اطلاعات واعلانات
نوٹ: اعلانات صدر؍ امیر صاحب حلقہ؍جماعت کی تصدیق کے ساتھ آنا ضروری ہیں
درخواستہائے دعا
نوید الرحمٰن صاحب نمائندہ الفضل انٹرنیشنل بنگلہ دیش یہ درخواستہائے دعا بھیجتے ہیں:
٭… محمود احمد صاحب معلم وقف جدید مرکزی بنگلہ ڈیسک ڈھاکہ تحریر کرتے ہیں کہ ان کی اکلوتی بیٹی عافیہ احمد (عمر ۱۵؍سال) گذشتہ کئی دنوں سے ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ اس کے خون میں پلیٹ لیٹس (Platelets) کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے جو تشویش کا باعث ہے۔
٭… امیر حسین صاحب معلم وقف جدید جماعت ماحیلا دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ ان کے داماد مبشر احمد صاحب آف جماعت کومیلا پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا ہیں۔ آپ کورونا وبا کے دوران بھی اس مرض کا شکار ہوئے تھے۔ حالیہ طبی معائنوں سے معلوم ہوا ہے کہ کورونا کے جراثیم تاحال ان کے جسم میں موجود ہیں۔
٭… دانیال داؤد صاحب مبلغ سلسلہ جاپان تحریر کرتے ہیں کہ مبشر احمد زاہد صاحب صدر جماعت ٹوکیو و نیشنل سیکرٹری تربیت جاپان دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ ان کی اہلیہ حامدہ زریں صاحبہ بنت مولوی محمد اشرف ناصر صاحب مرحوم (مبلغ سلسلہ) سانس کی تکلیف کے باعث علیل ہیں۔ موصوفہ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے۔
٭… آصف رضا عشرت صاحب مقیم ملائیشیا اپنے والد محمد افضل عشرت صاحب کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ خاکسار کے والد صاحب گذشتہ نو سال سے شدید علیل ہیں اور ہیپاٹائٹس سی کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
احباب جماعت سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے تمام مریضان کو صحت و تندرستی عطا فرمائے، ان کی ہر قسم کی تکالیف اور بیماریوں کو دور فرمائے، انہیں معجزانہ رنگ میں شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے، ہر پیچیدگی اور پریشانی سے محفوظ رکھے۔ آمین
سانحہ ارتحال
محمد افضل ظفر صاحب نمائندہ الفضل انٹرنیشنل کینیا تحریر کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ نیروبی، کینیاکے ایک نہایت مخلص خدمتگار اور ہر دلعزیز ممبر شیخ مشہود احمد صاحب مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز ہفتہ علی الصبح نیروبی ہسپتال میں ۸۱؍سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
آپ کی نماز جنازہ شام ساڑھے پانچ بجے احمدیہ مشن ہاؤس نیروبی میں مکرم ناصر محمود طاہر صاحب امیر و مبلغ انچارج کینیا نے پڑھائی جس کے بعد احمدیہ قبرستان نیروبی میں تدفین عمل میں آئی۔ قبر پر دعا بھی مکرم امیر صاحب نے کروائی۔ نماز جنازہ میں نیروبی جماعت کے علاوہ دیگر احمدی جماعتوں سے احباب جماعت، معلمین اور مبلغین نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں غیر از جماعت احباب بھی بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔
مرحوم، شیخ محمد شریف صاحب ابن مکرم منشی اللہ بخش صاحبؓ جو حضرت مسیح موعودؑ کے ۳۱۳؍صحابہ میں سے ایک تھے، کے ہاں ۱۹۴۵ء میں نیروبی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے عملی زندگی کا آغاز کسومو میں ملازمت سے کیا۔ بعدازاں ۱۹۷۵ء میں کسومو سے نیروبی منتقل ہو گئے جہاں پنچ لائن لمیٹڈ (Punch Line Ltd) میں ملازمت اختیار کی اور پھر اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ پنجگانہ نمازوں کے پابند، تہجدگزار اور دعاگو بزرگ تھے۔ طویل عرصہ سے بیماری کے باوجود ظہر کی نماز باقاعدگی سے مسجد احمدیہ نیروبی میں ادا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے وقت سے بہت پہلے مسجد پہنچ جاتے۔ وفات سے ایک روز قبل بھی گھر سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوئے، لیکن طبیعت زیادہ خراب ہونے کے باعث ہسپتال داخل کرانا پڑا۔ طبیعت کچھ سنبھلی تو نماز جمعہ ادا نہ کر سکنے پر افسوس کا اظہار کیا اور اگلی صبح اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
