افریقہ (رپورٹس)

جنوبی امریکہ کے ملک فرنچ گیانا میں جماعت احمدیہ کے پہلے جلسہ سالانہ کا بابرکت انعقاد

(صدیق احمد منور۔ مشنری انچارج فرنچ گیانا)

متفرق موضوعات پر علمی و تربیتی تقاریر۔ مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات کی طرف سے خصوصی پیغامات۔

نیشنل اخبار اور ٹیلیویژن کے ذریعہ ہزارہا افراد تک اسلام احمدیت کا پُر امن پیغام پہنچا۔

سال 2007ء میں پہلی مرتبہ فرنچ گیانا میں احمدیت کا پیغام پہنچا۔ چند ابتدائی احمدیوں کی کوشش سے اسی سال ہی جماعت کی رجسٹریشن ہو گئی۔ 2012ء میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر یہ عاجز 15نومبر 2012ء کو فرنچ گیانا کے شہر Matoury پہنچا اور ایک سال تک کرایہ کے مکان میں اسی شہر میں قیام کیا۔ مارچ 2013ء میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے از راہ شفقت جامعہ احمدیہ یوکے سے فارغ التحصیل نو جوان مبلغ عزیزم مکرم محمد بشارت صاحب کو خاکسار کے ساتھ کام کرنے کے لئے فرنچ گیانا بھجوایا۔

جماعت احمدیہ فرنچ گیانا اپنی تاریخ کے ابتدائی دَور میں ہے۔ قریبًا دوسال سے جلسہ پیشگوئی مصلح موعودؓ، جلسہ سیرت حضرت مسیح موعودؑ، جلسہ یوم خلافت اور جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم منعقد کرتی چلی آرہی ہے۔ لیکن اب جماعت نے اپنے جلسہ سالانہ کا پہلی مرتبہ انعقاد کیا ہے۔

گزشتہ سال جماعت احمدیہ فرنچ گیانا نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اس امر کے لئے درخواست دی کہ وہ اگرچہ تعداد میں ابھی چھوٹی ہے تاہم خواہشمند ہے کہ اپنے جلسہ سالانہ کا انعقاد کرے۔ جوابًا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اجازت عطا فرما دی نیز جلسہ کی تاریخوں یعنی 2اور3؍اپریل 2016ء کی بھی منظوری عطا فرما دی۔ الحمد للہ علی ذالک۔

جلسہ سالانہ کی تیاری کا آغاز

جلسہ سالانہ کے جملہ انتظامات کو بہترین رنگ میں عملی جامہ پہنانے کے لئے درج ذیل ممبران پر مشتمل جلسہ سالانہ کمیٹی بنائی گئی:

1۔ ناظم اعلیٰ۔ مکرم اسماعیل Diedier Bruantصاحب

2۔ افسر جلسہ سالانہ۔ مکرم محمد بشارت صاحب

3۔ ناظم ضیافت۔ مکرم بہاء الدین الخطیب صاحب

4۔ ناظم جلسہ گاہ۔ مکرم ایوب شابان صاحب

5۔ ناظم ٹرانسپورٹ۔ مکرم Diaraعبدو صاحب

6۔ ناظم خدمت خلق۔ مکرم عزیزم ابو بکری ثانی صاحب

7۔ ناظم Wind up۔ مکرم مصطفی عبد اللہ صاحب

8۔ ناظم سیکیورٹی۔ مکرم عظمان انوکی صاحب

جلسہ سالانہ کی تیاری کے سلسلہ میں سب سے پہلے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خصوصی دعا کی درخواست کی کہ اللہ تعالیٰ ہماری خارق عادت طور پر نصرت فرماوے اور ہمارا پہلا جلسہ شاندار کامیابی سے ہمکنار ہو۔ لوگوں کو جلسہ کے لئے مدعو کرنے کے لئے خوبصورت دعوتی کارڈ طبع کرائے گئے۔ دعوتی کارڈ کے ساتھ جلسے کے دونوں اجلاسات کا پروگرام بھی منسلک کیا گیا۔ بعض لوگوں کو کارڈ بذریعہ پوسٹ ارسال کئے گئے اور بعض کو دستی۔ چونکہ یہاں بہت سے لوگ ہمسایہ ملک برازیل سے آئے ہوئے ہیں اور وہ پرتگیزی زبان بولتے ہیں اس لئے ان کے لئے پروگرام کا پرتگیزی ترجمہ فراہم کیا گیا۔ جلسہ سالانہ دو اجلاسات پر مشتمل تھا۔ 2؍اپریل کو ہونے والے پہلے سیشن کا اہتمام احمدیہ مرکز کے عقبی حصہ میں کیا گیا تھا اور 3؍اپریل کو منعقد ہونے والے اجلاس کا اہتمام ہوٹل Mont Joyeux Les Vagues میں کیا گیا۔

