جس روز امریکہ کے لاکھوں لوگ آسمان سےمسیحؑ کے نازل ہونے کا انتظار کرتے رہے
GREAT DISAPPOINTMENT OF 1844
۲۲؍اکتوبر ۱۸۴۴ء بھی آئی اور گذر گئی۔ ہزاروں لوگ ساری رات جاگ کر دعائیں کرتے رہے اور آسمان سے مسیحؑ کے اترنے کا انتظار کرتے رہے اور زاروقطار روتے رہے۔ لیکن انہوں نے کسی مسیحؑ کو آسمان سے اترتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور وہ دیکھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ موٹے طور پر وقت کے متعلق ان کا اندازہ کچھ زیادہ غلط نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق کئی برس قبل قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ولادت ہو بھی چکی تھی اور کچھ دہائیوں کے بعد اس ہستی نے اپنے دعوے کا اعلان کر بھی دینا تھا۔ پیشگوئیاں سچی تھیں لیکن انتظار کرنے والے غلط سمت میں اور غلط امیدوں کے ساتھ راہ تک رہے تھے
دنیا کی مذہبی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ بہت مرتبہ ایسا بھی ہواہے کہ اللہ تعالیٰ کے مامورین کی بعثت کے وقت بہت سے گروہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی آمد کے شدت سے منتظر ہوتے ہیں۔ لیکن ان کے ذہن میں اس رسول کی آمد کے متعلق اور اس کی تعلیمات کے بارے میں کچھ نظریات بسے ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو مامور فرماتا ہے تو منتظر گروہوں کی اکثریت اس کی بعثت اور تعلیمات کو اپنے خیالات کے برعکس پا کر اس کا انکار کر دیتی ہے بلکہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَفَکُلَّمَا جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَہۡوٰۤی اَنۡفُسُکُمُ اسۡتَکۡبَرۡتُمۡ ۚ فَفَرِیۡقًا کَذَّبۡتُمۡ ۫ وَفَرِیۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ۔ ( البقرۃ: ۸۸)یعنی پس جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول ایسی باتیں لے کر آئے گا جو تمہیں پسند نہیں تو تم استکبار کرو گے ؟ اور ان میں سے بعض کو تم جھٹلا دو گے اور بعض کو تم قتل کردو گے ؟
اس کے بعد اللہ تعالیٰ سورۃ البقرۃ میں ہی فرماتا ہے: وَلَمَّا جَآءَہُمۡ کِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَہُمۡ ۙ وَکَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ یَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَی الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ۚۖ فَلَمَّا جَآءَہُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِہٖ ۫ فَلَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ۔ ( البقرۃ:۹۰) اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے پاس ایک ایسی کتاب آئی جو اس (تعلیم ) کی تصدیق کررہی تھی جب کہ حال یہ تھا کہ اس سے پہلے وہ ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے کفر کیا تھا (اللہ سے ) مدد مانگا کرتے تھے۔ پس جب وہ ان کے پاس آگیا جسے انہوں نے پہچان لیا تو (پھر بھی ) اس کا انکار کر دیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت لوگوں کا انتظار
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دعویٰ کا وقت قریب آیا تو یہودی منتظر تھے کہ اب ان کے مسیح کے ظہور کا وقت قریب ہے۔ چنانچہ لوقا کی انجیل میں لکھا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچے تھے اور انہیں پہلی مرتبہ یروشلم کی مقدس ہیکل میں لایا گیا تو وہاں موجود ایک نیک شخص نے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پہچان لیا: ’’ دیکھو یروشلم میں شمعُون نام ایک آدمی تھا اور وہ آدمی راست باز اور خُدا ترس اور اِسرائیلؔ کی تسلّی کا منتظر تھا اور روح القدس اُس پر تھا۔ اور اُس کو روح القدس سے آگاہی ہوئی تھی کہ جب تک تُو خداوند کے مسیح کو دیکھ نہ لے موت کو نہ دیکھے گا۔ وہ رُوح کی ہدایت سے ہیکل میں آیا اور جس وقت ماں باپ اُس لڑکے یسوعؔ کو اندر لائے تاکہ اُس کے لیے شریعت کے دستور پر عمل کریں۔ تو اُس نے اُسے اپنی گود میں لیا اور خُدا کی حمد کر کے کہا کہ
اے مالک اب تُو اپنے خادِم کو اپنے قول کے موافق
سلامتی سے رُخصت کرتا ہے۔
کیونکہ میری آنکھوں نے تیری نجات دیکھ لی ہے
جو تُو نے سب اُمتّوں کے رُوبرُو تیّار کی ہے
تاکہ غَیر قَوموں کو رَوشنی دینے والا نُور
اور تیری اُمّت اِسرائیلؔ کا جلال بنے۔
اور اُس کا باپ اور اُس کی ماں اِن باتوں پر جو اُس کے حق میں کہی جاتی تھیں تعجُّب کرتے تھے۔ اور شمعُوؔن نے اُن کے لیے دُعائے خَیر کی اور اُس کی ماں مریمؔ سے کہا دیکھ یہ اِسرائیلؔ میں بُہتوں کے گِرنے اور اُٹھنے کے لیے اور اَیسا نِشان ہونے کے لیے مُقرّر ہُؤا ہے جِس کی مُخالفت کی جائے گی۔ (لوقا باب ۲)
جب حضرت یحییٰ علیہ السلام نے تبلیغ شروع کی تو یہودی یہ گما ن کر رہے تھے : ’’لوگ مُنتظِر تھے اور سب اپنے اپنے دِل میں یُوؔحنّا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسِیح ہے یا نہیں۔ تو یُوحنّا نے اُن سب سے جواب میں کہا مَیں تو تمہیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہُوں مگر جو مُجھ سے زورآور ہے وہ آنے والا ہے۔ مَیں اُس کی جُوتی کا تسمہ کھولنے کے لائِق نہیں۔ وہ تمہیں رُوحُ القُدس اور آگ سے بپتسِمہ دے گا۔ ‘‘(لوقا باب ۳ )
اس انتظارکے باوجود اور یہ گمان کرنے کے باوجود کہ اب ان کے مسیح کے ظہور کا وقت قریب ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسی تعلیمات کے ساتھ اپنی تبلیغ کا آغاز کیا جو کہ ان کی مرضی کے موافق نہیں تھیں تو یہودیوں نے نہ صرف ان کا انکار کر دیا بلکہ ان کی جان کے بھی دشمن ہو گئے۔ اسی طرح صحیح بخاری کے مطابق جب رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی رومی بادشاہ ہرقل کے پاس پہنچا تو اس نے ابو سفیان سمیت قریش کے ان دوسرے لوگوں کو اپنے دربار میں بلایا اور حالات دریافت کرنے کے بعد انہیں کہا : وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ۔ ترجمہ : مجھے یہ علم تھا کہ وہ (نبی) ظاہر ہونے والا ہے لیکن میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم لوگوں میں ظاہر ہوگا۔ (صحیح بخاری۔ کتاب بدء الوحی باب ۶)
اس روایت سے ظاہر ہے کہ اس وقت عیسائی بھی خدا تعالیٰ کے نبی کے مبعوث ہونے کے منتظر تھے مگر جب ہرقل نے یہ دیکھا کہ اس کی سلطنت کے عمائدین کسی صورت میں بھی آنحضرت ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے تو اس نے نہ صرف اسلام کو قبول نہیں کیا بلکہ مسلمانوں کے مقابل پر فوج کشی بھی کی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت لوگوں کا انتظار
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگوں میں یہ نظریہ عام تھا کہ اب اس مصلح کے ظہور کا وقت آگیا ہے جس کا ان کی مقدس کتب اور روایات میں وعدہ کیا گیا تھا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’نشان آسمانی ‘ میں مسلمانوں کی روایات درج فرمائی ہیں کہ مہدی اور مسیح کے ظاہر ہونے کا وقت یہی ہے۔ اور بہت سے عیسائیوں کا یہ عقیدہ تھا بلکہ اب تک ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد ہو گی تو اس کے بعد زمین پر ایک ہزار سال کی خدائی بادشاہت کا آغاز ہو گا۔ اور دوسرے گروہ کا یہ نظریہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آسمان سے دوبارہ آمد ہو گی تو ایک حشر برپا ہو گا اور نیک اور راستباز لوگ ان کے ساتھ آسمان پر اپنے نیک انجام کو چلے جائیں گے اور باقی گناہ گاروں پر قیامت برپا ہو گی اور وہ اپنے بدانجام کو پہنچیں گے۔ اسی سوچ کی وجہ سے اس طبقہ کا یہ خیال تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کے ساتھ دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے پہلے اور آپؑ کی مبارک زندگی میں عیسائی دنیا میں یہ خیال شدت سے عام ہو رہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے جب صحیفوں اور بشارات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ ظہور ہونے ہی والا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت نے یہ ثابت کر دیا کہ ان کے خیالات کی تفصیلات تو غلط خوردہ ہو سکتی ہیں لیکن آسمانی پیشگوئیوں کے پیش نظر ان کا یہ حساب موٹے طور پر بالکل درست تھا کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ بعثت کا وقت آن پہنچا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ’تحفہ گولڑویہ‘ میں ایسے عیسائی گروہوں کا ذکر فرمایا ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں : ’’اور پھر ہم اصل ذکر کی طرف رجوع کرکے کہتے ہیں کہ چونکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں میں بکثرت یہ اشارات پائے جاتے ہیں کہ اسی ہجری کی چودھویں صدی میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا۔ اسی لئے بہتوں نے عیسائیوں میں سے حال کے زمانہ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے یہی دن ہیں چنانچہ اخبار فری تھنکر لنڈن ۷ اکتوبر۱۹۰۰ء میں یہ خبر لکھی ہے کہ عام انتخاب ممبران پارلیمنٹ کے وقت ایک سینٹ سے جو مقام اسلنگٹن کا باشندہ تھا جب رائے لینے والے نے دریافت کیا تو اس نے انتخاب کے بارے میں کچھ رائے نہ دی اور اپنی رائے نہ دینے کی سنجیدگی سے یہ وجہ بیان کی ’’اس سال کے ختم ہونے سے پہلے قیامت کا دن یعنی مسیح کی دوبارہ آمد کا دن آنے والا ہے اس لئے یہ تمام باتیں بے سود ہیں۔ ‘‘(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۳۳۰)
یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ اخبار ’ فری تھنکر‘ ۱۸۸۱ء سے جاری ہے اور اب بھی آن لائن شائع ہوتا ہے۔ یہ اخبار شروع سے اب تک مذہب کے خلاف اور دہریت کا پرچار کرتا کرنے والا اخبار ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس شمارے کا حوالہ دیا ہے وہ اب بھی انٹرنیٹ پر اس اخبار کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ اس اخبار میں ۱۹۰۰ء کے انتخابات کے ممکنہ نتائج کا تجزیہ کیا گیا تھا اور اس بارے میں مختلف آراء درج کی گئی تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس اقتباس کا ذکر فرمایا ہے وہ فری تھنکر کی جلد ۲۰ کے شمارہ نمبر ۴۰ میں درج ہے۔ اس کی اصل عبارت یہ ہے:
Fancy if all this General Election turmoil should be for nothing! A “saint” at Islington is convinced that the Day of Judgment will arrive between now and the end of the year. He solemnly gave this as his reason to a canvasser for not recording his vote. He said it would be all to no purpose.
