متفرق مضامین

برکاتِ خلافت

(انعام الحق کوثر۔ امیر و مبلغ انچارج آسٹریلیا)

(حضرت خلیفۃالمسیح کی قبولیت دعا کے حیرت انگیز نشانات)

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے۔ ہم ہر روز، ہر لمحہ خلافت کے ساتھ وابستہ انعامات کو دیکھتے اور اپنے ایمان میں اضافہ کرتے ہیں۔ خلیفۂ وقت ماں سے بڑھ کر محبت کرنے والے، باپ سے بڑھ کر خیال رکھنے والے، شفقتوں اور محبتوں کا ایک انبار۔ جس عمر جس گھڑی کسی پریشانی کا سامنا ہو ایک دعائیہ خط لکھنے کے ساتھ خدا تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کو اپنی مدد کے لئے آتا دیکھتے ہیں۔جس گھڑی کوئی بیمار ہوا اُسی لمحہ دعا کے لئے خط لکھ دیا اور پھر شفایابی کے سامان ہوتے دیکھے۔ یہاں تک کہ ایسی حالت میں کہ ڈاکٹرز بالکل ناامید ہوجاتے ہیں خلیفۂ وقت کی د عا کے بعد شفا کے حیرت انگیز، غیرمعمولی اور معجزانہ عمل کو دیکھ کر خلافت سے محبت بے انتہا بڑھ جاتی ہے۔ خلافت پر ایمان پہلے سے کہیں بڑھ کر ہو جاتا ہے اور دل خدا کی تسبیح و تحمید سے بھر جاتا ہے۔

گفتۂ اُو گفتہ اللہ بود

 خلافت کی سچائی کے ہزاروں نشانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ خلیفۂ وقت کی دعا کو حیرت انگیز طور پر شرفِ قبولیت بخشتا ہے۔ اور بسااوقات خلیفۂ وقت کے منہ سے نکلی ہوئی بات ایک عظیم الشان قدر ت کا نشان بن جاتی ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کا ایک فیصلہ اور آپ کی دعا کے نتیجہ میں معجزانہ شفا

سب سے پہلے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کا ایک فیصلہ نیز ان کی دعا کے نتیجہ میں شفا کے ایک عظیم الشان معجزہ کا ذکر کرتا ہوں جو گویا احیاء موتیٰ کا ایک نشان ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے خلیفۂ وقت کی بات کو پورا کیا اور اُن کی دعا کے نتیجہ میں شفائِ کاملہ کا نشان دکھایا۔

 آج اس واقعہ کو 36 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ خاکسار 1978ء سے 1981ء تک راولپنڈی میں تعینات تھا۔ اس دوران جلسہ سالانہ ربوہ 1979ء اٹینڈ کرنے کے بعد جب راولپنڈی پہنچا ۔ اُن دنوں مشن ہاؤس ’’مسجد نُور‘‘ سے ایک میل کے فاصلہ پر واقع تھا۔ جونہی مَیں گھر پہنچا اُسی رات پیٹ درد کا شدید حملہ ہوا۔ گھر میں اکیلا تھا۔ اہلیہ اپنے میکے کراچی گئی ہوئی تھیں۔ مشن ہاؤس کے قریب سوائے ایک غیراحمدی کے گھر کے اور کوئی گھر نہ تھا۔ فون کی سہولت بھی نہ تھی اس لئے ممکن نہ تھا کہ کسی کو فون کرکے مدد کے لئے بلاسکتا۔ تین چار روز اکیلے ہی زندگی اور موت سے جنگ کرتا رہا۔ بعدازاں کچھ طبیعت بہتر ہوئی تو دوا وغیرہ لی اور طبیعت سنبھلی۔ کراچی فون کرکے اہلیہ کو راولپنڈی بلالیا مگر طبیعت ناساز رہی بلکہ زیادہ بگڑتی چلی گئی۔

