توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء
٭… توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی اَمر کےحاصل کرنے کے واسطے مقرر کیےہوئے ہیں اُن کو حتّی المقدور جمع کرو اَور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا! تُو ہی اِس کا انجام بخیر کر
٭… یہ نہ سمجھو کہ الله تعالیٰ کمزور ہے، وہ بڑی طاقت والا ہے، جب اُس پر کسی اَمر میں بھروسہ کرو گےتو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسۡبُہٗ۔ اور جو کوئی الله پرتوکّل کرتا ہے ، تو الله اُس کے لیے کافی ہے (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… توکّل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے (حضرت مسیح موعودؑ)
٭… باوجود اِس کے کہ آپؑ تیاریٔ مقدمات میں پُوری محنت اور کوشش فرماتے تھے، مگر اُن اسباب پر آپؑ کبھی بھروسہ نہیں کرتے تھے، بلکہ دعاؤں سے کام لیتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ ہی کی ذات آپؑ کے مدّ ِنظر رہتی تھی، وہی معبوداور مطلوب تھا اور اُسی پر توکّل اور اعتماد ہوتا تھا
٭… توکّل علیٰ الله کی عجیب شان ہے، جو ہمیں آپؑ میں اپنے آقاؐ کی اتّباع میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں بھی توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۵؍ستمبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۵؍تبوک ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے
اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۵؍ستمبر۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت صہیب احمد صاحب (مربی سلسلہ) کے حصے ميں آئي۔
تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:
گذشتہ چند خطبات میں مَیں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کے بیان میں توکّل کے اعلیٰ ترین مقام کو بیان کرتا رہا ہوں۔
اِس زمانے میں آپؐ کے غلامِ صادق نے آپؐ کے اُسوہ کے مطابق اُسے کس طرح ہمارے لیے بیان کیا، کیا تعلیم دی، اِس پر کیا عمل کیا؟ اِس حوالے سے آج کچھ کہوں گا۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
توکّل یہی ہے کہ اسباب جو اللہ تعالیٰ نے کسی اَمر کےحاصل کرنے کے واسطے مقرر کیےہوئے ہیں اُن کو حتّی المقدور جمع کرو اَور پھر خود دعاؤں میں لگ جاؤ کہ اے خدا! تُو ہی اِس کا انجام بخیر کر ۔
صدہا آفات ہیں اور ہزاروں مصائب ہیں جو اِن اسباب کو بھی برباداور تہ وبالا کر سکتے ہیں،اُن کی دست بُرد سے بچا کر ہمیں سچّی کامیابی اور منزلِ مقصود پر پہنچا۔
حضورِ انور نے تصریح فرمائی کہ اسباب آدمی استعمال کرتا ہے، لیکن بہت ساری مصیبتیں ایسی ہیں، ایسے موقعے پیدا ہو سکتے ہیں ، جہاں وہ اسباب جن پر انحصار ہوتا ہے، وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔ اِس لیے الله تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے کہ الله تعالیٰ ہمیں اِن کے بدّاثرات سے بچائے۔ یہ وہ حالت ہے، جس پر چل کر ایک مومن الله تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بن سکتا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ الله تعالیٰ سے راضی ہو جانا ہر شخص کا کام نہیں بلکہ یہ توکّل، تبتّل یعنی خدا کی طرف پُوری توجہ اور رضا و تسلیم کا اعلیٰ مقام ہے، جہاں پہنچ کر انسان کو کسی قسم کا شکوہ اور شکایت اپنے مولیٰ سے نہیں رہتی۔ اور الله تعالیٰ کا اپنے بندے سے راضی ہونا، یہ موقوف ہے، بندے کے کمال صدق و وفاداری اور اعلیٰ درجے کی پاکیزگی اور طہارت اور کمال اطاعت پر۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ نے معرفت اور سلوک کے تمام مدارج طے کر لیے تھے۔ پس صحابہؓ نے الله تعالیٰ سے تعلق اور توکّل کا وہ مقام پایا، جس کو ہمارے لیے اُسوہ بنایا گیا ہے۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ اپنے متبعین کوآپؑ توکّل کی نصیحت حسبِ موقع فرماتے رہتے تھے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ
