعہ کی ادائیگی میں مشکلات شامل ہیں۔
٭…٭…٭



