نمازجنازہ حاضر وغائب
مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ یکم مارچ 2016ء بروزمنگل قبل از نماز ظہر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد فضل لندن سے متصل محمود ہال میں تشریف لا کر مکرم دلدار احمد ہاشمی صاحب (ابن مکرم مختار احمد ہاشمی صاحب۔لندن) کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
مکرم دلدار احمد ہاشمی صاحب (ابن مکرم مختار احمد ہاشمی صاحب۔لندن) 26فروری کو بعارضہ کینسر69سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کو تقریباً 42سال صدر انجمن احمدیہ کے مختلف دفاتر میں خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔ آپ 2008ء سے یوکے میں اپنے بیٹے کے پاس مقیم تھے۔ بہت نیک، شریف النفس، ملنسار اور مخلص انسان تھے۔ نماز باجماعت ہمیشہ التزام کے ساتھ ادا کیا کرتے تھے۔ خلافت کے ساتھ بہت محبت، اخلاص اور وفا کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا یادگار چھوڑے ہیں۔
نماز جنازہ غائب:
(1)مکرمہ نصر ت بیگم صاحبہ۔یوایس ے ( اہلیہ محترم مولانا امام الدین صاحب مرحوم مبلغ انڈونیشیا) 28؍جنوری 2016ء کو 93سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مولانا
ابو البشارت عبد الغفور صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی تھیں۔آپ کے میاں محترم مولانا امام الدین صاحب دوسری جنگ عظیم کے دوران حضرت مصلح موعود ؓ کی خواہش پر قادیان سے ایک فوجی بحری جہاز میں ملازمت اختیار کرکے سنگا پور گئے اور وہاں سے انڈونیشیا آگئے۔آپ نے انڈونیشیا میں لمبا عرصہ مبلغ کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے 1992ء کے جلسہ UK پر احمدی خواتین کی قربانیوں میں مکرمہ نصر ت بیگم صاحبہ کا یوں ذکر فرمایا کہ انہوں نے لمبا عرصہ دین کی خاطر اپنے شوہر سے دوری میں گذارا۔ اپنے شوہر سے کبھی کوئی فکر کی بات نہیں کی کہ وہ پردیس میں بے فکر ہو کر اپنا تبلیغ کا کام کر سکیں اور خود محنت کر کے بچوں کی پرورش کی اور بچوں کو کسی قسم کا احساس کمتری نہ ہونے دیا۔
آپ کئی سال اپنے محلہ دارالصدر جنوبی( حلقہ کواٹر تحریک جدید) میں صدر لجنہ کے طور پر خدمت بجالاتی رہیں۔ بہت غریب پرور اور ہمدرد خاتون تھیں۔آپ کو قرآن کریم سے عشق تھا۔ بے شمار بچوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ خلافت سے بے پنا ہ محبت تھی اور اپنی اولاد کو بھی خلافت سے قریبی تعلق رکھنے کی تلقین کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا یادگار چھوڑے ہیں۔
(2)مکرمہ امۃ الباسط صاحبہ (اہلیہ مکرم محمد سعید صاحب۔ پیر محل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ) 23جنوری 2016ء کو75سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ محترم شیخ قدرت اللہ صاحب مرحوم کی بیٹی اور قادیان کے مشہور تاجر مکرم شیخ محمد اکرام صاحب مرحوم کی نواسی تھیں۔ آپ بہت عبادت گزار، بااخلاق، ملنسار، مہمان نواز اور خلافت سے گہری وابستگی رکھنے والی مخلص خاتون تھیں۔ آپ کو اپنے شوہر کے ساتھ کئی سال لگاتار جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کی توفیق ملی اور واپس جاکر اپنے افراد خانہ کو حضورانور سے ملاقات اور جلسہ کے واقعات بہت عقیدت اور محبت سے سنایا کرتی تھیں۔آپ نے پیر محل میں صدر لجنہ کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔ اپنے گھر ہونے والی دعوت الی اللہ کی مجالس میں مہمانوں کی تواضع بڑی خوش دلی سے کیا کرتی تھیں۔مرحومہ موصیہ تھیں۔پسماندگان میں پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے اور متعدد نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں یادگار چھوڑے ہیں۔