پرچم کشائی کی تقریب اور پہلا اجلاس

احمدیہ مرکز کے صحن کے مشرقی حصہ میں فرنچ گیانا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ خاکسار (صدیق احمد منور) نے جماعت احمدیہ کا پرچم اور نیشنل صدر جماعت مکرم اسماعیل Didierصاحب نے فرانس کا جھنڈا لہرایا جس کے آخر میں خاکسار نے دعا کرائی۔ جیساکہ پہلے ذکر ہوا پہلے اجلاس کا انعقاد احمدیہ مرکز کے عقبی حصّہ میں ایک عارضی تیار کردہ ہال میں ہوا جس کو خوبصورت بینرز سے پُر کشش بنایا گیا۔ تقریب کے لئے ایک خصوصی اسٹیج بھی تیار کیا گیا جو مستقبل میں بھی استعمال ہو گا ۔ ہال میںحاضرین جلسہ کے لئے کرسیوں کا اہتمام کیا گیا۔

اس اجلاس کی صدارت خاکسار نے کی۔ سب سے پہلے ایک عرب نو جوان محمد یوسف صاحب نے تلاوتِ قرآن سورۃ فاتحہ اور سور ۃ اخلاص پڑھی جس کے معًا بعد فرنچ ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد مبلغ سلسلہ محمد بشارت صاحب نے سیّدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا منظوم کلام ؎

وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا

نام اس کا ہے محمدؐ دلبر مرا یہی ہے

 نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنایا نیز اس کا فرنچ ترجمہ بھی پیش کیا۔

ازاں بعد خاکسار نے جلسہ سالانہ کی اہمیت اور اغراض و مقاصد کے عنوان پر تقریر کی اور بتایا کہ جماعت احمدیہ عالمگیر میں جلسہ سالانہ کو ایک خصوصی اہمیت ہے۔ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الٰہی منشاء کے مطابق اس کی بنیاد رکھی اور اپنی زندگی میں ہی 1891ء میں قادیان میں جلسہ کا آغاز فرمایا۔ اس موقع پر راقم الحروف نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وہ تحریرات پڑھ کر سنائیں جن میں حضورؑنے اس بابرکت سالانہ اجتماع کے فوائد اور ثمرات پر روشنی ڈالی ہے۔ خاکسار نے بتایا کہ فرنچ گیانا میں یہ ہمارا پہلا جلسہ سالانہ ہے ۔ اب آئندہ ہر سال یہ بابرکت پروگرام منعقد ہوا کرے گا۔ انشاء اللہ العزیز۔

پروگرام کے مطابق اگلی تقریر صدر مجلس خدام الاحمدیہ فرنچ گیانا مکرم عزیزم ابو بکر ثانی صاحب کی تھی۔ انہوں نے ’’مَیں نے احمدیت کیوں قبول کی ہے‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ میں پیدائشی مسلمان ہوں اور میرا تعلق Benin سے ہے۔ مَیں چند سال جنوبی افریقہ بھی رہا ہوں اور احمدیہ جماعت کا نام عرصہ سے سنا تھا لیکن ایک منفی تصویر میرے ذہن پر نقش تھی۔ جماعت احمدیہ کے دنیا میں مخالفین یہ انتہائی جھوٹا پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں ، ان کا کلمہ اور ہے یہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو نہیں مانتے۔ ان کا قبلہ قادیان ہے اور یہ مرزا غلام احمد کو سب نبیوں سے افضل شمار کرتے ہیں وغیرہ۔ مَیں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ فرنچ گیانا آ کر پہلی مرتبہ جماعت سے رابطہ ہوا۔ کتب کا مطالعہ کیا، مبلغین سے گفتگو کی اور یہ دیکھ کر کہ احمدی لوگ اسلام کے سچے عاشق ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور سب نبیوں سے افضل و اعلیٰ گردانتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جماعت احمدیہ میں نظام خلافت جاری ہے اور مَیں نے دیکھا کہ ہر احمدی خلیفۂ وقت کی آواز پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے تو یہ سب امور دیکھ کر اور احمدی افراد اور مبلغین کے کردار کو دیکھ کر میں جماعت احمدیہ میں داخل ہو گیا ہوں۔

