مختصر عالمی جماعتی خبریں
اس کالم میں الفضل انٹرنیشنل کو موصول ہونے والیجماعت احمدیہ عالمگیر کی تبلیغی و تربیتی مساعی پر مشتمل رپورٹس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
………………………
بینن(مغربی افریقہ)
پاراکو ریجن کے گاؤں Borandouمیں احمدیہ مسجد کا بابرکت افتتاح
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جما عت احمدیہ بینن کو ریجن پاراکو میں بمقامBorandouنئی مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔مسجد کی افتتاحی تقریب مورخہ23جنوری 2016ء بروز ہفتہ ہوئی ۔ مکرم رانا فاروق احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بینن نے اپنے 4 رکنی وفد کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی ۔ میئر Bemebrekeکے نمائندہ،King of INA، چیف ویلج،تحصیلدار اور دیگر معزز احباب بھی تشریف لائے اور سب نے جماعت احمدیہ کی فلاحی اور مذہبی خدمات کو سراہا۔

مکرم میاں قمر احمد مبلغ سلسلہ بینن کی مرسلہ رپورٹ کے مطابقBorandou پاراکو شہر سے 85کلومیڑ کے فاصلہ پر شمال کی طرف جنگل میں واقع ہے۔قومی اعتبار سے یہ گاؤں فولانی قوم سے تعلق رکھنے والے ہیں ۔اس قوم کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نائجیریا ،بورکینا فاسو اور نائیجر سے ہجرت کر کے آئے اور یہاں آباد ہوگئے۔ یہ لوگ اپنا سارا دن جنگلوں میں گائے چرانے میں گزار دیتےہیں ۔ان کی اکثریت مسلمان ہے ۔یہ قوم’’ فل فل دے‘‘ زبان بولتی ہے مگر اپنے بچوں کو شاذ ہی تعلیم دلواتے ہیں۔
2009ء میں مقامی داعی الی اللہ مکرم حمید جبریل صاحب اور مکرم محمد آصف ڈار صاحب مبلغ سلسلہ کی تبلیغ سےگاؤں والوں نے احمدیت قبول کی ۔ چونکہ اس گاؤں کے ارد گرد بہت سی چھوٹی نومبائع بستیاں بھی ہیں اس لئے جماعت نے ان کی تربیت کے لئے یہاں ایک کچی مسجد بنانے کا فیصلہ کیا۔اس مسجد کاسنگِ بنیاد14نومبر2015ء کو رکھا گیا۔مقامی جماعت کے مردو زن نے دن رات وقارعمل کیااور یوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے 16جنوری 2016ء کو مسجد کی تعمیر مکمل ہوئی۔
اس مسجد کی لمبائی قبلہ رخ 10میٹر اور چوڑائی 8میٹر ہے جس میں تقریبًا 150 افراد نماز پڑھ سکتے ہیں۔مقامی جماعت نے مسجد میں روشنی کے لئے سولر انرجی(Solar Energy) لگوائی ہے۔
مسجد کی افتتاحی تقریب 23جنوری 2016ء بروز ہفتہ ہوئی۔ گیارہ بجکر 15منٹ پر مرکزی وفد کا استقبال کیا گیا۔محترم امیرصاحب بینن مکرم رانا فاروق احمد صاحب اپنے وفد کے ساتھ سٹیج پر تشریف لائے اور افریقی روایات کے مطابق ان کو پانی پیش کیا گیا۔ بعداز اں علاقے کے بادشاہ King of Ina،چیف ویلجBorandou، تحصیلدار اور Bembrekeکے میئر کے نمائندہ اپنے وفد کے ساتھ تشریف لائے اور مہمانان کو خوش آمدید کہا۔
تقریب کا آغاز تلاوت قران مجید سے ہوا۔پل زبان میں ترجمہ کے بعد مقامی خادم نے قصیدہ میں سے چند منتخب اشعار پیش کئے۔مقامی صدر صاحب جماعت نے پل زبان میں تمام آنے والوں کو خوش آمدید کہا۔ بعد ازاں درج ذیل معززین نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا:
