خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍فروری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حوالے سے جنگ میں کیا آپؐ کا اسوہ تھا؟ اس بارے میں خیبر کی جنگ کا ذکر ہو رہا تھا۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خیبرمیں آنحضرتﷺکوزہردیےجانےکی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: جب خیبر فتح ہو گیا اور اہل خیبر کے ساتھ معاہدہ ہو گیا جس کی بنا پر یہ بری طرح شکست کھانے کے بعد ایک بار پھر نبی اکرم ﷺ کی رحمت و شفقت سے اس طرح فیضیاب ہوئے کہ نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف یہ کہ ان کو معاف کر دیا بلکہ خیبر میں رہنے کی بھی اجازت دے دی۔ لوگ مطمئن ہو گئے تو ایک روز یہود خیبر کی فوج کے سپہ سالار سَلَّام بن مِشْکَمْ کی بیوی زینب بنت حارث نے آنحضرت ﷺ کی خدمتِ اقدس میں بھنی ہوئی بکری کا گوشت پیش کیا اور کہا کہ آپ کے لیے ہدیہ لائی ہوں۔ بعض جگہ یہ بھی ملتا ہے کہ اس سازش میں صرف یہ اکیلی عورت شامل نہ تھی بلکہ یہود کے کچھ اَور لوگ بھی تھے۔ آنحضرت ﷺ کے حکم پر وہ ہدیہ لے کر آپؐ کے سامنے رکھ دیا گیا۔ وہاں کچھ صحابہ بھی موجود تھے جن میں حضرت بِشر بن بَرَاءؓ بھی تھے آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ قریب آجاؤ۔ اس کے بعد آپؐ نے اس میں سے دستی کا گوشت اٹھایا اور اس میں سے تھوڑا سا ٹکڑا لیا۔ دوسرے لوگوں نے بھی لیا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہاتھ روک لو کیونکہ یہ دستی کا گوشت بتا رہا ہے کہ یہ زہر آلود ہے۔ حضرت بِشر بن براءؓ جو وہاں موجود تھے کہتے ہیں کہ قَسم ہے اس ذات کی جس نے آپؐ کو یہ عزت و سربلندی عطا فرمائی۔ جو لقمہ میں نے کھایا اس میں مجھے کچھ محسوس ہوا تھا مگر میں نے صرف اس لیے اس کو نہیں اُگلا کہ آپ ﷺ کاکھانا خراب ہوگا۔ پھر جب آپؐ نے لقمہ اگل دیا تو مجھے اپنے سے زیادہ آپؐ کا خیال ہوا اور مجھے یہ خوشی ہوئی کہ آپؐ نے اس کو نگلا نہیں۔ حضرت بِشرؓ ابھی اپنی جگہ سے اٹھے نہ تھے کہ ان کے جسم کی رنگت تبدیل ہونی شروع ہو گئی اور پھر اس قدر بیمار پڑ گئے کہ خود سے کروٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے۔ یہاں تک کہ قریباً ایک سال کے بعد ان کی وفات ہو گئی۔ جبکہ بعض نے کہا ہے کہ حضرت بِشر بن براءؓ اپنی جگہ سے اٹھنے ہی نہ پائے تھے کہ وفات ہو گئی۔ دو روایتیں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عورت کو بلا بھیجا اور کہا کہ کیا تُو نے اس بکری میں زہر ملایا تھا؟ اس نے کہا کہ آپؐ کو کس نے خبر دی؟ آپؐ نے فرمایا مجھے اس دستی کے گوشت نے خبر دی ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں میں نے زہرملایا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں کس نے یہ کام کرنے کو کہا تھا؟ اس نے کہا کہ آپؐ نے میری قوم کے ساتھ جو کیا ہے وہ آپؐ پر مخفی نہیں ہے۔ مَیں نے یہ سوچا کہ اگر آپؐ بادشاہ ہیں تو ہم آپؐ سے نجات پا جائیں گے اور اگر آپؐ نبی ہیں تو آپؐ کو خبر دے دی جائے گی۔ آپؐ نے اس عورت سے درگزر فرمایا یعنی معاف کر دیا۔ آپؐ نے اس عورت سے کوئی بدلہ نہ لیا۔ ایک دوسری روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو کہا کہ تجھے ایسا کرنے پر کس نے ابھارا ہے؟ اس نے کہا آپؐ نے میرے باپ اور میرے چچا اور خاوند اور بھائی کو قتل کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق جب حضرت بِشر بن براءؓ نے وفات پائی تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس عورت کو قتل کر دو تو اسے قتل کر دیا گیا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ اس عورت کو قتل نہیں کیا گیا چنانچہ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس زہر ملابکری کا گوشت لائی۔ آپؐ نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔ پھر عورت کو آپؐ کے پاس لایا گیا۔ آپؐ نے اس عورت سے اس کے بارے میں پوچھا۔ اس عورت نے کہا میرا ارادہ آپ کو قتل کرنے کا تھا۔ آپؐ نے فرمایا یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ اللہ تمہیں اس کی طاقت دے یا فرمایا مجھ پر اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی طاقت دے۔ راوی کہتے ہیں لوگوں نے کہا کیا ہم اس عورت کو قتل نہ کر دیں جس نے یہ ارادہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ مَیں اس کا اثر رسول اللہ ﷺ کے گلے میں محسوس کرتا تھا۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آنحضرتﷺ کو زہر دیے جانے کی بابت حضرت مصلح موعودؓ کاکیامؤقف بیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ایک یہودی عورت نے صحابہؓ سے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کو جانور کے کس حصہ کاگوشت زیادہ پسند ہے؟ صحابہؓ نے بتایا کہ آپؐ کو دست کا گوشت زیادہ پسند ہے۔ اس پر اس نے بکرا ذبح کیا اور پتھروں پر اس کے کباب بنائے اور پھر اس گوشت میں زہر ملا دیا۔ خصوصاً بازوؤں میں جس کے متعلق اسے بتایا گیا تھا کہ رسول کریم ﷺ یہاں کا گوشت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سورج ڈوبنے کے بعد جب رسول کریم ﷺ شام کی نماز پڑھ کر اپنے ڈیرے کی طرف واپس آ رہے تھے تو آپؐ نے دیکھا کہ آپؐ کے خیمے کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے۔ آپؐ نے اس سے پوچھا۔ بی بی! تمہارا کیا کام ہے ؟اس نے کہا اے ابو القاسم! میں آپؐ کے لیے ایک تحفہ لائی ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے کسی ساتھی صحابیؓ سے فرمایا جو چیز یہ دیتی ہے اس سے لے لو۔ اس کے بعد آپؐ کھانے کے لیے بیٹھے تو کھانے پر وہ بھنا ہوا گوشت بھی رکھا گیا۔ رسول کریم ﷺ نے اس میں سے ایک لقمہ کھایا اور آپؐ کے ایک صحابی بشیر بن البراء بن المعرورنے بھی لقمہ کھایا۔‘‘ صحابی کا نام یہاں سہو لگتا ہے۔یہاں ’’بشیر‘‘ کے بجائے ’’بِشر‘‘ ہونا چاہیے۔ ’’اتنے میں باقی صحابہؓ نے بھی گوشت کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو آپؐ نے فرمایا مت کھاؤ کیونکہ اس ہاتھ نے مجھے خبر دی ہے کہ گوشت میں زہر ملا ہوا ہے (اس کے یہ معنی نہیں کہ آپؐ کو اس بارہ میں کوئی الہام ہوا تھا بلکہ یہ عرب کا محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کاگوشت چکھ کر مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک دیوار کے متعلق آتا ہے کہ وہ گرنا چاہتی تھی جس کے محض یہ معنی ہیں کہ اس میں گرنے کے آثار پیدا ہو چکے تھے۔ پس اس جگہ پر بھی یہ مراد نہیں کہ آپؐ نے فرمایا وہ دست بولا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا گوشت چکھنے پر مجھے معلوم ہوا ہے۔ چنانچہ اگلا فقرہ ان معنوں کی وضاحت کر دیتا ہے)۔ اس پر بِشرؓ نے کہا کہ جس خدا نے آپؐ کو عزت دی ہے اس کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں کہ مجھے بھی اس لقمہ میں زہرمعلوم ہوا ہے۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اس کو پھینک دوں لیکن میں نے سمجھا کہ اگر میں نے ایسا کیا تو شاید آپ کی طبیعت پر گراں گزرے اور آپؐ کا کھانا خراب نہ ہو جائے اور جب آپؐ نے وہ لقمہ نگلا تو میں نے بھی آپؐ کے تتبع میں نگل لیا۔ گو میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ چونکہ مجھے شبہ ہے کہ اس میں زہر ہے اس لیے کاش! رسول اللہ ﷺ یہ لقمہ نہ نگلیں‘‘۔ حضرت مصلح موعود نے نگلنے کا ذکر کیا ہے لیکن دوسری روایات میں یہ ہے کہ نگلا نہیں تھا نکال دیا تھا۔ بہرحال اس کے بعد آپؓ کہتے ہیں کہ ’’اس کے تھوڑی دیر بعد بِشرؓ کی طبیعت خراب ہو گئی اور بعض روایتوں میں تو یہ ہے کہ وہ وہیں خیبر میں فوت ہو گئے اور بعض میں یہ ہے کہ اس کے بعد کچھ عرصہ بیمار رہے اور اس کے بعد فوت ہو گئے۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے کچھ گوشت اس کا ایک کتے کے آگے ڈلوایا جس کے کھانے سے وہ مر گیا۔ تب رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور فرمایا تم نے اس بکری میں زہر ملایا ہے؟ اس نے کہا آپؐ کو یہ کس نے بتایا ہے؟ آپؐ کے ہاتھ میں اس وقت بکری کا دست تھا۔ آپؐ نے فرمایا اس ہاتھ نے مجھے بتایا ہے۔ اس پر اس عورت نے سمجھ لیا کہ آپؐ پر یہ راز کھل گیا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ اس نے زہر ملایا ہے۔ اس پر آپؐ نے اس سے پوچھا کہ اس ناپسندیدہ فعل پر تم کو کس بات نے آمادہ کیا ؟اس نے جواب دیا کہ میری قوم سے آپؐ کی لڑائی ہوئی تھی اور میرے رشتہ دار اس لڑائی میں مارے گئےتھے۔ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں ان کو زہر دے دوں۔ اگر ان کا کاروبار انسانی ‘‘ رہا یعنی آنحضرت ﷺ ’’کا کاروبار انسانی کاروبار ہوگا تو ہمیں ان سے نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر یہ واقعہ میں نبی ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کو خود بچا لے گا۔ رسول کریم ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر اسے معاف فرما دیا اور اس کی سزا جو یقیناً قتل تھی نہ دی۔‘‘
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے سوال کہ ’’کیا آنحضرتﷺکی وفات زہرسےہوئی‘‘ کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب: فرمایا: صحیح بخاری میں ہے حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ مرض الموت میں فرماتے تھے کہ اے عائشہ! اس کھانے کی تکلیف جو خیبر میں مَیں نے کھایا تھا مجھے ہمیشہ محسوس ہوتی رہی اور اب بھی اس زہر سے میں اپنی رگیں کٹتی ہوئی محسوس کر رہا ہوں۔ اس حدیث سے استنباط کرتے ہوئے بعض مسلمان مفسرین اور محدثین نے یہ کہا ہے کہ آپ ﷺ کی وفات گویا خیبر کے موقع پر کھائے جانے والے اسی زہریلے گوشت کی وجہ سے ہوئی اور اس وفات کو اس وجہ سے شہادت سے تعبیر کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ شہید اعظم تھے۔ حالانکہ آپ ﷺ کے لیے اس تکلّف کی ضرورت نہیں۔ نبی تو اس مقام اور مرتبہ کا حامل ہوتا ہے کہ وہ شہید بھی ہوتا ہے، صدیق بھی ہوتا ہے بلکہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ایسا کہنا دشمن کو ہنسی کا موقع دینے کے مترادف ہے۔ یہود نے تو اس لیے زہر دیا تھا کہ اگر یہ خدا کا سچا نبی ہوگا تو اس زہر سے بچ جائے گا اور آپ ﷺ کے بچ جانے کی وجہ سے انہوں نے جان لیا کہ آپؐ واقعی خدا کے سچے نبی ہیں اور ان کی نگاہ میں تو یہ ایک معجزہ قرار پایا لیکن بعض سادہ لوح ہیں کہ وہ اس زہر سے آپ ﷺ کی وفات کو تسلیم کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی وفات ہرگز ہرگز اس زہر کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ یہ تو صرف ایک تکلیف کا اظہار تھا اور ہر کوئی جانتا ہے کہ بعض اوقات کوئی جسمانی تکلیف یا زخم یا بیماری کبھی کبھی کسی خاص موقع پر یا خاص موسم میں کسی سبب سے باہر آ جاتی ہے۔ اگر اس کی تفصیل میں جائیں تو یہ بھی ملتا ہے کہ زہر ملا ہوا یہ گوشت آپ ﷺ نے منہ میں ڈال دیا تھا لیکن نگلا نہیں تھا اور منہ میں جانے کی وجہ سے آپ کے حلق یا کوے پر زخم آگیا تھا اور کبھی کبھار کھانے کے دوران اس میں تکلیف محسوس فرماتے تھے اور اسی تکلیف کا اظہار آپ ﷺ نے آخری بیماری میں فرمایا ہوگا۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے آنحضرتﷺکی حضرت صفیہؓ سےشادی کےحوالہ سے مؤرخین کی بےاحتیاطی کی بابت کیابیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: حضرت صفیہؓ کی شادی کے حوالے سے ہمارے سیرت نگار اور مؤرخین نے بھی بے احتیاطی کی ہے اور یہ غلطی کی ہے کہ بغیر چھان پھٹک کے ان روایات کو لیتے چلے گئے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔ مثلاً یہ روایت کم و بیش ہر تاریخ اور سیرت کی کتاب میں ملتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت صفیہ کو پہلے حضرت دِحْیہؓ کے سپرد کر دیا تھا لیکن جب ان کے حسن و جمال کے قصے سنے تو پھر حضرت صفیہؓ کو بلایا اور اپنے لیے خاص کر لیا اور اس طرح کے مضمون کی ایک روایت بخاری میں بھی ہے۔ جس کی روایت اس طرح ہے کہ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں جب ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کر دیا تو صفیہ بنت حُیی بن اخطب کی خوبصورتی کا تذکرہ آپؐ کے سامنے کیا گیا اور وہ نئی نویلی دلہن ہی تھی کہ اس کا شوہر مارا گیا تھا۔ یعنی شادی کو ابھی تھوڑا عرصہ ہوا تھا اس پر نبی کریم ﷺ نے اس کو اپنے لیے چن لیا۔ یہ وہ روایت ہے کہ بعض بیمار ذہن کے جو لوگ ہیں اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مشہور سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی اس روایت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت صفیہؓ کی نسبت بعض کتب حدیث میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے ان کو دِحْیہ کلبی کو دیا تھا پھر کسی نے ان کے حسن کی تعریف کی تو اس سے مانگ لیا اور اس کے معاوضہ میں ان کو سات لونڈیاں دیں۔ مخالفین نے اس روایت کو نہایت بدنما پیرائے میں ادا کیا ہے اور جب اصل روایت میں اتنی بات موجود ہے تو ظاہر ہے کہ مخالف اس سے کہاں تک زیادہ کام لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت صفیہؓ کا یہ واقعہ حضرت انسؓ سے منقول ہے لیکن خود حضرت انسؓ سے متعدد روایتیں ہیں اور وہ باہم مختلف ہیں۔ حضرت انسؓ سے ایک دوسری روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت صفیہؓ دِحْیہ کے حصے میں آئیں تو لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کیا کہ وہ سردارانِ خیبر کی ایک عالی مرتبت معزز خاتون ہے۔ آپ ﷺ کے سوا اَور کوئی اس کے لائق نہیں۔ تو اوّل تو کوئی ایسی روایت اگر واقعی درست ہے جیسا کہ بخاری کی یہ روایت ہے کہ ان کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی تھی تو ممکن ہے کہ صحابی کے بعد والے کسی راوی نے یہ روایت کی ہو اور یہ الفاظ اپنی جانب سے شامل کر دیے ہوں کیونکہ کوئی صحابی بھی نبی کریم ﷺ کی شان کے بارے میں ایسی کوئی بات بیان نہیں کر سکتا۔ پہلا واقعہ جو ہے کسی صحابی نے بیان کیا ہے۔ بعد میں بعض لوگوں نے ان روایتوں میں ایڈیشن کر دی کیونکہ صحابی آنحضرت ﷺ کی شان کے بارے میں ایسی کوئی بات بیان نہیں کر سکتا جس سے نبی کریم ﷺ کی شان مبارک میں کسی بھی قسم کی ذرا سی تنقیص کی طرف اشارہ ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں نے اپنے طور پر حضرت صفیہؓ کے حسن و جمال کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر خوبیاں اور خاندانی مقام و مرتبہ کا ذکر کیا ہواور راوی نے ایک مختصر سے الفاظ میں جو اس کویاد رہ گیا وہ بیان کر دیا لیکن ایک اہم اور بنیادی بات جس کی طرف سیرت نگار نظر نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جس عظیم مقام و مرتبہ پر فائز ہیں ان کے لیے کسی کے اندر پائی جانے والی یہ خوبیاں اور کمالات ایک سطحی اور ضمنی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپؐ نے شادی کے فیصلے جب کیے تو بنیادی سبب یہ نہیں تھے جو بیان کیے جاتے ہیں اصل بنیادی سبب تو حکمِ الٰہی ہوتا ہوگا۔ آپ ﷺ کی تو ایک ایک حرکت و سکون الٰہی منشاء کے بغیر نہیں ہوا کرتی تھی جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قُلْ إِنَّ صَلَاتِی وَنُسُكِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ (الانعام: 163)تو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ جو سارے کام ہی اس کی خاطر کرتے ہوں اور جن کی لمحہ لمحہ راہنمائی عرش کا خدا کرتا ہو وہ بھلا اتنا بڑا فیصلہ ازخود کیوں کر سکتے ہیں۔ تو یہ سب شادیاں یقیناً الٰہی اشارے کے ماتحت آپ ﷺ نے کی تھیں۔ ہاں ان کے نتائج انتہائی بابرکت مصلحتوں کے حامل تھے۔
مزید پڑھیں: توکّل علیٰ اللہ کے حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ کا پاکیزہ نمونہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲؍اکتوبر ۲۰۲۶ء




