الفضل ڈائجسٹ
اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کئے جاتے ہیں۔
…………………………
حضرت منشی قمرالدین صاحبؓ
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 22نومبر 2011ء میں حضرت منشی قمرالدین صاحبؓ آف لودھیانہ کا مختصر تعارف شامل اشاعت ہے۔
حضرت منشی صاحبؓ کی ولادت 1856ء میں ہوئی۔ اور بیعت ابتدائی زمانہ میںکرنے کی سعادت حاصل کی۔
آپؓ لودھیانہ کے رہنے والے تھے اور حضرت منشی محمد ابراہیم صاحبؓ (یکے از313اصحاب احمد) کے فرزند تھے۔ آپ نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی تعلیم بھی حاصل کی۔ منشی فاضل کا امتحان پاس کرکے بعمر اٹھارہ سال محکمہ تعلیم سے وابستہ ہوگئے اور لمبا عرصہ ملازمت میں رہے۔ قبولِ احمدیت کے نتیجہ میں آپؓ کی مخالفت کے باوجود بھی آپؓ بطور مدرّس متعیّن رہے۔ حضرت مسیح موعودؑ نے ’’کتاب البریہ‘‘ میں پُرامن جماعت کے ضمن میں آپؓ کا ذکر بھی فرمایا ہے۔
آپؓ تقریباً 20سال تک جماعت احمدیہ لدھیانہ کے محاسب، سیکرٹری اور صدر رہے۔ سعد اللہ لدھیانوی جب اپنی نظموں میں جماعت احمدیہ کے خلاف گندہ دہنی کرتے تو آپؓ مومنانہ طور پر اس کا جواب دیا کرتے۔ 1914ء میں نظام خلافت کے استحکام کے لئے آپؓ نے مؤثر کوشش کی اور ہر قسم کے فتنوں کا مقابلہ کیا۔
حضرت منشی قمرالدین صاحبؓ نے 22 نومبر 1926ء کو 70سال کی عمر میں وفات پائی۔
آپؓ کے ایک بیٹے حضرت بابو شیخ غلام حسین صاحبؓ تھے جو جماعت احمدیہ دہلی کے 35 سال تک سیکرٹری مال رہے۔ انہوں نے 15 دسمبر 1953ء کو کراچی میں 60سال کی عمر میں وفات پائی۔ اُن کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور چھ بیٹیاں شامل تھیں۔
…٭…٭…٭…
مکرم چودھری محمد سلیم صاحب
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15نومبر 2011ء میں مکرمہ الف۔منور صاحبہ کے قلم سے اُن کے والد محترم چودھری محمدسلیم صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
آپ مولوی محمد یوسف صاحب بھیروی (سابق امیر جماعت بھیرہ و استاذالجامعۃالاحمدیہ) کے بڑے فرزند تھے۔ بہت نیک ،سادہ، شریف الطبع اور بہت سی خوبیوں کے مالک تھے۔ ہمیشہ جماعتی خدمات بجالاتے رہے ۔ بوقت وفات بھی زعیم انصار اللہ کے طور پر خدمت کررہے تھے۔ اپنے بچوں کی تربیت کا بہت خیال رکھتے۔ انہیں قرآن کریم خود پڑھایا، دعائیں زبانی یاد کروائیں اور درود شریف بکثرت پڑھنے کی تاکید کرتے تھے۔ علم حاصل کرنے اور محنت اور ایمانداری سے زندگیاں گزارنے کی تلقین کیا کرتے۔ خود بھی ایک ایماندار اور محنتی انسان تھے۔ اپنی اہلیہ کے بہترین ساتھی تھے۔
