متفرق مضامینمضامین

تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں ( قسط : 3)

(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)

تر بیتِ اولاد کے سنہری اصول

آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم، حضرت مسیح موعود ؑ اور خلفاء کرام نے تربیتِ اولاد کے سلسلے میں ہمارے سامنے جو سنہری اصول،گُر اور طریق رکھے ہیں وہ سب ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اُن کا مطالعہ، اُن پر غورو فکر اور صحیح معنوں میں عمل درآمداس نہایت اہم ذمّہ داری کی احسن رنگ میں انجام دہی کے لئے حد درجہ ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔

 دعا ئیں

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام بچوں کی تربیت کے کام پر روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرماتے ہیں:

 ’’ ہدایت اور تربیت ِ حقیقی خدا کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔ یہ ایک قسم کا شرکِ خفی ہے ۔اس سے ہماری جماعت کو پرہیز کرنا چاہئے…ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں ۔بس اس سے زیادہ نہیں ۔اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں ۔ جیسا کسی میں سعادت کاتخم ہو گاوقت پر سر سبز ہو جائے گا۔‘‘

 (ملفوظات جلد اول صفحہ 309۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

اس سلسلہ میں دعا کی اہمیت کا ذکر ایک جگہ یوں فرماتے ہیں:

’’ کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوزِ دل سے د عا کرنے کو ایک حزب ٹھہرا لیں۔ ا س لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے‘‘۔

 فرمایا ’’مَیں التزاماًچند دعائیں ہر روز مانگا کرتا ہوں۔

اوّل :ا پنے نفس کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ خداوند کریم مجھ سے وہ کام لے جس سے اس کی عزت و جلال ظاہر ہو اور اپنی رضا کی پوری توفیق عطا کرے۔

دوم :پھر اپنے گھر کے لوگوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ اُن سے قرَّ ۃِ عَیْن عطا ہو اور اللہ تعالیٰ کی مرضیّات کی راہ پر چلیں۔

 سوم:پھر اپنے بچوں کے لئے دعا مانگتا ہوں کہ یہ سب دین کے خدّام بنیں…‘‘۔

(ملفوظات جلداول صفحہ309۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بچوں کے حق میں منظوم دعاؤں کا نمونہ

دعا کرتاہوں اے میرے یگانہ

نہ آوے ان پہ رنجوں کا زمانہ

نہ چھوڑیں وہ ترا یہ آستانہ

مرے مولیٰ انہیں ہر دم بچانا

نہ دیکھیں وہ زمانہ بیکسی کا

مصیبت کا ، اَلم کا ، بیبسی کا

یہ ہو مَیں دیکھ لوں تقویٰ سبھی کا

جب آوے وقت میری واپسی کا

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں :

’’آئندہ نسلوں کی بقا کے لئے یہ نہایت اہم نسخہ ہے کہ جہاں ظاہری تدبیریں اور کوششیں ہو رہی ہیں جو اپنی اولادکی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے ایک انسان کرتا ہے وہاں دعا بھی ہو کیونکہ اصل ذات تو خدا تعالیٰ کی ہے جو اچھے نتائج پیدا فرماتا ہے۔اگر کسی کو یہ خیال ہو کہ وہ لوگ اپنی ذاتی صلاحیت سے اپنی اولاد کی تربیت کر رہے ہوتے ہیں تو یہ بھی خیال غلط ہے۔‘‘

 (خطبات مسرور جلد ہفتم صفحہ 459)

اور یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی کو بھی اولا د کے لئے آپس میں تعلق قا ئم کر تے ہو ئے بھی دعا کر نے کی تلقین فرمائی گئی ہے ۔

پھر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’بچوں کی پیدائش کے وقت بھی اور پیدائش کے بعد بھی ہمیشہ بچوں کے نیک، صالح اور دیندار ہونے کی دعائیں کرتے رہنا چاہئے کیونکہ والدین کی دعائیں بچوں کے حق میں پوری ہوتی ہیں۔ اور یہی ہمیں اللہ تعالیٰ کی تعلیم اور نصیحت ہے…….والدین کا…..سب سے بڑا فرض ہے کہ پیدائش سے لے کر زندگی کے آخر ی سانس تک بچوں کے نیک فطرت اور صالح ہونے کے لئے دعائیں کرتے رہیں اوران کی جائز اور ناجائز بات کو ہمیشہ مانتے نہ رہیں۔ اور اولاد کی تربیت اور اُٹھان صرف اس نیت سے نہ کریں کہ ہماری جائیدادوں کے مالک بنیں…… اس کے ساتھ ہی بچوں کو بھی خوفِ خداکرنا چاہئے کہ مائوں کے حقوق کا خیال رکھیں، باپوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔‘‘

 (خطباتِ مسرور جلد1صفحہ158۔159)