راولپنڈی جنرل ہسپتال سے چیک اَپ کروایا۔ دوسرے ڈاکٹرز سے بھی رابطہ کیا۔ دوا لیتا رہا مگر طبیعت زیادہ خراب ہوتی رہی۔ ہر روز بعد از دوپہر شدید سردی کا حملہ ہوتا۔ باوجود الیکٹرک کمبل اوڑھنے کے شدید کپکپی ہوتی اور یہ حالت ساری رات رہتی۔ صبح کچھ طبیعت سنبھلتی۔ با وجودبسیار علاج معالجہ کے کچھ افاقہ نہ ہوا۔ درایں اثنا مجھے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کی طرف سے آپ کے دستخطوں کے ساتھ یہ خط موصول ہوا (حالانکہ بالعموم ایسا خط دفتر تبشیر سے آتا ہے)کہ:

 ’’مَیں نے تمہاری تقرری امریکہ کے لئے کردی ہے اس کے لئے تیاری کرو‘‘۔

بہرحال اس ناسازیٔ طبع سے تنگ آکر یہ فیصلہ کیا کہ چھٹی لے کر اپنے والدین کے گھر جایا جائے۔ چنانچہ مَیں نے رخصت لی اور اپنے گھر سبّی چلا گیا۔ چند دن بعد ہی ایک دعوت کے بعد پیٹ کی درد کا شدید حملہ ہوا۔ بار بار ڈاکٹرز کے پاس لے جایا گیا مگر افاقہ نہ ہوا۔ سول سرجن نے مشورہ دیا کہ انہیں کوئٹہ لے جائیں۔ اسی دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالث رحمہ اللہ کی خدمت میں دعا کا خط لکھا اور تمام صورتحال لکھی۔ مجھے کوئٹہ لے جایا گیا۔ وہاں سول ہسپتال میں چیک اَپ کروایا لیکن چونکہ کچھ Pain Killerدوائیں لے رکھی تھیں اور اس وقت دردنہ تھا لہٰذا مجھے گھر بھیج دیا گیا۔ اگلے روز مَیں نے فیصلہ کیا کہ اب Pain Killer دوائیں نہ لوں گا تاکہ صحیح طور پر علاج ہوسکے۔

پھر جب شدید درد ہوئی تو مجھے ہسپتال لے جایا گیا۔ چیک اَپ کے بعد ڈاکٹر اس نتیجہ پر پہنچا کہ اپنڈکس کی شکایت ہے اور فوری طور پر سرجری ہوگی۔ ہمارے ایک قریبی دوست ڈاکٹر نیاز احمد خان صاحب (جنہیں ہم ڈاکٹر نازک کے نام سے یاد کرتے ہیں وہ) بطور Anesthesiologist وہاں موجود تھے۔ انہوں نے مجھے آپریشن تھیٹر جانے کا کہا اور مَیں پیدل چل کر ہی وہاں جاپہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن کُل سات آٹھ منٹ کا ہوگا۔ کیا Full Anaesthesia دوں یا لوکل؟۔ مَیں نے کہا کہ اگر کُل سات آٹھ منٹ کا وقت لگتا ہے تو پھر آپ مجھے لوکل انستھیزیا ہی دیں۔ چنانچہ انہوں نے میری ریڑھ کی ہڈی میں انجکشن لگادیا اور میرا نچلا حصہ بالکل سُن ہوگیا۔ مَیںنے جب چھُریوں کی آوازیں سنیں تو مَیں نے اُن سے کہا کہ میرے منہ کے اوپر کپڑا دے دیں۔ چنانچہ انہوں نے میرے منہ کے اوپر کپڑا دے دیا۔

پہلا سرجن جس کا نام حمید تھا، اُس نے سرجری شروع کی مگر جلد ہی بے بس ہوگیا کیونکہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر باہر نکل رہی تھی۔ پھر دوسرا سرجن بلایا گیا اُس نے بھی تھوڑی دیر کوشش کی مگر جلد ہی وہ بھی جواب دے گیا۔ ڈاکٹر نیاز نے میرے کان میں کہا کہ انعام! بڑا مسئلہ ہوگیا ہے۔ دو سرجن تو جواب دے گئے ہیں۔ بس اب دعا ہی کرو۔ مسئلہ بہت خطرناک ہوگیا ہے۔ مَیں ایک پروفیسر سرجن ڈاکٹر گلزار کو گھر لینے جا رہا ہوں۔ اگر مَیں نے فون کیا تو وہ شاید اپنی مصروفیت کی وجہ سے آنے سے انکار کردے اس لئے مَیں اُسے جاکر لے کر آؤں گا۔