آپ نے بھیرہ سے میٹرک کرنے کے بعد ڈسپنسر کا کورس کیا۔ دوسرں کی تکلیف پر بے چین ہوجاتے اور غریبوں میں ڈاکٹر کہلاتے اور اُن کا خاص طور پر بہت خیال رکھتے۔ غرباء کو دوا بھی مفت دیا کرتے۔ بہت رحم دل اور نرم دل انسان تھے ۔ اگر گھر میں کوئی کہتا کہ اپنی فیس بڑھادیں تو ناراضگی کا اظہار کرتے کہ پھر یہ لوگ کہاں جائیں گے۔ مریض کی بے وقت آمد سے کبھی نہ گھبراتے۔ وفات سے دو روز قبل طبیعت بہت خراب تھی تو بھی رات کو اطلاع ملنے پر ایک مریض کا معائنہ کرنے گئے۔ لیکن کمزوری اتنی تھی کہ واپسی پہ خود بھی گر گئے۔ آپ کی وفات پر بہت سے غیر از جماعت تعزیت کے لئے آئے اور انتہائی اچھے لفظوں میں یاد کرتے رہے۔ آپ کا لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ہی تھا کہ آپ کی وفات پر غیرازجماعت بھی اس موقع پر آنے والے مہمانوں کے لئے بغیر کہے اپنے گھروں سے چارپائیاں اور بستر لالا کر دیتے رہے۔
مکرم چودھری محمد سلیم صاحب نے ایک لمبا عرصہ بیماری میں گزرا۔لیکن بہت صابر و شاکر رہے۔ اپنی وفات کے بارہ میں وفات سے قریباً دو ماہ پہلے واضح خواب دیکھا۔ 19؍اگست 2008ء کو وفات پا ئی۔
…٭…٭…٭…
محترم قاضی عبدالسمیع طارق صاحب
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍نومبر 2011ء میں مکرمہ ع۔ س۔ طارق صاحبہ نے اپنے والد محترم قاضی عبدالسمیع طارق صاحب کا ذکرخیر کیا ہے۔
محترم قاضی عبدالسمیع طارق صاحب 14؍اگست 1954ء کو (حضرت قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری کے برادرخورد) محترم قاضی عبدالحمید صاحب کے ہاں لاہور میں پیدا ہوئے جن کی نیلاگنبد لاہور میں ’قاضی پین شاپ‘ کے نام سے دکان تھی۔ آپ حضرت قاضی حکیم محمد حسین صاحبؓ (بیعت 1904ء) کے پوتے تھے۔ ابھی آپ کی عمر 23برس کی تھی کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس صدمے کو آپ نے خود بہت حوصلے اور صبر سے برداشت کیا بلکہ پھر اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کا بھی خیال رکھا۔ 9بہن بھائیوں میں آپ کا چوتھا نمبر تھا۔
محترم قاضی عبدالسمیع طارق صاحب بہت دعا ئیں کرنے والے اور متوکّل انسان تھے۔ خدمت خلق کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ جب خلیفۂ وقت کا خطبہ ڈِش پر آنے لگا تو کئی احمدیوں کو آپ نے ڈش نصب کر کے دی۔ اگرچہ آپ شوگر اور دل کے مریض تھے مگر خدمت خلق میں اپنی بیماری کو کبھی روک نہیں بننے دیا اور MTA کے لئے دن رات مصروف رہتے۔ حسب توفیق دیگر جماعتی خدمات کے لئے بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے۔
آپ میں خداداد صلاحیتیں موجود تھیں۔ہر طرح کے پَین بھی ٹھیک کر لیتے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ساتھ ذاتی تعلق تھا۔ حضورؒ جب بھی انارکلی آتے تو اکثر آپ سے مل کر جاتے۔
آپ باقاعدگی سے پانچ وقت نماز ادا کرتے۔ نماز جمعہ باقاعدگی سے ادا کرتے۔ 28 مئی 2010ء کو لاہور میں ہونے والی دہشتگردی سے ایک روز قبل آپ کی آنکھ کا آپریشن ہوا تھا اس لئے آپ کے اصرار کے باوجود گھر والوں نے آپ کو جمعہ پر نہ جانے دیا۔ لیکن جب یہ واقعہ رونما ہوگیا تو اس کا بہت اثر لیا۔
آپ کو بہت سچے خواب آتے تھے۔ لندن میں مسجد بیت الفتوح کی تعمیر سے قبل بھی اسے خواب میں دیکھ چکے تھے۔ اور خلفاء کرام سے خواب میں ملاقاتوں کا کئی بار ذکر کرتے۔ قادیان کی زیارت کا بہت شوق تھا۔ 2006ء میں جلسہ پر قادیان جانے کا موقع مل گیا۔