اپنے بزرگ والدین کی تربیت کے نتیجہ میں آپ کا بچپن ہی سے جماعت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ آپ نے ہمیشہ جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عملی نمونہ اپنی اولاد اور دیگر احباب کے سامنے پیش کیا۔ آپ ایک پُرجوش داعی الی اللہ اور باہمت خادم سلسلہ تھے۔
آپ کو نیروبی جماعت کی مقامی مجلس عاملہ میں متعدد عہدوں پر خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔ اس کے علاوہ کینیا کی نیشنل مجلس عاملہ میں سیکرٹری تربیت، سیکرٹری تبلیغ اور سیکرٹری امور عامہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تقریباً ۴۵؍سال تک نیشنل سیکرٹری ضیافت کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مزیدبرآں چھ سال تک صدر مجلس انصاراللہ بھی رہے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو دامے، درمے، قدمے، سخنے، ہر رنگ میں جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ چندوں میں بہت باقاعدہ تھے اور ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انفاق فی سبیل اللہ کے عادی تھے اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔ آپ کی زندگی خشیت الٰہی، محبت رسول کریم ﷺ اور عشق مسیح موعودؑ سے عبارت تھی۔ آپ خلافت احمدیہ کے سچے عاشق تھے اور خلیفۂ وقت کے تمام احکامات اور تحریکات پر من و عن عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
آپ کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ ہائے کینیا کے دوران یادگار خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔ آپ خلفائے کرام کے خطبات اور تقاریر بہت اہتمام اور احترام سے سنتے تھے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ، رسول اللہﷺ، جماعت احمدیہ، بانی جماعتؑ اور خلفائے کرام سے محبت اور ان کی اطاعت ہی وہ قیمتی ورثہ ہے جو آپ اپنی اولاد کے لیے چھوڑ گئے ہیں۔
شیخ مشہود احمد صاحب کا جماعت کے امراء اور مبلغین سلسلہ کے ساتھ تعاون بے مثال تھا۔ آپ ان کے ساتھ دوروں میں شامل ہوتے اور ہر ممکن خدمت بخوشی بجا لاتے تھے۔ واقفین زندگی کا بہت احترام کرتے اور تمام احباب جماعت سے محبت و اخلاص سے پیش آتے تھے۔ ملک کے طول و عرض میں آباد ہزاروں احمدیوں کے ساتھ آپ کا ذاتی رابطہ تھا اور آپ ہمیشہ ان کی خوشی اور غمی میں شریک ہوتے تھے۔
آپ نے پسماندگان میں تین بیٹے، دو پوتے اور دو بہوئیں یادگار چھوڑی ہیں۔ آپ کے بڑے بیٹے شیخ شاہد محمود صاحب مقیم برطانیہ ایک طویل عرصہ تک جماعت کیمبرج کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ آپ کے دوسرے بیٹے سمیر احمد شیخ صاحب نائب امیر کینیا کے طور پر خدمات بجا لانے کے علاوہ نیشنل سیکرٹری تبلیغ، سیکرٹری امور خارجہ اور ایم ٹی اے کینیا کے کوآرڈینیٹر بھی ہیں۔ آپ صدر مجلس خدام الاحمدیہ کینیا اور صدر مجلس انصاراللہ کینیا کے طور پر بھی خدمت کر چکے ہیں۔ آپ کے تیسرے بیٹے مکرم وقار احمد شیخ صاحب کینیا کی نیشنل مجلس عاملہ میں سیکرٹری ضیافت اور انٹرنل آڈیٹر ہیں۔ آپ کی بہو، اہلیہ وقار احمد شیخ صاحب لجنہ اماء اللہ کی مقامی اور نیشنل عاملہ کی ممبر ہیں۔ آپ کے دونوں کم سن پوتے بھی نیروبی کی ضیافت ٹیم کے فعال اعزازی کارکنان ہیں۔
احباب جماعت سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان سے رحم و مغفرت کا سلوک فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ نیز ان کے تمام پسماندگان کو صبر و حوصلہ نیز خدمت دین کی توفیق عطا فرماتا جائے۔ آمین




