تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں قسط 7
(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)
بچے کا چوبیس گھنٹے کا پروگرام بنوانا:
والدین کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ بچے کے ساتھ مل کر مختلف کاموں کے لئے وقت مقرر کردیں۔ مثلاً قرآن کریم اور دینی تعلیم کا وقت، نماز باجماعت کے لئے وقت، سکول کا وقت،گھر آکر پڑھائی کا وقت، آؤٹ ڈورکھیل کا وقت، کمپیوٹر یا ٹی وی کا وقت،دینی اور تنظیمی کاموں کا وقت، کھانے پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے لئے وقت، سونے کے لئے قریباًً سات یا آٹھ گھنٹے۔اگر بچوں کا اس طرح چوبیس گھنٹے کا پروگرام بن جائے تو نا ممکن ہے کہ اُن کا وقت ضائع ہو۔ہر وقت کا م میں مصروف رہنے سے بچہ آوارگی سے بھی بچا رہتا ہے جو اس کے لئے زہرِقاتل بن سکتی ہے۔
بری صحبت سے بچانا اور نیک صحبت مہیا کرنا:
والدین بچوں کو بُری صحبت سے بچائیں۔والدین کو بچوں کے دوستوں کا علم ہونا چاہئے ۔نیک دوست اچھا اثر رکھتے ہیں ۔سکول آتے جاتے اورکھیل کے اوقات میں گاہے گاہے بچوں کی نگرانیکرتے رہیں۔ اس امر کا بھی خیال رکھیں کہ بچوں کی دوستی اپنی عمر سے بڑے لڑکوں کے ساتھ نہ ہو۔ بچوں کو نیک صحبت مہیا کریں۔بچوں کو مساجد میں درس و دیگر پروگرامز میں بھی شامل کریں۔
حَضۡرَتخَلِیۡفَۃُالۡمَسِیۡحِ الثَّانِیؓ فرماتے ہیں: ’’جب تک بچے کی صحبت اور مجلس نیک نہ ہوگی اُس وقت تک ماں باپ کی کوشش بچوں کے اخلاق درست کرنے میں کارگر اور مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔بے شک ایک حد تک اُن کی اچھی تربیت سے بچوں میںنیک خیالات پیدا ہوتے ہیں ۔لیکن اگر بچے کی عمدہ تربیت کے ساتھ اُس کی صحبت بھی اچھی نہ ہو تو بد صحبت کا اثر تربیت کے اثر کو اتنا کمزور کر دیتا ہے کہ اُس تربیت کا ہونا نہ ہونا قریبًا مساوی ہو جاتا ہے….ماں باپ کی تربیت اگر خشیت اللہ اس کے اندر پیدا کرتی ہے تو بدصحبت اس کے مقابلہ میں اس کی ہمت اور حوصلے کو پست کر دیتی ہے۔پس کامل تربیت اسی وقت ہو سکتی ہے کہ جب اچھی تربیت کے ساتھ صحبت بھی اچھی ہو‘‘ ۔
(خطباتِ محمود جلد9صفحہ156)
منا سب جیب خرچ دینا :
بچے کو مناسب جیب خرچ(جس سے اس کی اس وقت کی ضرورت پوری ہو جائے) بھی دیناچاہئے اور کچھ مال کا مالک بھی بنانا چاہئے۔اس سے بچہ اپنی چھوٹی موٹی ضرورت بھی پوری کر سکتا ہے۔ چندہ ،صدقہ کے علاوہ رشتہ داروں کی مدد بھی کر سکتا ہے اور کفایت شعاری کی عادت بھی اُس میں پیدا ہو سکتی ہے۔پھر اُس سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ اُس نے اپنی ضرورت پوری بھی کی یا نہیں۔ اگر اس طرح نگرانی کی جائے تو بچے آوارگی سے بچ جائیں گے اور ان کے پاس آوارہ اوربد عادات کے لڑکے جمع نہ ہو سکیں گے۔
کسی بدی کی نسبت یہ خیال نہ پیدا ہو نے دیناکہ اس کی کو ئی اہمیت نہیں :
بچے کے ذہن میں کسی بدی کی نسبت یہ خیال نہ پیدا ہونے دیں کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں تا وہ اس بدی کو حقیر نہ سمجھنے لگ جائے ۔