مَصَالِحُ الْعَرَب

مَصَالِحُ الْعَرَب( قسط نمبر 401)

(محمد طاہر ندیم۔مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے)

(عربوں میں تبلیغ احمدیت کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود؈ او رخلفائے مسیح موعودؑ کی بشارات، گرانقدرمساعی اور ان کے شیریں ثمرات کا ایمان افروزتذکرہ)

مکرم حمدی محمد عبد الہا دی صاحب

مکرم حمدی محمد عبد الہادی صاحب کا تعلق مصر سے ہے۔ جہاں ان کی پیدائش 1966ء میں ہوئی۔انہیں 2011ئکے شروع میں بیعت کرنے کی توفیق ملی۔ وہ احمدیت کی طرف اپنے سفر کا احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

روحانی اطمینان کی تلاش

میری عمر 50سال ہے اور میں ایک پرائمری سکول کا ٹیچر ہوں۔ مَیں بھی اپنے مسلمان معاشرے کے اکثر افراد کی طرح انہی مروّجہ عقائد کے ساتھ پروان چڑھا جن کا چرچا مولوی حضرات کی زبانی اکثر مسجد ومنبر سے ہوتا رہتا ہے، چنانچہ میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے آسمان سے نزول کے عقیدہ کے علاوہ نسخ فی القرآن وقتل مرتد وغیرہ جیسے دیگر معروف عقائد کا قائل تھا۔اس کے ساتھ ساتھ دیگر کئی مسلمانوں کی طرح میرے دل میں بھی بارہا یہ خواہش حسرت بن کر ابھرتی کہ کاش میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتا تو آپ کے ساتھ مل کر کافروں سے جہاد کرتا اور آپ کے صحابہ کے ساتھ مل کر دین اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے مال وجان کی قربانی پیش کرتا۔مسلمانوں کے تفرقہ کے پیش نظر یہ احساس بھی مجھے اندر ہی اندر سخت پریشان کرتا تھا کہ نہ جانے کونسا فرقہ راہ راست پر ہے اور کیا خبر جس فرقہ یا مسلک پر مَیں قائم ہوں وہ درست بھی ہے یا نہیں ؟ جب یہ احساس شدت اختیار کرنے لگا تو مَیں نے مختلف جماعتوں میں شمولیت اختیار کر کے حق جاننے کی کوشش کی۔ میں نسبتًا امن پسند صوفیوں میں بھی شامل ہوا اور فتنہ وفساد کے خوگر سلفی متشددین کے ساتھ بھی چل کے دیکھا،لیکن کہیں قلبی اطمینان نصیب نہ ہوا، کسی فرقہ میں مجھے یہ محسوس نہ ہو سکاکہ واقعی یہ لوگ حق کے راستے پر چلنے والے ہیں۔ازاں بعد میں اپنے ذاتی اجتہاد کی بناء پر تقرب الی اللہ کی خاطر صوفیوں کے بعض خاص طور طریقوں کو اپناتے ہوئے مخصوص طریق پر ‘‘ ذکر الٰہی‘‘کرنے لگا، لیکن یہ سعی بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوتی تھی۔

خواب۔۔ اور اس کی تعبیر

اسی عرصہ میں مَیں نے خواب میں دیکھاکہ میں ایک ویران وسنسان راستے پرایک گمنام منزل کی طرف چل رہا ہوں۔ ایسے میں ایک صالح شخص آتا ہے اور مجھے اس راستے سے ہٹا کر ایک نئے راستے پر ڈال دیتا ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ میں کوئی مزاحمت کئے بغیربخوشی اسی راستے پر چلنا شروع کردیتا ہوں جس پر وہ صالح شخص مجھے لاکر کھڑا کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ہمدردانہ رویّے سے مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے اس نے مجھے ایک بدانجام سے بچا کر خیرِ کثیر اورحسنِ عاقبت کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ اس راستے پر چلتے چلتے کچھ دیر کے بعد ایک بلند جگہ پر پہنچ کر کیا دیکھتا ہوں کہ پرانے راستے پر ایک جابر شخص بعض لوگوں سے جبری مشقت کروا رہا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ اگر وہ صالح شخص مجھے اس راستے سے نہ ہٹاتا تو آج مَیں بھی دیگر کئی لوگوں کی طرح تختۂ مشق ستم بننے پر مجبور ہوجاتا۔خواب میں ہی مجھے خیال آتا ہے کہ شاید یہ صالح انسان خدا کا نبی موسیٰ علیہ السلام ہے۔