باہر جاکر انہوں نے میری اہلیہ اور بڑے بھائی جان حمید احمد صاحب اور میرے چھوٹے بھائی احسان الحق صاحب کو بتادیا کہ فی الحال بچنے کی کوئی امید نہیں۔ یہ سن کر بھائی جان حمید میری اہلیہ کو محترم شیخ محمد حنیف صاحب امیر جماعت کوئٹہ کے ہاں لے گئے کہ اگر کوئی بُری یا بڑی خبر ہوگی تو محترم امیر صاحب میری اہلیہ کو تسلّی دے سکیں گے۔

تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر گلزار آگئے اور آتے ہی انہوں نے شور مچادیا کہ کیا ضرورت تھی آج سرجری کرنے کی۔ ہفتے کے روز کرلیتے (ان دنوں جمعرات آدھا دن اور جمعہ کی پوری رخصت ہوتی تھی اور آج جمعرات کا دن تھا یعنی Half Working Day)۔ کوئی ایمرجنسی تھی؟ میرے دوست ڈاکٹر نیاز صاحب نے کہا کہ سر! ایمرجنسی تھی۔

ڈاکٹر گلزار نے کہا: اچھا۔ کھول دو سارا شکم۔

چنانچہ انہوں نے میرا پیٹ سامنے کی طرف سے تمام کاٹ دیا۔ ہلکی ہلکی درد اور کٹنے کا احساس تھا۔ اس سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ ڈاکٹر گلزار کا خیال تھا کہ مَیں بیہوش ہوں حالانکہ مَیں تمام باتیں سن رہا تھا۔

شکم کھولنے کے بعد ڈاکٹر گلزار کہنے لگے: اوہ! بند کردو۔ اللہ کے حوالے۔ خدا حافظ۔ یہ تو چھ ماہ سے پھٹی ہوئی اپنڈکس ہے۔ دیکھو یہ چار جگہ سے Burst ہوئی ہے۔ اللہ کے حوالے۔

ڈاکٹر نیاز نے کہا: سر! کچھ کریں۔

 ڈاکٹر گلزار نے کہا کہ مَیں کچھ نہیں کرسکتا۔ یہ تو چھ ماہ سے اپنڈکس پھٹی ہوئی ہے۔ نمعلوم یہ مریض اب تک کیسے زندہ رہا ہے؟

ڈاکٹر نیاز نے پھر اصرار کیا کہ سر ! کچھ کریں۔

ڈاکٹر گلزار: یہاں تو Half percent بھی بچنے کی امید نہیں۔ مَیں کیا کرسکتا ہوں۔

جس وقت ڈاکٹر گلزار نے یہ کہا کہ ہاف پرسینٹ بچنے کی امید نہیں تو مجھے تو ہاف پرسینٹ بھی اپنے مرنے کی امید نہ تھی۔ مَیں نے کہا کہ یہ ڈاکٹر بالکل غلط کہتا ہے۔ حضور مجھے امریکہ بھجوا رہے ہیں اور یہ مجھے قبرستان بھجوا رہا ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ مَیں تندرست ہوں گا اور بالضرور امریکہ جاؤں گا۔

ڈاکٹر نیاز نے پھراُن سے کہا تو وہ کہنے لگے کہ میرا نام لگ جائے گا کہ مَیں نے آدمی مار دیا۔

ڈاکٹر نیاز نے کہا : سر ! جب آپ آپریشن تھیٹر میں آگئے تو آپ کا نام تو لگ ہی گیا۔

اس پر ڈاکٹر گلزار کو غصہ آگیا اور انگلش میں کہنے لگے:

How long have you been a Doctor?

ڈاکٹر نیاز نے جواب دیا: سر! سولہ سال سے۔

ڈاکٹر گلزار کہنے لگے: "Have you seen any case like this? Have you heard any case like this? Have you studied any case like this?”

ڈاکٹر نیاز نے جواب دیا:

No Sir, No Sir, No Sir۔

ڈاکٹر گلزار کہنے لگے:

What can I do then?