یہ نہ سمجھو کہ الله تعالیٰ کمزور ہے، وہ بڑی طاقت والا ہے، جب اُس پر کسی اَمر میں بھروسہ کرو گےتو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: وَمَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسۡبُہٗ۔ اور جو کوئی الله پرتوکّل کرتا ہے ، تو الله اُس کے لیے کافی ہے۔
سعید لوگوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیںکہ ایک مقام، مقامِ توکّل ہے، جس پر نہایت مضبوطی سے اُن کو قائم کیا جاتا ہے اور اُن کے غیر کو وہ چشمۂ صافی ہرگزمیسر نہیں آ سکتا۔ بلکہ اُنہی کے لیے وہ خوشگوار موافق کیا جاتا ہے۔ اور نُورِ معرفت ایسا اُن کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہو کر اور اسبابِ عادیہ سے بکُلی اپنے تئیں دُور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح ِ خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوش حالی سے اپنے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا اُن کے پاس ہزاروں خزائن ہوں۔ اُن کے چہروں پر تونگری یعنی دولتمندی کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحبِ دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ ٔکریم پر رکھتے ہیں۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ سے تعلق ہے، تو تنگیوں اور تکلیفوں میں بھی الله تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اُس سے دُور نہیں جاتے۔ یہ نہیں اُ ن کو خیال آتا کہ پتا نہیں کیا ہے، کیا نہیں۔ابتلاہے یاامتحان ہے یا سزا ہے؟ اگر کامل توکّل الله تعالیٰ پر ہے، الله تعالیٰ کے حقوق ادا کر رہے ہیں، تو پھر یقیناً الله تعالی فضلوں سے نوازتا ہے۔
آپؑ فرماتے ہیں کہ
توکّل کرنے والے اور خدا کی طرف جھکنے والے کبھی ضائع نہیں ہوتے،
جو آدمی صرف اپنی کوششوں میں رہتا ہے، اُس کو سوائے ذلّت کے اَور کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، ہمیشہ سے سُنّت الله یہی چلی آ تی ہے کہ جو لوگ دنیا کو چھوڑتے ہیں، وہ اِس کو پاتے ہیں، اور جو اِس کے پیچھے دَوڑتے ہیں، وہ اِس سے محروم رہتے ہیں۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے، وہ اگر چند روز مکر و فریب سے کچھ حاصل بھی کر لیں، تو وہ لاحاصل ہے۔کیونکہ آخر اِن کو سخت ناکامی دیکھنی پڑتی ہے۔
اسلام میں عمدہ لوگ وہی گزرے ہیں، جنہوں نے دین کے مقابلے میں دنیا کی کچھ پرواہ نہ کی۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ جب خدا تعالیٰ پر توکّل ہی نہیں اور دین کو دنیا پر مقدّم کرنے کا تصوّر ہی نہیں، جو ہم ہر عہد میں دُہراتے ہیں، خدام الاحمدیہ کا اجتماع ہے، اُس میں بھی دُہرائیں گے۔ تو پھر یہ عقائد اور ایمان کی کمزوری ایسے شخص کو اگلے جہان کی نعمتوں سے بھی محروم رکھے گی۔ اِس دنیا کو اُنہوں نے سب کچھ سمجھا ہے اور اُسے پانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، کچھ کو مِل گیا ، کچھ اُس کو پانے کی کوشش میں اِس جہان سے رخصت ہو گئے، ناکام ہو گئے۔ یا ملا اور اُس کے بعد ضائع ہو گیا اور پھر دنیاوی طور پر عذاب میں اُنہوں نے زندگی گزاری۔ نہ دین کے رہے، نہ دنیا کے رہے، اِس بارے میں ایک شاعر نے یہ کہا ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم!