اس خواب کی مجھے کوئی صحیح تعبیر سجھائی نہ دی۔ لیکن کافی عرصہ بعد جب میرا جماعت سے تعارف ہوا تو سمجھ میں آیا کہ میں جس راستے پر گامزن تھا وہ تباہی اور بربادی کی طرف جاتاتھا اور جس صالح انسان نے مجھے اس راستے سے اٹھا کر نئے راستے پر ڈال دیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے، جبکہ نیا راستہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام تھا۔

علمی افلاس

بہر حال اس خواب کے بعد ایک زمانہ گزر گیا اورمیری زندگی میں کوئی ایسی تبدیلی نہ آئی جسے راستہ بدلنے سے تعبیر کیا جاسکے۔پھر ایک روز اتفاقًا مجھے وہ عیسائی چینل مل گیا جس پر معروف دریدہ دہن پادری اسلام اور نبئ اسلام کے خلاف بکواس کرتا تھا۔ اس کے پروگرام سن کر میرا دل رنج واَلم سے بھر جاتا اوراپنے ضمیر کے ساتھ کشمکش کی وجہ سے مجھے شدید سر درد ہونے لگتا۔ لیکن میں اس پادری کے پروگراموں کے دیکھنے سے رک نہ سکا، شاید اس کے اعتراضات کے جواب دینے کی حسرت اوردلی خواہش تھی جو مجھے ٹی وی کے سامنے سے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ بعض امور کا جواب میرے ذہن میں آتا لیکن کچھ دیر کے بعد میں خود ہی اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ سا ہوجاتا کیونکہ اس جواب میں وہ قوت اور شوکت نہ ہوتی تھی جو بیہودہ اعتراض کو جڑوں سے اکھاڑسکے۔شاید اس میرے جوابات کی کمزوری کا سبب یہ تھا کہ پادری کے جملہ اعتراضات ان نصوص پر مبنی تھے جو اسلامی تاریخ کی معتبر کتب سے لی گئی تھیں اور جن کے مؤلفین کا شمار ایسے بلند پایہ علماء میں ہوتا ہے جن کی شان میں گستاخی باعثِ کفر سمجھی جاتی ہے۔یہ صورتحال مجھے غیظ وغضب میں مزید بڑھاتی۔ میں اس پادری کو مُسکت جواب دینے سے تو قاصر تھا لیکن میرے دل میںیہ تمنّا بشدت ابھرتی رہی کہ کاش کوئی مجھے اور اس پادری کو کچھ دیر کے لئے ایک کمرے میں بند کر دے تو میں کم از کم اسے دو چار تھپڑ ہی مار کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کا بدلہ لے لوں۔یہ بات میرے علمی افلاس اور میری دلیل کی کمزوری کی واضح علامت تھی۔

بے حسی کی انتہا

مَیں نے محسوس کیا کہ جیسے میں حیران وپریشان غریبوں اور یتیموں کی طرح مارا مارا پھر رہا ہوں، نہ میری مطلوبہ متاع مولویوں کے پاس تھی، نہ کسی کتاب اور کسی رسالہ میں شائع ہونے والے جوابات سے میری تشفی ہوتی تھی۔اورپھرمجلۃ الازہراور ملک کے دیگربڑے بڑے رسائل نے تو اس روح فرسا اور جان گسل مہم کا ردّ لکھنے کی بھی زحمت گوارا نہ کی تھی،ایسے لگتا تھا جیسے ان رسائل کے محرّرین نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہرکے خلاف گالیاں سن کر بے حسی کے تاگوں سے اپنے ہونٹ سی لئے تھے۔

