اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الم انگیزداستان (قسط نمبر191)
{ 2015ء میں سامنے آنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب}
سال 2015ء اور احمدیوں پر مظالم
پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکزی دفتر نظارت امورِ عامہ نے سال 2015ء کے اختتام پر پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے اکثر مندرجات ہماری گزشتہ رپورٹس میں شائع ہو چکے ہیں۔ ایک خلاصہ کے طور پر کچھ اعدادد وشمار قارئین کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔
2015ء کے دوران جماعتِ احمدیہ کے خلاف اخبارات کی خبریں
اخبارات میں احمدیوں کو دھمکیاں اور ان کے بارے میں کھلے عام نفرت انگیز بیانات شائع کیے جاتے رہے۔ احمدی مخالفین کا تو کام ہی معاشرے میں نفرت و تعصب پھیلانا ہے۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اخبارات بھی اس میں فریق بن کر احمدیوں کے خلاف دھمکیوں اور منافرت پر مبنی بیانات جلی سرخیوںمیں شائع کرتے ہیں جس سے احمدیوں کو روز مرہ کے معاملات میں نفرت و تعصب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
بے بنیاد اور نفرت انگیز پروپیگنڈہ پر مبنی بیانات کی اشاعت اور معصوم احمدیوں پر قاتلانہ حملے
اخبارات میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات کی اشاعت مسلسل جاری ہے۔ اس ضمن میں اخبارات تحقیق کی زحمت نہیں کرتے کہ جو بے بنیاد اور شر انگیز بیان سپرد اشاعت کیا جا رہا ہے کیا وہ درست بھی ہے یا نہیں؟ عام آدمی بہر حال ان بے بنیاد، شر انگیز اور زہریلے بیانات سے متاثر ہوتا ہے اور ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں جن میں معصوم احمدیوں پر قاتلانہ حملے ہوئے۔
احمدیوں کے حوالہ سے اخبارات میں جلی سرخیوں سے شائع ہونے والے مطالبات
پاکستان میں احمدیوں کے حوالہ سے امتیازی قوانین موجود ہیں۔ جن کی بنا پر احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ احمدی مخالفین ان کو بھی کافی نہیں سمجھتے اس لئے ان کا کہنا ہے کہ احمدیوں کا شناختی کارڈ الگ ہونا چاہئے۔ احمدیوں کو ملک بدر کر دیا جائے۔ احمدیوں کو کلیدی عہدوں سے الگ کیا جائے۔ ان کی عبادت گاہوں کی شکل تبدیل کی جائے۔ اخبارات مخالفین احمدیت کے ایسے بیانات کو جلی سرخیوں سےشائع کرتے ہیں جو معاشرے میں نفرت و تعصب کو پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہیں۔

قادیانی سازشوں اور قادیانی لابی کے مفروضے
جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ اس بات کا مسلسل پروپیگنڈہ کیا جائے کہ احمدی ملک اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت احمدیہ کا کوئی فرد آج تک اسلام یا وطن کے خلاف کسی قسم کی سازش میں نہ تو کبھی ملوّث ہوا ہے اور نہ آئندہ ہو سکتا ہے۔ اس دنیا کے ہر خطے میں بسنے والا ہر احمدی اپنے وطن کا وفادار ہے اور اکنافِ عالم میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو جو یقینًا سلامتی کی تعلیم ہے کے فروغ کے لئے مصروف عمل ہے۔ ان ملّاؤں کے نزدیک تو دریا کی تہہ میں لڑنے والی دو مچھلیوں کی لڑائی بھی احمدیوں کی سازش کا نتیجہ ہے۔ اسی طریق پر ایسی فرضی کہانیاں سازش کے نام پر بیان کی جاتی ہیں کہ الامان و الحفیظ! یہاں پر ایک سوال جو پوچھا جانا انتہائی ضروری ہے کہ کیا کبھی کسی ریاستی ادارے نے مکمل ذمہ داری کے ساتھ اور ثبوت کے ساتھ کسی ایسی سازش کا انکشاف کیا ہے جس میں کوئی احمدی ملوّث ہو، نہیں اور یقینانہیں۔ تو کیا اخبارات کا فرض نہیں کہ اس طرح کے لایعنی بیانات کی اشاعت سے گریز کریں۔