اکثر والدین دل سے چاہتے ہیں کہ بدی کا اثر اُن کے بچوں پر نہ ہو لیکن وہ اپنانمونہ ایسا اُن کے سامنے پیش کرتے ہیں کہ بچوں کی نگاہ میں وہ بدی حقیر ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے بدی کا خیال ان کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً عام طور پر ماں باپ چاہتے ہیں کہ بچہ جھوٹ نہ بولے لیکن خود اس کے سامنے جھوٹ بول لیتے ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ’’ پس پہلی غلطی اولاد کی تربیت میں جو والدین سے سر زد ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ گو وہ دل سے چاہتے ہیں کہ بچوں کو نقصان اور عیب سے بچائیں مگر خود پوری پوری احتیاط نہیں کرتے اور اپنا نمونہ اور عمل ان کے سامنے اچھا پیش نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ خود بچوں کو جھوٹ سکھانے کا موجب ہو جاتے ہیں ۔مثلاً بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ والدین کوئی چیز گھر میں لاتے ہیں، بچہ بیمار ہوتا ہے اس کو کھلانے میں نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لئے جب وہ مانگتا ہے تو کہہ دیتے ہیں وہ چیز تو گھر میں آئی ہی نہیں، حالانکہ بچے کو اس کی خبر ہو چکی ہوتی ہے ۔گووہ اپنے ذہن میںسمجھ لیںکہ ہم نے جھوٹ نہیں بولا کیونکہ بچہ کا فائدہ کر رہے ہیں مگر اس میں کیا شک ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں اور درپردہ بچے کو جھوٹ کی تعلیم دے رہے ہوتے ہیں یا پھر بعض دفعہ وہ انکار تو نہیں کرتے مگر یہ کہہ دیتے ہیں ہم نے وہ چیز کھالی ہے حالانکہ بچہ خوب جانتا ہے کہ انہوں نے ابھی کھائی نہیں۔ یا کہہ دیتے ہیں کہ وہ چیز تو کوئی اٹھا لے گیا، ضائع ہوگئی۔ حالانکہ بچہ جانتا ہے کہ نہ کوئی اٹھالے گیا اور نہ ضائع ہوئی۔ ‘‘
(الازھار لذوات الخمار صفحہ 163)
ایسے مقامات پر نہ کھڑے رہناجہاں امراء اچھی چیزیں کھا رہے ہوں:
بچے کو ایسے مقامات پر کھڑے نہیں رہنے دینا چاہیئے جہاں امرء ا چھی چیزیں کھا رہے ہوں ۔
حضرت مصلح موعودؓ مزید فرماتے ہیں: ’’بچوں کو ہی ایسے مقامات پر کھڑا ہونے سے نہیں روکنا چاہئے بلکہ بڑوں کو بھی یہی حکم ہے لَا تَمُدَّنَّ عَیۡنَیۡکَ اِلیٰ مَا مَتّعۡنَا بِہ کہ جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اگر وہ دوسرے کے پاس ہے تو اس کو دیکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اس سے خواہشِ بد پیدا ہوگی۔ بعض غریب آدمی اپنے بچوں کو ایسے مقامات پر جہاں امراء لوگ کھاتے پیتے ہوں کھڑے ہونے اور دیکھنے سے نہیں روکتے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کی ان کے اندر حرص پیدا ہوتی ہے۔ اور جب ان کی حرص پوری نہیں ہوتی تو پھر کسی نہ کسی طرح اس چیز کے حاصل کرنے کی بیجا کوشش کرتے ہیں ۔اس لئے ماں باپ کا فرض ہونا چاہئے کہ وہ بچوں کو ایسی جگہ سے روکیں اور وہاں ان کو کھڑا نہ ہونے دیں۔ اور ایسی حالت میں کسی کا کچھ دیکھنا بھی عیب ہے جس سے لالچ اور حرص پیدا ہوتی ہے ۔ ‘‘
(الازھار لذوات الخمار صفحہ166)
بڑوں کا ادب با لخصوص رحمی رشتوں کا احترام اور محبت پیدا کر نا ۔ ’تم‘ کی بجا ئے ’آپ‘ کا استعمال :
بچوں کو اپنے رحمی رشتوں کا تعارف کرواکے ان کے لئے حسبِ مراتب خود بھی محبت و احترام اور آداب بجا لانا ضروری ہے اور بچوں کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے۔ یہ تعلق بچوں کی تربیت پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود ؑ بھی بچوں کو اپنے بڑوں، خواہ وہ مخالفت ہی کیوں نہ کرتے ہوں، کا ادب کرنے کی تعلیم دیا کرتے تھے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ فر ماتے ہیں کہ ایک مرتبہ بچپن میں مَیں نے کوئی بات کرتے ہوئے مرزا نظام الدین صاحب کا نام لیا تو صرف نظام الدین کہا ۔اس پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا میاں آخر وہ تمہارا چچا ہے ،اس طرح نام نہیں لیا کرتے۔