مکرم صدر صاحب خدام الاحمدیہ کی تقریر کے بعد ہمارے ایک عرب بھائی از ملک شام مکرم بہاء الدین صاحب الخطیب نے عربی زبان میں حاضرین سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے شام کے مخدوش حالات کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑ دیا اور ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد فرنچ گیانا پہنچا ہوں اور مقصد یہ ہے کہ امن و امان حاصل ہو اور اپنی اولاد کی تعلیم کا بھی بند و بست ہو جائے۔ اس لئے میں نے حکومت فرانس سے اسائلم کی درخواست کی ہے۔ ایک روز سمندر کے کنارے پر برادرم صدیق احمد اور مکرم محمد بشارت صاحب سے ملاقات ہوئی۔ مَیں نے ان سے اپنی مشکلات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بلاتاخیر میرے اور میری اہلیہ اور بیٹے کے لئے احمدیہ مرکز میں ایک کمرہ مہیا کر دیا ۔ میں آپ سے یہ بات نہیں چھپاتا کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں کبھی احمدیہ جماعت کا نام نہیں سنا تھا۔ احمدیہ مرکز میں قیام کے دوران میں نے اس امر کو پسند کیا کہ میں احمدیت کا تعارف حاصل کروں اور بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ میں ان کے مرکز میں قیام پذیر ہوں ۔ پھر میں نے برادرم صدیق احمد صاحب سے کتب لے کر ان کا مطالعہ کیا۔ پھر عربی زبان میں مترجم درج ذیل کتب کا مطالعہ کیا: کشتی نوح، ضرورۃ الامام، الخلافۃ و النبوۃ، البراھین الاحمدیہ، مکتوب احمد اور اَب حقیقۃ الوحی پڑھ رہا ہوں۔ شروع میں ان تحریرات نے اپنی فصاحت و بلاغت کے باعث ورطۂ حیرت میں بھی ڈال دیا۔ پھر جلد ہی میں نے دیکھا کہ مضامین میں بھی گہرائی پائی جاتی ہے۔ میں مسلمان ہوں ، میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ جو علوم میں نے ان کتب سے سیکھے ہیں وہ مَیں نہیں جانتا تھا۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کتب میں حضرت مسیح موعود و مہدی معہودؑ نے قرآن اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کی ہمیں نصیحت کی ہے اور فرمایا ہے کہ ایسی حدیث جو قرآن اور سنت کے خلاف ہے اس کو قبول نہ کرو۔ اور میں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ احمدیہ جماعت کی تعلیمات کی سچائی میں کوئی شک نہیں ہے اور جماعت کے بانی حضرت مرزا غلام احمد سچے ہیں اور اس کے ساتھ ہی مَیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کو کہتا ہوں کہ وہ احمدیت کے متعلق مطالعہ کریں تاکہ آپ سچائی اور باطل کے درمیان فیصلہ کر سکیں اور جماعت احمدیہ کے متعلق جھوٹ اور افتراء کی طرف کان نہ دھریں۔ احمدی لوگ دوسروں سے ممتاز ہیں کیونکہ یہ اپنے خلیفۂ حضرت مرزا مسرور احمد کی اطاعت اور فرمانبرداری میں منظم و متحد ہیں…۔

آج کے اجلاس کی آخری تقریر مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب نائب امیر جماعت امریکہ و نگران CRAIBSجزائر کی تھی۔ آپ کا موضوع ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالمین کی حیثیت سے‘‘ تھا۔ (یہاں ضمنًا یہ ذکر ضروری ہے کہ جماعت نے آنمحترم کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے جماعت فرنچ گیانا کے جلسہ میں شرکت کے لئے درخواست کی تھی۔) چونکہ حاضرین کچھ عرب احباب بھی تھے اس لئے موصوف نے اپنی تقریر عربی اور انگریزی زبان میں کی ۔ مبلغ سلسلہ مکرم محمد بشارت صاحب نے ساتھ ساتھ فرانسیسی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔ مکرم مولانا صاحب نے نہایت مؤثر رنگ میں اس اہم موضوع پر روشنی ڈالی۔ آنمکرم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کُل عالم کے لئے بطور رحمت بھجوایا۔ جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی حیاتِ مبارکہ پر نظر دوڑاتے ہیں تو واضح طور پر نظر آتا ہے کہ آپ کی زندگی تمام مخلوق کے لئے مجسم رحمت تھی۔ آپ نے معاشرہ کے ہر طبقہ کے حقوق متعین فرمائے اور پھر اپنے عمل کے ذریعہ معاشرہ کے ہر طبقہ کے حقوق ادا کر کے ایک جنت نظیر ماحول پیدا فرمایا۔ آپ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے رحمت تھے۔ آپ نے مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ تمام انبیاء پر ایمان لائیں کہ سب اللہ تعالیٰ کے راستباز بندے تھے۔ ان پر ایمان لانے سے ان کی تکریم کرنا اصول ایمان میں سے قرار دیا۔ آپ نے کالے اور گورے میں فرق مٹا دیا۔ آپ نے غلاموں کے حقوق قائم فرمائے۔ آپ نے عورتوں کے حقوق قائم فرمائے۔ جب خدا نے آپ کو طاقت عطا فرمائی، آپ سارے عرب کے حاکم بن گئے تو آپ نے اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔ حضورؐ کے اس مثالی عفو نے دشمنوں کے دل جیت لئے اور آخر کار وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ غرضیکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فی الحقیقت تمام عالمین کے لئے رحمت تھے۔ اس رحمت سے فرشتوں نے بھی حصہ پایا، انبیاء کرام بھی اس رحمت سے فیضیاب ہوئے، بادشاہوں اور حکمرانوں نے بھی آپ سے برکتیں حاصل کیں۔

