مجلس انصاراللہ فرانس کا اکتیسواں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس انصاراللہ فرانس کا ۳۱؍واں سالانہ اجتماع ’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۲ تا۴؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو جلسہ گاہ بیت العطاء میں منعقد ہوا۔ الحمدللہ
اجتماع کا آغاز نماز جمعہ کی ادائیگی سے ہوا جس کے بعد انصار نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست سنا۔ شام چار بجے اجتماع کے باقاعدہ پروگرام کا آغاز لوائے انصاراللہ لہرانے سے ہوا جس کے بعد افتتاحی اجلاس منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم، عہد اور نظم کے بعد صدر مجلس انصاراللہ فرانس مکرم سید سہیل احمد شاہ صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اجتماع انصاراللہ کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔ بعد ازاں مکرم نصیر احمد شاہد صاحب قائم مقام امیر جماعت احمدیہ فرانس نے افتتاحی تقریر کی۔ تقریر کے اختتام پر اجتماعی دعا کروائی گئی۔

اجتماع کے پہلے دن علمی اور ورزشی مقابلہ جات کا انعقاد کیا گیا۔
دوسرا روز: اجتماع کے دوسرے دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد ’’خلافت‘‘ کے عنوان پر درس دیا گیا۔ اس کے بعد تمام احباب نے تلاوت قرآن کریم کی۔
دوسرے روز بھی علمی و ورزشی مقابلہ جات جاری رہے۔ بیرونی ممالک سے آنے والے مہمانوں میں مجلس انصاراللہ بیلجیم کی والی بال ٹیم بھی شامل تھی جسے ایک نمائشی میچ کھیلنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ شام کو مجلس انصاراللہ فرانس اور مجلس انصاراللہ بیلجیم کے مابین یہ میچ ہوا جو مجلس انصاراللہ بیلجیم نے دو ایک کے مقابلہ سے جیت لیا۔
اسی روز سہ پہر چار بجے ’’خلافت‘‘ کے موضوع پر پینل ڈسکشن ہوئی جس میں ڈنمارک اور فرانس کے امیر صاحبان، مبلغ انچارج صاحب بیلجیم، نیز بیلجیم، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور فرانس کے صدران انصاراللہ شامل ہوئے۔
تیسرا روز:دن کا آغاز نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد درس ہوا۔ اس روز ایک علمی مقابلہ ’مشاہدہ و معائنہ‘ منعقد ہوا جس کے بعد تقریب تقسیمِ انعامات ہوئی۔

تقریباً بارہ بجے اختتامی اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم، عہد اور نظم کے بعد اجتماع کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اجتماع مجلس انصاراللہ فرانس کے موقع پر ارسال کردہ خصوصی پیغام دوبارہ پڑھ کر سنایا گیا۔ بعد ازاں تین بیرونی ممالک، بیلجیم، ہالینڈ اور سوئٹزرلینڈ کے صدور مجالس انصاراللہ نیز مکرم مرزا فخر احمد صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ ہالینڈ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مکرم قائم مقام امیر و مبلغ انچارج فرانس نے تقریر کی۔ آخری تقریر مکرم زکریا خان صاحب امیر و مبلغ انچارج ڈنمارک نے کی جس کے بعد اجتماعی دعا ہوئی۔
اس سال اجتماع کی کُل حاضری ۲۵۸؍رہی، جو گذشتہ سال کی نسبت ۳۸؍زیادہ تھی۔ الحمدللہ
اختتامی اجلاس یوٹیوب پر بھی براہ راست نشر کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں احسن رنگ میں خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(منصور احمد مبشر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا نیشنل اجتماع مجلس انصاراللہ فرانس ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام
پیارے ممبران مجلس انصار اللہ فرانس
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ کو اپنا سالانہ اجتماع ’’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘‘ کے عنوان سے منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہر لحاظ سے کامیاب اور بابرکت فرمائے۔ آمین
میں اس موقع پر اس بارے میں کچھ ضروری باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
آنحضرتﷺکی ایک حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ
’’تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر وہ اس کو اٹھا لے گا اور خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔ پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہوگی۔ جب یہ دور ختم ہوگا تو اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہوگی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ اسے بھی اٹھا لے گا۔ اس کے بعد پھر خلافت علیٰ منہاج نبوت قائم ہوگی اور یہ فرماکر آپؐ خاموش ہوگئے۔‘‘ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 285 حدیث 18596)
اس حدیث میں بیان فرمودہ پیشگوئی کے مطابق آنحضرتﷺکی وفات کے بعد، پہلے خلافت علیٰ منہاج نبوت تھی۔ پھر بادشاہت تھی۔ پھر جابر بادشاہت تھی۔ پھر خلافت علی منہاج نبوت قائم ہونی تھی جس کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے ہے اور وہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد سے خدا کے فضل سے جماعت میں قائم ہے۔ آج ہم وہ زمانہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں جماعت احمدیہ پھیلی ہوئی ہے اور ہر جگہ خلافت سے وفا اور پیار اور محبت کا تعلق ہمیں نظر آتا ہے۔ پس ہمیں چاہئے کہ خلافت کے ساتھ جڑے رہیں۔ اپنی اطاعت اور وفا کے معیار بلند کریں اور خلافت کے نظام کے قائم کرنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔ اگر ہم ایسا کرتے رہیں گے تو تا قیامت ہم اور ہماری نسلیں اس کے فیض سے فیض پاتے رہیں گے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں حقیقی خلافت، خلافتِ راشدہ اس وقت تک قائم رہی جب تک وہ لوگ اطاعت کا جؤا اپنی گردن پر رکھے رہے۔ جب اطاعت سے باہر نکلے تو خلافت سے بھی محروم ہوگئے۔ پس یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ جماعت احمدیہ سے منسلک ہو کر اگر اس سے فیض پانا ہے تو خلافت کے ساتھ جڑنا، خلیفہ وقت کے حکموں پر عمل کرنا اور اس سے وفا کا تعلق رکھنا بھی ہر احمدی کا فرض ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان جو نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔‘‘ (رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309)
پس ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اللہ تعالیٰ سے خبرپا کر خوشخبریاں ہمیں دی ہیں ان سے حصہ پانے کے لیے، خدا کی عظمت اپنے دلوں میں بھی اور اپنی نسلوں کے دلوں میں بھی بٹھانے والے بنیں۔ اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ کامل اطاعت کا نمونہ دکھانے والے ہوں اور ایمان میں ترقی کرتے چلے جانے والے ہوں تاکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ہمارے قدم صدق کے قدم شمار ہوں اور ہم اس کے وعدوں سے فیض پانے والے بنیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق عطا فرمائے کہ آپ خلیفۂ وقت سے وفا اور اطاعت میں ترقی کرنے والے ہوں۔ خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہنے والے ہوں اور خلافت کی برکات سے بھرپور استفادہ کرنے والے ہوں۔ آمین
مزید پڑھیں: لجنہ اماءاللہ نیوزی لینڈ کے تحت امن سمپوزیم ۲۰۲۶ء کا انعقاد