تپتے صحرا میں شاداب وادی

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص فضل فرمایا اورایک روز مجھے ایم ٹی اے مل گیااو رمجھے ایسے لگا جیسے کسی تپتے صحرا میں شدید پیاس کے باعث لڑکھڑاتے قدموں سے چلنے والے شخص کو ایک سرسبز وشاداب وادی نظر آجائے جس میں ہر طرف گھنے سائے اورٹھنڈے پانی کے چشمے بہ رہے ہوں۔میں نے ایم ٹی اے دیکھنا شروع کیااور پھر اس کا گرویدہ ہوکر رہ گیا۔ دو سال تک یہ چینل دیکھنے کے بعدمیری یہ حالت تھی کہ میں اس چینل پر عیسائیت کے ردّ میں پیش کی جانے والی تمام باتوں سے متفق تھا۔لیکن اس چینل پر بیان کئے جانے والے احمدیت کے دیگر عقائد خصوصًا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی نبی کی بعثت کا بشدت انکاری تھا۔

تقدیر ِالٰہی، ہدایت اور بیعت

اس عرصہ میں مَیں نے بارہا پروگرام الحوار المباشر میں فون کر نے کی کوشش کی لیکن ہر بار ہی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ میرا مقصد صرف ایک سوال کا ‘‘ہاں یا نہ‘‘ میں جواب لینا تھا اور وہ سوال یہ تھا:کیا آپ کی جماعت کے بانی انبیاء کی طرح معصوم ہیں او رکیا وہ صاحب وحی والہام ہیں؟

اگر اس کا جواب ہاں میں دیا جاتا تو میں اسی روز ہی اس چینل کو اپنی لسٹ سے حذف کر دیتا، کیونکہ اس وقت میرا یہی عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی بند ہے،اور اس کا دعویدار جھوٹا ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی خاص قدرت سے ایسا ہوا کہ میںکبھی بھی پروگرام میں کال کرنے میں کامیاب نہ ہوسکاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں ایم ٹی اے دیکھتا رہا اوررفتہ رفتہ تمام امور کے ساتھ ختم نبوت کا مسئلہ بھی میری سمجھ میں آگیا، یہاں تک کہ میرے سامنے امام الزمان مسیح موعود اور امام مہدی کی بیعت کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچا۔ چنانچہ میں نے بیعت فارم پُر کر کے ارسا ل کردیا۔

تبلیغ کی کوشش اورربّانی تفہیم

بیعت کے بعد مَیں چاہتا تھا کہ یہ خیردوسروں تک بھی پہنچے چنانچہ اس کے لئے میں نے اپنے ایک قریبی دوست کا انتخاب کیا جس کے بارہ میں مجھے بہت حسن ِظن تھا۔میں نے اسے احمدیت کا پیغام پہنچایا تو وہ خلاف توقع اچانک شدید غصے میں آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگا۔مجبورًا مَیں اسے چھوڑ کر نہایت دکھی دل، بے چین روح اور بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے گھر لَوٹ آیااور حسب عادت جب ٹی وی آن کیا تو اس وقت ایم ٹی اے پر سورۃ آل عمران کی یہ آیت پڑھی جارہی تھی: {فَإِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَآؤُوْا بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْکِتَابِ الْمُنِیْر}ترجمہ: پس اگر انہوں نے تجھے جھٹلا دیا ہے تو تجھ سے پہلے بھی تو رسول جھٹلائے گئے تھے۔ وہ کھلے کھلے نشان اور (الٰہی) صحیفے اور روشن کتاب لائے تھے۔

یہ آیت میرے دل کی حالت کے لئے برد وسلام بن گئی اور مجھے یقین ہوگیا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے پیغام ہے کہ رسولوں کی تکذیب اور ان سے استہزاء تو ہوتا چلا آیا ہے پھر اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ایسا ہوا تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن انبیاء کی اس حالت کے باوجود خدا تعالیٰ کی مدد ونصرت سے ان کا غالب آنا دنیا کے لئے خدا تعالیٰ کی ہستی کا عظیم ثبوت اورخدا کے مامورین کی صداقت کی بیّن دلیل ہے۔یہ سوچ کر میری پہلی حالت جاتی رہی اور خدا کی اس نعمت پرشکر کے جذبات پیدا ہوگئے کہ اس نے اپنے امام الزمان کی بیعت کی توفیق عطا فرمائی اور اس کے منکرین میں سے نہیں بنایا۔