پس تربیت کے لئے ضروری ہے کہ والدین اپنی تمامتر کوششوں کے ساتھ درد دل سے اپنے مولیٰ کے حضور بچوں کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہیںاو ر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس خوشخبری کو یاد رکھتے ہوئے کہ ماں باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہے خاص طور پر اُن دعاؤں کا وِرد کرنا اپنا معمول بنا لیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اولاد کی تربیت کے لئے قرآن کریم میں ہمیں سکھلائی ہیں۔ذیل میں چند قرآنی دعائیں ہدیۂ قارئین ہیں۔

اولاد کے حق میں قر آنی دعا ئیں

٭ رَبَّنَا وَاجۡعَلۡنَا مُسۡلِمَیۡۡنِ لَکَ وَمِن ذُرِّیَّتِنَٓا أُمَّۃً مُّسۡلِمَۃً لَّکَ۔وَأَ رِنَا مَنَاسِکَنَا وَتُبۡ عَلَیۡۡنَا۔ إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُo (البقرۃ: 129)

ترجمہ:اے ہما رے رب ! اور (ہم یہ بھی التجا کر تے ہیں کہ ) ہم دو نوںکو اپنا فر مانبر دار (بندہ) بنا لے اور ہما ری او لاد میں سے بھی اپنی ایک فر ما نبر دار جما عت (بنا)اور ہمیں ہما رے (منا سبِ حال) عبا دت کے طریق بتا اور ہما ری طرف (اپنے) فضل کے ساتھ تو جہ فر ما ۔یقینا تُو(اپنے بندوںکی طرف) بہت توجہ کر نے والا (اور ) بار بار رحم کر نے وا لا ہے ۔

٭ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِن لَّدُ نۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً إِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآئِ o (اٰل عمران: 39)

ترجمہ: اے میرے رب ! تُو مجھے (بھی )اپنی جنا ب سے پاک اولاد بخش ۔ تُو یقیناً دعا ؤں کو بہت قبول کر نے والا ہے۔

٭ رَبِّ اجۡعَلۡ ھٰذَا الۡبَلَدَ اٰ مِناً وَّاجۡنُبۡنِیۡ وَبَنِیَّ أَنْ نَّعۡبُدَ الأَصۡنَامَo رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضۡلَلۡنَ کَثِیۡراً مِّنَ النَّاسِ فَمَن تَبِعَنِیۡ فَإِنَّہٗ مِنِّیۡ وَمَنۡ عَصَانِیۡ فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَّحِیۡمٌ o رَبَّنَآ إِنِّیۡٓ أَسۡکَنْتُ مِن ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡۡرِ ذِیۡ زَرۡعٍ عِندَ بَیۡۡتِکَ الۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیۡمُواۡ الصَّلٰوۃَ فَاجۡعَلۡ أَفۡئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡ إِلَیۡۡہِمۡ وَارۡزُقۡہُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمۡ یَشۡکُرُوۡنَ o(ابراہیم: 38-36)

ترجمہ: اے میرے رب!اس شہر (یعنی مکہ)کو امن والی (جگہ)بنا اور مجھے اور میرے بیٹوں کو اس بات سے دُور رکھ کہ ہم معبودانِ با طلہ کی پرستش کریں ۔ اے میرے رب! انہوں نے یقیناً بہت سے لو گو ں کو گمراہ کر رکھا ہے۔ پس جس نے میری پیروی کی وہ (تو) مجھ سے (تعلق رکھتا ) ہے اور جس نے میری نا فر ما نی کی (اس کے متعلق بھی میری یہی عرض ہے کہ اس کو بخش دینا کیونکہ ) تُو یقینا بڑا ہی بخشنے والا (اور )بار بار رحم کر نے والا ہے ۔ اے ہما رے رب! مَیں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس ایک ایسی وا دی میں جس میں کو ئی کھیتی نہیں ہو تی لا بسایا ہے۔ اے میرے رب! (میں نے ایسا اس لئے کیا ہے )تا وہ عمدگی سے نماز ادا کریں ۔ پس تُو لو گوں کے دل ان کی طرف جھکا دے ۔ اور انہیں مختلف پھلوں سے رزق دیتا رہ تا کہ وہ (ہمیشہ تیرا) شکر کرتے رہیں۔

٭ رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِن ذُرِّیَّتِیۡ۔ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآئِo (ابراہیم:41)

ترجمہ:(اے)میرے رب!مجھے اور میری اولاد (میں سے ہر ایک)کو عمدگی سے نماز ادا کر نے والا بنا ۔ (اے )ہما رے رب(ہم پر فضل کر)اور میری دعا قبول فرما۔

٭ فَہَبۡ لِیۡ مِن لَّدُنکَ وَلِیّاًo یَّرِثُنِیۡ وَیَرِثُ مِنۡ اٰلِ یَعۡقُوبَ وَاجۡعَلۡہُ رَبِّ رَضِیّاًo (مریم:6۔7)

ترجمہ:پس تُو مجھے اپنے پاس سے ایک دو ست (یعنی بیٹا) عطا فر ما جو میرا بھی وارث ہو اور آلِ یعقوب (سے جو دین و تقویٰ ہم کو ورثہ میں ملا ہے اس)کا بھی وا رث ہو۔ اور اے میرے رب اس کو(اپنا )پسندیدہ (وجود)بنائیو۔

