ارشادِ نبوی

اللہ تعالیٰ پر آنحضورﷺ کا کامل توکل

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما غزوہ ذات الرقاق کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کیکر کے درخت کے نیچے ڈیرا کیا۔ آپؐ نے اس سے اپنی تلوار لٹکا دی۔ حضرت جابرؓ کہتے تھے: کچھ ہم سوئے۔ پھر کیا سنتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں بلا رہے ہیں۔ ہم آپؐ کے پاس آئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس شخص نے میری تلوار سونت لی اور میں سویا ہوا تھا، میں جو جاگا تو وہ تلوار اس کے ہاتھ میں ننگی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا: کون تمہیں مجھ سے بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔ یہ دیکھو وہ بیٹھا ہوا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو سزا نہ دی۔

(صحیح البخاری كتاب المغازى باب غزوہ ذات الرقاق حدیث نمبر ۴۱۳۵)

مزید پڑھیں: ریاکاری کرنے والوں کا بد انجام

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button