رسول اللہ ﷺکی شفقت
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں کہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔ یعنی مَیں اچھے اور اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ تو تکمیل وہی کرتا ہے جو خود ان صفات اور اخلاق میں مکمل ہو۔ پس اس کامل انسان کی امت میں داخل ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہر شخص کا یہ فرض بنتا ہے کہ اِن اخلاق کو اختیار کرکے آپ ؐ کی بعثت کے مقصد کو پورا کرے۔ اور آج یہ فرض سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ کے ہر فرد پر عائد ہوتا ہے…حضرت عبداللہؓ بن ابی اوفیٰ ہی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکبر نہ کرتے اور بیوگان اور مساکین کے ساتھ چلنے میں اور اُن کے کام کرنے میں عار محسوس نہ کرتے۔ تو یہ جو چیزیں تھیں، جو باتیں تھیں، یہ نظر بھی آیا کرتی تھیں اور پھر انہیں عملی نمونوں کا اثر تھا کہ صحابہ بھی پھر ان پر چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔
پھر ملازموں سے شفقت ہے۔ خادموں سے شفقت ہے جو ایک اور مجبور طبقہ ہے۔ اِس بارے میں حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ مَیں بچہ تھا اور دس سال تک مجھے حضورؐ کی خدمت کا موقعہ ملا۔ اور مَیں اُس طرح کام نہیں کیا کرتا تھا جس طرح حضورؐ کی خواہش ہوتی تھی اکثر یہ ہوتا تھا۔ لیکن آپؐ نے کبھی مجھے آج تک کام کے بارے میں کچھ نہیں کہا، اُف تک نہیں کہی۔ یا یہ کبھی نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا ہے یا تم نے یہ کیوں نہیں کیا یا اِس طرح کیوں نہیں کیا۔ کبھی آپؐ نے کچھ نہیں کہا۔حضرت انس ؓ ہی ایک اور روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ ایک بار آپؐ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔ میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن میرے دل میں تھا کہ کر لوں گا کام، ابھی کرکے آتا ہوں کیونکہ حضورؐ کا حکم ہے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ مَیں چل پڑا، بچہ تھا تو بازار میں بچوں کے پاس سے گزرا۔ بچے کھیل رہے تھے میں کھڑا ہو گیا اور ان کو دیکھنے لگ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، گردن پرہا تھ رکھا۔ مَیں نے مڑ کر آپؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ ہنس رہے تھے۔ فرمایا: اُنَیْس !(مذاق میں کہا) جس کام کی طرف مَیں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے؟ مَیں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! ابھی جاتا ہوں۔ انس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نَو سال تک حضور ؐ کی خدمت کی ہے۔ مجھے علم نہیں کہ آپؐ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ہے یا کوئی کام نہ کیا تو آپؐ نے فرمایا ہو کہ کیوں نہیں کیا۔ ‘‘(خطبہ جمعہ 17؍ دسمبر 2004ء)
