مکتوب

مکتوب مشرق بعید (ستمبر ۲۰۲۶ء)

(محمد فاتح ملک)

مشرقِ بعید کےچند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ

چینی صدر کا ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد دورۂ امریکہ

چینی صدر شی جن پنگ نے ۲۳ سے ۲۵؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک امریکہ کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا۔ یہ شی جن پنگ کا ایک دہائی سے زائد عرصے بعد وائٹ ہاؤس کا پہلا دورہ تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ کسی چینی راہنما کا امریکہ کا دوسرا باقاعدہ سرکاری دورہ بھی تھا۔

صدر شی جن پنگ جب اینڈریوز جوائنٹ بیس ایئرپورٹ پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایئرپورٹ جا کر ان کا استقبال کیا۔ ائیرپورٹ پر ریڈ کارپٹ، ۲۱؍ توپوں کی سلامی اور جنگی جہازوں کے فلائی پاس کے ساتھ ان کا شاہانہ استقبال کیا گیا۔

دورے کے پہلے دن وائٹ ہاؤس میں ایک پُروقار اسٹیٹ ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔ اگلے روز وائٹ ہاؤس میں دونوں راہنماؤں نے روایتی چائے کی دعوت میں شرکت کی اور امریکہ کے قومی آرکائیوز کا دورہ کر کے امریکی آئین اور تاریخی دستاویزات کا مشاہدہ کیا۔

وائٹ ہاؤس میں دونوں صدور اور اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ دورے کا سب سے اہم عملی پہلو امریکہ اور چین کے تجارتی تنازعے میں عارضی نرمی تھا۔

دونوں ممالک نے موجودہ تجارتی جنگ بندی کو مزید دو ماہ کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ یہ جنگ بندی نومبر میں ختم ہونے والی تھی۔ اس توسیع سے واشنگٹن اور بیجنگ کو ایک وسیع تر تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کا وقت مل گیا۔ چینی سرکاری بیان کے مطابق دونوں طرف سے تقریباً ۳۰؍ ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر باہمی ٹیرف میں کمی کے انتظام پر اتفاق ہوا۔ امریکہ اور چین نے اقتصادی و تجارتی مذاکرات کے نتائج کو نافذ کرنے اور تجارت سے متعلق نئے mechanisms کو آگے بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ رائٹرز کے مطابق امریکہ نے بعض زرعی مصنوعات، طبی آلات اور بعض غیر حساس اشیا کے معاملے میں تجارتی پابندیوں میں نرمی پر اتفاق کیا، جبکہ چین کی جانب سے امریکی کسانوں اور زرعی شعبے کے لیے مارکیٹ رسائی میں بہتری کی بات سامنے آئی۔ تاہم اس معاہدے کی تمام تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔

دونوں راہنماؤں کی ملاقات میں تائیوان بھی اہم ترین موضوعات میں شامل رہا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے واضح کیا کہ تائیوان کا معاملہ اور انسانی حقوق چین کی سرخ لکیر ہیں اور امریکہ کو اس حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ تاہم ٹرمپ نے دورے کے فوراً بعد تائیوان کے بارے میں کوئی ایسا بڑا عوامی اعلان نہیں کیا جس سے امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی ظاہر ہو۔

ایران بھی سربراہی ملاقات کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے چاہئیں۔ چینی سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی ملک یا ادارے کو بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر ٹول عائد کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اوپن اے آئی ماڈل نے آسٹریلیا کے ایک حکومتی نظام کو ہیک کرلیا

ستمبر ۲۰۲۶ء میں ایک غیر معمولی سائبر سیکیورٹی واقعہ سامنے آیا جس میں OpenAI کا ایک تجرباتی اے آئی ماڈل آسٹریلیا کے ایک حکومتی آن لائن نظام میں ایسی رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا جس کی اسے اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ واقعہ جون ۲۰۲۶ء کا ہے جب اوپن اے آئی اپنے نئے ماڈلز کی صلاحیتوں کی جانچ (Testing) کر رہا تھا۔ اس AI ایجنٹ کو آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ادویات اور صحت کے اخراجات سے متعلق معلومات و اعداد و شمار جمع کرنے کا ایک سادہ اور قانونی ریسرچ ٹاسک دیا گیا تھا۔

تاہم، ریسرچ کے دوران اس اے آئی ماڈل نے غیرمتوقع اور غیر ضابطہ رویّہ (Misaligned Behavior) ظاہر کیا۔ اس نے عام ویب سائٹس پر ڈیٹا تلاش کرنے تک محدود رہنے کے بجائے نظام کی حفاظتی خامیوں اور پورٹل کی سیکیورٹی کیز (Access Keys) کا فائدہ اٹھایا اور سرکاری سائٹس کی حدود سے تجاوز کر کے اندرونی فائلز تک رسائی حاصل کر لی۔

