کھانے کو ضائع مت کرو
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ’’ کھانا ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ رزق کی ہمیشہ قدر کرنی چاہیے۔ بعض لوگ ذرا سی بھی روٹی جلی ہوئی ہو یا کچی ہو تو اسے نکال کر پھینک دیتے ہیں۔ کوشش کرنی چاہیے کہ اگر وہ کھانے کے قابل ہے تو کھا لی جائے سوائے اس کے کہ کوئی بہت بیمار ہو اور اس کے لیے وہ تکلیف کا باعث بنے۔عمومی طور پر تو مشینوں سے روٹی اچھی پک کر آ رہی ہوتی ہے، میں نے چیک بھی کی ہے لیکن بعض دفعہ خراب روٹیاں بھی آ جاتی ہیں جب تک روٹی بہت زیادہ جلی ہوئی یا بہت کچی نہ ہو اسے ضائع کرنے سے بچیں۔ اسی طرح سالن کو بھی ضائع ہونے سے بچائیں ضائع کرنے سے بچائیں۔ ایک تو یہ رزق کا ضیاع ہے جو کہ نہیں ہونا چاہیے دوسرے وہی کھانا اَور کسی دوسرے کے کام آ سکتا ہے۔… مہمانوں کو چاہیے کہ جلسہ سالانہ کے ان دنوں میں کھانے کو برکت سمجھ کر کھائیں اور اسے ضائع نہ کریں۔… ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم نے رزق کو ضائع ہونے سے بچانا ہے اور اس طرح کام سمیٹنے والوں کے لیے بھی آسانی پیدا کرنی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کھانے کو ضائع مت کرو۔کھانے کی قدر کرتے ہوئے اسے کھاؤ اور جو پیش کیا جائے اسے خوشی سے کھاؤ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 25؍ جولائی 2025ء)
فرمایا: ’’بچوں کے ضمن میں یہ بھی بتلا دوں کہ بچے کھانا کھاتے کم ہیں اور ضائع زیادہ کر رہے ہوتے ہیں اس لئے ان کو ہمیشہ تھوڑی مقدار میں کھانا ڈال کے دینا چاہئے۔ اگر وہ ایک دفعہ ختم کر لیں تو تھوڑا سا اور ڈال دیں۔ لیکن عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بچوں کی پلیٹیں بھر دی جاتی ہیں اور وہ کھا بھی نہیں سکتے۔ اِس طرح بعض لوگ عادتاً خود بھی اپنی پلیٹیں بھر لیتے ہیں اور کھا نہیں سکتے اور کھانا ضائع ہو رہا ہوتا ہے۔ اِس لحاظ سے بھی بہت احتیاط کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 29؍ جولائی 2005ء)