بچے کو شروع سے ہی اپنے سے بڑے کو تم کی بجائے ’آپ‘ کہہ کر مخاطب کرنے کی عادت ڈالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔بعض ما ں باپ تو یہ عادت ڈالنے کے لئے خود بھی بچوں کو آپ کہنا شروع کر دیتے ہیں تا کہ بچہ انہیں دیکھتے ہوئے آپ کہنے کی عادت جلد اختیار کر لے۔
نسبتاً بلند آواز سے بات کر نے کی عا دت ڈالنا :
ماں باپ کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ بچے کی آواز اونچی بنائیں۔
حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں ’’جس بچہ کی آواز طوطی کی سی ہو گی وہ دنیا کے نقّار خانہ میں اپنی آواز نہیں سنا سکے گا۔دیکھو کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کی آواز عمدہ اوراچھی نہ ہو۔اور یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان کی آواز بلند ہو۔… میں گھر میں بیویوں کو پڑھاتا رہا ہوں اور اونچی آواز کرنے کے لئے اس طرح کرتا تھا کہ اپنے سے دُور بٹھاتا تا سنانے کے لئے زور سے پڑھیں۔اسی طرح جب مَیں مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتا تھا تو جو لڑکا نیچی آواز سے پڑھتا اُس کو پرے بٹھا دیتا یا اپنی کرسی بہت پیچھے ہٹا لیتا۔ اس پر اُسے مجبوراً زور سے پڑھنا پڑتا۔ تو اُونچی آواز کرنے سے آواز اُونچی ہو جاتی ہے،اس کی ضرور کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(الازھار لذوات الخمار صفحہ131،132)
اسلام کی تا ریخ ،آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود ؑ اور دیگر تاریخ کابنیادی علم سکھانا اوربزرگوں کے واقعات سنانا:
بچوں کواسلام کی تا ریخ ،آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت مسیح موعود ؑ اور دیگر تاریخ کی بنیادی باتیں یاد کروانی بہت ضروری ہیں ۔اسی طرح بچوں کواپنے والد اور والدہ کی خاندانی تاریخ ، خاندان میں احمدیت کب اور کیسے آئی اور بزرگوں کی خدمات اور اُن کے ایمان افروز واقعات بھی سنانے چاہئیں۔
دعا ؤں اور نظموں کو تر جمہ اورمفہوم کے ساتھ یا د کروا نا :
بچے جو عربی دعائیں یاد کریں اُن کا ترجمہ بھی انہیں اچھی طرح یاد کروایا جائے تا کہ جب دعا کریں توخوب سمجھ کے دعا کریں۔اسی طرح درّثمین، کلامِ محمود ، درعدن، کلامِ طاہر ،بخارِ دل وغیرہ کی جو نظمیں بچے یاد کریں اُن کے مشکل الفاظ کے مطالب اور ہر شعر کا مفہوم بھی اُنہیں اچھی طرح سمجھایا جائے۔
روزانہ با آواز بلند تلا وت قر آن کریم کی عادت ڈالنا :
بچوں کو ہر روز صبح بلند آواز سے تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنی چاہئے ۔اُن کی یہ عادت تبھی پختہ ہو گی اگر گھر کے بڑے خود بھی اس پر عمل پیرا ہو رہے ہوں گے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’ بچوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کی عادت ڈالیں اور خود بھی پڑھیں۔ہر گھر سے تلاوت کی آواز آنی چاہئے۔پھر ترجمہ پڑھنے کی کوشش بھی کریں۔‘‘
(خطباتِ مسرور۔ جلد دوم صفحہ688)
عبا دت کی طرف تو جہ : (نماز ادا کر نے کی تلقین ، نماز کے بعد تسبیحات اور ذکر الٰہی کر نا )