ترجمہ: تصور کریں اگر عام انتخابات کا یہ ہنگامہ محض بیکار ہو۔ اسلنگٹن کے ایک بزرگ کو یقین ہے کہ حشر کا روز آج اور سال کے آخر کے درمیان آ جائے گا۔ وہ بہت سنجیدگی سے ووٹ کے لیے ان سے رابطہ کرنے والوں کو یہ وجہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ اس وجہ سے اپنا ووٹ استعمال نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
(The Freethinker vol 20, no 40 p 632)
اس کے بعد چند اور مثالیں درج کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ نتیجہ تحریر فرماتے ہیں: ’’ان عبارات مذکورہ بالا سے ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ عیسائیوں کوحضرت مسیح کے دوبارہ آنے کا اس زمانہ میں کس قدر انتظار ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ وقت وہی وقت ہے جسمیں حضرت مسیح کو آسمان پر سے نازل ہونا چاہیے۔ ‘‘
یہ بات قابل غور ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے سالوں میں عیسائی دنیا میں بہت سے حلقوں کی طرف سے اس خیال کا بہت زور و شور سے اظہار کیا جا رہا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کا وقت آن پہنچا ہے، اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش کے قریب کے سالوں میں بھی یہ نظریہ بہت شدت سے پیش کیا جا رہا تھا کہ انہیں سالوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد ہو گی۔
ان میں سے ایک گروہ نے تو امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ اس وقت اسے تقریباً ایک علیحدہ فرقہ ہی شمار کیا جا رہا تھا۔
ولیم ملر کون تھے؟
گو بعد میں بہت سے دوسرے پادری اور علماء اس گروہ کے ہم خیال ہو گئے لیکن اس لہر کے بانی ولیم ملر (William Miller)تھے۔ اس گروہ کو سمجھنے کے لئے ولیم ملر کی شخصیت اور ان کے خیالات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ولیم ملر ۱۷۸۲ء میں امریکی ریاست Massachusetts میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن ان کے بچپن میں ہی ان کے والدین نیویارک ریاست میں لو ہیمپٹن (Low Hampton)میں منتقل ہو گئے۔ شادی کے بعد وہ اپنے علاقہ کے ڈپٹی شیرف بھی بنے اور ۱۸۱۲ء میں برطانیہ سے جنگ کے دوران انہوں بطور کیپٹن خدمات سرانجام دیں۔ جوانی میں ولیم ملر عیسائی مذہب ترک کرکے دینِ فطرت (Deism)کے قائل ہو گئے تھے۔ یعنی جن کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ گو خدا نے اس عالم کو پیدا کیا تھا لیکن اب اس خالق کا دنیا کو چلانے سے کوئی تعلق نہیں۔ جنگ میں انہیں کئی خطرناک مواقع کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے مواقع بھی آئے جب کہ مخالف فوج کی تعداد کئی گنا تھی اور شکست یقینی تھی لیکن اس کے باوجود جس دستہ میں ولیم ملر شامل تھے اسے خلاف امید فتح ملی۔ ایسے واقعات کی وجہ سے ملر مذہب کے قریب ہو گئے۔
جنگ کے خاتمہ کے بعد انہیں مطالعہ کے لیے کافی وقت ملا اور ان میں مزید مذہبی خیالات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ اور وہ اس بات کے قائل ہو گئے کہ بائبل خدا کا کلام ہے۔ اس کے ساتھ ان کو بائبل کی پیشگوئیوں میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہوگئی۔ وہ ایک مناسب زرعی فارم کے مالک تھے اور معاشرے میں بھی ایک مناسب مقام رکھتے تھے لیکن اب ان پیشگوئیوں پر تحقیق اورغور کرنا اور اپنا وقت دعائوں میں صرف کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن گیا۔ اور شب و روز کی اس تحقیق کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کا وقت آن پہنچا ہے۔
اناجیل میں حضرت مسیحؑ کی دوسری آمد کا ذکر
ظاہر ہے کہ عیسائی مذہب سے وابستہ ہونے کے ناطے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کے بارے میں ان کے نظریات عیسائی احباب کے نظریات کے مطابق تھے۔ جیسا کہ اس بارے میں اناجیل میں لکھا ہے: ’’اور فوراً اُن دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قوّتیں ہلائی جائیں گی۔ اور اُس وقت اِبنِ آدمؔ کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا۔ اور اُس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدمؔ کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔ اور وہ نرسِنگے کی بڑی آواز کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ اُس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک جمع کریں گے۔ ‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۲۹ تا ۳۱)
اور مرقس کی انجیل میں لکھا ہے: “لیکن اُن دِنوں، کی مصیبت کے بعد، سورج تاریک ہو جائے گا، اور چاند کی روشنی جاتی رہے گی آسمان سے ستارے گریں گے، اور آسمان کی قوّتیں ہلائی جائیں گی۔ اس وقت لوگ اِبن آدمؔ کو بادلوں میں عظیم قُدرت اور جلال کے ساتھ آتا دیکھیں گے۔ اور تب حضور اپنے فرشتوں کو بھیج کر آسمان کی اِنتہا سے زمین کی اِنتہا تک چاروں طرف سے، اپنے برگزیدہ لوگوں کو جمع کریں گے۔ انجیر کے درخت سے یہ سبق سیکھو۔ جُوں ہی اُس کی ڈالی نرم ہوتی ہے اور پتّے نکلتے ہیں تو تمہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ گرمی نزدیک ہے۔ اِسی طرح، جب تم یہ باتیں ہوتے دیکھو، تو جان لو کہ وہ نزدیک ہے، بلکہ دروازے ہی پر ہے۔‘‘(مرقس باب ۱۳ آیت ۲۴ تا ۲۹)
وقت کے ساتھ ولیم ملر کی تحقیق کا مرکز وہ پیشگوئیاں بن گئیں جن میں کچھ عظیم واقعات کی مدتیں بیان کی گئی تھیں اور اب وہ ان پیشگوئیوں کی مدد سے یہ تعین کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کب ہو گی؟ اور اس حساب کے لیے وہ زیادہ تر دانیال نبی کی پیشگوئیوں اور بائبل کی آخری کتاب ’’ یوحنا عارف کا مکاشفہ ‘‘ پر انحصار کر رہے تھے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کب ہو گی؟
ان کے ذہنی سفر کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۱۔ جب وہ انجیل اور دیگر صحائف میں درج پیشگوئیوں سے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کا وقت قریب آ گیا ہے۔ ۲۔ جب وہ اور ان کے بہت سے ساتھیوں نے ان پیشگوئیوں کو اکھٹے سامنے رکھ کر یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کس سال تک یا کس سال کے اندر ہو گی۔
ویسے تو انہوں نے عمومی طور پراپنے طور پر یہ نتائج ۱۸۱۸ء میں اخذ کر لیے تھے لیکن اپنے لیکچرز اور تحریروں میں اس کا زیادہ تر اعلان انہوں نے ۱۸۳۱ء میں شروع کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ۵؍ستمبر ۱۸۲۲ء کو سالہاسال مقدس صحیفوں پر تحقیق کرنے کے بعد ملر نے اپنی ڈائری میں اپنے عقائد تحریر کیے۔ ان میں سے باقی عقائد تو وہی ہیں جو کہ عمومی طور پر پروٹسٹنٹ فرقہ کے ہوتے ہیں لیکن اس فہرست میں ایک عقیدہ غیر معمولی تھا۔ اور یہ عقیدہ انہی کے الفاظ میں یہ تھا: I believe that the second coming of Jesus Christ is near, even at the door, even within twenty-one years, or on or before 1841. (Francis D. Nichol (1945). The Midnight Cry. Published by Review and Herald Publishing Association. P13) ترجمہ : میرا عقیدہ ہے کہ یسوع مسیح کی دوسری آمد قریب ہے، بلکہ اس کا وقت آن پہنچا ہے۔ حتّی کہ یہ آمد اکیس سال کے اندر ہو گی۔ یہ آمد ۱۸۴۱ء سے پہلے یا ۱۸۴۱ء میں ہو گی۔
ملر نے جس طریقہ کار سے یہ حساب کتاب کیا تھا، اس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ حقیقت پیش نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ولادت ۱۸۳۵ء میں ہوئی تھی، ان کا اس نتیجہ پر پہنچنا کہ مسیح کی آمد ثانی ۱۸۴۱ء سے پہلے یا ۱۸۴۱ء میں ہو گی، حیران کن طور پر صحیح نتیجہ تھا۔
اور جیسا کہ ہم ذکر کریں گے کہ اس وقت بقول ملر کے ان کے دل میں بار بار تحریک پیدا ہو رہی تھی کہ مسیح کی آمد کا وقت بالکل قریب آ گیا ہے اور دنیا کو اس کی اطلاع دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ہم اس مرحلہ کا جائزہ لیتے ہیں کہ ولیم ملر نے یہ نتیجہ کس بنیاد پر اخذ کیا کہ اب مسیح کی دوسری آمد کا وقت قریب ہے؟ اس مرحلہ پر ہم ان کے لیکچر کا حوالہ دیتے ہیں جو کہ ۱۸۳۶ء میں شائع ہوا اور شاید یہ لیکچر ۱۸۳۵ء میں دیا گیا تھا۔ اس لیکچر کے شروع میں ملر کہتے ہیں : …the signs that Jesus Christ , the prophets, apostles, have given us of his second coming, now fulfilling this day in which we live. (William Miller(1836) .Evidence From Scripture and History of the second coming of Christ about the year 1843. Printed by Kemble & Hooper.p 209) ترجمہ: یسوع مسیح نے اور انبیاء اور حواریوں نے مسیح کی دوسری آمد کی جوعلامات بیان کی تھیں، وہ آج جب ہم زندہ ہیں پوری ہو رہی ہیں۔
