تفسیر کبیراز امام رازی
نام کتاب:۔ التفسیرالکبیر المعروف بہ تفسیر رازیؒ ؍ مفاتیح الغیب
نامصنف: ۔ امام فخر الدین محمد بن عمر بن الحسین بن الحسن ابن علی التیمی البکری الرازی الشافعی
ناشر: ۔ منشورات : محمد علی بیضوت دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
سن اشاعت: ۔ طبعۃ ثانیہ،2004ء ، 1425ھ
جلدیں: 33 اجزاء
زبان: عربی
صفحات: 6896
تعارف مصنف:۔
آپ کا نام ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن الحسین بن الحسن بن علی التیمی البقری الطبرستانی الرازی ملقب بہ فخر الدین المعروف بابن الخطیب الفقیہ الشافعی ہے۔ آپ کی پیدائش 25رمضان 453ھ یا544ھ یا545ھ بمطابق1149ء یا 0 115ء بمقام رےؔ ہوئی ۔ رےؔ ایران کے مشہور شہروں میں سے ہے ۔ یہ بلاد الجبال کا ایک شہر ہے ۔ وفات عید الفطر کے روز بروز سوموار یکم شوال606ھ ہرات کے مقام پر ہوئی ۔ ہرات میں شیخ ا لاسلام کے نام سے پکارے گئے ۔ اپنے زمانہ کے مشہور عالم، عظیم متکلم ، صوفی اور محدث تھے ۔ ایک بہترین عالم ہونے کے ساتھ بہترین واعظ بھی تھے ۔ آپ علم تفسیر ، کلام ، منطق ، علوم عقلیہ اور علوم لغت میں مہارت کے درجہ پر فائز تھے۔ طب اور حکمت بھی جانتے تھے۔ شروع میں آپ فقہ میں مشغو ل ہوئے پھر علوم ِ حکمیہ میں، حتیٰ کہ آپ کے زمانہ میں کوئی آپ کا ہم پلّہ نہ رہا۔ کئی علاقوںکے سفر کئے جن میں خوارزم، ماوراء النہر اور ہندوستان کے سفر شامل ہیں جن میں علماء سے ملاقاتیں اور مناظرے کئے ۔ آپ نے 67 کتب تصنیف کیں جن کی فہرست تفسیر کبیر میں مذکور ہے ، نیز ان کے علاوہ کئی کتب کو مکمل نہ کر سکے۔ معروف کتب میں مفاتیح الغیب المعروف بہ التفسیر الکبیر للرازی ، کتاب البیان و البرھان ، شرح اشارات بو علی سینا، مفتاح الغیب ، تفسیر سورۃ فاتحہ ، تفسیر صغیر مسمّیٰ اسرار التنزیل و انوار التأویل ، نھایۃ العقول ، احکام الاحکام ، المحصل فی علم الکلام، مسائل الطب ، الخمسین فی اصول الدین ، کتاب عیون المسائل ، السرّ المکنون ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے متعدد بار اپنے دروس القرآن میں آپکے علمی مرتبہ اور ذہانت کی تعریف فرمائی ۔
آپ ؒ فرماتے ہیں :
’’امام رازی بے حد ذہین تھے ۔ زبردست حافظہ کے مالک تھے۔ بہترین خطیب اور حد درجہ متدیّن ‘‘
(درس القرآن 24رمضان2جنوری2000ء)
نیز فرمایا:
’’امام رازی ؒ کا مقام بالکل مختلف ہے ۔ اگرچہ آپ بہت بعد کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا دل عطا فرمایا تھا ، ایسا انصاف کا جذبہ عطا کیا تھا کہ ہر قسم کی تفاسیر کو اکھٹا کرنے کے بعد اپنی طرف سے جب بیان کرتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں اس میں ہمیشہ آپ کو روشنی نظر آئے گی اِلّا ما شاء اللہ ۔ تو امام رازی ؒ اور امام راغب ؒیہ دو ہیں جن سے تفسیر قرآن کو سمجھنے کے لئے ہمیں مدد لینی چاہئے اور ان کا بہت بڑا احسان ہے امت پر کہ انہوں نے ہمیں تفاسیر کو سمجھنے میں مدد دی ہے ۔ ‘‘