٭…Inaشہرکے بادشاہ نے کہا’’ میرے پاس آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ مَیں صرف یہکہوں گا کہ خدا کے کام کرتے چلے جائیں …اللہ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔اللہ آپ کے ساتھ ہو۔
Inaشہرکی تحصیلدار نے بھی جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان جنگلوں اور بیابانوں میں مسجد بنانا آسان نہیں۔پھر انہوں نے سامعین سے مخاطب ہوکر کہا کہ اِس مسجد کا مقصد خدا کو یاد کرنا اور علم سیکھنا ہے۔ یہ موقع ضائع نہ کریں اور اے جماعت احمدیہ ! آپ نے خدا کی مخلوق کو تحفہ دیا خدا آپ کو تحفہ دے۔
٭…غیر احمدی امام مشہود صاحب نے کہا:مَیںاس علاقے کے گاؤں میں پھرا ہوں۔ میں نے مسجدیں دیکھیں۔ گھانا گیا وہاں سکول اور مساجد دیکھیںاور آج یہاں بھی ایک چھوٹی سی بستی میں جہاں آنا بھی مشکل ہے احمدیہ مسجد دیکھی۔ یہ مشاہدے اس بات کی دلیل ہیں کہ آپخدا والے ہیں ۔
اس کے بعد مکرم امیر صاحب بینن نے خطاب کیا۔آپ نے موجودہ مسلمانوں کی حالت کا موازنہ کرتے ہوئے اسلام کی اصل تعلیم بیان کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے صحابہؓ کی انسانی خدمات کے واقعات بیان کئے۔نیزبتایاکہ آج بینن میں نادار انسانوں کی خدمت، احمدیہ سکولز، ہسپتال اور دیگر فلاحی خدمات احمدیت یعنی حقیقی اسلام کر رہی ہے کیونکہ جماعت احمدیہ حبل اللہ یعنی خلافت سے وابستہ ہے اور یہی امن کی ضامن ہے۔دوسرے مسلمان بد قسمتی سے دہشت گردی، قتل وغارت اور ظلم کے رستوں پر پڑ گئے ہیں۔ آخر پر آپ نےلوگوں کو مسیح آخر الزمان کو ماننے کی طرف توجہ دلائی ۔
بعد ازاں امیر صاحب نے معززین کے ساتھ مسجد کے دروازے کھول دیئے ۔نمازوں کی ادائیگی کے بعد کھانا پیش کیا گیا جو مقامی لجنات نے بہت محبت سے بنایا تھا۔
تقریب میں 379؍افراد شریک ہوئے۔
…………………
فرنچ گیانا
فرنچ گیانا میں پہلی مرتبہ Red Indian آبادی میں تبلیغ اسلام کا پروگرام
جماعت احمدیہ فرنچ گیانا کا مرکز Cayenneشہر میں ہے۔ یہاں سے قریبًا پونے تین صد کلیومیٹر کے فاصلہ پر شمال میں مشہور شہر Saint Laurent ہے ۔ اس شہر کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ یہ ہمسایہ ملک Suriname سے ملتا ہے اور یہاں سے روزانہ کثرت سے لوگ سرینام جاتے ہیں اور اُدھر کے لوگ فرنچ گیانا آتے ہیں۔ یہ آمدورفت بذریعہ کشتی یا بحری جہاز ہوتی ہے۔
مکرم صدیق احمد منور صاحب مبلغ انچارج فرنچ گیانا لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جولائی2015ء میں مذکورہ شہر کے قریب ایک ریڈ انڈین گاؤں Paddoek کے ایکنوجوان نے بذریعہ فون بتایا کہ انہیں بذریعہ اخبار ہمارا رابطہ نمبر ملا ہے اور وہ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اُن کا نام Jean Jaque Churwinہے۔ چنانچہ بذریعہ فون ان سے رابطہ بڑھایا گیا اور جلد ہی مرکزی مبلغ سلسلہ مکرم محمد بشارت صاحب کو ان کے پاس بھجوایاگیا۔ آپ نے انہیں کتب سلسلہ اور قرآن مجید مع فرانسیسی ترجمہ فراہم کیااور نماز سکھائی۔ الحمد للہ ہمارا یہ رابطہ ان کی تقویت ایمان کا باعث رہا۔ پھر اللہ کے فضل سے انہوں نے کیتھولک عیسائی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کر لیا۔ ہمارے مبلغ صاحب جب پہلی مرتبہ ان کے گاؤں میں گئے تو وہاں کے لوگ حیران تھے بلکہ ہمارے نو مبائع کے والدین اور رشتہ دار سب خوف میں تھے کہ یہ شخص یہاں کیا کرنے آیا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ خوف اور تعجب ، محبت اور اُنس میں بدل گیا۔ چنانچہ ان کے گاؤںPaddoek میں تبلیغی پروگرام تشکیل دیا گیا۔جس میں شمولیت کے لئے مبلغ سلسلہ مکرم محمد بشارت صاحب اور صدر مجلس خدام الاحمدیہ فرنچ گیانا مکرم عزیزوابوبکر ثانی صاحب 2روز قبل ہیPaddock پہنچ گئے تاکہ جملہ پروگراموں کی صحیح طور پر تیاری کر سکیں۔جماعتی اخراجات میں بچت کرنے کے پیش نظر دونوں بذریعہ کشتی سفر کر کے ہمسایہ ملک سرینام کے شہر Albinaسے کانفرنس کے شرکاء کے لئے کھانے پینے کا سامان نیز کھانا پکانے کے لئے بڑے بڑے برتن خرید کر لائے۔ ایک رات قبل مسٹر Churwinکے خاندان کے لوگوں نے نہایت محبت اور ذوق و شوق کے ساتھ پیاز وغیرہ کاٹے اور دوسرے مصالہ جات تیار کئے۔ ان کے اس تعاون کو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اُن کا خاندان پرانا احمدی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔
چونکہ اس گاؤں میں یہ مذہبی اور اسلامی پروگرام پہلی مرتبہ منعقد ہو رہا تھا اس لئے اس امر کا خیال رکھا گیا کہ مختصر طور پر ان کو جماعت سے متعارف کروایا جائے۔

مکرم صدیق احمد منور صاحب مبلغ انچارج فرنچ گیانا لکھتے ہیں کہ قریباً پونے بارہ بجے مکرم Ismael Didier صاحب نیشنل صدر فرنچ گیانا کی صدارت میں تلاوت قرآن کریم کے بعد خاکسار نے بتایا کہ مارچ کا مہینہ جماعت احمدیہ کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کا قیام 23مارچ 1889ء کو پہلی بیعت سے ہوا ۔ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں۔ آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر مسیح موعود اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ آپ وہی مسیح موعود اور امام مہدی ہیں جن کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ آپ کا پیغام محبت اور امن کا پیغام ہے۔
اس کے بعد مکرم محمد بشارت صاحب نے بتایا کہ اسلام کے معنی ہی امن ہے۔ چنانچہ جو غلط باتیں اسلام کی طرف منسوب کی جاتی ہیں مثلاً دہشتگردی وغیرہ اُن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں۔ جماعت احمدیہ ہی اسلام کی صحیح تصویر اور تشریح پیش کرتی ہے۔ اور ہم کُل مذاہب کا احترام کرتے ہیں۔
بعد ازاں مکرم Keita Lasanaصاحب، مکرم Jacque Berthol صاحب چینی دوست مکرم Williamصاحب اور صدر جماعت نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور گاؤں کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اتوار کے روز اپنے وقت کی قربانی دے کر جماعت احمدیہ کے اس پروگرام کو کامیاب بنایاہے۔ دعا کے ساتھ یہ پروگرام اختتام کو پہنچا۔ اس پروگرام کے موقع پر لوگوں کو جماعت کا لٹریچر دیا گیا اور اسلام احمدیت کی معلومات پر مشتمل بورڈز اور چارٹسبھی رکھے گئے جو لوگوں نے دلچسپی سے پڑھے۔ پروگرام کی کُل حاضری 52رہی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک شخص مکرم Rene-Joelصاحب نے بیعت کرنے کی سعادت پائی۔ الحمدللہ۔
٭…٭…٭