واضح رہے یہ اعلان کم و بیش اسی سال کیا جا رہا تھا جس سال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ انجیل متی باب ۲۴ آیت ۱۴ کا حوالہ دیتے ہیں: ’’اور بادشاہی کی اِس خُوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہو گی تاکہ سب قَوموں کے لیے گواہی ہو۔ تب خاتِمہ ہو گا۔ ‘‘
اس پر انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ بائبل کا ترجمہ دو سو زبانوں میں ہو چکا ہے۔ تمام اقوام تک عیسائیت کے مبلغ پہنچ چکے ہیں۔ اور دنیا کے ہر حصہ میں یہ خوشخبری پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد وہ دانیال نبی کی اس پیشگوئی کا حوالہ دیتے ہیں: ’’لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخری زمانہ تک مُہر لگا دے۔ بہتیرے اس کی تفتیش و تحقیق کریں گے اور دانش افزوں ہو گی۔‘‘ (دانیال باب ۱۲ آیت ۴)
اس پر انہوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ خواہ تحقیق کے عام ہونے اور عقل کے بڑھنے کو مذہبی طور پر خیال کیا جائے یا دنیاوی طور پر اس کو سمجھا جائے یہ پیشگوئی بھی واضح طور پر پوری ہو چکی ہے۔ اس دور میں مذہبی اور دنیاوی دونوں علوم میں تحقیق و تفتیش اور دانش مندی پہلے زمانوں سے بہت بڑھ چکی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نئے عہد نامہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بھائی کے خط کا یہ حوالہ سنایا: ’’اَے دولتمندو اَب میری بات سُنو! تُم اَپنے اُوپر آنے والی مُصیبتوں پر خُوب روؤ اور ماتم کرو۔ تمہارا مال برباد ہو گیا اور تمہاری پوشاکوں کو کیڑوں نے کھا لیا۔ تمہارے سونے اور چاندی کو زنگ لگ گیا۔ اور وہ زنگ تمہارے خِلاف گواہی دے گا اور آگ کی طرح تمہارا گوشت کھائےگا۔ دُنیا کا تو خاتِمہ ہونے والا ہے اور تُم نے دولت کے انبار لگا لیے ہیں۔ دیکھو! جِن مزدُوروں نے تمہارے کھیتوں میں کام کیا تھا اُن کی وہ مزدُوری جو تُم نے دغا کرکے روک لی ہے وہ تمہارے خِلاف چِلّا رہی ہے اور فصل کاٹنے والوں کی فریاد لشکروں کے ربّ کے کانوں تک پہُنچ چُکی ہے۔ تُم نے دُنیا میں عیش و عشرت کی زندگی گُزاری اور خُوب مزے کیے۔ ‘‘(یعقوب کا خط باب ۵ آیت ۱ تا۴)
اس پیشگوئی کے بارے میں ملر نے یہ سوال اٹھایا کہ جب سے یہ خط لکھا گیا ہے آج سے پہلے کس زمانہ میں دولتمندوں نے سونے چاندی کے اتنے انبار لگائے تھے ؟ کب بینکوں میں اتنی زیادہ دولت جمع کی گئی تھی اور کب غریبوں پر اس سے زیادہ مظالم ہوئے تھے؟ اس کے بعد اس لیکچر میں ٹیمتھیس کے نام پولوس کے دوسرے خط کا یہ حوالہ پیش کیا: ’’خُدا اور مسِیح یِسُوع کو جو زِندوں اور مُردوں کی عدالت کرے گا گواہ کر کے اور اُس کے ظُہُور اور بادشاہی کو یاد دِلا کر مَیں تجھے تاکِید کرتا ہُوں کہ تُو کلام کی منادی کر۔ وقت اور بے وقت مُستعِد رہ۔ ہر طرح کے تحمّل اور تعلِیم کے ساتھ سمجھا دے اور ملامت اور نصیحت کر۔ کیونکہ اَیسا وقت آئے گا کہ لوگ صحیح تعلِیم کی برداشت نہ کریں گے بلکہ کانوں کی کھجلی کے باعِث اپنی اپنی خواہِشوں کے موافِق بہُت سے اُستاد بنا لیں گے۔ اور اپنے کانوں کو حق کی طرف سے پھیر کر کہانیوں پر مُتوّجہ ہوں گے۔ ‘‘ (ٹیمتھیس کے نام دوسرا خط۔ باب ۴ آیت ۱ تا ۴)
اس حوالے سے انہوں نے بیان کیا کہ آج کل لوگوں کی یہی حالت ہے کہ وہ سچے نظریات برداشت نہیں کر سکتے اور اس کی جگہ وہ صرف کہانیوں کا اعتبار کرتے ہیں اور سچ بات سے کان پھیر لیتے ہیں۔ ملر نے حضرت عیسی ٰ کے حواری پطرس کے اس خط کا حوالہ سنایا: ’’اور یہ پہلے جان لو کہ اِخیر دِنوں میں اَیسے ہنسی ٹھٹھّا کرنے والے آئیں گے جو اپنی خواہِشوں کے مُوافِق چلیں گے۔ اور کہیں گے کہ اُس کے آنے کا وعدہ کہاں گیا؟ ‘‘ (پطرس کا دوسرا خط باب ۳ آیت ۳و۴)
اس کی تشریح میں ملر نے کہا کہ آجکل ہم یہی منظر دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے لوگ مسیح کی دوسری آمد کی پیشگوئی پر یقین نہیں کرتے اور اس پر طنز کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے پولوس کے اس خط کا حوالہ دیا: ’’یہ لوگ بیاہ کرنے سے منع کریں گے اور اُن کھانوں سے پرہیز کرنے کا حُکم دیں گے جِنہِیں خُدا نے اِس لیے پیدا کیا ہے کہ اِیماندار اور حق کے پہچاننے والے اُنہیں شُکرگُذاری کے ساتھ کھائیں۔ ‘‘(ٹیمتھیس ۱ باب ۴آیت ۳)
اس حوالہ کو پیش کر کے ملر نے مثالیں دیں کہ کیتھولک چرچ اور بعض دوسرے گروہ پادریوں کو شادی کی اجازت نہیں دیتے۔
بہر حال اس لیکچر میں اور اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی ملر اور ان کے ہمنوا محققین اور پادریوں نے بار بار یہ دلائل پیش کیے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد ہونے والی ہے۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلی ذکر کیا جائے گا کہ بعد میں ولیم ملر کے گروہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کی معین تاریخوں کی تشہیر بھی کی لیکن اصل میں اس بارے میں ولیم ملر کا کیا نظریہ تھا۔ ان کی سوانح حیات لکھنے والے ایک محقق بیان کرتے ہیں: The reader will recall that when Miller first began to study the Bible, he drafted a statement of his Christian beliefs and that these beliefs were very orthodox. They could have been accepted quite generally, except for his statement that he believed the second coming of Christ would take place “on or before 1843. (Francis D. Nichol (1945). The Midnight Cry. Published by Review and Herald Publishing Association. P 162) ترجمہ: پڑھنے والوں کو یاد ہو گا کہ جب ملر نے بائبل کا مطالعہ شروع کیا تو اس نے اپنے عیسائی عقائد کی فہرست تیار کی اور یہ عقائد روایتی عقائد تھے۔ انہیں عمومی طور پر قبول کیا جا سکتا تھا۔ سوائے اس اظہار کے کہ مسیح کی دوسری آمد ۱۸۴۳ء میں یا اس سے پہلے ہو گی۔
ملر نے اپنے نظریات کی تشہیر کیسے شروع کی
گو اس وقت ولیم ملر اپنے معاشرے میں ایک معزز شخص تھے لیکن ان کی پہچان ایک زمیندارکی حیثیت سے یاجنگ کے دنوں میں فوجی خدمات کی وجہ سے اور اپنے علاقہ کے جسٹس آف پیس ہونے کی وجہ سے تھی۔ دنیا انہیں ایک مذہبی محقق کی حیثیت سے یا مسیحیت کے مناد کی حیثیت سے نہیں جانتی تھی۔ اور نہ ہی انہیں تقریر کرنے کا یا لکھنے کا کوئی عملی تجربہ تھا۔ ظاہر ہے ایسے شخص کے لیے یہ مشکل ہوتا ہے کہ اس قسم کے اہم مذہبی معاملات پر اپنے نظریات کی تشہیر کرے اور لوگ اس کے خیالات کو سننا، ان پر غور کرنا اور پھر قبول کرنا بھی شروع کردیں۔ ملر نے یہ مرحلہ کس طرح طے کیا ؟
وہ اپنی ایک کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ ان نتائج پر پہنچنے کے بعد کچھ سال تک وہ اپنے آپ کو اس بات پر آمادہ نہیں کر پا رہے تھے کہ ان کا پرچار کر سکیں۔ اور ان کا یہی خیال تھا کہ وہ لکھنے اور تقریر کرنے کی ایسی صلاحیت نہیں رکھتے کہ لوگ ان کی باتیں توجہ سے سنیں۔ لیکن خود ان کے الفاظ میں :
When I was about my business, it was continually ringing in my ears “Go an tell the world of the danger.” (William Miller (1845). Apology and Defence. Published by J.V.Himes. p 15)
ترجمہ: جب میں اپنا کاروبار کر رہا ہوتا تھا تو میرے کانوں میں مسلسل یہ آواز گونج رہی ہوتی کہ جائو اور لوگوں کو اس خطرے سے آگاہ کرو۔ یہ خیال برسوں اس موضوع پر پڑھنے اور غور کرنے کے نتیجہ میں ان کے ذہن میں پیدا ہو رہا تھا ؟ یا اور بہت سے لوگوں اور محققین کی طرح ان کو کوئی القاء ہو رہا تھا کہ مسیح کی آمد کا وقت قریب آ گیا ہے؟ اس بارے میں ہر شخص اپنی رائے خود قائم کر سکتا ہے۔
اسی کشمکش میں انہوں نے مذہبی اخبار Vermont Telegraph کی طرف اس موضوع پر ایک مضمون بھجوایا لیکن اپنا پورا نام لکھنے کی بجائے نام کے ابتدائی حروف ڈبلیو ایم لکھے مگر مدیر کا جواب موصول ہوا جب تک وہ اپنا پورا نام نہ بھجوائیں ان کا مضمون شائع نہیں ہو سکتا۔ اس پر انہوں نے اپنا پورا نام بھجوادیا لیکن ان کا خیال یہی تھا کہ مضمون ڈبلیو ایم کے نام سے شائع ہو گا لیکن جب۱۵؍مئی ۱۸۳۲ء کے اخبار میں ان کا مضمون شائع ہوا تو ان کے پورے نام کے ساتھ شائع ہوا۔ اور اس موضوع پر ایک دو نہیں بلکہ سولہ مضامین شائع ہوکر دنیا کے سامنے آ گئے۔ اور اس کے ساتھ ہی انہیں موصول ہونے والے خطوط کی بھرمار ہو گئی۔ خط لکھنے والے اس بارے میں اپنے اپنے سوالات بھجوا رہے تھے۔ لوگ ان کے گھر آ کر ان کے مضامین کے بارے میں دریافت کر رہے تھے۔ لیکن یہ سب کچھ مضامین تک محدود تھا۔ ابھی ولیم ملر نے کہیں پر اس موضوع پر لیکچر نہیں دیا تھا۔