ڈاکٹر نیاز نے کہا: سر!یہ میرے کلاس فیلو ہیں۔ ہم بچپن سے اکٹھے سکول جاتے اور واپس آتے تھے۔ ہماری بچپن سے دوستی ہے۔ پلیز کچھ کریں۔

(خداتعالیٰ مجھے خود کوئٹہ لایا اور ڈاکٹر نیاز کو فرشتہ کے طور پر میری مدد کے لئے تعینات کردیا۔ وگرنہ یہ سب کچھ ممکن نہ تھا۔ وہاں کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا۔)

چنانچہ انہوں نے سرجری شروع کردی جو تین گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ انتڑیوں کے کاٹنے اور پھر جوڑنے کا احساس ہوتا تھا۔ آپریشن کے بعد وہ مجھے ایمرجنسی وارڈ کی طرف لے کر چلے۔ راستہ میں مجھے میرے چھوٹے بھائی احسان الحق ملے۔ مَیں نے اُسے آواز دی۔ وہ میری آواز سن کر چیخ پڑا۔ کیونکہ ڈاکٹرز نے اُسے بتایا تھا کہ بچنے کی کوئی امید نہیں۔ وہ خوشی سے بے اختیار روتے ہوئے کہنے لگا: ’’بھائی جان آپ زندہ ہیں؟‘‘۔

مَیں نے کہا: ’’کیوں ؟ کیوں تم سمجھ رہے تھے کہ مَیں فوت ہوگیا ہوں۔‘‘ (مجھے نہیں معلوم تھا کہ ڈاکٹرز نے انہیں کیا بتایا تھا؟)

چنانچہ وہ مجھے ایمرجنسی وارڈ میں لے آئے۔ نرسوں نے مجھے ڈرپ وغیرہ لگا دیں۔ ڈرپ سے مجھے بڑی گھبراہٹ سی ہو رہی تھی۔ اور میں سونا چاہتا تھا کیونکہ کئی دنوں سے سویا نہ تھا۔ میں نے ایک نرس کی منّت کی کہ اس ڈرپ کو اُتار دو۔ اس نے میرے کہنے پر اسے اتار دیا اور میں سو گیا۔ صبح سویرے ڈاکٹر آیا۔ دیکھا کہ ڈرپ اُتری ہوئی ہے۔ وہ حیران ہو گیا اور سخت غصہ میں آیا۔ پوچھا یہ کس نے اتاری ہے؟ نرس نے کہا مَیں نے اتاری ہے کیونکہ یہ کہتے تھے اتار دو۔ ڈاکٹر نے کہا میں تمہیں Dismissکرتا ہوں۔ تم نے کیسے مریض کے کہنے پر Dripاتار دی؟ نرس ڈاکٹر کی منتیں سماجتیںکرنے لگی۔ میں نے بھی سفارش کی۔ نہ معلوم اس کا کیا بنا؟

اس کے بعد ڈاکٹر نے لکھا کہ میرا سارا بستر خون اور پیپ( puss )سے بھرا ہوا ہے۔ اُس نے میرے آپریشن کے سارے ٹانکے کھول دیئے۔ اور اوپر صرف رومال رکھ کر اسے coverکر دیا۔ اور ڈرپ وغیرہ لگوا دی۔ اس کے بعد ہر روز کمپوڈرآتا اور میرے پیٹ کو دبا دبا کر خون اور پیپ نکالتا۔ ہر روز ڈاکٹر آتا اور کہتا Number 17 still alive? اور حیران ہوتا۔

اس دوران والدین حضور انور کو دعائیہ خطوط لکھتے رہے۔ حضور انور نے دعا کی۔ اورامیرصاحب جماعت احمدیہ کوئٹہ کو ہدایت فرمائی کہ ان کا خاص خیال رکھیں۔ چنانچہ وہ بسا اوقات میری خبر گیری کرنے کے لئے آتے۔