( درس القرآن5رمضان4جنوری 1998ء)
نیز فرمایا:
’’امام رازی کی تفسیر کی یہ خوبی ہے کہ آپ ہمیشہ آیات کے آپس کے تعلقات پر بھی گفتگو کرتے ہیں اور یہ دستور باقی مفسرین کا نہیں …حضرت مصلح موعود ؓ کی تفاسیر میں یہ پہلو بہت نمایاں ہے کہ آپ ؓ نے آیات کا آیات سے تعلق بہت کھلے طورپرواضح فرمایاہے۔‘‘
(درس القرآن21رمضان10جنوری 1999ء )
آپ کے حوالہ سے حضرت مصلح موعود ؓ کا ایک شعر ہے۔ فرمایا:
’’پانی کر دے علوم قرآں کو
گاؤں گاؤں کو ایک رازی بخش‘‘
نیز آپ کا اپنا ایک قول ہے :
’’مجھے سکونِ قلب کی دولت تلاوتِ قرآن کریم سے ملی ‘‘ (بحوالہ درس القرآن2رمضان3جنوری 2000ء )
تعارف کتاب:
یہ تفسیر پہلے آٹھ ضخیم مجلدات میں تھی۔مصر کے مطبع البہیہ سے تیس جلدوںمیں شائع ہو ئی ہے۔
ا بن قاضی شہبہ کہتے ہیںکہ امام رازی اس تفسیر کو مکمل نہ کر پائے۔ابن خلکان نے بھی اس کی تائید کی ہے۔یہ سوال کہ اس کو کس نے مکمل کیا ؟ نیز یہ کہ امام صا حب کس مقام تک یہ تفسیر لکھ پا ئے؟ اس کا جوا ب دینا آسان نہیں اس ضمن میں علما ء کے مختلف اقوال ہیں ۔
حاجی خلیفہ لکھتے ہیں:
’’شیخ نجم ا لدین ا حمد بن محمد متو فی 767ھ نے تفسیر کبیر کا تکملہ لکھا جو حصہ ناقص تھا اس کی تکمیل شہا ب ا لدین بن خلیل د مشقی متو فی 639ھ نے کی ہے‘‘
( کشف ا لز نون جلد2ص299)
تفسیر زیر تبصرہ کا قا ری یہ محسو س نہیں کر تا کہ یہ ایک شخص کی تصنیف ہے یا اس کے لکھنے والے ایک سے زیا دہ ہیں ۔ پو ری کتا ب میں اسلو ب نگا رش بد لنے نہیں پا یا ۔
امام رازی اس با ت کا خصو صی ا ہتمام کر تے ہیں کہ آیا ت میں با ہم کیا ربط و تعلق پا یا جا تاہے نیز یہ کہ ایک سو رت کے نقطہ ا ختتام کی دو سر ے سو رت کے آ غاز کے سا تھ کیا منا سبت ہے۔ بعض اوقات متعدد منا سبات کا ذکر کر تے ہیں۔ امام رازی ریا ضی ، علوم طبیعی اور دیگر علوم جدیدہ کا بھی اکثر ذ کر کر تے ہیں مثلا َ علم الا فلا ک کا ذ کر ا کثر ان کے یہاں ملتا ہے ۔ وہ فلا سفہ کے ا قوال بیا ن کر کے ان پر کڑی تنقید کر تے ہیں ۔ آیات الاحکام کی تفسیر کر تے ہو ئے فقہا ء کے مذا ہب بیا ن کر تے ہیں ۔ امام شا فعی کے مسلک کی تائیدو حما یت میں بکثرت برا ہین اور دلا ئل ذکر کر تے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ علم اصول نحو اور بلاغت کے متعلق مسا ئل بھی ذکر کر تے ہیں ۔
٭…٭…٭