ان کا بیان ہے کہ ابھی بھی میرے ذہن میں یہ تحریک پیدا ہو رہی تھی کہ میں دنیا کو بتائوں کہ مسیح کی دوسری آمد بالکل قریب ہے۔ اسی خلش کے ساتھ وہ ۱۸۳۳ء میں اپنے کام پر جانے سے قبل ناشتہ کے بعد اپنے گھر میں بیٹھے تھے کہ انہوں نے اپنے دل میں عہد کیا کہ اگر خدا ان کے لیے راستہ کھولے اور انہیں کہیں سے اس موضوع پر تقریر کرنے کی دعوت موصول ہو تو وہ اپنا یہ فرض پوری کوشش سے ادا کریں گے۔ ابھی یہ عہد کیے آدھا گھنٹا ہی ہوا تھا کہ ایک شخص آیا کہ سولہ میل دور ایک قصبہ کے پادری ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ ملر نے سوال کیا کہ وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں ؟ پیغام لانے والے نے جواب دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آپ مسیح کی آمد ثانی کے مسئلہ پر اس قصبہ میں لوگوں کو وعظ کریں اور اس موضوع پر ان سے گفتگو کریں۔ کچھ جھجک کے بعد انہوں نے یہ دعوت قبول کر لی اور اس قصبہ میں جا کر اس موضوع پر وعظ کیا۔ امید سے بہت زیادہ لوگ شامل ہوئے۔ ان سے درخواست کی گئی کہ وہ اگلے ہفتہ یہیں پر قیام کرکے مزید لیکچر دیں جو انہوں نے قبول کر لی۔ ارد گرد کے قصبوں کے لوگ بھی ان میں شامل ہو تے رہے۔ جب ایک ہفتہ بعد وہ گھر واپس آئے تو ان کے نام ایک اور خط پہنچ چکا تھا کہ وہ ایک اور قصبہ میں اس بارے میں لیکچر دیں۔ حالانکہ یہ خط لکھنے والوں کو ان کے پہلے قصبہ میں جانے کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اس طرح امریکہ میں اس موضوع پر لیکچروں اور واعظوں کا ایک سلسلہ جاری ہوا جو کہ کئی سال تک جاری رہا۔
(William Miller (1845). Apology and Defence. Published by J.V.Himes. p 17-19)
حضرت مسیحؑ کی آمد ثانی کس سال میں ہو گی؟
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا تھا کہ ملر اور ان کی رائے سے اتفاق کرنے والا گروہ اس نتیجہ پر تو پہنچ چکا تھا کہ یہی وقت ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام کی دوبارہ آمد ہو گی۔ لیکن اس کے بعد ان کی طرف سے یہ تحقیق شروع ہوئی کہ یہ آمد اندازاََ کس سال میں ہو گی ؟ وہ بائبل کی مختلف پیشگوئیوں کو سامنے رکھ کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ دانیال کی کتاب کے باب ۸ میں درج پیشگوئی میں ایک مدت بیان کی گئی اور یہ مدت ۲۳۰۰دن ہے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ اس کے اختتام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد ہو گی۔ سوال یہ تھا کہ اس مدت کا شمار کس سال سے شروع ہوگا۔ اس سوال کا جواب دانیال کی کتاب سے تلاش کیا گیا۔ اس پیشگوئی پر بات کرنے سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ملر کے نزدیک پیشگوئیوں میں ایک دن سے مراد ایک سال ہوتا تھا۔ اور اس کی تائید میں وہ بائبل کا یہ حوالہ پیش کرتے تھے: ’’اور جب تو ان کو پورا کر چکے تو پھر اپنی دہنی طرف لیٹ رہ اور چالیس دن تک بنی یہودا کی بدکرداری برداشت کر۔ میں نے تیرے لئے ایک ایک سال کے بدلے ایک ایک دن مقرر کیا ہے۔ ‘‘ (حزقیل باب ۴ آیت ۴)
دانیال کے باب ۸ میں درج پیشگوئی کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ بنیادی سوال طے کرنا ضروری ہے کہ اس میں بیان کردہ ۲۳۰۰ سال کی مدت کا شمار کس سال سے شروع کیا جائے گا۔ ملر نے اس شمار کو یروشلم کی فصیل کے دوبارہ تعمیر ہونے کے سال یعنی ۴۵۷ قبل مسیح سے شروع کیا ۔ اس کی دلیل ملر دانیال نبی کی کتاب کے ایک اور حصہ سے دیتے ہیں۔ جس میں جبرائیل نے دانیالؑ کو بتایا: ’’اور اُس نے مجھے سمجھایا اور مجھ سے باتیں کیں اور کہا … دانی ایل میں اب اس لے آیا ہوں کہ تجھے دانش و فہم بخشوں۔ تیری مناجات کے شروع ہی میں حکم صادر ہوا اور میں آیا ہوں کہ تجھے بتاؤں کیونکہ تو بہت عزیز ہے۔ پس تو غور کر اور رؤیا کو سمجھ لے۔ تیرے لوگوں اور تیرے مقدس شہر کے لیے ستّرہفتے مقرر کیےگئے کہ خطا کاری اور گناہ کا خاتمہ ہو جائے۔ بدکرداری کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رؤیا نبوت پر مہر ہو اور پاکترین مقام ممسوح کیا جائے۔ پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کیے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مصیبت کے ایّام میں۔ اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آئے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویاطوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مقرر ہو چکی ہے۔ ‘‘(دانیال باب ۹آیت ۲۱ تا ۲۶)
موٹے طور پر ملر کے مطابق بد کرداری کا کفارہ ادا کرنے اور مقام کو ممسوح کرنے سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینے کا واقعہ ہے۔ اور ستّر ہفتہ سے مراد ۴۹۰؍دن یعنی ۴۹۰؍سال ہیں۔ سات اور باسٹھ ہفتوں کی بھی الجھی ہوئی تفصیلات ملر نے بیان کیں۔ ان کو ملر کے اپنے الفاظ میں بیان کیا جائے گا۔ یروشلم کی فصیل کی دوبارہ تعمیر کا حکم شاہ فارس ارتخششتا (Artaxerxes)نے نحمیاہ نبی کے زمانے میں انہی کی درخواست پر جاری کیا تھا۔ اور یہ ظاہر ہے کہ یروشلم کی بحالی کا حکم صادر ہونے سے یہ شمار شروع ہو گا اور یہ واقعہ ۴۵۷ قبل مسیح کا ہے۔ اور اس کے ۴۹۰؍سال کے بعد یعنی ۳۳؍عیسوی میں واقعہ صلیب ہوا۔ اور اس کے بعد دوبارہ یروشلم کو رومی فرمانروا نے تباہ کر کے یروشلم کے معبد کو گرادیا۔ باقی الجھی ہوئی تفصیلات کے بارے ملر یہ بیان کرتے ہیں: We learn that the angel Gabriel was sent to instruct Daniel, and make him understand the vision. You may inquire what vision? I answer, The one Daniel had in the beginning, for he has had no other. We also learn that seventy weeks, which is 490 days, (or years, as we shall show,) from going forth of a certain decree to build the streets and walls of Jerusalem in troublous times, to the crucifixion of the Messiah should be accomplished. We also learn that this seventy weeks is divided into three parts ; seven weeks being employed in building the streets and walls in troublous times, which is forty-nine years, sixty-two weeks, or four hundred and thirty-four years to the preaching of John in the wilderness three and a half years, and Christ three and a half years, which makes the seventy weeks, or four hundred and ninety years ; which, when accomplished, would seal up the vision, and make the prophecy true. John in the wilderness, which two, put together, make sixty-nine weeks, or four hundred and eighty-three years, and one week the gospel was preached ; John three and a half years, and Christ three and a half years, which makes the seventy weeks, or four hundred and ninety years ; which, when accomplished, would seal up the vision, and make the prophecy true. (William Miller(1840)Evidence from Scriptures and History of the Second Coming of Christ About the year 1843. Published by B.B. Mussey; p 52-53)
ترجمہ: ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل کو دانیال کو تعلیم دینے اوراس کشف کو سمجھانے کے لیے کے لئے بھجوایا گیا تھا اور آپ دریافت کر سکتے ہیں کہ کون سا کشف تو وہی کشف جو پہلے ہوا تھا اور اس کے علاوہ اور کوئی کشف نہیں تھا۔ اور ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ستر ہفتے یا ۴۹۰ دن (یا جیسا کہ ہم جائزہ لیں گے ۴۹۰ برس) اس وقت سے شروع ہوں گے جب ابتلائوں کے دور میں یروشلم کی فصیل اور اس کی سڑکوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا ایک فرمان جاری کیا گیا اور مسیح کی صلیب پر ختم ہوں گے۔ ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ ستر ہفتے تین ادوار میں تقسیم کیے گئے ہیں۔ پہلا دور ہنگاموں کے دور میں سات ہفتوں میں یروشلم کی فصیل اور سڑکوں کی تعمیر کا دور ہے جو کہ ۴۹؍سال کے برابر ہے۔ اس کے بعد ۶۲ ہفتوں یا ۴۳۴سالوں کا دور ہے جو کہ ویرانے میں یوحنا (حضرت یحییٰ علیہ السلام ) کی تبلیغ تک کے زمانہ کا ہے۔ اور دونوں مل کر ۶۹؍ہفتے یا ۴۸۳ سال بنتے ہیں۔ اس بعد ایک ہفتہ انجیل کی منادی کی گئی۔ ساڑھے تین سال یوحنا کی طرف سے اور ساڑھے تین سال مسیح کی طرف سے۔ یہ سب مل کر ستر ہفتے یا ۴۹۰ سال بنتے ہیں۔ جن کے مکمل ہونے پر اس کشف پر مہر لگ جاتی ہے اور پیشگوئی پوری ہوجاتی ہے۔