ڈاکٹر گلزارمجھ سے اس قدر خوفزدہ تھے (کہ ان کا نام نہ لگ جائے کہ انہوں نے مجھے مارا ہے) کہ جو ٹانکے انہوں نے کھول دیئے تھے وہ کبھی بند نہ کئے۔البتہ اینٹی بائیوٹکس دیتے رہے اور کمپوڈرہر روز میرے پیٹ کو دباتا اور پھر آہستہ آہستہ ایک باریک سی جھلّی آ گئی۔ اور اس طرح سے قدرت کے نظام کے تحت وہ حصہ خود بخود بند ہو گیا۔ ایک ماہ کے بعد مَیں بستر سے اٹھا۔ اور مناسب خیال کیا کہ ڈاکٹر گلزار کا خود جا کر شکریہ ادا کروں۔ جب میں ان کے دفتر میں داخل ہوا تو وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوئے اور پھر مجھے کہنے لگے: کیسے آئے ہیں؟ مَیں نے کہا کہ ’’آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے‘‘۔ کہنے لگے ’’میرا نہیں۔ خدا کا شکر ادا کرو۔ یہ ایک معجزہ ہے( وہ احمدی نہ تھے مگر خدا نے ان کے منہ سے نکلوایا کہ یہ دعا کا معجزہ ہے۔ ) اپنڈکس کے مریض دو تینروز میںمر جاتے ہیں۔ مگر تمہاری اپنڈکس چھ ماہ سے پھٹی ہوئی تھی۔ یہ دنیا میں پہلا اور واحد کیس ہے کہ کوئی بچا ہو‘‘۔ ڈاکٹر نے کہا: ’’کاش اُس وقت کوئی کیمرہ ہوتا اور ہم تصویر لیتے تو میڈیکل کی کتابوں میں اس کیس کا بھی ذکر ہوتا کہ ایسے مریض بھی بچ سکتے ہیں۔ مگر افسوس اس روز ہمارے پاس کیمرہ نہ تھا‘‘۔

مجھے یقین تھا کہ یہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی دعاؤں کا نتیجہ تھا اور واقعی یہ دعا کا معجزہ تھا۔ اور یہ کہ حضور نے میری تعیّناتی امریکہ کے لئے کی تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ میری وفات ہوتی۔

 آج اس واقعہ کو 36 برس ہو گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہوں۔ امریکہ میں 32سال سے زائد عرصہ تک خدمت کی توفیق ملی اور اب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی زیر ہدایت آسٹریلیا میں حسب توفیق جماعت کی خدمت میں مصروف ہوں۔ وَ مَا توفیقی اِلَّا بِاللّٰہ۔

……………………

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی قبولیت دعا کا ایک عظیم الشان نشان

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے قبولیت دعا کا ایک عظیم الشان واقعہ بھی ہدیۂ قارئین ہے جسے خود حضور انور نے مجالس عرفان اور فیملی ملاقات میں بھی بیان فرمایا۔

1988ء میں جب خاکسار نیویارک(امریکہ) میں بطور مشنری کے تعینات تھا خاکسار کی اہلیہ قانتہ انعام کوثر صاحبہ کی بائیں ٹانگ میں درد شروع ہوئی۔ شروع میں خاکسار اپنے چند دوست ڈاکٹروں سے مشورہ کرتا اور دوائیں دیتا رہا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا۔ حتی کہ وہ ٹانگ سُکڑنے لگی۔ چنانچہ ’’HIP‘‘ کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں کو دکھایا اور ایکسرے لینے کے بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ Left Tibia میں Cystہے۔ چنانچہ کچھ تشویش ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے Biopsy کے لئے مشورہ دیا اور بعد اس کے بتایا کہ یہ Benignہے ۔ خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو فون کیا۔ اور بتایا کہ یہ Benign Cyst ہے۔ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے شکر ادا کیا۔ مگر اگلے ہی روز ڈاکٹرز نے کہا کہ در اصل وہ Milegnant ہے یعنی ہڈّی میں کینسر ہے۔ اور اس کی قسم ’’سرکوما‘‘ ہے جو تیزی سے پھیلتا ہے۔ حضور انور کو پھر فون کر کے بتایا۔ حضور نے بڑی تشویش کا اظہار کیا۔ خاکسار نے خصوصی دعا کے لئے درخواست کی۔ اس کے بعد مختلف ایکسرے ہوتے رہے اور علاج میں تاخیر ہوتی چلی گئی۔ ڈاکٹرز نے بالآخر سرجری تجویز کی اور ان کا خیال تھا کہ اندر سے ہڈی (گھٹنے سمیت) نکال کر اس کی جگہ Steel استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی نے اس کا آرڈر دیا مگر اس میں بھی غیر معمولی تاخیر ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ ایک روز ہڈی خود بخود ٹوٹ گئی۔ بایں وجہ کہ ہڈی کینسر کی وجہ سے بالکل گل گئی تھی۔ اگرچہ ابھی سرجری میں چار روز باقی تھے۔ چنانچہ اہلیہ کو خاکسار نیویارک کے Mount Sinai ہسپتال لے گیا جہاں چار روز کے بعد Prysthesiousکے آنے پر سرجری ہونا تھی۔ ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ میں ان کو چار روز کے لئے گھر لے جاؤں مگر میرے لئے ایسا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے انہیں ہسپتال میں داخل کر لیا۔