دوسرے اور آخری اجلاس کا انعقاد

پروگرام کے مطابق جماعت نے دوسرے اجلاس کا اہتمام ایک مشہور ہوٹل Monjoeux Les Vaguesمیں کیا تھا۔ 2اور 3؍ اپریل 2016ء کی درمیانی رات کے دوران احمدی نو جوانوں نے محنت اور اخلاص کے ساتھ کام کر کے ہال کو بینرز اور چارٹس کے ساتھ سجایا اور اسٹیج کے عقب میں جلسہ سالانہ کا بڑا اور نہایت دیدہ زیب بینر آویزاں کیا اور کرسیاں سَیٹ کر دیں۔

ہدایات کے مطابق جن احباب کے پاس اپنی ذاتی ٹرانسپورٹ نہ تھی وہ احمدیہ مرکز میں آنا شروع ہو گئے اور یہاں سے احمدی احباب اپنی کاروں کے ذریعہ مہمانوں کو جلسہ گاہ یعنی ہوٹل میں پہنچانے لگے۔ الحمد للہ احمدی دوستوں کے مثالی تعاون سے جماعت کو اس کام کے لئے کوئی گاڑی کرایہ پر نہ لینی پڑی۔

جلسہ سالانہ کے اس اجلاس کا آغاز 10:45 پر شروع ہوا اور اس کی صدارت نیشنل صدر جماعت Mr. Ismael Didier Bruant نے کی اور مکرم عزیزم ابو بکر ثانی صاحب نے قرآن کریم کی تلاوت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ تلاوت کے بعد صدراجلاس نے حاضرین سے استقبالیہ کلمات کہے اور جماعت احمدیہ کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ جماعت احمدیہ کا سنگ بنیاد حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسیح موعود و مہدیؑ نے 23مارچ 1889ء کو ہندوستان میں رکھا۔ پہلے روز 40 افراد جماعت میں بذریعہ بیعت داخل ہوئے۔ بانیٔ جماعت نے اللہ تعالیٰ سے الہام پا کر اس جماعت کو کھڑا کیا۔ جماعت کے قیام کے ساتھ ہی تمام مذاہب کے ماننے والوں نے آپ کی سخت مخالفت شروع کر دی مگر آپ مخالفت کے تمام طوفانوں کے سامنے ایک پہاڑ بن کر کھڑے رہے۔ آپ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت کے نتیجہ میں خلافت احمدیہ کو قائم فرمایا۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے عالمگیر جماعت احمدیہ اتحاد میں، تنظیم میں، قربانیوں میں اور دنیا میں اسلام کی اشاعت میں اور دنیا میں باہمی محبت و پیار پھیلانے میں ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس وقت یہ جماعت دنیا کے 209ممالک میں دن رات اسلام کی تبلیغ میں مصروف ہے۔ افریقہ میں بالخصوص جماعت نے سینکڑوں مدارس، کا لجز اور ہسپتال قائم کئے ہیں جو رات دن بلا تمیز مذہب و ملّت تمام بنی نوع انسان کی خدمت کر رہے ہیں۔ جماعت احمدیہ کا ماٹو ’’ محبت سب کے لئے ، نفرت کسی سے نہیں‘‘ ہے۔ اشاعت دین اور خدمت انسانیت جماعت کا طرۂ امتیاز ہے۔

