آنحضور صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم کی ایک پُرحکمت دعا
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذیٰ وَ عَافَانِی
اللہ تعالیٰ نے انسان کی جسمانی بقا اور نشوونما کی خاطر مختلف الانواع غذا ؤںاور مشروبات کا انتظام فرمایا اور ساتھ ہی ایسا نظام عطا کیاجس کے ذریعہ سے غیر ضروری فالتواور زہریلے مادے جسم سے خارج ہو جاتے ہیں۔ انسان کو اس نعمت کی قدر اور اس پر خداتعالیٰ کا شکر بجا لانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہٖ وسلم نے کھاناشروع کرنے سے پہلے:
بِسْمِ اللّٰہِ وَعَلیٰ بَرَکَۃِ اللّٰہ
کی دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی اور اسی طرح بیت الخلاء میں حوائج ضروریہ سے فراغت پانے پر
اَلْحمدُ لِلّٰہ اَذْھَبَ عَنِّی الْاَذیٰ وَ عَافَانِی
(ترجمہ: شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھ سے ضرر دُور کردیا اور مجھ کو عافیت دی) کی دعا بھی سکھلائی۔ ہر کس و ناکس اس نظام کی اہمیت سے واقف ہے لیکن عموماً اس کی اصل قدرو منزلت کا پتہ شعوری اور حقیقی طورپراس وقت لگتا ہے جب کسی وجہ سے ان مضر صحت مادوں کے اخراج کا نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
چنانچہ قصہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے طبیب سے پوچھا بتاؤ میری بادشاہت کا مقام تمہارے نزدیک کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میرے نزدیک توآپ کی بادشاہت کی قیمت ایک پیالہ بھر پیشاب جتنی بھی نہیں۔بادشاہ نے بر افروختہ ہو کر کہا کہ اگر تم یہ بات ثابت نہ کرسکے تو اس گستاخی کی سزا موت ہوگی۔ اس پر حکیم نے بادشاہ کو ایک ایسی دوا دی جس سے اس کا پیشاب بند ہو گیا اورپھر چند ہی گھنٹوں بعد اس نے تڑپ تڑپ کر حکیم کی منتیں کرناشروع کر دیں کہ تمہارا کہنا درست! میری ساری بادشاہت تم لے لو لیکن خدارا میرا پیشاب دوبارہ جاری کردو! ۔
اس بادشاہ کا پیشاب تو ایک تریاق کے استعمال سے اس طبیب نے دوبارہ جاری کروا دیا لیکن آج کی جدید ترقی یافتہ دنیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مریض ایسے ہیں جو ایسی بیماریوں میں مبتلا ہیں کہ ان کا پیشاب یا پاخانہ مستقلاً بند ہے اور اس کا کوئی تریاق موجود نہیں۔
دنیا میں بعض بچے ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں جن کا پیدائشی طور پر مقعد یا مثانہ ہی موجود نہیں ہوتا۔اسی طرح بعض بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کی بڑی آنت میں وہ اعصابی تار ہی موجود نہیں ہوتے جوآنت میں حرکت پیدا کر کے فضلہ خارج کرتے ہیں۔ ایسے افراد ساری زندگی ایک ایسی تھیلی استعمال کرتے ہیں جو اُن کے پیٹ اور آنت میں سوراخ کر کے لٹکادی جاتی ہے اور ان کا فضلہ اس تھیلی میںخارج ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح جن لوگوںکے گردے کام کرنا چھوڑ دیں انہیں مضر صحت زہریلے مادوں سے اپنا جسم پاک کروانے کے لئے مشین Dialysis پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں 506,256 افراد ایسے ہیں جن کے گردے جزوی یا کُلّی طور پر پیشاب نہیں بنا رہے جبکہ یورپ میں 260,000 افراد Dialysis پر زندہ ہیں۔
اسی طرح سے مقعد اور بڑی آنت کا کینسر ایسی موذی امراض ہیں جن کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو پاخانہ کا اخراج متاثر ہوجاتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صرف سال 2012 ء میں 1.4 million افراد میں بڑی آنت اور مقعد کا سرطان( Colorectal cancer )تشخیص کیا گیا تھا۔ ورلڈ کینسر ریسرچ ادارہ WCRF International کی تحقیق کے مطابق 2035ء تک ایسے مریضوں کی تعداد2.4 million سالانہ تک جا پہنچے گی۔
کینسر کے علاوہ بعض دفعہ کسی اَور وجہ سے آنتوں میں ایساخلل پڑجاتا ہے کہ نظام اخراج بند ہوکرپیٹ پھولنے لگ جاتا ہے اور اگر بروقت آپریشن نہ کیاجائے توچند گھنٹوں کے اندر اندرخوفناک جراثیم آنتوں سے نکل کرخون کو اتنا عفونت زدہ کر دیتے ہیں کہ موت واقع ہو جاتی ہے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے معجزانہ طور پر رکاوٹ دور ہو کر نظام بحال ہوجائے۔چنانچہ حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جولائی1968ء میںاپنا ایک واقعہ سناتے ہوئے فرمایا:
‘‘پانچ چھ سال ہوئے مجھ پر بڑی شدید قولنج کی بیماری کا حملہ ہوا تھا اس طرح کہ انتڑی بند ہوگئی تھی ۔غالباً اس میں کوئی بل پڑ گیا تھا یا پتہ نہیں اور کیا بات ہوئی تھی۔ اس میں سے نہ ہوا گزرتی تھی نہ فضلہ اور جسم میں زہر جمع ہونے شروع ہو گئے اور پیٹ پھولناشروع ہوا۔ آخر ہمارے ڈاکٹر مسعود صاحب یہاں آئے اور انہوں نے کہا لاہور جا کر فوراً اپریشن کروانا چاہئے ۔چنانچہ لاہور کی تیاری ہو گئی لیکن لاہور کے راستہ میں ہی انتڑی کا راستہ کھل گیا (اللہ تعالیٰ اس طرح بھی فضل کرتا ہے) اور جب ہم وہاں پہنچے تو آپریشن کی ضرورت نہیں پڑی۔’’
(خطبات ناصر جلد دوم صفحہ 231 )
مندرجہ بالاحقائق و واقعات کی روشنی میں دیکھیں تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کی حکمت کھل کر سامنے آجاتی ہے جو آپ نے آج سے چودہ سو سال قبل دنیا کو سکھلائی ۔پس ہمیں جیتے جی ہر حال میں ان نعمتوںکے بارے میں بھی سوچ کر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے جن کے بارے میں عموماً شعوری طور پر احساس نہیں ہوتا اور کوئی تصور بھی نہیں کرتا کہ ہماری زندگی ان کے بغیر بھی ہو سکتی تھی۔
حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے فرمایا:
‘‘انسان کا قاعدہ ہے کہ جب تک اس کے پاس کوئی نعمت ہوتی ہے اسے اس کی قدر نہیں ہوتی،جب چِھن جائے تو اس کی قدر محسوس ہوتی ہے’’۔
آپ نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا :
‘‘بہت سے آنکھوں والے آدمیوں کے کبھی ساری عمر ذہن میں نہیں آتا کہ آنکھیں بھی کوئی بڑی نعمت ہیں ۔ لیکن جب کسی کی آنکھیں جاتی رہتی ہیں تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ آنکھیں اللہ تعالیٰ کی کیسی نعمت ہیں۔’’
(روزنامہ الفضل ربوہ۔2؍ اگست 2013 ء صفحہ 1)
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی آزمائشوں اور تکالیف سے محفوظ و مامون رکھے اور عبد شکور بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔
٭…٭…٭