حضور انور (خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ) کی خدمت میں دعا کے لئے بھی لکھا ۔ اور پھر فون کیا اور آپ سے سرجری کی اجازت چاہی جو حضور نے دے دی۔

ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ شاید ٹانگ کاٹنی پڑے۔ چنانچہ انہوں نے سرجری سے پہلے ہم سے اس کی اجازت لے لی اور لکھوا لیا۔چار روز کے بعد صبح آٹھ بجے سرجری ہوئی۔ میرے ساتھ محترم ڈاکٹر چوہدری امتیاز احمد صاحب تھے تاکہ مجھے تسلی دے سکیں۔یہ سرجری شام چار بجے ختم ہوئی۔ خداتعالیٰ کا فضل ہے کہ ٹانگ کاٹنے کی نوبت نہ آئی۔ ڈاکٹر Micheal Louis جو سرجن تھے انہوں نے پوری کوشش کی کہ سرجری اچھی طرح سے ہو اور زائد حصے کاٹ کر نکال دیئے جائیں تاکہ کینسر کا کوئی حصہ جسم کے ساتھ لگا نہ رہے۔ اس سرجری میں کئی دوسرے ڈاکٹرز بھی شامل ہوئے اور کچھ Stand by بھی تھے۔

بہر حال سرجری کے اگلے روز حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا فون آیا۔ فرمانے لگے ’’کل میں نے کئی مرتبہ تمہیں فون کیا کہ پتہ کروں کہ قانتہ کا کیا حال ہے؟ مگر کسی نے مشن ہاؤس سے فون نہ اٹھایا۔‘‘ مَیں نے حضور سے معذرت کی اور بتایا کہ میں کل سارا دن ہسپتال میں تھا۔ اس لئے فون اٹینڈ نہ کر سکا۔

حضور نے پوچھا کہ اب طبیعت کیسی ہے؟ آپریشن کیسا ہوا؟ میں نے بتایا کہ آٹھ گھنٹے کی سرجری تھی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے قانتہ کی طبیعت پہلے سے بہتر ہے۔ نیز میں نے عرض کیا کہ اگر حضور پسند فرمائیں تو میں قانتہ سے فون ملا دوں اور حضور خود بات کر کے حال دریافت کر لیں۔ فرمایا ٹھیک ہے۔چنانچہ میں نے فون ملا دیا۔حضور نے قانتہ سے پوچھا کیا حال ہے؟ کہنے لگی، ٹھیک ہوں۔ حضور نے فرمایا: تمہاری آواز سے یوں لگتا ہے کہ تم کبھی بیمار ہی نہیں ہوئیں۔ اہلیہ نے کہا: حضور جب آپ کا فون آ جاتا ہے تو تمام بیماری رفع ہو جاتی ہے۔ حضور! میں بالکل ٹھیک ہوں۔ حضوررحمہ اللہ نے اس جواب پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔

میری اہلیہ کی یہ سرجری یکم جون 1989ء کو ہوئی اور وہ 18روز تک ہسپتال میں رہیں۔ اس دوران ڈاکٹرز نے فیصلہ کیا کہ چونکہ کینسر تھا اور بڑی تیزی سے پھیلنے والا تھا اس لئے ہسپتال سے گھر جانے سے پہلے ہی کیمو تھراپی شروع کر دینی چاہئے جو بہت سخت ذریعہ علاج ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ کیموتھراپی تینسال تک لینی ہو گی۔ ہفتہ میں چار یا پانچ روز انہیں ہسپتال میں رہنا ہو گا۔ اور صرف ایک دو دن کے لئے گھر جایا کریں گی۔ انہوں نے داخلہ کا مستقل کارڈ بھی بنا دیاتاکہ جب بھی آئیں ان کا داخلہ ہو جایا کرے۔ مَیں بہت پریشان ہوا۔ جماعت کا کام ہے (ان دنوں مَیں نیو یارک میں مشنری تھا) چاربچے ہیں۔ ان میں سے میرا چھوٹا بیٹا احتشام الحق محمود چند ماہ کا ہے۔ کیا کروں گا؟ سخت پریشان ہوا۔ حضور کو دعا کے لئے لکھا۔ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ وہ ہسپتال سے گھر نہ جائیں بلکہ اس سے پہلے ہی کیمو تھراپی شروع کر دیں۔ ہم متذبذب اورپریشان تھے۔ اس دوران انہوں نے متعدد ڈاکٹرز کو ہماری طرف ہسپتال میں ہی بھجوانا شروع کر دیا کہ بلا تاخیر کیمو تھراپی شروع کر دینی چاہئے۔ جب ہم نے کسی طور پر بھی اثبات کا اظہار نہ کیا تو پھر ایک انڈین ڈاکٹر کا اہتمام کیا تاکہ وہ ہماری اردو زبان میں ہمیں اچھی طرح سے سمجھا سکیں کہ یہ ناگزیر ہے وگرنہ زندگی کو سخت خطرہ لاحق ہے۔کیمو تھراپی کے نتیجہ میں طبیعت پر سخت اثر ہوتا ہے۔ الٹیاں آتی ہیں۔ جسم کے تمام بال جھڑ جاتے ہیں ۔ یہ سوچ کر طبیعت سخت پریشان ہوتی۔ مَیں اس حق میں تھا کہ اگر زندگی اور موت کا مسئلہ ہے تو ہمیں کیمو تھراپی لے لینی چاہئے۔ جبکہ اہلیہ کا موقف تھا کہ ’’ہر گز نہیں‘‘۔ بالآخر یہ فیصلہ ہوا کہ حضور انور سے مشورہ لیتے ہیں جو حضور فیصلہ فرمائیں اس کی پابندی کریں۔ ہم نے ڈاکٹرز کو بتا دیا کہ ہم اپنے امام کو جو ہمارے باپ کی طرح ہیں خط لکھ رہے ہیں۔ جو اُن کی طرف سے فیصلہ ہو گا ہم اس پر عمل کریں گے۔ ہمارے اس جواب پر وہ سخت حیران تھے۔

خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں لندن خط لکھا۔ حضور نے جوابًا تحریر فرمایا کہ ’’ مَیں نیو یارک دورہ پر آ رہا ہوں اُس وقت بتاؤں گا‘‘۔

حضور انور نیو یارک کے دورہ پر تشریف لائے۔ الحمدللہ دورہ کے تمام پروگرام بہت کامیاب رہے۔ [ضمنًا یہ بھی عرض کر دوں کہ جس روز حضور کی خدمت میں عشائیہ تھا اس کے اختتام پر حضور نے فرمایا کہ میں تمہاری اہلیہ سے ملنا چاہتا ہوں۔ حضور میرے گھر تشریف لائے اور ان کی تیمار داری کی۔] اور اب حضور نیویارک سے واشنگٹن جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔ آخری الوداعی ملاقات ہو رہی تھی اور میں بہت فکر مند تھا کہ حضور نے کوئی ارشاد نہیں فرمایا۔ جب میں حضور سے ملا تو خود ہی فرمایا آپ کی اہلیہ کی کیمو تھراپی کے بارہ میں واشنگٹن جا کر بتاؤں گا۔ میں نے کہا ’’شکر ہے خدا کا، حضور کو یاد ہے۔ ‘‘

واشنگٹن میں امریکہ جلسہ سالانہ ہو رہا تھا۔جلسہ کے دوسرے دن بہت سے لوگ مجھے تلاش کر رہے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور مجھے اور میری اہلیہ کو ملنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ بھاگ دوڑ کر اہلیہ کو جلسہ سالانہ مستورات سے ساتھ لیا اور حضور انور کی خدمت اقدس میں ہم دونوں حاضر ہو گئے۔

حضور فرمانے لگے کہ ’’جو مَیں اس وقت آپ لوگوں کو کہنے والا ہوں وہ مَیں لندن سے بھی لکھ سکتا تھا۔ وہ میں نیویارک میں بھی کہہ سکتا تھا۔ مگر میں زیادہ دعا کرنا چاہتا تھا اور خدا تعالیٰ سے یقینی جواب اور مکمل تسلّی چاہتا تھا۔ چنانچہ اب مجھے مکمل تسلّی ہے۔ آپ کو کیمو تھراپی کی ضرورت نہیں۔ آپ ٹھیک رہیں گی۔ ‘‘