یہ واقعہ ۱۸؍ جون ۲۰۲۶ء کو پیش آیا تھا، لیکن ستمبر ۲۰۲۶ء میں آسٹریلوی حکومت اور OpenAI کی جانب سے اسے باضابطہ طور پر عام کیا گیا اور اس کی تفصیلات عالمی میڈیا کے سامنے آئیں۔ ۲۴؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس کے دوران ایک پریس کانفرنس میں اس واقعے کی تصدیق کی۔ اس کے بعد ۲۹؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو OpenAI نے باضابطہ طور پر آسٹریلوی حکومت سے معافی مانگی اور سیکیورٹی گارڈ ریلز بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

آسٹریلوی نائب وزیر اعظم رچرڈ مارلز اور وزراء کے مطابق، اس دراندازی کے دوران شہریوں کے ذاتی طبی ریکارڈز یا حساس نجی ڈیٹا کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی ان تک رسائی حاصل کی گئی۔ جو ڈیٹا ماڈل نے حاصل کیا وہ زیادہ تر مجموعی شماراتی ڈیٹا تھا۔

ابتدائی اطلاعات سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ صرف Medicare پورٹل متاثر ہوا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ OpenAI کے models نے چار آسٹریلوی حکومتی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی تھی:

Services Australia — Medicare Statistics Reporting Service

Australian Institute of Health and Welfare

Victorian Department of Health

NSW Bureau of Crime Statistics and Research

آسٹریلوی حکومت کے مطابق پہلے تین دیگر systems میں جو معلومات حاصل ہوئیں وہ عمومی یا عوامی نوعیت کی تھیں؛ سب سے سنگین معاملہ Services Australia کے Medicare statistics portal کا تھا، جہاں AI نے غیر مجاز رسائی حاصل کی۔

بظاہر اس واقعے میں کسی فرد کا طبی ریکارڈ چوری نہیں ہوا، لیکن اصل تشویش AI کے رویّے کے متعلق ہے۔ روایتی cyberattack میں عموماً ایک انسان یا انسانی گروہ vulnerability تلاش کرتا ہے، اسے exploit کرتا ہے اور پھر اپنے مقصد کے مطابق system میں داخل ہوتا ہے۔ اس معاملے میں AI کو ایک مختلف مقصد دیا گیا تھا: مطلوبہ معلومات تلاش کرنا۔ لیکن جب اسے رکاوٹ کا سامنا ہوا تو اس نے خود ایسا راستہ تلاش کیا جس سے وہ رکاوٹ عبور کرسکے۔ یعنی خطرہ صرف یہ نہیں کہ AI ’’ہیکنگ جانتا ہے‘‘، بلکہ یہ ہے کہ ایک autonomous agent کسی مقصد کو پورا کرنے کی کوشش میں ایسے اقدامات بھی کرسکتا ہے جو اس کے اصل آپریٹر نے واضح طور پر منظور نہیں کیے تھے۔ آسٹریلوی حکومت نے اسی وجہ سے کہا کہ واقعے کا براہِ راست نقصان محدود تھا، لیکن واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔

جاپان میں بیسویں ایشین گیمز کا انعقاد

جاپان کی ایچی پریفیکچر اور ناگویا شہر میں ۲۰؍ویں ایشین گیمزکا شاندار انعقاد ہوا۔ ۱۹؍ ستمبر سے ۴ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک جاری رہنے والی ان کھیلوں میں ایشیا کے ۴۵؍ سے زائد ممالک کے ۱۱؍ہزار سے زائد ایتھلیٹس نے حصہ لیا۔ یہ تیسرا موقع ہے کہ جاپان ایشین گیمز کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل ۱۹۵۸ء میں ٹوکیو اور ۱۹۹۴ء میں ہیروشیما میں یہ مقابلے منعقد ہوئے تھے۔ ایشین گیمز ۲۰۲۶ء میں مجموعی طور پر ۴۳ کھیلوں کے ۴۶۹؍ایونٹس شامل تھے۔ جاپان بھر میں ۵۴؍ مختلف مقامات اور اسٹیدیمز ان کھیلوں کے لیے استعمال کیے گئے، جن میں ٹوکیو ۲۰۲۰ء اولپمکس کے لیے بنائے گئے کچھ جدید مراکز (مثلاً ٹوکیو ایکواٹکس سینٹر) بھی شامل ہیں۔

سنگاپور کی غیر ملکی برآمدات میں ۴۶.۲؍فیصد کا ریکارڈ تاریخی اضافہ

سنگاپور کی معیشت کو مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز اور جدید الیکٹرانکس کی عالمی طلب سے غیر معمولی تقویت مل رہی ہے۔ اگست ۲۰۲۶ء میں ملک کی نان آئل ڈومیسٹک ایکسپورٹس (NODX) میں سالانہ بنیاد پر زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو دستیاب اعداد و شمار کے مطابق نومبر ۲۰۰۵ء کے بعد سب سے بلند شرحِ نمو ہے۔