٭ رَبَّنَا ہَبۡ لَنَا مِنۡ أَزۡوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ أَعۡیُنٍ وَّاجۡعَلۡنَا لِلۡمُتَّقِیۡنَ إِمَامًا o (الفر قا ن 75)

ترجمہ:اے ہما رے رب! ہم کو ہما ری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فر ما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا ۔

٭ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَo (الصّٰفّٰت: 101)

ترجمہ:اے میرے رب!مجھے نیکو کار اولاد بخش۔

٭ وَاَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیٓۡ ج إِنِّیۡ تُبۡتُ إِلَیۡۡکَ وَإِنِّیۡ مِنَ الْمُسۡلِمِیۡنَo (الاحقاف:16)

ترجمہ:اور میری اولاد میں بھی نیکی کی بنیاد قا ئم کر ۔ مَیں تیری طرف جھکتا ہوں اور میں تیرے فرمانبردار بندوں میں سے ہوں ۔

اور ہاں اولاد کے لئے دعا سے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا یہ ارشاد بھی یاد رکھئے:

’’ پس بہت دعا کرنی چاہئے اپنی اولاد کے لئے۔ اور دعا صرف بچوں کی پیدائش کے بعد ہی نہیں، پیدائش سے پہلے بھی کرنی چاہئے۔ بعض دفعہ تو انبیاء نے ایسی دعائیں کیں کہ سینکڑوں سال بلکہ ہزاروں سال بعد آنے والوں کے لئے بھی انہوں نے دعائیں کیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ السلام نے خانہ کعبہ کی عمارت کو اٹھاتے ہوئے آنحضرت سید ولد آدم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو دعائیں کیں وہ ہزاروں سال بعد میں پیدا ہونے والے ایک بچہ ہی کے لئے تو دعا تھی۔ پس صرف یہی نہیں کہ اپنی اس اولاد کے لئے دعا کریں جو آپ کے سامنے حاضر کے طور پر پیش ہو چکی ہو بلکہ اس اولاد کے لئے بھی دعائیں کریں جس کا کوئی وجود ابھی نہیں بنا ۔ اس اولاد کے لئے بھی دعائیں کریں جو نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتی چلی جائے گی اور قیامت تک آپ کی ذریّت کے طور پر دنیا میں باقی رہے گی۔ تو ان سب کے لئے تقویٰ کی دعا کو اوّلیت دیں اور سب سے زیادہ اِسی دعا کی طرف توجہ کریں۔ ‘‘ (خطبہ جمعہ 25جون1982ء بحوالہ خطبات طاہر جلد اوّل صفحہ 23,22)

 اس کے علاوہ ایک بات اور بھی ضروری ہے کہ ہم جہاںخود اپنے بچوں کے لئے دعائیں کریں وہاں اپنے پیارے امام حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور بزرگوں کی خدمت میں بھی اپنے بچوں کے لئے دعا کی در خواست کرتے رہیں ۔ حضرت عمر ؓ حج پر جا رہے تھے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرما یا کہ اے میرے بھائی ہمیں دعا میں نہ بھولنا۔

 پس ہم کون ہیں جو دوسروں سے دعائیں نہ لیں ۔ اس لئے یہ بھی ضروری بات ہے کہ اپنے بچوں کے لئے ہم دوسروں سے بھی دعا کی در خوا ست کر تے رہیں ۔

 اپنے والدین کی خدمت ،اُن کے لئے دعائیں اور بچوں کو ماؤں کی خدمت کی تلقین

قرآن مجید میں وَبِا لْوَالِدَینِ اِحْسَانًا کہہ کر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کا معا ملہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ایک جگہ فرمایا کہ اگر ان پہ بڑھاپاآجائے تو انہیں اُف تک نہ کہو ، ان کی باتیں مانو ۔ ایک جگہ فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ وَ قُلْ رَبِّ ارۡحَمۡھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِی صَغِیۡرًا۔( بنی اسرائیل:25)

بچوں کی اچھی تربیت کے لئے بھی ان سب احکامات پر ہمیں اپنے اپنے گھروں میں عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ ارشاد بھی ہمارے پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ:

 ’’ بعض لوگ خو د تو ماں باپ کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں جو بڑی اچھی بات ہے ،کرنی چاہئے۔ لیکن اپنے بچوں کو اس طرح ان کی ماں کی خدمت کی طرف توجہ نہیں دلا رہے ہوتے جس کی وجہ سے پھر آئندہ نسل بگڑنے کا احتمال ہوتا ہے۔تو آپ بھی ماں باپ کی خدمت کریں اور بچوں کی بھی اس طرح تربیت کریں کہ وہ اپنی ماؤں کی خدمت کرنے والے ہوں۔‘‘

 (خطبات مسرور جلد 4صفحہ 519)

……………

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button