مکرم نیشنل صدر صاحب کی تقریر کے بعد مبلغ سلسلہ مکرم محمد بشارت صاحب نے ’’ اسلام امن کا مذہب‘‘ کے موضوع پر روشنی ڈالی۔ آپ نے قرآن مجید، احادیث اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور خلفاء کرام اور صحابہ کرام کے عملی نمونہ سے ثابت کیا کہ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اس پیارے دین میں کسی قسم کے جبر کی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن کا یہ واضح اعلان ہے کہ جو کسی معصوم کو قتل کرتا ہے وہ گویا ساری قوم کو قتل کرتا ہے۔ قرآن نے ’’ لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن‘‘ کہہ کر ہر فرد کو حق دیا ہے کہ مذہب کے بارہ میں ہر شخص آزاد ہے۔ کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ کسی پر جبراً اپنا مذہب تھوپنے کی کوشش کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اور نہ آپ کے خلفاء نے اور نہ ہی آپ کے صحابہ نے اسلام کی اشاعت کے لئے کبھی تلوار اٹھائی۔ آپ نے قرآن کریم کی پُر امن تعلیم کے ذریعہ اور اپنے انتہائی اعلیٰ درجہ کے مثالی عملی نمونہ کے ساتھ لوگوں کے دل دینِ اسلام کے لئے جیت لئے۔ یہ سراسر جھوٹ اور افتراء ہے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ آپ نے نعوذ باللہ تلوار اور جبر کے ذریعہ اسلام کو پھیلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے زندگی میں جو جنگیں کیں وہ سب دفاعی تھیں۔ جب آپ کے سفّاک اور خطرناک معاندین نے مدینہ تک تعاقب کیا اور اسلام اور مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہا تب خالق کائنات نے آپ کو دفاعی جنگ کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔ 13سال تک آپ اپنے وطن مکّہ میں مخالفین کے ظلم و تشدد کو برداشت کرتے رہے۔ آخر مجبور ہو کر اپنا عزیز وطن چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت اختیار کر لی۔ اسلام نے جب مسلمانوں کو دفاعی جنگ کی اجازت دی تو جنگ کے بارہ میں ایسے اصول وضع فرمائے جن کو پڑھ کر قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ کسی معصوم پر ہر گز ظلم نہ ہو۔ اسلامی تعلیم کے مطابق جنگ کے دوران بچوں کو، عورتوں کو اور بوڑھوں کو، مہاجرین کو، مذہب کی خدمت کرنے والوں کو ہر گز قتل نہ کیاجائے۔ درختوں کو کاٹا نہ جائے، جانوروں کو نہ مارا جائے، مقتولوں کو جلایا نہ جائے وغیرہ۔غرضیکہ اسلام نے جنگ کے دوران بھی رحم و کرم کو اپنانے کا حکم دیا۔ ہمارا خدا نہایت مہربان ہے۔ اسلام ساری دنیا کے لئے رحمت اور شفقت کا پیغام ہے۔ سفّاک دہشتگردوں کا اسلام کی تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔

مکرم محمد بشارت صاحب کی تقریر کے بعد ہمارے معزز مہمانوں میں سے ایک دوست Mr. Jacque Bertholنے حاضرین سے خطاب کیا۔ (ہمارے یہ موصوف مہمان جلسہ سالانہ یوکے 2015ء میں بھی شامل ہوئے تھے اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی تھی۔) موصوف نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں احمدیہ جماعت کو تھوڑے عرصہ سے جانتا ہوں۔ گزشتہ سال مجھے جماعت کے بین الاقوامی جلسہ سالانہ انگلستان میں جانے کا موقع ملا۔ جلسہ دیکھ کر مجھے جماعت کے شاندار نظام، ان کی باہمی محبت، خلیفہ کی اطاعت اور نوجوانوں کا کثرت کے ساتھ دین سے وابستہ ہونا میرے لئے متأثر کن تھا۔ لندن میں مجھے متعدد ممالک کے نمائندگان سے ملاقات کا موقع ملا اور 40 ہزار افراد کے اجتماع سے خطاب کرنے کا بھی موقع ملا۔ جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا مسرور احمد سے بھی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے جس عزت و تکریم اور اپنائیت سے میرا استقبال کیا اور بے حد مصروفیت میں میرے لئے وقت نکالا مَیں اسے بھی بھول نہیں سکتا۔ دوسرے مسلمان فرقوں کی نسبت جماعت احمدیہ بے حد منظم ہے۔ یہ ساری دنیا میں محبت و پیار اور نرمی اور اخلاق کے ساتھ اسلام کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ فرنچ گیانا میں جماعت احمدیہ کافی معروف ہو گئی ہے۔ حکومتی زعماء سے بھی جماعت کے رابطے بہت اچھے ہیں۔ گزشتہ سال اور اس سال بھی جب فرانس میں اور بیلجیم میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے احمدیہ جماعت نے ان کی سخت مذمت کی اور بالخصوص حضرت مرزا مسرور احمد نے بھی سخت الفاظ میں دہشتگردی کی مذمت کی۔ جماعت احمدیہ کا پیغام محبت کا پیغام ہے۔ پاکستان میں جماعت احمدیہ پر بہت ظلم ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کو دین حق پر عمل کرنے کی آزادی نہیں ہے۔ جماعت احمدیہ کے مخالف امام مساجد میں احمدیوں کو قتل کرنے کی تحریک کرتے ہیں۔ وہ حکومت جس کا فرض عوام کی حفاظت کرنا ہے وہ احمدیہ جماعت کے مخالفین کی پشت پناہی کرتی ہے۔ فرنچ گیانا میں احمدی مبلغین بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ غرباء کا خیال رکھتے ہیں۔ یہ دوسرے مذاہب کے ساتھ مل کر ملک میں استحکام اور باہمی اتحاد کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ مَیں ان سب کو سلام کرتا ہوں۔