یہ بنیادی نکتہ اور پیچیدہ تفاصیل بیان کرنے کے بعد کہ ملر سالوں کا شمار کب سے شروع کر رہے تھے اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ ملر اور ان کا گروہ دانیال کی کتاب کے باب ۸ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کے وقت کا تعین کس طرح کر رہے تھے۔ ولیم ملر نے اپنے ایک لیکچر میں اس وضاحت کچھ اس طرح کی۔ وہ بائبل میں درج دانیال نبی کی اس پیشگوئی سے نتیجہ نکال رہے تھے جو کہ اس کتاب کے باب ۸ میں بیان کی گئی ہے۔ پہلے اس پیشگوئی کو پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے بعد ملر کے حساب کتاب کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ پیشگوئی ایک خواب کی صورت میں ہے۔ اس خواب میں پہلے ایک مینڈھا دکھایا گیا جس کے دو سینگ تھے جس کے سامنے دنیا کی کوئی چیز نہیں ٹھہر رہی تھی۔ پھر مغرب سے ایک زور آور بکرا آیا جس کا ایک عجیب سینگ تھا۔ اس نے پہلے مینڈھے کو مار دیا اور اس کے بعد یہ بکرا اور زیادہ زور آور ہوگیا۔ پھر اس کا سینگ ٹوٹ گیا اور اس کی جگہ چار سینگ نمودار ہوئے اور ان میں سے ایک اور سینگ نکلا جس کے متعلق اس کتاب میں لکھا ہے: ’’اور وہ بڑھ کر اجرام فلک تک پُہنچا اور اُس نے بعض اجرام فلک اور ستاروں کو زمین پر گرا دیا اور اُن کو لتاڑا۔ بلکہ اُس نے اجرام کے فرما نروا تک اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس سے دائمی قُربانی کو چھین لیا اور اُس کا مُقدس گرا دیا۔ اور اجرام خطا کاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُس کے حوالہ کیے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یُوں ہی کرتا رہا۔ تب میں نے ایک قُدسی کو کلام کرتے سنا اور دُوسرے قدسی سے جو کلام کرتا تھا پوچھا کہ دائمی قربانی اور ویران کرنے والی خطاکاری کی رؤیا جس میں مقدس اور اجرام پایمال ہوتے ہیں کب تک رہے گی؟ اور اُس نے مُجھ سے کہا کہ دو ہزار تین سو صُبح و شام تک اُس کے بعد مقدس پاک کیا جائے گا۔ ‘‘ ( دانیال باب ۸ آیت ۱۰ تا ۱۴)
اور بعد میں جبرائیل نے دانیال نبی کو بتایا کہ اس مینڈھے سے مراد جس کے دو سینگ تھے مادی اور فارس کے بادشاہ ہیں۔ اور بعد میں جو جسیم بکرا نمودار ہوا وہ یونان کا بادشاہ ہوگا۔ اور دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ملر اور ان کے ہمنوا گروہ کے نزدیک یونان کے پہلے سینگ سے مراد سکندر اعظم کی حکومت تھی اور چار سینگوں سے مراد وہ چار جرنیل تھے جنہوں نے سکندر اعظم کی موت کے بعد یونانی سلطنت کو اپنے درمیان تقسیم کیا۔ اور ان چار سینگوں سے جو آخری سینگ برآمد ہوا جس نے دائمی قربانی کو موقوف کیا اور خدا کے مقدس معبد کو گرادیا، اس مراد رومی سلطنت تھی جس کا عروج یونانی سلطنت کے بعد ہوا اور جس کے عہد کے دوران ۷۰ء میں یعنی واقعہ صلیب کے پنتیس چالیس سال کے بعد یروشلم میں یہود کا مقدس معبد منہدم کیا گیا۔ اور ان کے نزدیک دو ہزار تین سو سال کے بعد خدا کے مقدس کو دوبارہ پاک کیے جانے سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد تھی۔ اس حساب کو مکمل کرنے کے لیے ایک ہی سوال رہ جاتا تھا اور وہ یہ کہ ۲۳۰۰ سالوں کا شمار شروع کس سال سے کیا جائے گا؟ انہوں نے مختلف امکانات کو زیر بحث لاکر تعین کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر کیا اس وقت سے ان کو گننا شروع کیا جائے جب دانیال نبی کو یہ خوابیں آئیں۔ تو ان کے حساب کے مطابق یہ عرصہ ۱۷۶۲ء میں گذر چکا تھا۔ اسی طرح جب نبوکد نظر نے یروشلم میں یہودیوں کے مقدس معبد کو منہدم کرایا، اس واقعہ کو بھی ۲۳۰۰ سال گذرے بہت عرصہ گذر چکا ہے۔ چنانچہ ملر نے یہ اندازہ لگایا کہ ۲۳۰۰ سالوں کا شمار اس وقت سے کرنا چاہیے جب نبوکدنضر کی تباہی کے بعد شاہ فارس ارتخششتا (Artaxerxes)نے اپنی سلطنت کے بیسویں سال میں نحمیاہ نبی کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ یروشلم کی فصیل بنانے کا کام شروع کرے اور اس اجازت نامہ کے مطابق یہ فصیل تعمیر بھی کی گئی اور دانیال کی کتاب کے اگلے باب ہی میں جس کا حوالہ پہلے دیا گیا ہے اسی مرحلہ سے برسوں کا شمار شروع کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ ۴۵۷ قبل مسیح کا ہے۔ اور اس کو ۲۳۰۰ سال ۱۸۴۳ء میں مکمل ہو رہے تھے۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ یروشلم کی بحالی کا کام شروع ہوا تھا اور مسیح کی آمد ثانی پر یعنی ۲۳۰۰ سال گذرنے کے بعد یہ کام مکمل ہوگا اور مقدس معبد اور یروشلم صحیح معنوں میں بحال ہوگا۔ اور یہ عرصہ ۱۸۴۳ء میں مکمل ہو رہا تھا۔
(Miller W(1840) Evidence from Scriptures and History of the Second Coming of Christ About the year 1843 published by B.B. Mussey; p 54)
۱۲۹۰ دن سے کیا مراد ہے؟
ولیم ملر کا تعلق عیسائیوں کے اس طبقہ سے تھا جو کہ پوپ اور کیتھولک چرچ کے شدید خلاف تھے۔ اور نہ صرف ان کی تعلیمات کو عیسائیت کے سراسر خلاف سمجھتےتھے بلکہ ان کے نزدیک بائبل کی بہت سے منفی پیشگوئیاں کیتھولک چرچ اور پوپ کے دنیاوی اقتدار کے عروج کے بارے میں تھیں۔ چنانچہ بائبل کی کتاب دانیال کے آخری باب میں درج پیشگوئیوں میں ایک اجاڑنے والی مکروہ چیز کے مسلط ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے وہ کیتھولک چرچ اور پوپ کے دنیاوی اقتدار کا آغاز مراد لیتے تھے۔ اس کے بارے میں ان کی تشریح درج کرنے سے قبل اس پیشگوئی کے اصل الفاظ درج کیے جاتے ہیں: ’’اور اُس وقت میکائیل مُقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزند وں کی حمایت کے لیے کھڑا ہے اُٹھے گا اور وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدائی اقوام سے اُس وقت تک کبھی نہ ہُوا ہوگا اور اُس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا رہائی پائے گا۔ اور جو خاک میں سو رہے ہیں اُن میں سے بہتیرے جاگ اُٹھیں گے۔ بعض حیات ابدی کے لیے اور بعض رُسوائی اور ذلت ابدی کے لیے۔ اور اہل دانش نُور فلک کی مانند چمکیں گے اور جن کی کوشش سے بہتیرے صادق ہوں گے ستاروں کی مانند ابدالآباد تک روشن ہوں گے۔ لیکن تو اے دانی ایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخری زمانہ تک مُہر لگا دے۔ بہتیرے اس کی تفتیش و تحقیق کریں گے اور دانش افزوں ہو گی۔ پھر میں دانی ایل نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دو شخص اور کھڑے تھے۔ ایک دریا کے اس کنارہ پر اور دوسرا دریا کے اُس کنارہ پر۔ اور ایک نے اس شخص سے جو کتانی لباس پہنے تھا اور دریا کے پانی پر کھڑا تھا پُوچھا کہ ان عجائب کے انجام تک کتنی مُدت ہے؟ اور میں نے سُنا کہ اُس شخص نے جو کتانی لباس پہنے تھا جو دریا کے پانی کے اُوپر کھڑا تھا دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر حُیّ القُیوم کی قسم کھائی اور کہا کہ ایک دور اور دور نیم دور۔ اور جب وہ مقدس لوگوں کے اقتدار کو نیست کرچکیں گے تو یہ سب کچھ پُورا ہو جائے گا۔
اور میں نے سُنا پر سمجھ نہ سکا۔ تب میں نے کہا اے میرے خُداوند ان کا انجام کیا ہوگا؟ اُس نے کہا اے دانیال تو اپنی راہ لے کیونکہ یہ باتیں آخری وقت تک بندو سربمہر رہیں گی۔ اور بُہت لوگ پاک کیے جائیں گے اور صاف و براق ہوں گے لیکن شریر شرارت کرتے رہیں گے اور شریروں میں سے کوئی نہ سمجھے گا پر دانش ور سمجھیں گے۔ اور جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اُجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی ایک ہزار دوسو نوے دن ہو گے۔ مُبارک ہے وہ جو ایک ہزار تین سو پینتیس روز تک انتظار کرتا ہے۔ پر تو اپنی راہ لے جب تک کہ مُدت پُوری نہ ہو کیونکہ تو آرام کرے گا اور ایّام کے اختتام پر اپنی میراث میں اُٹھ کھڑا ہو گا۔ ‘‘(دانیال باب ۱۲ آیت۸ تا ۱۳)
