سیرت خلفائے کرام

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا بچپن  ۔قسط ہفتم

*جب اسےخوشی حاصل ہوگی توموٹاہوجائےگا *مَیں اس نظارہ کودیکھ کرسخت حیران تھا

(ظہیر احمد طاہر ابن مکرم نذیر احمد خادم مرحوم ومغفور۔جرمنی)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ کےبچپن کے چند دلچسپ اورایمان افروز واقعات افادۂ عام کی غرض سےپیش کیے جارہے ہیں۔
جب اسے خوشی حاصل ہوگی تو موٹا ہوجائے گا:”دیکھنے میں آگ کا انگارہ بڑا خوشنما معلوم ہوتا ہے مگر اس کی حقیقت وہی جانتا ہے جس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اسی طرح خلافت بھی دوسروں کو بڑی خوبصورت چیز معلوم ہوتی ہے اور نادان دیکھنے والے سمجھتے ہیں کہ خلیفہ بننے والے کو بڑا مزا ہوگیا ہے لیکن انہیں کیا معلوم ہے کہ جو چیز ان کی آنکھوں میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہے دراصل ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر کسی کی طاقت ہی نہیں کہ اسے اٹھا سکے خلیفہ اس کو کہتے ہیں کہ جو ایک پہلے شخص کا کام کرے۔اور خلیفہ جس کا قائم مقام ہوتا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرمایاوَوَضَعْنَاعَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیۡۤ اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ(الم نشرح:۳ ،۴)کہ ہم نے تیرا وہ بوجھ جس نے تیری کمر توڑ دی تھی اتار دیا ہے۔ تو جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیٹھ اس بوجھ سے ٹوٹنے کے قریب تھی تو اور کون ہے جو یہ بار اُٹھا کر سلامت رہ سکے۔ لیکن وہی خدا جس نے آنحضرت ﷺ کے بوجھ کو ہلکا کیا تھا اور اس زمانہ میں بھی اپنے دین کی اشاعت کے لئے اس نے ایک شخص کو اس بوجھ کے اُٹھانے کی توفیق دی وہی اس نبی کے بعد اس کے دین کو پھیلانے والوں کی کمریں مضبوط کرتا ہے۔ میری طبیعت پہلے بھی بیماررہتی تھی مگر تم نے دیکھا کہ میں اس دن کے بعد کسی کسی دن ہی تندرست رہا ہوں۔ اور کم ہی دن مجھ پر صحت کے گزرے ہیں۔ اگر مجھے خلافت کے لینے کی خوشی تھی اور مَیں اس کی اُمید لگائے بیٹھا تھا توچاہئے تھا کہ اس دن سے مَیں تندرست اور موٹا ہوتاجاتا۔ اگر منکر ان خلافت کے خیال کے مطابق چھ سال مَیں اسی کے حاصل کرنے کی کوشش میں رہا ہوں تو اب جبکہ یہ حاصل ہوگئی ہے تو مجھے خوشی سے موٹا ہوجانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بچپن میں کبھی والدہ صاحبہ مجھے پتلا دیکھ کر گھبراتیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ جب اس کو خوشی حاصل ہوگی تو موٹا ہوجائے گا اور مثال کے طور پر خواجہ صاحب کا ذکر فرماتے کہ وکالت کے امتحان کے پاس کرنے سے پہلے یہ بھی دبلے ہوتے تھے جب سنا کہ وکالت پاس کر لی ہے تو چند دنوں میں ہی موٹے ہوگئے۔ تو اگر مجھے خلافت ایک حکومت مل گئی ہے اور اس کے لینے میں میری خوشی تھی تو چاہئے تھا کہ مَیں موٹا اور تندرست ہوتا جاتا لیکن میرے پاس بیٹھنے والے اور پاس رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ پر کیسے کیسے سخت دن آتے ہیں اور اپنی تکلیف کو مَیں ہی جانتا ہوں۔“ (برکاتِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ نمبر۱۵۹-۱۶۰)
مَیں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا:’’ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اپنے بچپن کے زمانے میں حضرت مسیح موعوو علیہ السلام کے ایک سفر کے دوران پیش آنے والے مخالفانہ واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:”اکتوبر ۱۸۹۷ء مَیں آپؑ کو ایک شہاد ت پر ملتان جانا پڑا۔وہاں سے شہادت دے کر جب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں لاہور بھی ٹھہرے۔ یہاں جن جن گلیوں سے آپؑ گزرتے ان میں لوگ آپؑ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر برے الفاظ آپؑ کی شان میں زبان سے نکالتے۔ میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اورمَیں بھی اس سفر میں آپؑکے ساتھ تھا۔ مَیں اس مخالفت کی جو لوگ آپؑ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے آپؑ گزرتے ہیں لوگ آپؑ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں سیٹیاں بجاتے ہیں؟ چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈا شخص جس کا ایک پہونچا کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا نہیں معلوم ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالباً مسجد وزیر خاں کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچا رہا تھا کہ ”ہائے ہائے مرزا نَٹھ گیا“ (یعنی میدان مقابلہ سے فرار کر گیا) اور مَیں اس نظارہ کو دیکھ کر سخت حیران تھا۔ خصوصاً اس شخص پر ،اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔ لاہور سے حضرت صاحب سیدھے قادیان تشریف لے آئے۔“ (سیرت حضرت مسیح موعود ؑ، انوارالعلوم جلد ۳صفحہ۳۶۰)

مزید پڑھیں:  حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کابچپن

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button