بیعت کے بعد تبدیلی

بیعت کے بعد میرا دل اور میرا گھر دونوں روحانی انوار سے منور ہونے لگے اورنمایاں طور پر خدا تعالیٰ کی قربت کا احساس ہونے لگا۔

بیعت کے بعد میری سوچ بھی یکسر بدل گئی۔ لوگوں کے بارہ میں حسن ظن اوران کی خیر خواہی کا عنصر غالب آنے لگا۔ میری تلاوت کا رنگ بھی بدل گیا۔ میں قبل ازیں محض نیکیاں جمع کرنے کی خاطر تلاوت کیا کرتا تھا یہاں تک کہ میں بعض اوقات نیکیوں کی تعداد جاننے کے لئے تلاوت کی گئی آیات کے حروف بھی گنتا تھا۔ میں محض تلاوت آیات میں ہی ہر خیر کو مضمر پاتا تھاجبکہ ان آیات پر تدبر اور ان کے معانی پر غورو فکر کرنے کی عادت بالکل نہ تھی۔

اہلیہ کی بیعت اور رؤیائے صالحہ

میری بیوی جامعہ ازہر کی فارغ التحصیل ہے۔ مجھے اس کے بارہ میں بہت فکر تھی کہ وہ مروّجہ خیالات اور مولوی حضرات سے متأثر ہوکر شاید امام الزمان کا انکار نہ کربیٹھے۔ لیکن دعا سے سب مرحلے آسان ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے میری اہلیہ کا دل بھی ایمان کی برکات سے معمور کردیا اور وہ اب نہ صرف حضرت مسیح موعود ؑ پرپختہ ایمان لانے والوں میں شامل ہے بلکہ حقیقی اسلام کا دفاع کرنے والی بن گئی ہے۔

قبول احمدیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے رؤیائے صالحہ سے بھی نوازا اور بعض کا بہت جلد غیر معمولی رنگ میں پورا ہونا میرے لئے ازدیاد ایمان کا باعث ثابت ہوا۔ مثال کے طورپر مَیں ایک رؤیا بیان کردیتا ہوں۔

ایک ماہ قبل مَیں نے رؤیا میں دیکھا کہ مَیں اور میری اہلیہ ٹیکسی سٹینڈ پرکار کے آنے کے منتظر ہیں جس پر سوار ہوکر ہم مرکزِ جماعت تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ جب وہ کار آتی ہے تو مَیں اس میں دو عیسائی اشخاص کو دیکھ کر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھتا ہوں کہ تم کہاں جارہے ہو؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم بھی اسی جگہ ہی جارہے ہیں جہاں تم جانے کے منتظر ہو۔اسی اثناء میں میری آنکھ کھل گئی۔ مجھے اس رؤیا کی کوئی سمجھ نہ آئی تھی، بلکہ اس کے بارہ میں کچھ حیرت اور خوف لاحق ہونے لگا۔

اگلی صبح مَیں اپنی اہلیہ کے ساتھ بازار گیا تو ہمارا گزر سنار بازار سے ہوا جس کے دکانداروں کی اکثریت عیسائیوں کی ہے۔ایک دکان کے قریب سے گزرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس کاعیسائی مالک اپنی دکان میں ایم ٹی اے لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔ ہم حیرانی اور تعجب کا اظہار کرتے ہوئے آگے بڑھے اور جب اس کے قریب ہی ایک اور دکان میں داخل ہوئے تودیکھا کہ اس کا عیسائی مالک بھی ایم ٹی اے لگائے بیٹھا تھا۔ اپنے رؤیا کو اس رنگ میں پورا ہوتے دیکھ کر دل ایمان ویقین کے جذبات سے بھر گیا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حق پر قائم رہنے اور امام الزمان پر ایمان کی نعمت کا حقیقی رنگ میں شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور احمدیت کا یہ فیض آگے ہماری اولادوں تک بھی پہنچے۔ آمین۔

……

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button