بعد ازاں آج کے اختتامی اجلاس میں مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ امریکہ و انچارج CRAIBSجزائر نے مختصراً خطاب کیا اور کہا کہ جس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے اس وقت بالخصوص عرب قوم کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ وہ بُت پرستی، شرک اور قتل و غارت اور دیگر بے شمار برائیوں میں مبتلا تھے۔ حضور اکرم نے اس مردہ قوم کو اپنی دعاؤں اور شاندار عملی نمونہ سے زندہ کیا اور تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام نے دنیا میں تسلط حاصل کر لیا اور صدیوں تک دنیا کو اسلامی برکات سے متمتع کیا۔ پھر الٰہی تقدیروں کے مطابق مسلمان کمزوری اور تفرقہ کا شکار ہو گئے اور خدا نے حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر بھیجا۔ آپ نے الٰہی حکم کے مطابق جماعت احمدیہ کی بنیاد رکھی اور اللہ کے فضل کے ساتھ احمدیہ خلافت کے زیر سایہ احمدیت کا قافلہ ترقی کی منازل طے کرتا چلا جا رہا ہے۔ فرنچ گیانا میں جماعت احمدیہ اپنے بالکل ابتدائی دَور میں ہے اور آج اللہ کے فضل سے یہاں کی جماعت نے اپنا پہلا جلسہ سالانہ منعقد کیا ہے۔ اللّٰھم زِدْ وَ بَارِکْ۔

آخر میں خاکسار(صدیق احمد منور) نے تقریر کی اور حاضرین کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد، آپ کے دعاوی اور اسلام احمدیت کے مستقبل کے متعلق روشناس کرایا۔ احمدیت کا پیغام حقیقی اسلام کا پیغام ہے۔ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم رحمۃ للعالمین تھے۔ جماعت احمدیہ اسی رحمۃ للعالمین کی غلام ہے ۔ احمدیت کا پیغام محبت ، صلح، آشتی، ہمدردی، اتحاد اور باہمی تعاون اور انصاف کا پیغام ہے۔ خاکسار نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض ارشادات جن میں حضور علیہ السلام نے اپنی جماعت کو صبر اور استقامت کا راستہ اختیار کرنے کی تاکید کی ہے نیزجماعت کے روشن مستقبل کے بارہ میں آپ کی پیشگوئیاں پڑھ کر سنائیں۔ آخر میں خاکسار نے سب حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور پھر اجتماعی دعا کرائی اور یوں یہ ایک تاریخی روح پرور پروگرام خوش اسلوبی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اجلاس کے اختتام کے فورًا بعد جملہ حاضرین لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوئے۔ اس کھانے کی تیاری میں بعض Syrian بھائی بہنوں نے بے حد اخلاص اور محبت اور جوش و خروش کے ساتھ ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ فجزاھم اللہ۔

لوکل پریس اور ٹیلیویژن پر احمدیت کی تشہیر

اللہ تعالیٰ کے فضل اور ہمارے پیارے امام حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں سے ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر لوکل حکومتی ٹیلیویژن Guyane Premier نے 3؍ اپریل کی شام 7:30 بجے ٹی وی پر تصاویر کے ساتھ خبر دی۔ انہوں نے بتایا کہ:

آج Cayenneشہر میں احمدیہ مسلم جماعت فرنچ گیانا نے اپنی پہلی سالانہ کانفرنس منعقد کی۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ اسلام امن و شانتی کا مذہب ہے۔ فرنچ گیانا میں قانونی طور پر احمدیہ جماعت 2007ء سے موجود ہے لیکن عملی سرگرمیوں کا سلسلہ 2012ء میں شروع ہوا۔ جماعت احمدیہ کا آغاز 1889ء میں ہندوستان سے ہوا ۔ اس وقت دنیا کے 209ممالک میں جماعت احمدیہ کے مشن قائم ہیں۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ اسلام رواداری اور باہمی محبت کی تعلیم دیتا ہے۔ ہم سب کو مل جل کر معاشرہ میں اتحاد اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا کرنا چاہئے۔

ملک کے واحد اخبار France Guyane نے جلسہ کے حوالہ سے خبر شائع کی اور سٹیج کی تصویر بھی دی جبکہ صدر جماعت تقریر کر رہے تھے۔ خبر میں لکھا : فرنچ گیانا کی جماعت احمدیہ مسلم جماعت نے اپنی سالانہ کانفرنس منعقد کی اور امن کے موضوع پر گفتگو کی۔ یہ کانفرنس Cayenne شہر کے ہوٹل Montjoyeux میں منعقد ہوئی۔ جماعت احمدیہ اپنی سالانہ کانفرنس ہر ملک میں منعقد کرتی ہے۔ فرنچ گیانا میں یہ پہلی سالانہ کانفرنس ہے۔ امریکہ سے آئے امام داؤد حنیف نے کہا کہ انہوں نے یہ سفر اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ لوگوں کو بتاؤں کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ اسلام رواداری اور باہمی ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔ صدر جماعت نے بتایا کہ ہم اس ملک میں پورے طور پر معاشرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔ حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے ہیں، دعوت آنے پر اس کے پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں۔ 2012ء سے مشنری انچارج صدیق احمد منور کے آنے سے جماعت احمدیہ باثمر ہونے لگی ہے۔

جلسہ سالانہ کے لئے موصولہ پیغامات

ملک کی درج ذیل شخصیات نے ہمارے جلسہ کے لئے پیغام بھیجے جو بعض دیگر مصروفیات کے باعث پروگرام میں شریک نہ ہو سکے۔ انہوں نے جماعت کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ 1۔ رومن کیتھولک چرچ کے رہنما بشپ Mr. Emanul Lafont۔ 2۔ سینٹر Mr. Antoine Karam۔3۔ڈائریکٹر آف پولیس Mr. Le Cardinal Oliver۔4۔ فرنچ گیانا کے Prefet ۔ Mr. Martin Jaeger۔ 5۔ شہر Saint Laurentکے میئر Mr. Leon Bertrend ۔ 6۔ ملک کی Gendamarie کے ہیڈ General Lucas Lamlent۔ 7۔ آنریری لیبر ڈائریکٹر Mr. Jaques Berthole۔8۔ Penetenharyکے ڈائریکٹر Mr. Jean Philipe Mayal۔ 9۔ ریٹائرڈ جج Mr. Bruno Picour۔

لوائے احمدیت کی شہرت

جلسہ سالانہ دو اجلاسات پر مشتمل تھا۔ پہلا اجلاس احمدیہ مرکز میں ہوا اور دوسرے اجلاس کا اہتمام ایک ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ اس لئے دوسرے اور آخری اجلاس کو ملک کے ٹی وی نے فلمایا اور خبر نشر کی۔ جماعت کے جھنڈے کی پرچم کشائی چونکہ احمدیہ مرکز میں کی گئی تھی اس لئے TVنے اس کو نہ دکھایا۔ اللہ کی تقدیر نے جماعت کے پرچم کو بھی شہرت دینی تھی ۔ ہوا یوں کہ مشن کے پاس جو سڑک شہر میں داخل ہوتی ہے اور جہاں سے ہزار ہا گاڑیاں روزانہ شہر میں داخل ہوتی ہیں ایک پرائیویٹ لوکل ٹی وی A.T.V کے ایک صحافی کی نظر ہمارے جھنڈے پر پڑی۔ انہوں نے جماعت سے رابطہ کیا اور مرکز میں آکر پرچم کو فلمایا اور مبلغ سلسلہ مکرم محمد بشارت صاحب سے انٹرویو لیا اور اگلے روز ہمارے پرچم کو TV پر دکھایا اور خبر یوں دی کہ ناظرین کو فرانس کے جھنڈے کے ساتھ ایک جھنڈا دکھایا جا رہا ہے۔ یہ جھنڈا داعش کا جھنڈا نہیں بلکہ احمدیہ مسلم جماعت کا جھنڈا ہے۔ اس کی تاریخ یہ ہے کہ یہ پرچم جماعت احمدیہ کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنے دور خلافت میں 1939ء میں جماعت کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر بنوایا تھا۔ فرانس کے جھنڈے کے پہلو میں اس کا لہرانا اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جماعت احمدیہ ہر ملک کے قانون کی پابندی کرتی ہے۔ ہر ملک کے احمدی محب وطن ہیں اور حب الوطنی ان کے ایمان کا حصّہ ہے۔