نماز کے الفاظ یاد کروانے اور چھوٹی چھوٹی سورتیں حفظ کروانے اور نماز پڑھتے ہوئے اپنے ساتھ بچے کو کھڑے کرنے کا ذکر سات سال سے قبل کی عمر کے تربیتی امور میں کیا جا چکا ہے۔اب عمر کے اس نئے شروع ہونے والے دَور میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے اس فرمان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کہ ’’اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔ پھر دس سال کی عمر میں اُنہیں اس پر سختی سے کاربند کرو ۔نیز اُن کے بستر الگ الگ بچھاؤ۔‘‘
(سنن ابی داؤد ۔ کتاب الصلوٰۃ۔ باب متی یؤمر الغلام بالصلوۃ)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’ یہ بھی میرے نزدیک انتہائی اہم باتوں میں سے ایک ہے بلکہ سب سے اہم بات ہے کہ بچوں کو پانچ وقت نمازوں کی عادت ڈالیں۔ کیونکہ جس دین میں عباد ت نہیں وہ دین نہیں۔اس کی عادت بھی بچوں کو ڈالنی چاہئے اور اس کے لئے سب سے بڑا والدین کا اپنا نمونہ ہے۔ اگر خود وہ نمازی ہوں گے تو بچے بھی نمازی بنیں گے۔نہیں توصرف ان کی کھوکھلی نصیحتوں کا بچوں پرکوئی اثر نہیں ہوگا۔‘‘ ( خطباتِ مسرور۔ جلد نمبراوّل صفحہ نمبر 144 )
بچوں کومساجد میں لے کر آنااپنے آنے سے زیادہ اہم سمجھنا چاہئے بلکہ بقول حضرت مصلح موعودؓیہ کام ہر اُس شخص کا ہے جسے کوئی بچہ ایسا نظر آئے جومسجدمیں نہیں آتا،اُس کا فرض ہے کہ وہ اُسیمسجد میں لانے کی کوشش کرے۔ (بحوالہ خطباتِ محمود جلد15صفحہ 233،234)
حضرت مصلح موعودؓ نے تو یہاں تک فرمایاہے کہ:
’’بڑا آدمی اگر خود نماز باجماعت نہیں پڑھتا تو وہ منافق ہے۔ مگر وہ لوگ جو
اپنے بچوں کو نماز باجماعت کی عادت نہیں ڈالتے وہ اُن کے خونی اور قاتل ہیں‘‘۔
(تفسیر کبیر۔ جلد7صفحہ652)
پھر نماز باجماعت کے بعد تسبیحات کرنے کی عادت بھی بچوں کے اندر راسخ کرنا چھوٹی عمر سے ہی بہت ضروری ہے۔جیسا کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نمازوں کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہ ، اَلْحَمْدُلِلّٰہ پڑھا جائے اور چونتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَر۔ یہ سودفعہ ہوا۔ بچوں کو یہ بھی سمجھایا جائے کہ اگر اُنہیں بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ذکر کرتے نہیں بلکہ وہ ضرورتاً اٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں ۔ اِلاَّمَاشَآئَ اللّٰہ ۔
اسی عمر میں والدین کو چاہئے کہ نماز کا ترجمہ بھی بچوں کو سکھائیں ۔اور کسی کتاب یافولڈر وغیرہ سے پڑھنے کی ہدایت کرنے کی بجائے بذاتِ خودپیار کے ساتھ بچے کے دل میں اُتارنے کی کوشش کریں اور یہ سمجھائیں کہ نماز پڑھتے ہوئے اس کے معانی بھی ذہن میں لایا کریں اور ان پر غور وفکر بھی کیا کریں۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ بچہ جب ذرا بڑا ہو جائے تو اُسے تہجد کی عادت ڈالیں کیونکہ میرے نزدیک تہجد کی عادت اسی عمر میں پڑ سکتی ہے،بعد میں بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے انہیں تہجد کی عادت ڈالیں اور ذکر کرنا سکھائیں۔ اس سے طبیعت کا لا اُبالی پن دُور ہو کر رقّتِ ِقلب پیدا ہو گی۔ (خطباتِ محمود جلد13صفحہ644)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی آئندہ نسلوں میں نماز قائم رہے اور پوری شان اور حفاظت کے ساتھ قائم رہے تو اس کے اِرد گر د وہ فصیلیں بھی کھڑی کریں جو نوافل کی فصیلیں ہیں ،ان سے نماز پر ضرب نہیں آئے گی۔اگر کبھی کمزوری دکھائیں گے تو نوافل کی حد تک اثر رہے گا لیکن فرائض قائم رہیں گے۔ ‘‘
(خطباتِ طاہر جلد11 صفحہ735)
(باقی آئندہ)




