مَصَالِحُ الْعَرَب

مَصَالِحُ الْعَرَب قسط نمبر402

(محمد طاہر ندیم۔مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے)

(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات،گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)

مکرم اسامہ عبد العظیم صاحب

مکرم اسامہ عبد العظیم صاحب کا تعلق مصر سے ہے۔ جہاں ان کی پیدائش 1976ئمیں ہوئی۔ بعد میں انہیں 2014 ء میں بیعت کرنے کی توفیق ملی۔وہ احمدیت کی طرف اپنے سفر کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مَیں سمجھتا ہوں کہ احمدیت کی طرف سفر کی ابتدا میرے بچپن سے ہوئی۔ میرے والد صاحب متدیّن مزاج آدمی تھے۔ ان کی خواہش کے مطابق مَیں نے قرآن کریم کے بعض اجزاء حفظ کئے اور لڑکپن میںہی والد صاحب کی لائبریری سے تفسیر،فقہ اور عقیدہ اسلامیہ کے موضوعات پر مختلف کتب کا مطالعہ کرلیا۔مَیں نے سید قطب کی تحریرات پڑھیں اور ان کے مطالعہ کے بعداپنے اندر قربانی کا جوش ،جہاد کی محبت اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا غیر معمولی جذبہ محسوس کرنا شروع کر دیا۔

سلفی اور اخوان المسلمین

اسی لڑکپن کی عمر میں مجھے سب سے پہلے جس جماعت نے متأثر کیا وہ سلفیوں کی جماعت تھی۔میں جب ان کا لباس اور لمبی داڑھی دیکھتا تو خیال کرتا کہ شاید یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے زیادہ قریب ہیں۔چنانچہ یہ سمجھ کر میں ان کے ساتھ ہو لیا۔ان سے میں نے عقیدہ اور فقہ کے اصول سیکھے اور فروع دین کا علم حاصل کیا۔ اسی عرصہ میں ہمارے ملک میں دینی وفکری نزاعات کا سلسلہ چل نکلا۔ایک طرف سلفی تھے تو دوسری طرف اخوان المسلمین۔ لیکن ان کے بالمقابل تبلیغی جماعت، انصار السنۃ اورجہادی وتکفیری جماعتوں کے علاوہ شیعہ بھی موجود تھے۔ میرا شروع سے ہی اس بات پر پختہ ایمان تھا کہ خدا کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے اورجماعت کے ساتھ مل کر دین کا کام کرنانہ صرف ضروری ہے بلکہ ایک دینی فریضہ ہے کیونکہ اسی ذریعہ سے خود کو زمانے کے فتنوں سے بچایا جاسکتاہے۔لیکن فرقوں کی بھرمار میں وہ کونسی جماعت ہے جس کے ساتھ جڑ کر یہ دینی فریضہ ادا کیا جاسکتا ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے میںنے تقریبًا ہر جماعت کے قریب ہو کراسے پرکھنے کی کوشش کی۔ بالآخر میں اخوان المسلمین اور سلفیوں کے مابین اٹک کر رہ گیا۔ اخوان المسلمین کے جوش وجذبے اور ان کے مضبوط نظام اور امّت اسلامیہ کے معاملات میں ان کی دلچسپی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ واحد جماعت تھی جواس عالمی خلافت کے قیام کے لئے کوشاں تھی جس کے ساتھ آخری زمانے میںاسلام کی ترقی وابستہ کردی گئی ہے۔ لیکن ان کے دعاوی کے برعکس مَیں نے دیکھا کہ وہ کئی ظاہری امور میں سنت نبوی کی اتباع کا خیال نہیں رکھتے۔ اسی طرح ان کی زیادہ تر توجہ سیاسی امورپر مرکوز رہتی اور دینی احکام و علوم کے بارہ میں تساہل سے کام لیا جاتا۔ اگر چہ مَیں سلفیوںکے چال چلن سے بھی اتنا خوش نہ تھا لیکن مذکورہ صورتحال کی بنا پر میرے سامنے سوائے سلفیوں کے اور کوئی جماعت ایسی نہ تھی جس کے ساتھ مل کر کام کیا جاسکتا۔

مَن کی مراد!

