کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

(مقربین الٰہی کی ایک علامت یہ ہے کہ )وہ خلق اللہ سے ہمدردی کرتے ہیں اور مصائب کے وقت میں ان کا خیال رکھتے ہیں۔وہ اپنے سینوں میں کسی کے لئے بھی ذرّہ برابر کینہ نہیں رکھتے اور وہ ان کے لئے بھی دعا کرتے ہیں جو اُن پر گندے الزام لگاتے اور حقیر جانتے ہیں۔ اور مَیں اللہ کے فضل سے اس کے اولیاء میں سے ہوں۔ کیا تم پہچانتے نہیں؟ اورمَیں تمہارے پاس کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہوں کیا تم دیکھتے نہیں؟

وہ خلق اللہ سے ہمدردی کرتے ہیں اور مصائب کے وقت میں ان کا خیال رکھتے ہیں اور ایسا کام کرتے ہیں جو آسمانوں میں فرشتوں کو بھی حیران کر دیتا ہے اور نیکیوں میں سبقت لے جاتے ہیں۔ ان کے دلوں میں شجاعت رکھی جاتی ہے۔ پس وہ ان شدائد میں بھی جن کا سلسلہ روز مکافات (قیامت) تک طویل ہو ہمیشہ رواں دواں رہتے ہیں اور وہ خوفزدہ نہیں ہوتے اور نہ ہی منہ پھٹ ہو کر کسی سے بدکلامی کرتے ہیں بلکہ لوگوں کی بدگوئی پر سکوت اختیار کرتے اور اپنا غصہ پی جاتے ہیں۔ وہ دنیا کے مُردار کی طرف مائل نہیں ہوتے اور اسے کتوں کے لئے چھوڑ دیتے ہیںاور اسے محض ہڈیوں کی ایک مٹھی بلکہ مکھیوں کا فضلہ تصور کرتے ہیں۔ ان کی نگاہ اس طرف نہیں اٹھتی اور نہ ہی وہ اس کی جانب کوئی توجہ کرتے ہیں۔

وہ اپنے تئیں ایسا بنا لیتے ہیں جیسے شاخدار درخت ہو کہ ہر طرف سے آنے والا بھوکا شخص ان کے پھل کھاتا ہے۔ کیا ہی اچھے مہمان اور کیا ہی اچھے میزبان ہیں۔ یہ لوگ حسن تام کے مالک ہیں اور بدی کو نیکی سے دُور کرتے ہیں اور مخلوق کی خدمت کرتے ہیں اور جو انہیں ایذاء پہنچائے وہ اسے ایذاء نہیں پہنچاتے اور معذرت خواہ کی معذرت قبول کرتے ہیںاور جب کمینہ دشمنوں کی طرف سے ان پر سختیاں کی جائیں تو اس کے جواب میں وہ ان پر احسان کرتے ہیں اور وہ گالی کے جواب میں گالی دینے سے اجتناب کرتے ہیں اور اس کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ اور وہ اپنے دشمنوں کے لئے اللہ کی طرف سے خیر، سلامتی، صحت و عافیت اور ہدایت کی دعا کرتے ہیں اور وہ اپنے سینوں میں کسی کے لئے بھی ذرّہ برابر کینہ نہیں رکھتے اور وہ ان کے لئے بھی دعا کرتے ہیں جو ان پر گندے الزام لگاتے اور حقیر جانتے ہیں۔ اور عاصی تک کو اپنی جماعت میں پناہ دیتے ہیں۔ پس اللہ ان پر ظاہر ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اسے مقدم کرتے ہیںاور اس کے بندوں پر رحم کرتے ہیں اور اس وجہ سے کہ وہ اخلاص رکھتے ہیں حقیقتاً یہی لوگ ابدال اور اولیاء اللہ ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ان کی تشریف آوری سے زمین کو برکت دی جاتی ہے۔ اور لوگوں کو ان کے غموں سے نجات دی جاتی ہے۔ پس مبارک ہو ان لوگوں کو جو اُن سے تعلق رکھتے ہیں۔ اے میرے ربّ! تو مجھے ان میں شامل فرما اور میرا ہو اور میرے ساتھ ہوجا اس دن تک کہ جب لوگ اٹھائے جائیں اور پیش کئے جائیں۔ اے میرے ربّ! ان لوگوں پر جو میری دشمنی کر رہے ہیں گرفت نہ فرما کیونکہ وہ مجھے نہیں پہچانتے اور نہ انہیں بصیرت حاصل ہے۔ پس اے میرے ربّ! اپنی جناب سے ان پر رحم کر اور انہیں ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما۔ اے منکرو! اگر تم شکر کروا ور ایمان لے آئو تو اللہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے۔ کیا تم اللہ کا شکر نہیں کرو گے؟ جبکہ اس نے تمہیںآلیاایسے وقت جس میں تم ہلاک کئے جا رہے تھے اور اُچکے جاتے تھے اور اگر تم نے شکر کیا تو وہ تمہیں زیادہ دے گا اور جو تم تمنّا اور آرزو کرو گے تمہیں عطا کیاجائے گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو جہنم ناشکرے لوگوں کو گھیرنے والی ہے۔

