حضرت اَلْیَسَع علیہ السلام
احمد، محمود اور گڑیا معمول کے مطابق کھیل ختم کرکے دادی جان کے گرد آ بیٹھے۔
احمد: دادی جان! آج آپ کے پاس تو بہت سی کتابیں ہیں۔ لگتا ہے کچھ خاص پڑھ رہی ہیں ؟
دادی جان مسکرائیں اور ایک کتاب اٹھا کر بولیں:بالکل! آج میں آپ کو ایک برگزیدہ نبی کے بارے میں بتاؤں گی یعنی حضرت الیسع ؑ۔
گڑیا: کیا حضرت الیسع ؑ بنی اسرائیل کے نبی تھے؟
دادی جان: جی ہاں۔ انہیں بنی اسرائیل کے بڑے اور برگزیدہ انبیاء میں شمار کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر نیک اور برگزیدہ بندوں کے طور پر فرمایا ہے۔
محمود: دادی جان! حضرت الیسع ؑ کا ذکر ہے؟
دادی جان: جی بالکل۔ سورۃ الانعام اور ص میں حضرت اسماعیل، حضرت الیسع اور حضرت ذوالکفل علیہم السلام کا ذکر کرکے فرمایا گیا کہ یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔
دادی جان: تفسیر کبیر میںحضرت مصلح موعودؓ نے حضرت الیسعؑ، حضرت یسعیاہؑ اور ان کی پیشگوئیوں کے متعلق بہت سی تفصیلی باتیں بیان فرمائی ہیں۔
گڑیا: کیا حضرت الیسعؑ اور یسعیاہؑ ایک ہی نبی ہیں؟
دادی جان: اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر صغیر میں الیسع کو یسعیاہ سے تعبیر کیا ہے۔ آج ہم اسی بیان کردہ تشریح کے مطابق حضرت یسعیاہؑ کی پیشگوئیوں کا بھی ذکر کریں گے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر میں تفصیلی تعارف لکھا ہے۔ حضرت یسعیاہ ؑ کی پیشگوئیوں میں ایک اہم بات عرب کے بارے میں بیان کی گئی ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر جلدپنجم میں لکھا ہے کہ موسیٰؑ کے ذریعہ بنو اسماعیل میں نبی آنے کی خبر دی گئی اور یسعیاہ ؑکے ذریعہ عرب میں خدا کے کلام کے اترنے کی خبر دی گئی۔حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیںکہ اس نے موسیٰ کے ذریعہ خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے بھی یعنی بنو اسماعیل میں سے ایک نبی بھیجا جائے گا اور یسعیاہ نبی کے ذریعہ سے اس نے کہا تھا کہ عرب میں بھی خدا کا کلام اترے گا پھر یہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ خداکی دونوں باتیں جھوٹی ہوتیں۔ خداتعالیٰ بھولتا نہیں۔ اسی طرح وہ اس وحی کو نہیں بھول سکتا تھا جو یسعیاہ نبی پر نازل ہوئی کہ عرب میں بھی الہامی کلام اترے گا ۔
گڑیا : یعنی اس میں قرآن کریم کے نازل ہونے کی پیشگوئی بھی تھی ؟
دادی جان: جی، حضرت مصلح موعودؓ نے اسے قرآن کریم کے نزول سے متعلق پیشگوئی کے طور پر بیان فرمایا ہے۔
احمد: لیکن قرآن کریم تو ایک ہی وقت میں نازل نہیں ہوا تھا نا؟
دادی جان: یہی تو اس پیشگوئی کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔ یسعیاہ باب 28 کی بعض آیات میں ’’حکم پر حکم، قانون پر قانون، تھوڑا یہاں تھوڑا وہاں‘‘ کے الفاظ آتے ہیں۔ تفسیر کبیر جلد اول میں حضرت مصلح موعودؓ نے اسکی تشریح کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ قرآن کریم یکدم ایک ہی جگہ نازل نہیں ہوا بلکہ مختلف مواقع اور مقامات پر بتدریج نازل ہوا۔
گڑیا:یعنی کچھ مکہ میں اور کچھ مدینہ میں؟
دادی جان: جی۔ بلکہ بعض آیات سفر کے دوران بھی نازل ہوئیں۔ قرآن کریم کے تدریجی نزول پر مخالفین نے بھی اعتراض کیا تھا کہ یہ قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں نازل ہوا۔
محمود: تو اس پیشگوئی میں قرآن کریم کے نزول کا طریق بھی بتایا گیا تھا!
دادی جان: حضرت مصلح موعودؓ نے اسی پہلو کو اس پیشگوئی کی ایک اہم خصوصیت قرار دیا ہے۔
احمد: دادی جان! کیا حضرت یسعیاہؑ نے یہ بھی بتایا تھا کہ آنے والا نبی عرب میں سے ہوگا؟
دادی جان: جی۔ اسی پیشگوئی میں ’’وحشی کے سے ہونٹ‘‘اور ’’اجنبی زبان‘‘ کے الفاظ آتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیرکبیر جلد ہفتم میں اس کی تشریح کرتے ہوئے عرب اور عربی زبان کی طرف اشارہ بیان فرمایا۔ قرآن کریم بھی خود فرماتا ہے کہ یہ عربی زبان میں نازل ہوا۔
محمود: اسی لیے نبی کریم ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے۔
دادی جان: بالکل۔
گڑیا : دادی جان! کیا بنو اسماعیل میں نبی آنے کی پیشگوئی بھی اسی مضمون سے تعلق رکھتی ہے؟
دادی جان: جی ہاں۔ تفسیر کبیر جلد دہم میں حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت یسعیاہؑ کی پیشگوئیوں سے یہ استدلال بیان فرمایا کہ بنو اسماعیل میں ایک نبی کے آنے کی خبر موجود تھی۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بنو اسماعیل میں مبعوث ہوئے۔
احمد: یعنی حضرت ابراہیمؑ کی دعا کی ایک عظیم تکمیل ہوئی!
