متفرق شعراء

اک نعمتِ عظمٰی ہے دنیا میں خلافت بھی

دیکھا جو مجھے جھلکی آنکھوں میں شناسائی
میں ہوگئی اک پل میں سو جان سے شیدائی

اک پیارے تعلق کا اظہار تبسم سے
حد درجہ نرالا تھا انداز پزیرائی

اس نور کے پیکر نے نظروں کو کیا خیرہ
مولا کی عنایت ہے زیبائی و رعنائی

اس طرزِ تکلّم میں مَیں ڈوب گئی یکسر
ٹھہراؤ تھا لہجے میں الفاظ میں گہرائی

اک نعمتِ عظمیٰ ہے دنیا میں خلافت بھی
اس سے ہی ملی ہم کو یک رنگی و یک جائی

تعریف کروں کیسے الفاظ نہیں ملتے
کچھ کہنے نہیں دیتا یہ عالمِ سودائی

صد شکر کہ آقا نے انمول دعائیں دیں
انگوٹھی عنایت کی تصویر بھی بنوائی

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

مزید پڑھیں: ہے واحد و لاشریک وہی یگانہ دائم ہے ذات اُس کی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button