مَیں ابھی اسی شش وپنج میں ہی تھا کہ میرا تعارف کچھ ایسے نوجوانوں سے ہوا جن کا تعلق ’’الجماعۃ الإسلامیۃ المصریۃ‘‘ سے تھا۔انہوں نے مجھے جماعت کے طرز فکر پر مبنی کچھ لٹریچر بھی دیا۔ مجھے تو شروع سے ہی مطالعہ کا شوق تھالہذا میں نے ان کا لٹریچر پڑھا تواپنی فہم کے مطابق ان کو سلفیوں سے بھی بہتر پایاکیونکہ علوم شریعت کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ان کی اسلام اور امّت مسلمہ کی موجودہ حالت پر بھی نظر تھی نیز باطل کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی بہت نمایاں تھی۔مجھے تو اس جماعت میں جیسے مَن کی مراد مل گئی لہذا میں 1991ئسے اس جماعت میں شامل ہوگیا اور اس کی جملہ کتب اور لٹریچر پڑھ ڈالا۔یہ جماعت مصرمیںحکومتی ظلم کا نشانہ بنی ہوئی تھی اور اس کے کئی ممبران کو گرفتار کر کے دس دس پندرہ پندرہ سال کے لئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیاگیا تھابلکہ کئی ممبران کو تو عمر قید اور پھانسی تک کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لئے اس جماعت کا جملہ لٹریچر خفیہ طور پر بڑی احتیاط کے ساتھ جماعت کے ممبران تک پہنچایا جاتا۔ظلم کی ان داستانوں کودیکھ کر اور ان کے بارہ میں سن کر ہمیںخوف نہ آتا تھا بلکہ ایسے واقعات ہمیں مزید مضبوط کرنے اور قربانی پر ابھارنے کے لئے کافی تھے۔

قید کے بعد تبدیلی

مَیں اس مذکورہ اسلامی جماعت کے مبلغ کے طور چھپ چھپا کر کام کرتا رہا تا آنکہ میری باری بھی آگئی اور 1997 ء میں مجھے بھی گرفتار کرکے 9سال کے لئے جیل کی کال کوٹھڑیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔ان 9سالوں میں جب اس جماعت کے خلاف کارروائیاں بڑھیں تواس جماعت نے بھی شدت پسندی کی راہ اختیار کر لی۔جس کے نتیجہ میںاس کے ممبران کے قتل وپکڑ دھکڑ کا بازار گرم ہوگیا اور بالآخراس جماعت کواس ملک میں چلنے کے لئے اپنے طرز فکر میں بنیادی تبدیلیاں کرنی پڑیں۔چنانچہ اس جماعت کے بعض علماء شدت پسندی کو چھوڑ کر نبی کریم ؐکی رحمت اور انسانیت سے ہمدردی کے موضوع پر تقریریں کرنے لگ گئے جنہیں سن کر مجھے ایسے لگا جیسے حقیقتِ اسلام سے ہمارا تعارف اب ہوا ہے۔میں 2006ء میں جیل سے رہائی کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں کی اکثریت اسلام کی حقیقت سے نا آشنا ہے۔ مجھے اس بات پر فخر تھا کہ میری جماعت نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی فکر کی تصحیح کرلی ہے۔

اسلامی جماعت سے علیحدگی

اسی عرصہ میں 2008ئمیں مصر میں انقلاب کی تحریک شروع ہوئی جو بعد میں 2011 ء میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمہ کا باعث بنی۔ ایسے حالات میں تمام دینی جماعتوں نے پرپُرزے نکالے اور میدان عمل میں نکل کھڑی ہوئیں۔لیکن اس موقع پر میری جماعت میں یہ عجیب انقلاب آیا کہ اس کے بعض متشدد عناصر نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے رحمت وعفو کی تعلیم دینے والے علماء کوجماعت سے نکال باہر کیا اور خود جماعت کے مالک بن بیٹھے۔یہ صورتحال دیکھ کر مَیں نے اس جماعت سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔

احمدیت سے تعارف

یہی وہ عرصہ تھا کہ جس میں ’’ممدوح‘‘ نامی میرے ایک قریبی دوست نے 2008ء میں ہی مجھے یہ بتایا کہ وہ جماعت احمدیہ کی سچائی کا قائل ہوگیا ہے۔ ہم تو اسے قادیانی جماعت کے نام سے جانتے تھے جس کے بارہ میں اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا تھا کہ میں نے دوست کی بات سنتے ہی لَاحَول پڑھتے ہوئے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ کہیں میرا دوست اس گمراہ اور مرتد گروہ میں شامل نہ ہوجائے۔میں تو اس جماعت کو اس قابل بھی نہ سمجھتا تھا کہ اس کے بارہ میں بات بھی کی جاتی۔ لیکن چونکہ میرا دوست اس کے بارہ میں بہت جوش دکھا رہا تھا لہٰذا اسے بچانے کے لئے میں اس کے ساتھ جماعت کے بارہ میں بحث کرنے لگ گیا۔

ہو سکتا ہے یہ شخص سچا ہو!

ہماری بحثوں کایہ سلسلہ 6سال تک چلتا رہا جس میں بسااوقات ساری ساری رات ہمیں بحث کرتے ہوئے گزرجاتی۔اسی چھ سالہ عرصہ میں مَیں سعودی عرب میں کام کے لئے چلا گیا لیکن جب بھی چھٹیوں میں واپس آتا تو اپنے دوست سے بحث کا سلسلہ چل نکلتا نیز کبھی کبھی انٹرنیٹ کے ذریعہ بھی ان موضوعات پر گفتگو ہوتی رہتی۔ ’’ممدوح‘‘ کے ساتھ بحث ومباحثہ کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میرے قدم ڈگمگانے لگے۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عقل ومنطق کے مطابق تفاسیر اور روح پرور نکات ِ معرفت سننے کے بعد میں کسی طور یہ کہنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا کہ وہ جھوٹے مدعی ہیں، ہاں میں اس بات کا بھی قائل نہ تھا کہ وہ حقیقت میں امام مہدی ہیں جن پر ایمان لانا فرض ہے۔ ہاں میں یہ سمجھتا تھا کہ کثرت عبادت اور تقرب الی اللہ سے انہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے تاہم میں انہیں جھوٹا کہنے کی جرأت ہرگز نہ کرسکتا تھا۔میری سابقہ اسلامی جماعت کے ایک زعیم نے ہمیں سمجھایا تھا کہ ہمیشہ دوسروں کے بارہ میں حسن ظن سے کام لیا کریں اورہر بات میں خود کو ہی حقّ مبین پر نہ خیال کریں۔ کیونکہ یہ امکان بھی ہے کہ آپ کا مدّ مقابل ہی صحیح راستے پر ہو اور آپ غلطی خودرہ ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے اپنی سابقہ اسلامی جماعت سے کچھ اچھا سیکھا تو وہ یہی کلمات تھے اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارہ میں تحقیق کے دوران انہی الفاظ کی بنا پر بار بار میرے ذہن میں یہ خیال بھی آنے لگا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص سچا ہو۔ایک روز ’’ممدوح‘‘ نے مجھے ایک سی ڈی دی جس میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کی جملہ عربی کتب تھیں۔میں نے اسے ایک طرف رکھ دیا اور کوئی توجہ نہ دی۔ رفتہ رفتہ میرا ضمیر مجھے ملامت کرنے لگ گیا۔میں نے کہا کہ جب اس مدعی کا اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا لٹریچر میرے سامنے ہے تو میں اس کی حقیقت جاننے کے لئے اُسے کیوں نہیں پڑھتا؟ میرے اس میلان اور اس سوچ کا اثر میری زندگی پر بہت نمایاں رنگ میں ظاہر ہوا۔ اور ’’ممدوح‘‘ نے بھی اسے محسوس کرتے ہوئے کہاکہ کچھ وقت کی بات ہے جس کے بعد تم امام مہدی کی غلامی میں آنے ہی والے ہو۔میںنے ہنستے ہوئے اسے جواب دیا کہ ایسے خواب نہ دیکھو، کیونکہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔

شدید گرمی میں ٹھنڈے پانی کا چشمہ

2014ء کی بات ہے کہ رمضان سے قبل میں نے ممدوح سے کچھ کتب مانگیں تو اس نے مجھے حضرت امام مہدی علیہ السلام کی دو کتابیں ’حمامۃ البشری‘ اور’ تحفہ بغداد‘ دیں۔ ان کتب کو لینے سے قبل میرا خیال تھا کہ چونکہ شرعی علوم سے مجھے بہت زیادہ واقفیت ہے اس لئے ان کتب کو پڑھ کر میںان میں خلافِ شریعت امور کی نشاندہی کروں گا اور یوں ممدوح کے ساتھ بات چیت میں میری جیت یقینی ہو جائے گی۔ لیکن میرے لئے یہ بات کسی حیرانی سے کم نہ تھی کہ حضرت امام مہدی کا سب کلام شریعت ،عقل اور اسلام کے مسلمہ قواعد واصولوں کے عین مطابق تھا۔ ان کتب کو پڑھ کر مجھے اس ظلم کا اندازہ ہونے لگا جو ہم مسلمانوں نے مل کر حضرت امام مہدی علیہ السلام پر کیا ہے۔ ہم آج تک اپنے مولویوں کے پیچھے لگ کر ان کے بنائے ہوئے اعتراضات کو ہی دہراتے رہے ہیں اور کبھی خود پڑھ کر فیصلہ نہیں کیا۔امام مہدی علیہ السلام کی ان کتب نے تو مجھے اپنا گرویدہ کرلیا۔میری حالت ایسے پیاسے کی سی تھی جسے شدید گرمی میں ٹھنڈے پانی کا چشمہ مل جائے اور وہ اس کے اوپر منہ لگا کر پیتا ہی جائے ۔

تفہیمات وبشارات وانعامات

اُدھر میرا دل اور ذہن بدلنے لگا اور اِدھر خدا تعالیٰ کی رحمت اور انعامات اور بشارات نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔میں بغیر کسی تصنّع کے یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کے کلام نے میری دنیا بدل کے رکھ دی۔میں روحانیت کی عجیب مسحورکن لہروں میں تیرنے لگا۔ روحانی نشے کی اس کیفیت میں بھی کبھی کبھی یہ سوال پیدا ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہدی میرے اہل بیت سے ہوگا جبکہ یہ شخص تو عجمی ہے۔ایک روز یہ سوچتے ہوئے سویا تو نیم بیداری کی کیفیت میں میرے ذہن میں بار بارحدیث نبوی کا یہ حصہ گردش کرنے لگا: (سَلمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْت)۔ جب صحیح طور پر بیدار ہواتو تفہیم ہوئی کہ یہ تو دراصل میرے سوال کا جواب ہے کہ امام مہدی کی اہل بیت سے نسبت اسی طرح روحانی ہے جیسے سلمان الفارسی ؓ کی تھی۔

٭ ایک روز مَیں یہی دعا کرتے ہوئے سویا کہ خدایا امام مہدی ہونے کا یہ دعویدارمجھے تو سچا لگتا ہے، لیکن اصل حقیقت سے توتُو ہی واقف ہے۔ اس لئے تو مجھے اس کی حقیقت سے آگاہ فرما دے۔ کچھ دیر کے بعد ایک مہیب آواز کو سن کر میں بیدار ہوگیا جو حضرت امام مہدی کے بارہ میں کہہ رہی تھی: فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُقْتَدِر۔وہ (یعنی امام مہدی) مقتدر بادشاہ کے حضورسچائی کی مسند پرہے۔میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس آواز کو سن کر جاگا تو کانپ رہا تھا میری آنکھوں میں آنسو اورمیری زبان پر مذکورہ الفاظ جاری تھے جو میری اہلیہ نے بھی سنے، اور وہ بھی اس کی گواہ بن گئی اور بعد میں اسے بھی امام الزمان کی بیعت میں آنے کی توفیق مل گئی۔