ولیم ملر کے نزدیک اجاڑنے والی مکروہ چیز کے نصب ہونے سے مراد پوپ اور کیتھولک چرچ کے دنیاوی اقتدار کا آغازتھا۔ اس کے بعد انہوں نے کھینچ تان کر یہ نتیجہ بھی نکال لیا کہ کیتھولک چرچ کا دنیاوی اقتدار اور عروج معین طور پر ۵۰۸ء سے شروع ہوا تھا۔ انہوں نے یہ نتیجہ اس بنیاد پر اخذ کیا تھا کہ پہلے ۱۸۹۶ء میں فرینک بادشاہ کلووس (Clovis)نے اس سال تک کیتھولک چرچ سے بپتسمہ لے کر اور ۵۰۸ء تک دوسرے قریبی بادشاہوں کو شکست دے کر اپنی سلطنت کو وسیع کر دیا تھا۔ اور کم و بیش انہی سالوں میں یورپ میں بت پرستوں کی قربانی ختم کر دی گئی تھی۔ اور ولیم ملر کا نظریہ یہ تھا کہ کیتھولک چرچ کا دنیاوی اقتدار ۱۷۹۸ء میں اس سال ختم ہوا تھا جب نپولین کے ایک جرنیل نے پوپ کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس طرح ان کے نزدیک اجاڑنے والی مکروہ چیز کا ایک ہزار دو سو نوے سال کا دور ۵۰۸ء میں شروع کر ۱۷۹۸ء میں ختم ہو گیا تھا۔ اور ایک ہزار تین سو پینتیس سال انتظار کرنے سے مراد یہ تھی کہ اس کے ۴۵؍سال بعد یعنی ۱۳۳۵ سال مکمل ہونے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہو گی اور یہ سال ۱۸۴۳ء میں بن رہا تھا۔ چنانچہ اسی سال میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی ہونی چاہیے تھی۔ ظاہر کہ بہت سے سکالر ان کے استدلال سے متفق نہیں تھے اور کئی مورخ ان کے بیان کردہ سالوں سے بھی اختلاف کر رہے تھے۔
(William Miller (1836). Evidence from Scriptures and History of the Second Coming of Christ About the year 1843. Published by Kemble and Hooper p71 – 75)
مختصر یہ کہ ملر کا نظریہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کا وقت یہی وقت ہے۔ اس کے بعد اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر انہوں نے مختلف پیشگوئیوں سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ یہ آمد ۱۸۴۳ء تک تو بہر حال ہونی چاہیے۔ اور پھر اس سے بھی آگے بڑھ کر پہلے انہوں نے یہ نتیجہ پیش کیا کہ یہ آمد ۱۸۴۳ء میں ہو گی اور اس کے بعد یہودیوں کے کیلنڈر سے حساب کر کے ان کے گروہ نے یہ حساب نکالا کہ یہ آمد ۱۸۴۳ء سے لے کر ۱۸۴۴ء تک کسی وقت ہو گی۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے کہ عمومی طور پر پیشگوئیوں میں اخفاء کا پہلو بھی ہوتا ہے اورتاریخ کا ایسا تعین نہیں ہوتا۔ اور جن واقعات کو بنیاد بنا کر ملر یہ حساب کتاب لگا رہے تھے ان کے سالوں کے تعین میں بھی تحقیق کرنے والوں میں چند سالوں کا اختلاف پایا جاتا ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد
لیکن یہ بات سچ ہے کہ دانیالؑ کی کتاب میں درج پیشگوئیوں اور مسیح کی دوسری آمد کا گہرا تعلق ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی تصنیف تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’اس جگہ جو میری نسبت کلام الٰہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا اس پر رسول یا نبی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے۔ اِسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں بھی جہاں میرا ذکر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے اور بعض نبیوں کی کتابوں میں میری نسبت بطور استعارہ فرشتہ کا لفظ آگیاہے۔ اور دانی ایل نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنے میکائیل کے ہیں خدا کی مانند۔ یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے۔ انت منّی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی فحان ان تعان وتعرف بین الناس۔ یعنی تو مجھ سے ایسا قرب رکھتا ہے اور ایسا ہی میں تجھے چاہتا ہوں جیسا کہ اپنی توحید اور تفریدکو سوجیسا کہ میں اپنی توحیدکی شہرت چاہتا ہوں ایسا ہی تجھے دنیا میں مشہور کروں گا۔ اور ہر ایک جگہ جو میرا نام جائے گاتیرا نام بھی ساتھ ہوگا۔ ‘‘ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۱۔ حاشیہ)
واضح رہے کہ دانیال باب ۱۲ کی جو پیشگوئی پہلے درج کی گئی ہے وہ شروع ہی ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ اُس وقت میکائیل مُقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزند وں کی حمایت کے لے کھڑا ہے اُٹھے گا۔ اور یہ بات قابل توجہ ہے کہ جس پیشگوئی کو ملر نے مسیح کی آمد ثانی پر چسپاں کیا تھا، اسی پیشگوئی کو اس کی موت کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح کی آمد ثانی پر چسپاں فرمایا۔ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کتاب میں دانیال باب ۱۲ کی پیشگوئی اور اس کا ترجمہ درج کر کے تحریر فرماتے ہیں : ’’ اس فقرہ میں دان ایل نبی بتلاتا ہے کہ اُس نبی آخرالزمان کے ظہور سے(جو محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے) جب بارہ سو نوے ۱۲۹۰ برس گذریں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہو گا اور تیرہ سو پینتیس ۱۳۳۵ ہجری تک اپنا کام چلائے گا یعنی چودھویں۱۴ صدی میں سے پینتیس۳۵ برس برابر کام کرتا رہے گا۔ اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی قرار دی گئی۔ اب بتلاؤ کیا اس سے انکار کرنا ایمان داری ہے؟‘‘ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ۲۹۲)
گو کہ ان عظیم تاریخی واقعات کے معین سال کے بارے میں کچھ اختلاف ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے ظہور سے مراد آپ کی پہلی وحی یا اعلانیہ تبلیغ لی جا سکتی ہے۔ اور یہ واقعات ہجرت سے تیرہ سے دس سال قبل کے سمجھے جاتے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پہلا الہام کم و بیش ۱۸۶۵ عیسوی کا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود کے مندرجہ بالا حوالہ سے ظاہر ہے ان پیشگوئیوں کو قمری سالوں کے معیار پر پرکھا جائے گا۔ اگر ان کے درمیان قمری سالوں میں حساب کیا جائے تو یہ مدت ۱۲۹۰ سال یا اس کے قریب بنتی ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے الہام کی معین تاریخ بھی معلوم نہیں لیکن یہ الہام تقریباََ ۱۸۶۵کا سمجھا جاتا ہے۔ اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سلسلہ الہام شروع ہونے تک آپ کی وفات تک کا درمیانی عرصہ قمری سالوں میں لیا جائے تو یہ عرصہ ۴۵ سال یا اس کے قریب بنتے ہیں۔ اور دونوں مدتیں ملا کر ۱۳۳۵ سال بنتی ہیں۔ بہرحال یہ موضوع تفصیلی تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔
ولیم ملر کی تحریک زور پکڑتی ہے
مدتوں اور سالوں کی پیچیدہ تفاصیل کے بعداب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے نظریات کا اظہار کر دیا تو پھر ان کی آواز عیسائی حلقوں میں ایک مضبوط تحریک کی صورت کس طرح اختیار کر گئی ؟جب ولیم ملر کے لیکچروں اور وعظوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کی شہرت جنگل میں آگ کی طرح پھیلنا شروع ہوئی۔ جگہ جگہ سے انہیں دعوت نامے موصول ہونے لگے کہ وہ اس قصبہ میں آئیں اور مسیح کی آمد ثانی پر لیکچر دیں۔ صرف عام لوگ ان کے لیکچروں میں شامل نہیں ہو رہے تھے بلکہ اب پادری بھی ان کو سننے کے لیے آ رہے تھے۔ پادریوں کی بڑی تعداد ان کے نظریات سے اختلاف کر رہی تھی لیکن ایک تعداد ان کے دلائل کی قائل بھی ہو رہی تھی۔ پہلے پہل تو یہ سلسلہ دیہات اور چھوٹے قصبوں تک محدود تھا لیکن ۱۸۳۹ء میں انہیں بوسٹن شہر کے ایک پادری کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا کہ وہ ان کے گرجا میں اس موضوع پر وعظ کریں اور اس کے ساتھ ان کی شہرت اور مقبولیت بڑے شہروں تک بھی جا پہنچی اور اسی سال انہوں نے نیویارک میں بھی لیکچر دیے۔ انہیں سننے کے لیے کانگرس کے ممبر بھی آرہے تھے۔ اور اس کے ساتھ بہت سے اخبارات اور جرائد ان کے نظریات کی مخالفت کر رہے تھے بلکہ ان کا مذاق بھی اڑا رہے تھے۔
اس پس منظر میں ایک پادری ہائمس (Himes) نے، جو ان کے نظریات کے قائل ہو چکے تھے انہیں پیشکش کی کہ وہ اس غرض کے لیے ایک اخبار جاری کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ۱۸۴۰ء میں مسیح کی آمد ثانی کی خوش خبری کا اعلان کرنے کے لیے ایک اخبار Signs of the Times جاری کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ نظریات اور بھی تیزی سے پھیلنے لگے۔ مثال کے طور پر اب خود لوگ بائبل خرید کر ان پیشگوئیوں کو پڑھ رہے تھے۔ پورٹ لینڈ میں بائبل کی فروخت کی تعداد چار گنا ہو گئی تھی۔