دادی جان: بہت خوب! یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اور سابقہ آسمانی کتابوں کی پیشگوئیوں کو سمجھنا ایک دلچسپ اور ایمان افروز موضوع بن جاتا ہے۔
گڑیا: دادی جان! کیا کوئی اور بھی پیشگوئی ہے نبی ؐ کے حوالے سے ؟
دادی جان نے تفسیر کبیر کا ایک اور صفحہ کھولااور بولیں: حضرت یسعیاہؑ نے ایک مضبوط اور قیمتی پتھر کا ذکر کیا۔ حضرت داؤدؑ کی کتاب میں بھی رد کیے گئے پتھر کے کونے کا سرا بننے کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر جلد اول میں بائبل و تورات میں درج ان پیشگوئیوں کو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر چسپاں کرتے ہوئے تفصیل بیان فرمائی ہے۔
احمد: نبی کریم ﷺ نے بھی تو ایک عمارت اور آخری اینٹ کی مثال دی تھی؟
دادی جان: جی بالکل۔ صحیح مسلم کی حدیث میں آنحضرتﷺ نے سابق انبیاء کے ساتھ اپنے تعلق کو ایک خوبصورت عمارت کی مثال سے بیان فرمایا۔ فرماتے ہیں کہ میرا اور دوسرے انبیاء کا حال یُوں ہے کہ جیسے کسی نے ایک عمدہ اور خوبصورت محل تیار کیا پھر لوگ کثرت سے اسے دیکھنے کے لئے آنے لگے اور کہتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ محل کوئی نہیں دیکھا ہاں یہ کونہ اس کا ننگا ہے پھر خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث کیا اور میں وہ کونے کا پتھر ہوں۔
احمد: تو کونے کےپتھر سے کیا مراد ہے؟
دادی جان: یعنی اللہ تعالیٰ کی تعلیمات کی عمارت قرآن کریم کے ذریعہ سے مکمل ہوگئی ۔
گڑیا: دادی جان! کیا کوئی اور پیشگوئی بھی پوری ہوئی؟
دادی جان: ہجرتِ مدینہ ، غزوۂ بدر کا ذکر فرمایا ہے۔
احمد: اور بھی کوئی پیشگوئی تھی ؟
دادی جان: جی جنگ بدر کے بارے میں ۔ حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمایا کہ ہجرت کے تقریباً ایک سال بعد جنگ بدر ہوئی اور قریش کی طاقت کو شدید نقصان پہنچا۔ اس مضمون کو بھی حضرت یسعیاہؑ کی پیشگوئی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
گڑیا: دادی جان! اور کوئی پیشگوئی ہے؟ گڑیا نے قرآن کریم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
دادی جان: جی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے حضرت یسعیاہؑ کی بعض پیشگوئیوں میں ’’نئے نام‘‘کا ذکر کرتے ہوئے اسے اسلام اور مسلمانوں کے نام سے متعلق بیان فرمایا ہے۔یعنی قرآن کریم میں ہے کہ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِينَ(الحج: 79)یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔
محمود: دادی جان! اور کس بارے میں حضرت یسعیاہؑ کی کوئی پیشگوئی تھی؟
دادی جان: حضرت مصلح موعودؓ نے تفسیر کبیر جلد ششم میں یسعیاہؑ کی بعض پیشگوئیوں کو مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کی طرف دنیا کے مختلف علاقوں کے لوگوں کے رجوع سے متعلق بیان فرمایا ہے۔
گڑیا: آج بھی تو دنیا بھر سے لوگ بیت اللہ جاتے ہیں!
دادی جان: جی۔ حج کے موقع پر مختلف ملکوں اور قوموں کے لوگ ایک ہی مرکز پر جمع ہوتے ہیں اور ایک ہی اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔
احمد: دادی جان! آج کی ساری باتوں کا سب سے بڑا سبق کیا ہے؟
دادی جان نے قرآن کریم بند کیا اور محبت سے بچوں کی طرف دیکھا۔
دادی جان: سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے میں انسانوں کی راہنمائی کے لیے اپنے برگزیدہ بندے بھیجے۔ ہمیں انبیاء علیہم السلام کا احترام کرنا، قرآن کریم کو سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔
محمود: یعنی صرف پیشگوئیاں جاننا کافی نہیں، ان سے سبق بھی لینا ہے۔
دادی جان: بالکل!
گڑیا: اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کریم پر عمل کرنے والا بنائے۔
دادی جان : آمین۔ یاد رکھو بچو! انبیاء کی پیشگوئیوں کا اصل مقصد صرف حیرت پیدا کرنا نہیں، بلکہ انسان کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کرنا ہے۔اور اس خوبصورت نصیحت کے ساتھ آج کی محفل اختتام پذیر ہوئی۔
(درثمین احمد۔ جرمنی)
٭…٭…٭