آپ نے 11جنوری 2011ء کو وفات پائی اور احمدیہ قبرستان (لطیف آباد) لاہور میں تدفین ہوئی۔ آپ نے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور 3 بیٹیاں چھوڑیں۔
…٭…٭…٭…
محترمہ صاحبزادی امتہ النصیر بیگم صاحبہ
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15نومبر 2011ء کی ایک خبر کے مطابق حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی پوتی اور حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ اور حضرت سارہ بیگم صاحبہ کی بیٹی محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر بیگم صاحبہ اہلیہ محترم پیر معین الدین صاحب 12نومبر2011ء کو ربوہ میں بعمر 82 سال انتقال فرماگئیں۔ تدفین بہشتی مقبرہ کی اندرونی چار دیواری میں ہوئی ۔ آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی بہن اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی خالہ محترمہ تھیں۔ آپ نے پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا یادگار چھوڑا ہے۔
محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر بیگم صاحبہ 13؍اپریل 1929ء کو قادیان میں پیدا ہوئیں۔ مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینیات کلاس میں دینی علوم سے بہرہ ور ہوئیں۔ آپ بہت چھوٹی تھیں کہ آپ کی والدہ حضرت سارہ بیگم صاحبہ بنت حضرت عبدالماجد بھاگلپوری کی وفات ہو گئی۔ اسی لئے آپ کی پرورش حضرت اماں جانؓ نے کی اور بہت محبت دی۔ آپ کو بھی حضرت امّاں جان سے بہت محبت تھی ۔ 1949ء میں آپ کو حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت اماں جانؓ کے ساتھ اُن کی گاڑی میں ربوہ آنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ آپ اسے اپنی زندگی کا یادگار واقعہ قرار دیتی تھیں۔
مہمان نوازی اور غریبوں کا خیال رکھنا محترمہ امۃالنصیر بیگم صاحبہ کے بنیادی اوصاف تھے۔ آپ بہت صابر ، اعلیٰ اخلاق کی مالک، مہمان نواز اور صغر سنی سے ہی خدمت دین کا شوق رکھتی تھیں۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر 13سال کی عمر میں منتظمہ دارالمسیح کا فریضہ سر انجام دیا۔ سیکرٹری ناصرات قادیان بھی رہیں۔ ہجرت کے بعد رتن باغ اور پھر ربوہ میں لجنہ کی خدمات بجا لاتی رہیں۔ مسجد مبارک ربوہ کی سنگ بنیاد کی تقریب میں اینٹ پر دعا کرنے والی خاندان حضرت اقدسؑ کی خواتین میں شامل تھیں۔ ربوہ کے ابتدائی دَور سے ہی اپنے محلہ میں لجنہ کی خدمت میں مصروف رہیں۔ 1953ء تا 1997ء تک (سات سال کے وقفہ کے علاوہ) کُل 37سال بطور صدر لجنہ حلقہ خدمات انجام دیں۔ 1973ء سے 2007ء تک لجنہ کی مجلس عاملہ ربوہ میں خدمت کی توفیق پاتی رہیں۔ اس طرح آپ 65 سال سے زائد عرصہ تک لجنہ اماء اللہ کے مختلف شعبہ جات میں خدمت میں مصروف رہیں۔