یہاں پر منیر انکوائری رپورٹ کا تذکرہ بے محل نہ ہو گا جب فاضل عدالت نے معاندین جماعت احمدیہ کے اس طرح کے بے ثبوت الزامات پر طنزیہ انداز میں کہا کہ ‘‘ان لوگوں کی تعریف کرنی پڑتی ہے کہ یہ تمام قومی مصائب کی تحقیقات کے گم شدہ سلسلے دریافت کرنے میں یدِ طُولیٰ رکھتے ہیں۔‘‘
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب 1953 صفحہ 485)
جماعت احمدیہ کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے بیانات
اخبارات مختلف مذہبی رہنماؤں کے بیانات جلی سرخیوں میں متواتر شائع کرتے ہیں جن میں حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کو روکے اور ساتھ ساتھ یہ الزام بھی لگایا جاتا ہے کہ موجود ہ حکومت کے دور میں قادیانیوں کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔
چناب نگر ربوہ کے حوالہ سے بیانات
چناب نگر اس شہر ‘‘ربوہ‘‘ کا نیا سرکاری نام ہے جس کو شہریوں کی اکثریت کی مرضی کے خلاف محض مولویوں کے دباؤ کے تحت پنجاب اسمبلی نے بدل دیا۔ اس شہر کی بنیاد، تعمیر اور ترقی میں جماعت احمدیہ کا کردار کیسے فراموش کیا جاسکتا ہے جس کو احمدی اپنا مرکز سمجھتے ہیں۔ لیکن عالم یہ ہے کہ ربوہ جہاں کی پچانوے فیصد سے زائد آبادی احمدی افراد پر مشتمل ہے:
٭احمدیوں کو اپنے مذہبی عقائد کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
٭ احمدیوں کو اجتماع کی آزادی نہیں۔ ہر قسم کے علمی اور ورزشی اجتماعات کھلے عام منعقد کرنے کے حق سے محروم ہیں۔
٭ یہاں تک کہ احمدیوں کو کھلے عام اپنی سالانہ کھیلیں منعقد کرنے کی بھی اس لئے اجازت نہیں کہ ان کھیلوں سے انتہا پسند عناصر کے جذبات مجروح ہوجاتے ہیں۔
جبکہ مخالف مولوی مضافاتی علاقوں کے مدرسوں سے طلباء کو لا کر ربوہ کے پر امن ماحول میں جلسے کرتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں اور احمدی اکابرین اور احمدیوں کو غلیظ گالیاں دی جاتی ہیں پھر بھی مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ احمدیوں کی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ پر امن اور محب وطن افراد جماعت احمدیہ کے اس شہر کے حوالہ سے جو مطالبات ہیں ان کو ملاحظہ فرمائیے:
‘قادیانیوں کے خلاف کراچی طرز کا آپریشن کیا جائے‘

‘ملک بھر میں قتل ہونے والے علماء کے قاتل چناب نگر میں پناہ لیتے ہیں‘
(روزنامہ جنگ لاہور 8؍نومبر 15ء صفحہ 19)
پُر امن جماعت احمدیہ کے خلاف دہشت گردی کے جھوٹے الزامات
جماعت احمدیہ ایک پُر امن اور قانون کی پاسداری کرنے والی جماعت ہے۔ اس کا ماٹو
‘محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘
ہے۔ ایک سو سال سے زائدکی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی احمدیوں نے تشدّد کا راستہ نہیں اپنایا۔ ہاں جب بھی جماعت کے خلاف قانون شکن کارروائیاں ہوئیں ہمیشہ صبر و تحمل کا ہی مظاہرہ کیا گیا۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس طرح دیگر معاملات کے بارہ میں کذب سے کام لیتے ہوئے مخالفین شر انگیز پروپیگنڈہ کیے جا رہے ہیں اسی طرح پر امن جماعت احمدیہ پر دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے کا جھوٹا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔
احمدی کاروباری او رملازمت پیشہ افراد کے خلاف مہم
جماعت احمدیہ کے مخالفین کا یہ طریق بھی ہے کہ احمدی کاروباری یا ملازمت پیشہ افراد کے حصول معاش میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ اس غرض کے لئے وسیع پیمانے پر ایسے لٹریچر کی اشاعت کی جاتی ہے جن میں احمدیہ عقائد کے بارہ میں جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے عوام کو بائیکاٹ کی تلقین کی جاتی ہے۔ بعض ایسے کاروباری ادارے جن کا تعلق احمدیوں سے نہیں ان کو بھی بلیک میل کرنے کی غرض سے احمدیوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حکومت سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ احمدیوں کو اہم عہدوں پر تعینات نہ کیا جائے۔
متعدد اخبارات میں ایسی خبریں اور مطالبے جلی حروف میں شائع کئے جاتے ہیں۔ نمونۃً چند خبریں ملاحظہ ہوں:
‘‘حکومت نے مختلف سفارتخانوں میں4 قادیانی قونصلر تعینات کر دیئے
قادیانی افسران و قونصلر واشنگٹن، نیویارک،انقرہ اور اقوامِ متحدہ میں تعینات کیے گئے
سفارت خانوں کو قادیانی ارتدادی اڈوںمیں تبدیل کیا جا رہا ہے، تحریک ختم نبوّت
(روزنامہ اوصاف 7؍ فروری 2015ء)
قادیانیوں کو پاک فوج اور اعلیٰ عہدوں سے فارغ، شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھا جائے،
تاجدار ختم نبوّت کانفرنس
ہم فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے‘‘
(روزنامہ اوصاف، لاہور 30؍ ستمبر 2015ء)
(باقی آئندہ)
……