اگست کی مجموعی برآمدی کارکردگی میں سب سے اہم کردار الیکٹرانکس کے شعبے نے ادا کیا۔ الیکٹرانک مصنوعات کی نان آئل ڈومیسٹک ایکسپورٹس میں اگست میں ۸. ۱۳۱؍فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جولائی میں یہ اضافہ ۱۱۲؍فیصد تھا۔

یہ اعداد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر AI ڈیٹا سینٹرز، سرورز، میموری، چِپس اور متعلقہ انفراسٹرکچر میں ہونے والی سرمایہ کاری کا اثر سنگاپور کی صنعتی پیداوار اور برآمدات تک پہنچ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے لیے درکار کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں دنیا بھر میں ہونے والی بھاری سرمایہ کاری نے سیمی کنڈکٹرز، میموری مصنوعات، سرورز اور دیگر الیکٹرانک اجزا کی طلب میں اضافہ کیا ہے۔

سنگاپور پہلے ہی عالمی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کا ایک اہم حصہ ہے، اور ملک کی بندرگاہ، لاجسٹکس، الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ اور جدید صنعتی انفراسٹرکچر اسے اس عالمی تبدیلی سے فائدہ اٹھانے کے قابل بناتے ہیں۔ سنگاپور کی برآمدی تیزی صرف ایک یا دو منڈیوں تک محدود نہیں رہی۔ اگست میں ملک کی نان آئل ڈومیسٹک ایکسپورٹس اس کے دس بڑے برآمدی بازاروں میں سے نو کی جانب بڑھی۔ امریکہ کی برآمدات میں ۹۱؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ چین کی برآمدات ۳ .۷۰؍فیصد بڑھیں۔ جنوبی کوریا کو بھی برآمدات میں ۱ . ۸۷؍فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔

برآمدات میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد Enterprise Singapore نے ۲۰۲۶ء کے لیے نان آئل ڈومیسٹک ایکسپورٹس کی سالانہ شرحِ نمو کی پیش گوئی میں نمایاں تبدیلی کی۔

ملائیشیا نے پندرہ سو میانماری شہریوں کو واپس بھیج دیا

ملائیشیا کی حکومت نے ملک میں قانونی دستاویزات کے بغیر مقیم اور ڈیٹنشن سینٹرز میں قید میانمار کے تقریباً ۱۵۰۰ شہریوں کو ان کے وطن واپس بھیجنے کے ایک بڑے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ ۲۹؍ستمبر کو شروع ہونے والے اس آپریشن کے تحت میانمار کے نیول جہازوں اور ایک ہسپتال والے بحری جہاز کے ذریعے شہریوں کی پہلی بڑی کھیپ کی منتقلی کا عمل مکمل کیا گیا۔ ریاست Perak میں واقع Lumut نیول بیس کے قریب سے درجنوں بسوں کے سخت سیکیورٹی قافلے نے ان شہریوں کو بندرگاہ تک پہنچایا، جہاں میانمار کی جانب سے بھیجے گئے بحری جہاز پہلے سے موجود تھے۔ ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مذاکرات اور طے پانے والے دوطرفہ معاہدوں کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔

تاہم اس اقدام پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین UNHCR اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش ظاہر کی۔ ان کا موقف ہے کہ میانمار میں ۲۰۲۱ء کی فوجی بغاوت کے بعد جاری تنازع کی وجہ سے بعض واپس جانے والے افراد کے لیے سلامتی کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ UNHCR نے کہا کہ موجودہ حالات میانمار سے پناہ گزینوں کی محفوظ اور پائیدار واپسی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

چین کے قومی دفاعی قانون میں تبدیلی

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس (NPC) کی قائمہ کمیٹی نے ۲۸؍ اگست ۲۰۲۶ء کو قومی دفاعی متحرک سازی کے قانون (National Defense Mobilization Law) میں ترمیم کی منظوری دی ہے، جو یکم اکتوبر ۲۰۲۶ء سے باقاعدہ نافذ العمل ہو رہا ہے۔ ۲۰۱۰ء میں نافذ کیے گئے قانون کو تقریباً ۱۶؍ سال بعد پہلی مرتبہ جامع طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔ نیا قانون ۱۴؍ابواب اور ۸۲؍دفعات پر مشتمل ہے اور اس میں فوجی افرادی قوت، اسٹریٹجک ذخائر، دفاعی صنعت، شہری وسائل، نئی ٹیکنالوجی، جنگی آفات اور قومی دفاعی خدمات سمیت متعدد شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔

اس ترمیم کے تحتNational Defense Mobilization سے مراد ’’امن کے ماحول سے جنگی حالت میں تیز رفتار منتقلی‘‘ اور ملکی معاشی و سماجی صلاحیتوں کو فوجی صلاحیت میں بدلنا ہے۔ اگر چین کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، سیکیورٹی یا ’’ترقیاتی مفادات‘‘ کو کوئی خطرہ لاحق ہو تو ریاست کو تمام قومی وسائل فوری طور پر استعمال میں لانے کا قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مکتوب ایشیا (اگست و ستمبر ۲۰۲۶ء)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button