(3)مکرم شیخ زاہد محمودصاحب(آف جرمنی) 25 دسمبر2015 کو69سال کی عمرمیں جرمنی میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب ؓ کے پوتے اورحضرت شیخ کریم اللہ صاحب ؓکے نواسے تھے۔ آپ کو دین سے رغبت اور خلفائے احمدیت سے محبت و عقیدت کا تعلق تھا۔کراچی میں بینک میںبطور سینئر اکاؤنٹس آفیسرنہایت ایمانداری کے ساتھ کام کیااوربہترین اخلاق کی وجہ سے لوگوں میں نیک شہرت رکھتے تھے۔ بعدمیںجرمنی منتقل ہوگئے اوروہاں بھی تادمِ وفات مختلف جماعتی خدمات کی توفیق پائی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کئی بار مطالعہ کیااور ان تعلیمات پر عمل کی بھی کوشش کرتے تھے۔آپ غریب پروراورمالی قربانی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والے نیک انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور دوبیٹیاں یادگارچھوڑی ہیں۔ آپ مکرم حسان محمود صاحب مربی سلسلہ کے والد تھے۔ آپ کے باقی بیٹے بھی جماعتی خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔
(4)مکرم محمد اقبال منہاس صاحب (سابق صدر حلقہ ماڈل کالونی کراچی۔ پاکستان)16فروری 2016 کو 88سال کی عمر میں وفات پاگئے.اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد محترم چوہدری محمد فاضل منہاس صاحب مرحوم کے ذریعہ آئی۔ آپ جرنل اختر حسین ملک صاحب مرحوم کے ہم زلف تھے۔ 1947 میں تقسیم ہند کے بعد مرکز قادیان کی حفاظت کی خاطر جانے والے وفد میں شامل تھے۔ آپ کو 35سال حلقہ ماڈل ٹاؤن کراچی کے صدر جماعت کی حیثیت فعّال خدمت کی توفیق ملی۔ علاوہ ازیں آپ جماعت کراچی کے سیکرٹری ضیافت اور زعیم اعلیٰ مجلس انصار اللہ ماڈل کالونی کی حیثیت سے بھی خدمات بجا لاتے رہے۔ آپ نہایت چاق و چوبند مضبوط جسم کے مالک اور پر وقار شخصیت کے حامل تھے۔ سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ نہایت مہمان نواز، خوش اخلاق، ہر ایک کے ہمدرد، غریب پرور، دلیر، جماعتی کتب اور رسائل کا باقائدگی سے مطالعہ کرنے والے دعا گو، نیک اور مخلص انسان تھے۔ آپ ایک پر جوش داعی الی اللہ تھے۔ تبلیغ کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ آپ کے گھر پرمجالس سوال و جواب بھی منعقد ہوتی رہیں۔ زیرِ تبلیغ افراد کو ربوہ جلسہ سالانہ پر بھی لے کر جاتے اور ان کی خدمت کرتے تھے۔ مربیان کا بہت احترام کر تے تھے۔ خلافت سے نہایت عقیدت اور عشق کا تعلق تھا۔ کمزوری ٔ صحت کے باوجود حضور انور کے تمام خطبات باقاعدگی سے سنتے تھے۔ پسماندگان میں دوبیٹیاں اور چاربیٹے یادگار چھوڑیں ہیں۔
(5)مکرم عصام بشناق صاحب (آف اردن)
31؍جنوری 2016ء کو اچانک گردے فیل ہونے کی وجہ سے 72سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم 2013ء میں بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوئے تھے۔ آپ اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔ خلافت کے شیدائی تھے اور جماعت کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کر تے تھے۔
(6)مکرم چوہدری بہائو الحق صاحب (آف بشیر آباد سندھ۔ حال جرمنی)گزشتہ دنوں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم لمبا عرصہ فریڈبرگ جماعت سے منسلک تھے۔ نمازوں کے پابند اور جماعتی اجلاسات میں شامل ہوتے تھے۔ آپ خوش مزاج نیک اور ہر دلعزیز انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں یادگار چھوڑی ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنی رضا کی جنتوں میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین
٭ …٭ …٭