آپ کی والدہ حضرت سارہ بیگم صاحبہ کا تعلق بھاگلپور کے ایک معزز اور علمی خاندان سے تھا۔ جب وہ فوت ہوئیں تو آپ کی عمر تین سال تھی۔ ان کی وفات پر اپنے بھائی کے سمجھانے کے بعد خاموش ہو گئیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ان کی اس کیفیت اور صبر کے بارہ میں فرماتے ہیں کہ مجھے یقین ہو گیا کہ امۃالنصیر موت کی حقیقت کو جانتی ہے۔ اس کا فعل صابرانہ فعل ہے اور وہ اپنی ماں کی سچی یادگار ہے۔ وہ حقیقت کو جانتے ہوئے اپنے دل پر قابو پائے ہوئے ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کے لئے ایک لمبی دعا بھی تحریر فرمائی جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے: اللہ تعالیٰ اس ننھی سی کلی کو مُرجھا جانے سے محفوظ رکھے۔ وہ اس چھوٹے سے دل کو اپنی رحمت کے پانی سے سیراب کرے اور اچھے خیالات اور اچھے افکار اور اچھے جذبات کی کھیتی بنائے جس کے پھل ایک عالم کو زندگی بخش، ایک دنیا کے لئے موجب برکت ثابت ہوں…
حضرت مصلح موعودؓ نے 26دسمبر 1951ء کو آپ کا نکاح ہمراہ محترم پیر معین الدین صاحب ولد محترم پیر اکبر علی صاحب ایک ہزار روپے حق مہر پر پڑھا۔ خطبہ نکاح میں حضور نے فرمایا کہ احباب کو معلوم ہو گاکہ میں اپنی لڑکیوں کا نکاح صرف واقفین زندگی سے کر رہا ہوں اور اس رشتہ میں بھی میرے لئے یہی کشش تھی کہ لڑکا واقف زندگی ہے۔
محترم پیر معین الدین صاحب ایک علمی شخصیت کے مالک خادم سلسلہ تھے۔ انہوں نے دیگر جماعتی خدمات کے علاوہ قرآن کریم کا وسیع مطالعہ کیا اور اس کے معارف اور خزائن کے بارہ میں تحقیقی اور علمی کام کرکے کتب تحریر کیں۔ ان کی وفات 12ستمبر 2006ء کو بعمر 81سال ہوئی۔
حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو مختلف مواقع پر آنے والی خوابوں اور رئویا میں دیکھا۔ چنانچہ ’’رئویا و کشوف سیدنا محمود ‘‘ میں رئویا نمبر 507,407اور 608میں خاص طور پر آپ کا ذکر موجود ہے۔ 11دسمبر 1954ء کے رئویا کے بارہ میں حضور فرماتے ہیں کہ ’’انہوں (حضرت سارہ بیگم صاحبہ ۔ ناقل) نے کہا کہ آپ تو مجھ سے خفا ہو گئے ہیں۔ میںنے کہا تم نے تو مجھے چھیرو (امۃ النصیر) جیسی بیٹی دی ہے۔ میں خفا کیسے ہو سکتا ہوں‘‘۔
…٭…٭…٭…
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29اگست 2011ء میں مکرم الطاف حسین صاحب کا کلام شامل اشاعت ہے جو اُس وقت کہا گیا جب کئی ماہ کے وقفہ کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیارت انہوں نے MTA پر کی۔
چشمِ ویران کو دیدہ ور مل گیا دل کی بے چینیوں کو قرار آ گیا
بعد مدّت کے آقا ہوئے جلوہ گر سارے زنداں پہ رنگِ بہار آ گیا
جس کی آواز ہے اک پیامِ سحر جس کی مسکان ہے اک نئی زندگی
وہ معطر وہ مسحور شیریں بیاں سامنے آنکھ کے شہر یار آ گیا
اس کا دستِ شفا مستجاب الدعا اس کی ہر اک ادا سنّتِ مصطفی ؐ
ہم فقیروں کا دنیا میں ہے آسرا بن کے سایۂ ربِّ ستّار آ گیا
ہے جدائی تری زندگی پہ گراں دید آقا کی ہے وجہِ تسکینِ جاں
اذنِ دیدار کی منتظر آنکھ کو جانے کس آن پیغامِ یار آ گیا
آسمانِ عقیدت کا وہ دیوتا عشق کی سلطنت کا جو ہے بادشاہ عصرِ حاضر میں اسلام کا رہنما ، ہے خلافت کا وہ تاجدار آ گیا