اب یہ خیالات اتنے عام ہو رہے تھے کہ ولیم ملر اور ان کے ہم خیال گروہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس موضوع پر بوسٹن میں ایک کانفرنس منعقد کریں۔ چنانچہ چودہ اور پندرہ اکتوبر ۱۸۴۰ء کو یہ کانفرنس منعقد ہوئی لیکن خود ملر بیماری کی وجہ سے اس میں شامل نہ ہو سکے۔ اس کانفرنس کی روئیداد کو باقاعدہ طور پر شائع کیا گیا۔ اس کانفرنس میں بھی انہیں خیالات کا اظہار کیا گیا کہ اب مسیح کی آمد ثانی کا وقت آ گیا ہے۔ اور خاص طور پر ۱۸۴۳ء میں اس آمد کے چرچے ہوئے۔ یہ پہلی کانفرنس تھی۔ اس کے بعد مختلف مقامات پر ان کانفرنسوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس موضوع پر لوگوں کی دلچسپی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک سال میں ولیم ملر نے امریکہ کے مختلف مقامات پر ۶۰۰ کے قریب لیکچر دیے اور ان کے علاوہ دوسرے سکالر بھی اپنے لیکچروں اور وعظوں میں یہ منادی کررہے تھے کہ اب مسیح کی آمد ہونے والی ہے۔ اس میں مزید تاخیر نہیں ہو گی۔ اس نظریہ کے قائل لوگوں کا تعلق پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے مختلف فرقوں سے تھا اور اب یہ گروہ ایک منظّم انداز میں اپنا لٹریچر شائع کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
ان میں سے ایک بڑا گروہ اس بات کا قائل تھا کہ یہ آمد ۱۸۴۳ء میں ہو گی اور ایک خاطر خواہ گروہ ایسا بھی تھا جو کہ یہ نظریہ تو رکھتا تھا کہ اب اس موعود کا ظہور ہونے والا ہے لیکن اس کے لیے کسی تاریخ یا سال کی حد کو معین نہیں کرتا تھا۔ اس نظریہ کے قائل لوگوں میں پہلی کانفرنس کے سیکریٹری بھی شامل تھے۔ ان کے اخبار Signs of Timesمیں یہ لوگ Second Advent Nearکی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔
کانفرنسوں کے کامیاب انعقاد کے بعد اس گروہ نے ایک کیمپ کی صورت میں اجتماعات منعقد کرنے شروع کیے۔ ان اجتماعات میں لوگ چند روز قیام کر کے اپنے نظریات پر تبادلہ خیالات کرتے اور حضرت مسیح ؑ کی دوسری آمد کے بارے میں اجتماعی دعائیں کرتے۔ اس سلسلہ میں جو پہلا کیمپ نیو ہیمپشائر کے گائوں ایسٹ کنگسٹن میں منعقد کیا گیا، وہ اتنا کامیاب رہا کہ اس میں امید سے بہت زیادہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے۔ اور اس میں دور دراز سے لوگ شامل ہوئے۔ حتیٰ کہ کینیڈا سے بھی لوگوں نے آکر اس کیمپ میں شمولیت کی۔
اب اس موعود بعثت کے منتظر لوگ باقاعدہ نظمیں لکھ رہے تھے اور موسیقی ترتیب دے رہے تھے جن میں اس بعثت کے لئے دعائیں مانگی جا رہی تھیں۔ اس سلسلہ میں لکھی گئی ایک نظم کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
How long, O Lord our Savior,
Wilt Thou remain away?
Our hearts are growing weary
Of Thy so long delay.
O when shall come the moment
When, brighter far than morn,
The sunshine of Thy glory
Shall on Thy people dawn?
ترجمہ : اے ہمارے آقا۔ ہمارے نجات دہندہ! تم کب تک دور رہو گے۔
تمہاری اتنی زیادہ تاخیر سے ہمارے دل تھک گئے ہیں۔
وہ لمحہ کب آئے گا۔ جب دن سے زیادہ روشن
تمہاری عظمت کی روشنی تمہارے لوگوں پر طلوع ہو گی
قسمت کا پھیر ملاحظہ ہو کہ جب یہ درد مند شاعری کی جا رہی تھی، اس سے پانچ سال قبل مسیح موعودؑ کی ولادت ہو چکی تھی۔ لیکن یہ گروہ اپنے پرانے عقائد کے مطابق آسمان سے بادلوں میں گھرے ہوئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد کا منتظر تھا۔
۱۸۴۲ء تک امریکہ میں ان نظریات کی مقبولیت اتنی بڑھ چکی تھی کہ شب و روز کے اجتماعات کے لیے بڑی جگہ میسر آنی مشکل ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس غرض کے لیے ایک بہت بڑا ٹینٹ بنایا گیا۔ اس میں ایک وقت میں چار پانچ ہزار لوگ سماسکتے تھے۔ اس دور میں اتنا بڑا ٹینٹ ایک عجوبہ تھا۔ چنانچہ اس غرض کے لیے اتنے بڑا خیمہ بننے کی خبریں اخباروں میں بھی شائع ہوئیں۔
ذوالسنین کا ظہور اور مخالفت کی شدت
ابھی یہ بحثیں عروج پر پہنچ رہی تھیں کہ آسمان پر ایک عظیم دمدار ستارہ نمودار ہوا۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر بھی ایسا ستارہ نمودار ہوا تھا۔ اس کی اہمیت اتنی نمایاں تھی کہ یہ دمدار ستارہ کہلاتا ہی Great Comet of 1842ہے۔ یہ بھی مسیح موعودؑ کی آمد کا ایک نشان تھا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’ یہ بھی حدیثوں میں تھا کہ مسیح موعود کے وقت ستارہ ذوالسنین نکلے گا۔ اب انگریزوں سے پوچھ لیجیے کہ مدت ہوئی وہ ستارہ نکل چکا۔ ‘‘ (تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۹)
چنانچہ اس ستارے کے نمودار ہونے کے بعد اس گروہ میں اور بھی زیادہ امید پیدا ہو گئی کہ اب مسیح کی آمد ثانی بالکل قریب ہے۔
ایک طرف تو ولیم ملر اور ان کے ہمنوا گروہ کے اجتماعات میں ہزاروں لوگ شامل ہو رہے تھے اور دوسری طرف اخباروں میں ان کے نظریات کی تردید میں کالم اور مضامین شائع ہو رہے تھے اور کئی مذہبی شخصیات ان کی تردید میں لیکچروں کا اہتمام بھی کر رہی تھیں۔ بعض اخبارات اور رسالے ان کے کارٹون بنا کر شائع کر رہے تھے۔ ان پر یہ الزام بھی لگایا جا رہا تھا کہ وہ اس بہانے سے لوگوں سے رقمیں بٹور رہے ہیں۔ بعد میں محققین کی تحقیق کے مطابق یہ الزام تو بہرحال غلط تھا۔ ایک اور طبقہ یہ الزام لگا رہا تھا کہ ان کے نظریات کو اپنانے کی وجہ سے کئی لوگوں میں ذہنی خلل کے آثار پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک اخبار تو پہلے نکالا جا رہا تھا، اب اس مخالفت کے جواب میں اس گروہ کی جانب سے ایک دوسرا جریدہ Midnight Cryکے نام سے نکلنا شروع ہوا۔
وقت کا مزید تعین کیا جاتا ہے
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ عمومی طور پر ایک بڑے طبقہ کا خیال تھا کہ اب مسیح کی آمد ثانی کا وقت آ چکا ہے۔ لیکن ایک گروہ ایسا بھی تھا جو کہ یہ تعین کر رہا تھا کہ یہ آمد ۱۸۴۳ء کے اختتام تک تو بہر حال ہو جائے گی۔ اب یہودیوں کے مذہبی کیلنڈر کو مد نظر رکھ کر یکم جنوری۱۸۴۳ء کوولیم ملر نے یہ حساب پیش کیا کہ ۲۱؍مارچ ۱۸۴۳ء سے ۲۱؍مارچ ۱۸۴۴ء کے درمیان تو بہر حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ نزول ہوجانا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ملر اپنے خطوط میں یہ اظہار بھی کر رہے تھے: If Christ comes, as we expect, we will sing the song of victory soon; if not, we will watch, and pray, and preach until He comes, for soon our time, and all prophetic days, will have been filled. (Francis D. Nichol (1945). The Midnight Cry. Published by Review and Herald Publishing Association. P 62)
ترجمہ: اگر مسیح کی آمد ہو جاتی ہے تو ہم جلد فتح کے ترانے گا رہے ہوں گے۔ اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہم انتظار کریں گے، دعائیں کریں گے اور تبلیغ کرتے رہیں گے۔ یہاں تک وہ جلد آجائے اور ہماری مدت اور پیشگوئیوں کے تمام دن پورے ہو جائیں۔
ایک طرف تو ایک طبقہ مسیح ؑ کی آمد ثانی کی تاریخ متعین کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن دوسری طرف ان کے ترجمان اخباراس قسم کے اعلانات بھی شائع کر رہے تھے: If we are mistaken in the time, we feel the fullest confidence that the event we have anticipated is the next great event in the world‘s history. (Francis D. Nichol (1945). The Midnight Cry. Published by Review and Herald Publishing Association. P 63)
ترجمہ:اگر وقت کے بارے میں ہمارا خیال غلط ہے تو ہمیں پورا اعتماد ہے کہ جس واقعہ کا ہم انتظار کر رہے ہیں وہ دنیا کی تاریخ کا اگلا عظیم واقعہ ہو گا۔
یہ حوالے ظاہر کرتے ہیں کہ گو ایک گروہ حیران کن طور پر سال اور تاریخوں کو متعین کرنے کی کوشش کر رہا تھا جبکہ تاریخ مذاہب گواہ ہے کہ کئی مرتبہ پیشگوئیوں میں بیان کیے گئے واقعات کے زمانہ کے بارے میں کچھ علامات یا مدت تو بیان کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ کسی ایک واقعہ کی تاریخ تک متعین ہو۔ ان پیشگوئیوں میں عمومی طور پراخفا کا بھی ایک پہلو ہوتا ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں تو ان نظریات کے چرچے ہورہے تھے، اب برطانیہ میں بھی ایک پریس ان کے لٹریچر کو ہزاروں کی تعداد میں شائع کرنے لگا۔ مختلف پروٹسٹنٹ چرچوں سے وابستہ عیسائی احباب ان نظریات کی حمایت کررہے تھے لیکن اب ان میں سے کئی لوگوں کو اپنے ہی چرچوں میں طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس کی وجہ سے بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب انہیں اپنے چرچوں سے قطع تعلق کر کے اپنی مذہبی رسومات اور تقریبات علیحدہ ادا کرنی چاہئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب وقت کی وہ آخری حد قریب آرہی تھی جب ان میں سے بہت سے نمایاں شخصیات کے نزدیک آسمان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوسری آمد ہوجانی چاہیے تھی۔ اور اس کے بعد دنیا کا اختتام تھا۔ نیک لوگوں کو مراتب اور رفعت حاصل ہونی تھی اور منکرین کو بھسم کر دینے والا عذاب نصیب ہونا تھا۔ اس گروہ کے جذبات شدت اختیار کر چکے تھے۔ وہ اپنے اپنے انداز میں دنیا کے کام سمیٹ کر اس موعود واقعہ کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک اب حشر برپا ہونے والا تھا۔
