امینِ خلافت ہیں خُدّام سارے

بھرے ہیں اطاعت سے یہ جام سارے
امینِ خلافت ہیں خُدّام سارے
خلیفہ انہیں جو بھی ارشاد کر دے
بجا لائیں دل سے یہ احکام سارے
تھکاوٹ ہے کیا چیز ان کو خبر کیا
فراموش کرتے ہیں آرام سارے
مصائب جو آئیں تو سینہ سپر ہوں
انہیں دیکھ کر بھاگیں آلام سارے
یہ نفرت کسی سے کریں بھی تو کیسے
محبت کا دیتے ہیں پیغام سارے
اخوّت، مودّت کا سب کو سبق دیں
عداوت کے توڑیں یہ اصنام سارے
لُٹاتے ہیں راہِ خدا میں سبھی کچھ
خدا سے یہ پاتے ہیں اکرام سارے
نمود و نمائش سے اِن کو غرض کیا
رہیں خوش اسی میں، ہیں گمنام سارے
جماعت پکارے کبھی جو مدد کو
بسُرعت اٹھاتے ہیں اقدام سارے
عَلم احمدیّت کا جھکنے نہ دیں یہ
جھکے، اس سے پہلے ہی لیں تھام سارے
بِنا ان کے قوموں کی اصلاح مشکل
یہ کرتے بھلائی کے ہیں کام سارے
پڑے جو ضرورت جماعت کو جاں کی
یہ دے دیں بلا سوچے انجام سارے
خلافت کی عظمت کو رکھنے کی خاطر
ہیں سہ لیتے ہنس کر ہی الزام سارے
سپاہِ مسیحِ محمدﷺ کے آگے
یقیناً عدو ہوں گے ناکام سارے
اے فضلِ عمر! تجھ پہ رحمت ہو ربّ کی
کہ پورے ہوئے تیرے احلام سارے
(محمد ابراہیم سرور۔قادیان)
مزید پڑھیں: امن و اماں کا سارے عالم میں ہے وہ رہبر