ان کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز اور کسی چیونٹی تک کو ایذا نہیں پہنچاتے اور ضعیفوں پر رحم کرتے ہیں۔ وہ (کسی سے) مکمل قطع تعلقی نہیں کرتے اگرچہ شریراُن سے دشمنی کریں جو انہیں ہر طرح کی ایذا دیتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں۔ بلکہ وہ اپنے دشمنوں کے لئے دعا کرتے ہیں تا کہ وہ ہدایت پا جائیں۔ تُو انہیں بدخُلق سخت دل کی طرح نہیں پائے گا اور نہ ہی تو کسی اور کو ان جیسا رحم دل اور لوگوں کا خیر خواہ پائے گا خواہ تومشرق و مغرب میں ڈھونڈے۔ وہ مصیبت زدہ لوگوں کے لئے دعا کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس کے لئے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ پس جب یہ حالت ان کے نفوس پر جاری ہو جائے تو ان کی دعا حضرت احدیّت میں سنی جاتی ہے اور پھر انہیں اس کے متعلق خبر دی جاتی ہے کیونکہ وہ اپنی دعائوں کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں اور (خلق خدا کی) غمخواری کا پورا حق ادا کرتے ہیں اور اس میں بالکل کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ وہ اپنے آپ کو پگھلا دیتے ہیں اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں، پس وہ اس سے بہت سی جانوں کو ہلاکت سے بچا لیتے ہیں۔ اسی طرح انہیں عظیم الشان فطرت (صحیحہ) عطا کی جاتی ہے اور وہ اس کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ وہ اندھیری راتوں میں قیام کرتے ہیں جبکہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے (نیک) اعمال کا نور اس دنیا میں ہی مشاہدہ کر لیتے ہیں اور ہر روز اپنے نور میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور جو (اعمال صالحہ) انہوں نے اپنے نفسوں کے لئے آگے بھیجے ہوتے ہیں وہ ان کی شادابی دیکھ لیتے ہیں۔ اور وہ نشہ بازوں کی طرح نہیں ہوتے اور وہ ہر معصیت سے مجتنب رہتے ہیں خواہ کتنی ہی چھوٹی ہو۔ پس وہ اس کے قریب نہیں پھٹکتے اور نہ ہی وہ اس کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اور وہ عمل صالح کی توقیر کرتے ہیں اور تحقیر نہیں کرتے۔

اور مَیں اللہ کے فضل سے اس کے اولیاء میں سے ہوں۔ کیا تم پہچانتے نہیں؟ اور میں تمہارے پاس کھلے کھلے نشان لے کر آیا ہوں کیا تم دیکھتے نہیں؟ کیا شمس و قمر کو گرہن نہیں لگ چکا؟ کیا تمام ممالک میں اونٹنیاں بیکار نہیں ہو چکیں؟ تمہیں کیا ہے کہ تم غوروفکر نہیں کرتے؟ خدائے رحمان کی طرف سے کھلے کھلے نشانات آچکے اور اس کی طرف سے واضح دلیل نازل ہو چکی، اس کے بعد تمہارے دلوں میں کون سا شک خلجان پیدا کر رہا ہے۔ اے اعراض کرنے والو! اب تمہارے پاس کون سا عذر باقی رہ گیا ہے؟ کیا طاعون نہیں پھیلی اور کثرت سے موتیں نہیں ہوئیں؟ جھوٹ اور فسق و فجور عام نہیں ہو گیا؟ مشرک قوم غا لب نہیں ہو چکی؟ دنیا میں ایک انقلاب عظیم کا آغاز نہیں ہو چکا؟جن کے تم منتظر تھے ان میں سے اکثر (علامات) ظاہر نہیں ہو چکیں؟ پس تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم حسن ظن سے کام نہیں لیتے اور حد سے بڑھ رہے ہو۔‘‘

(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 88تا 93)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button