٭ مجھے ایک حکومتی ادارے میں ایک ضروی کام تھا۔ اس ادارے کا ڈائریکٹر نہایت سخت آدمی تھااور بلا وجہ میرے جائز کام میں رکاوٹ بن رہا تھا۔میں نے اپنا کام نکلوانے کیلئے قبل ازیں بعض معتبر اشخا ص کی سفارش بھی ڈلوائی لیکن ڈائریکٹر نے انکار کردیا تھا۔پھر میں خود بھی گیا اور اس سے گرما گرم بحث ہوئی لیکن نتیجہ وہی نکلا کہ اس نے میری ایک نہ سنی۔ایک روز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ بغداد کا مطالعہ کررہا تھا کہ معًا میرے دل میں ایک خیال آیا اور میں نے خدا تعالیٰ کے حضور عرض کیا کہ خدایا اگر اس کتاب کامؤلف اور امام مہدی ہونے کا یہ دعویدار تیرا سچا مامور ہے تو میرا یہ کام ہوجائے۔ یہ دعا کرکے میں اگلے روز اس محکمہ میں گیا۔ ڈرتے ڈرتے ڈائریکٹر کے کمرے میں داخل ہوا توعجیب ماجرا دیکھا۔ ڈائریکٹر صاحب نے مجھے دیکھتے ہی اپنے ماتحت کو ہدایت کی کہ اس کا کام کردو۔ مجھے ایسے محسوس ہواجیسے خدا تعالیٰ نے میری دعا سن لی اور میرے لئے ایک اور نشان کے طورپر اس ڈائریکٹر کو میرے کام کیلئے مسخر کر دیا۔

بیعت اور تبدیلی

ان روشن نشانات کے بعد میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت سے دُور رہنے کا کوئی جواز باقی نہ رہا ، لہٰذا میں نے 2014ئمیں بیعت ارسال کردی۔ازاں بعد میری اہلیہ نے بیعت کرلی اور پھر ساس نے بھی احمدیت قبول کر لی۔والحمد للہ علی ذالک۔

بیعت سے پہلے بھی مَیں نمازوں کا پابند تھا تاہم کبھی کبھی سستی ہو جاتی تھی۔ لیکن امام مہدی پر ایمان کے بعد تو حالت بالکل ہی بدل گئی۔نماز کی پابندی کے ساتھ ساتھ اب توتہجد کی بھی عادت پڑ گئی۔اب خدا کے فضل سے سستی کا توسوال ہی نہیں، محض نماز کا صحیح وقت نکلنے پر بھی افسوس ہوتاہے اور طبیعت استغفار کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔

ایک روز میں نے تہجد میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ خدایا مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایمان ویقین میںمزید بڑھا۔نماز تہجد سے فراغت کے بعد میں فجر سے قبل، کچھ وقت کے لئے استغفار میں مشغول ہو گیا۔ اسی دوران میری آنکھ لگ گئی۔ ایسے میں میرے دل میں یہ عبارت بار بار آنے لگی کہ: إِنَّا ھَدَیْنَاکَ یَا أَحْمَد۔ یعنی اے احمد ہم نے تجھے ہدایت دی۔میری آنکھ کھلی تو میں نے سمجھا کہ شاید میری کثرت تفکیر کی وجہ سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔چنانچہ میں استغفار او ردرود شریف پڑھتے ہوئے جب دوبارہ سویا توکچھ دیر کے بعد اسی کیفیت میں دوبارہ یہی عبارت اور یہی کلمات میری زبان پر آگئے ۔یہ روحانی تجربہ میرے ایمان ویقین میں مزید اضافہ کا باعث ٹھہرا۔اوراب یہ کیفیت ہے کہ اس سچے امام کی صداقت کے اقرارسے میرا دل بھر چکا ہے اور مجھے غیر احمدی مسلمانوں کی غفلت پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ اسی موعود کے انکاری ہیں جس کے ساتھ ان کے روحانی ارتقاء کو وابستہ کردیا گیا ہے۔ کاش کہ ان کی آنکھیں کھلیں اور وہ وقت کے امام کو پہچان کر اس کی بیعت میں آجائیں اور تمام دینی اور دنیوی دکھوں سے نجات پاجائیں ۔ کاش کہ ایسا ہو۔ (باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button