حضورِ انور نے فرمایا کہ الله تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا نام خود متوکّل رکھا ہے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں کہ مسیح کے نزول کی علامت یہ لکھی ہے کہ دو فرشتوں کے پَروں پر اُس نے اپنی ہتھیلیاں رکھی ہوئی ہوں گی، یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اُس کا دایاں اور بایاں ہاتھ جو تحصیل علومِ عقلی اور انوارِ باطنی کا ذریعہ ہے ،آسمانی موکلوں، جن کے سپردکام کیا جائے یعنی مراد فرشتے ہیں، اُن کے سہارے پر ہوگا اور وہ مکتب اور کتابوں اور مشائخ سے نہیں، بلکہ خدائے تعالیٰ سے علمِ لدُنّی پائے گا یعنی وہ علم پائے گا، جو خالصتاً خدا تعالیٰ سکھائے گا اور اُس کی ضروریاتِ زندگی کا بھی خدا ہی متولّی اور متکفّل ہوگا۔آپؑ نے براہینِ احمدیہ کی مثال دے کر فرمایاکہ جیسا کہ عرصۂ دس سال سے اِس میں اِس عاجز کی نسبت یہ الہام چھپ چکا ہے کہ اِنَّكَ بِاَعْيُنِنَا سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ وَعَلَّمۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلۡمًا۔یعنی تُو ہماری آنکھوں کے سامنے ہے، ہم نے تیرا نام متوکّل رکھا اور اپنی طرف سے علم سکھلایا۔
دعا اور توکّل کے متعلق آپؑ نے فرمایا کہ ساری عقدہ کشائیاں دعا سے ہو جاتی ہیں۔ہمارے ہاتھ میں بھی اگر کسی کی خیر خواہی ہے تو کیا ہے، صرف ایک دعا کا آلہ ہی ہے جو خدا نے ہمیں دیا ہے، کیا دوست کے لیے اور کیا دشمن کے لیے۔ ہم سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ نہیں کر سکتے، ہمارے بس میں ایک ذرّہ بھی نہیں ہے، مگر جو خدا ہمیں اپنے فضل سے عطا کر دے۔
دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور الله تعالیٰ پر توکّل پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیںکہ اصلاحِ نفس کے لیے اور خاتمہ بالخیر ہونے کے لیے ، نیکیوں کی توفیق پانے کے واسطے دوسرا پہلو دعا کا ہے، اِس میں جس قدر توکّل اور یقین الله تعالیٰ پر کرے گا اور اُس راہ میں نہ تھکنے والا قدم رکھے گا، اُسی قدر عمدہ نتائج اور ثمرات ملیں گے۔تمام مشکلات دُور ہو جائیں گی۔ اور دعا کرنے والا تقویٰ کے اعلیٰ محل پر پہنچ جاوے گا۔
آپؑ کے توکّل کے پہلو کو بیان کرتے ہوئے آپؑ کے سیرت نگار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی الله عنہ لکھتے ہیں کہ
باوجود اِس کے کہ آپؑ تیاریٔ مقدمات میں پُوری محنت اور کوشش فرماتے تھے، مگر اُن اسباب پر آپؑ کبھی بھروسہ نہیں کرتے تھے، بلکہ دعاؤں سے کام لیتے تھے اور ہر وقت خدا تعالیٰ ہی کی ذات آپؑ کے مدّ ِنظر رہتی تھی، وہی معبوداور مطلوب تھا اور اُسی پر توکّل اور اعتماد ہوتا تھا۔
ایک نصیحت جو اپنے ایک مخلص کوآپؑ نے فرمائی، اُس کا ذکر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک روایت میں کرتے ہیں کہ حافظ نُور محمد صاحبؓ متوطن فیض الله چک نے مجھے تحریراً بتایا کہ حافظ حامد علی صاحبؓ سے مَیں نے یہ حوالہ سُنا تھا کہ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ اگر کسی مقدمے میں یا اَور کسی طرح حاکم کے سامنے جانا ہو، تو جانے سے پہلے سات مرتبہ سورۃ الفاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور سات مرتبہ اپنی اُنگلی سے اپنی پیشانی پر یا عزیز لکھ لینا چاہیے۔ اِس طرح الله تعالیٰ کامیابی دیتا ہے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اِس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ غالباً حالتِ استغناء عن غیر الله یعنی غیر الله سے بے نیازی اور حالتِ توکّل علیٰ الله کے پیدا کرنے کے لیے آپؑ نے یہ فرمایا تھا۔
حضورِ انور نے فرمایا کہ
توکّل علیٰ الله کی عجیب شان ہے، جو ہمیں آپؑ میں اپنے آقاؐ کی اتّباع میں ہر جگہ نظر آتی ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں بھی توکّل کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے سیر ت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۱۸؍ستمبر ۲۰۲۶ء