پہلی مایوسی
اس مدت کی آخری تاریخ ۲۱؍مارچ ۱۸۴۴ء آئی اور گذر گئی۔ سارا دن اور ساری رات یہ لوگ انتظار کرتے رہے اور ان میں سے کئی روتے رہے۔ آسمان سے کوئی مسیح نازل نہیں ہوا۔ نہ ہی مردے زندہ ہوئے۔ نہ ہی نیک لوگ اپنے آسمانی مقام کو پہنچے اور نہ ہی منکرین پر کوئی آگ برسی۔ ولیم ملر اور ان کے ہمنوا جو اب امریکہ میں خاصی تعداد میں تھے پر مایوسی کے اندھیرے چھانے لگے اور ان کے مخالفین نے ان کا مذاق اڑا کر ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ کسی نے یہ پھبتی کسی کہ ان لوگوں نے آسمان پر جانے کے لیے سفید چوغے بنا لیے تھے اور ان کو پہن کر انتظار کر رہے تھے حضرت عیسیٰ علیہ السلام آکر ان کو آسمان پر لے کر جائیں گے۔ کسی نے راہ چلتے آواز لگائی کہ اب تک یہاں کیوں پھر رہے ہو؟ بعض مقامات پر ہجوم نے اس گروہ کے لوگوں پر حملے بھی کیے۔ الغرض جتنے منہ اتنی باتیں۔ اس گروہ میں ایک طبقہ مایوس ہو کر پیچھے ہٹ گیا اور دوسرے گروہ کے وہی نظریات تھے جن کا اظہار ولیم ملر نے اپنے ایک دوست کے نام خطوط میں ان الفاظ میں کیا:
The time, as I have calculated it, is now filled up, and I expect every moment to see the Saviour descend from heaven…
I confess my error, and acknowledge my disappoint merit; yet I still believe that the day of the Lord is near, even at the door; and I exhort you, my brethren, to be watchful, and not let that day come upon you unawares. (SYLVESTER BLISS (1853). MEMOIRS OF WILLIAM MILLER, published by Joshua W. Himes. P 255-256)
ترجمہ: وقت کا جو میں نے حساب کیا تھا، وہ وقت گذر گیا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ میں کسی وقت بھی اپنے نجات دہندہ کو آسمان سے اترتا دیکھوں گا۔…
میں اپنے سہو کا اعتراف کرتا ہوں اور میری مایوسی بجا ہے۔ لیکن میں ابھی بھی یہ یقین رکھتا ہوں کہ آقا کا دن نزدیک ہے بلکہ یہ وقت دروازہ پر کھڑا ہے۔ میرے بھائیو میں التجا کرتا ہوں کہ ہوشیار رہو اور وہ دن تمہاری غفلت کی حالت میں نہ آئے۔
ولیم ملر بارہ سال سے یہ پرچار کر رہے تھے کہ مسیح کی آمد کا وقت قریب ہے۔ اب جب کہ ان کے حساب کتاب کے مطابق ان کے خیالات کے مطابق مسیح کو آسمان سے آجانا چاہیے تھا اور انہوں نے آسمان سے کسی کو نازل ہوتے نہیں دیکھا، تو انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار اس نظم میں کیا :
How tedious and lonesome the hours,
While Jesus, my Saviour, delays !
I have sought him in solitude‘s bowers,
And looked for him all the long days.
ترجمہ: کتنا تھکا دینے والا اور تنہا وقت ہے۔
جب میرے یسوع میرے نجات دہندہ کی آمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔
میں نے اسے جھک کر تنہائی میں تلاش کیا ہے۔
اور میں نے طویل دنوں میں اسے ڈھونڈا ہے
(SYLVESTER BLISS (1853). MEMOIRS OF WILLIAM MILLER, published by Joshua W. Himes. P 262)
اس آمد کے انتظار میں جو تحریک چل رہی تھی اس میں ابھی جوش و خروش باقی تھا۔ چنانچہ مئی ۱۸۴۴ء کے آخر میں بوسٹن میں اس تحریک کی ایک اور کانفرنس منعقد ہوئی۔ اصولی طور پر اس تحریک کا یہ موقف تھا کہ وہ اب مسیح کی دوسری آمد کی تاریخ نہیں بتا سکتے۔ اور ان کی طرف سے باقاعدہ یہ موقف شائع بھی کیا گیا تھا۔ (Daily National Intelligencer, 27 March 1844, p3)
دوسری مایوسی
اگرچہ ایک مرتبہ تاریخ یا سال متعین کرنے کی وجہ سے شرمندگی اٹھانی پڑی تھی لیکن یہی راستہ ایک مرتبہ اور اختیار کیا گیا۔ اسی تحریک کے ایک اور بڑے قائد سنو (Snow) نے حساب کتاب کر کے یہ اعلان شروع کر دیا کہ ۲۲؍اکتوبر ۱۸۴۴ء تک تو بہر حال یہ عظیم واقعہ رو نما ہو جائے گا۔ اور بہت سے لوگ ان کے اس حساب پر فوری طور پر یقین بھی لے آئے۔ نیوہیمپشائر کے بعض کسانوں نے تو زمین میں ہل چلانے بھی بند کردیے کہ حشر تو برپا ہونے والا ہے اب اتنی تگ و دو کر کے کیا کرنا؟ اس حساب کتاب کی بنیاد یہ تھی کہ یہودیوں کی کیلنڈر کے ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو یہ آمد ہونی چاہیے۔
(Francis D. Nichol (1945). The Midnight Cry. Published by Review and Herald Publishing Association. P 81- 82)
متی کی انجیل میں اپنی دوسری آمد کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ تمثیل بیان کی گئی ہے: ’’اس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کُنوارِیوں کی مانِند ہوگی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے اِستقبال کو نِکلیں۔ اُن میں پانچ بیوُقُوف اور پانچ عقلمند تھیں۔ جو بیوُقُوف تھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لِیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لِیا۔ مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپِّیوں میں تیل بھی لے لِیا۔ اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اُونگھنے لگِیں اور سو گئیں۔ آدھی رات کو دھُوم مچی کہ دیکھو دُلہا آگیا! اُس کے اِستقبال کو نِکلو۔ اُس وقت وہ سب کنوارِیاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل دُرُست کرنے لگِیں۔ اور بیوُقُوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کُچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔ عقلمندوں نے جواب دِیا کہ شاید ہمارے تمہارے دونوں کے لیے کافی نہ ہو۔ بہُتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔ جب وہ مول لینے جارہی تھیں تو دُلہا آپہنچا۔ اور جو تیّارتھیں وہ اُس کے ساتھ شادِی کے جشن میں اَندر چلی گئیں اور دروازہ بند ہوگیا۔ پھِر وہ باقی کنوارِیاں بھی آئیں اور کہنے لگیں اَے خُداوند! اَے خُداوند! ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ اُس نے جواب میں کہا مَیں تُم سے سَچ کہتا ہُوں کہ مَیں تُم کو نہیں جانتا۔ پس جاگتے رہو کیونکہ تُم نہ اُس دِن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔ ‘‘ (متی باب ۲۵)
اسی تمثیل کو بنیاد بنا کر نیو ہیمپشائر میں جگہ جگہ لوگ یہ گنگنا رہے تھے دیکھو دلہا آ گیا ہے اس کے استقبال کے لیے نکلو۔ اگرچہ اس تحریک کے کئی نمایاں قائدین اب کسی معین تاریخ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے لیکن یہ خیال پھیلتا جا رہا تھا۔ اور یہ لوگ اس حوالے کی آخری آیت پر غور نہیں کر رہے تھے کہ تم نہ اس گھڑی کو جانتے ہو نہ اس دن کو۔ بہر کیف ۲۲؍اکتوبر ۱۸۴۴ء بھی آئی اور گذر گئی۔ ہزاروں لوگ ساری رات جاگ کر دعائیں کرتے رہے اور آسمان سے مسیح کے اترنے کا انتظار کرتے رہے اور زاروقطار روتے رہے۔ لیکن انہوں نے کسی مسیح کو آسمان سے اترتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اور وہ دیکھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ موٹے طور پر وقت کے متعلق ان کا اندازہ کچھ زیادہ غلط نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق کئی برس قبل قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ولادت ہو بھی چکی تھی اور کچھ دہائیوں کے بعد اس ہستی نے اپنے دعوے کا اعلان کر بھی دینا تھا۔ پیشگوئیاں سچی تھیں لیکن انتظار کرنے والے غلط سمت میں اور غلط امیدوں کے ساتھ راہ تک رہے تھے۔ یہ واقعہ تاریخ میں THE GREAT DISAPPOINTMENT OF 1844 یعنی ۱۸۴۴ء کی بڑی مایوسی کہلاتا ہے۔ اسی انتظار کی کیفیت میں ۱۸۴۹ء میں ولیم ملر کا انتقال بھی ہو گیا۔
اس تحریک نے بعد میں کس چرچ کا روپ اختیار کیا اور اب بھی مسیحی اور مسلمان دنیا میں یہ نظریات کس رنگ میں موجود ہیں۔ یہ ایک علیحدہ دلچسپ اور طویل بحث ہے اور ایک مضمون میں نہیں سما سکتی لیکن یہ تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی گئی کہ دنیا بےتابی سے ایک موعود ہستی کا انتظار کر رہی تھی۔ لیکن جب یہ وعدہ پورا ہوا اور اس انداز میں پورا ہوا جس کی وہ توقع نہیں کر رہے تھے تو اکثر نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وجودِ ملائکہ و شیاطین