ہم خوش خوش واپس ہوئے۔ جب نیو یارک پہنچے تو ڈاکٹر Micheal Louis کو اپنے جواب سے آگاہ کیا کہ ہم نے کیمو تھراپی نہیں لینی۔ وہ کہنے لگا کیا تم پاگل ہو۔ جانتے نہیں کہ کتنی تیزی سے کینسر پھیلا ہے۔ اگر تم کیمو تھراپی نہ لو گے تو پھر کُل چھ ماہ کی زندگی ہے۔ ہم نے کہا زندگی کا مالک خدا تعالیٰ ہے اور خدا تعالیٰ ہمارے امام کی دعا کو سنتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ کچھ نہ ہوگا۔ اس نے پھر چند اور ڈاکٹرز کو ہمیں فون کرنے اور سمجھانے کی کوشش کی مگر ہمارا ایک ہی جواب تھا۔ اس پر اس نے کہا ٹھیک ہے جو تم فیصلہ کرو۔ مگر ہر تین ماہ بعد M.R.I ہو گا۔ اور C.T Scan ہو گا۔ ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں وہ ہم کرواتے رہیں گے۔ چنانچہ ہر تین ماہ بعد مکمل M.R.I اور C.T. Scan ہوتا۔ اس دوران میرا تبادلہ نیو یارک سے لاس اینجلیس ہو گیا۔لاس اینجلیس سے بھی ہر تین ماہ کے بعد اہلیہ نیو یارک آتی اور تمام ایکسرے وغیرہ کرواتی مگر ہر مرتبہ رزلٹ نیگیٹو آتا۔ یعنی کینسر کے کوئی اثرات نہیں۔یہ سلسلہ پانچ سال تک جاری رہا۔ اور رزلٹ ہمیشہ ہی منفی رہا۔ الحمد للہ۔

ڈاکٹر مائیکل لوئیس جو یہودی تھا( اور یہودی معجزات کے کبھی قائل نہیں ہوئے۔ اس لئے) اس نے اسے دعا کا معجزہ تو نہیں کہا مگر یہ کہا کہ

"This case is rare. You don’t have to come for x-ray any more. She is fine.”

اس نے کہا کہ:’ یہ کیس غیر معمولی ہے۔ کبھی کبھار ایسے ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ کی اہلیہ کو اب ایکسرے اور چیک اَپ کے لئے آنے کی ضرورت نہیں۔یہ ٹھیک ہیں‘۔

الحمد للہ۔ ثم الحمدللہ۔ آج اس واقعہ کو 26سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اہلیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل تندرست ہیں۔ سارا دن مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہتی ہیں اور بیماری کا کوئی شائبہ بھی نظر نہیں آتا۔

پانچ سال پہلے جب ہم نیو یارک میں تھے تو اہلیہ کی گردن میں گلٹی ظاہر ہوئی۔ تشویش ہوئی اور نیو یارک کے ایک ڈاکٹر کو دکھانے گئے۔ ڈاکٹر نے دیکھ کر پہچان لیا اور کہا کہ کیا بیس سال پہلے آپ کی کوئی سرجری ہوئی تھی۔ بتایا کہ ہاں ہوئی تھی۔ اس نے کہا کہ مجھے یاد ہے۔ اُس سرجری میں مَیںبھی شامل تھا۔ اس نے کہا : مَیں پلاسٹک سرجری کرتا ہوں اور مجھے Stand byپر رکھا ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے آپ اب تک زندہ ہیں۔ یہ غیر معمولی واقعہ ہے اس لئے آج تک مجھے یاد ہے۔ وگرنہ سرجری تو ہم ہر روز کرتے ہیں۔ لیکن یہ غیر معمولی واقعہ تھا۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُسی نے ہمارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی دعاؤں کو سنا۔ انہیں تسلّی دی اور ہمیں یقین اور ایمان بخشا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کے اس واقعہ کو کئی مرتبہ مجلس عرفان میں ذکر کیا اور ملاقاتوں میں بھی ذکر کیا۔ الحمد للہ ثم الحمد للہ۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button