فرنچ گیانا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پرچم احمدیت ٹی وی کے ذریعہ اس ملک کی فضاؤں میں لہراتاہوا عوام کو دکھایا گیا۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

پانچ افراد کی جماعت احمدیہ میں شرکت

جلسہ سالانہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے دور دور ممالک تک بالخصوص فرانس میں احمدیت کا پیغام پہنچایا اور اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے پانچ افراد کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

ہمارا جلسہ روح القدس کی تائید سے ہمسایہ ملک گوآدلوپ کے لئے باعث رحمت ہوا۔Guadeloupe میں جماعت احمدیہ کا آغاز چند ماہ قبل ہوا ہے۔ حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنی متضرّعانہ دعاؤں کے ساتھ جامعہ احمدیہ یوکے سے فارغ التحصیل نو جوان مبلغ عزیزم مکرم لقمان احمد باجوہ صاحب کو پہلا مبلغ مقرر کر کے یہاں بھجوایا ہے۔ الحمد للہ ۔ خدا تعالیٰ کا کس قدر فضل ہے کہ ہمارے جلسہ سالانہ پر آسمان سے نازل ہونے والی انتشارِرحمت نے گوادلوپ کے دروازے بھی کھٹکھٹائے۔ کسی کو کوئی علم ہی نہ تھا کہ مسلمانوں میں کوئی جماعت احمدیہ بھی ہے۔ 3؍اپریل 2016ء کو ہمارا جلسہ ختم ہوا۔ 4؍اپریل کو یہاں کے واحد اخبار نے جلسہ کے متعلق بڑی خبر جو چار کالم پر مشتمل تھی شائع کر دی۔ پھر خدا کا کرنا یوں ہوا کہ یہاں کے اخبار کی یہ خبر بعینہٖ گوادلوپ کے اخبار France Antilles نے بھی شائع کر دی۔ پھر اللہ نے مزید یہ فضل فرمایا کہ ہمارے مبلغ سلسلہ مکرم مولانا داؤد احمد حنیف صاحب کا یہاں سے واپسی پر گوادلوپ کے مذکورہ اخبار نے مکرم مولانا صاحب کا انٹرویو لیا جس کے ذریعہ عوام کو اسلام احمدیت کے پیغام سے روشناس کر وایا۔ اخبار نے مکرم مولانا داؤد حنیف صاحب اور مکرم امام لقمان احمد باجوہ صاحب کی اکٹھی تصویر شائع کی۔ اس تصویر کے عقب میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی تصاویر بھی واضح دکھائی دیتی ہیں۔ الحمد للہ علیٰ ذالک۔

بعض متفرق امور اور اختتام

1۔ جلسہ کی حاضری قریبًا ایک صد افراد پر مشتمل تھی جس میں گورنمنٹ آفیسر، ڈاکٹر، پروفیسر، صحافی، جج اور تاجر لوگ شامل تھے۔

2۔ دوسرے اجلاس کے آغاز سے پہلے حکومت کے TV نے خاکسار ، صدر جماعت، مکرم محمد بشارت صاحب مبلغ سلسلہ اور جماعت کے سیکرٹری جنرل مکرم ایوب صاحب کا انٹرویو لیا۔ خاکسار نے صحافی کے سوال کے جواب میں بتایا کہ ہمارے جلسہ کا مقصد ممبران جماعت کی تعلیم و تربیت اور اشاعت اسلام ہے۔ ہمارے انٹرویو کے Clipsبھی TVپر جلسہ کی خبر کے دوران دکھائے گئے۔

3۔ جماعتی روایات کی اتباع میں ایام جلسہ میں یکم اپریل تا 03؍ اپریل 2016ء مرکز میں نماز تہجد با جماعت ادا کی گئی اور قرآن و حدیث کا درس بھی دیا گیا۔ چونکہ جماعت ابتدائی دَور میں ہے اس لئے نو جوانوں کو جلسہ کی روایات سے آگاہ کیا گیا۔ ربوہ اور قادیان اور لندن کے جلسہ سالانہ سے متعلق ایمان افروز واقعات سنائے گئے۔ شام سے آئے ہمارے مسلمان بھائی اور بہنیں بھی جلسہ کی برکتوں سے فیضیاب ہوئے۔ اس روح پرور ماحول میں ہم محسوس کر رہے تھے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی متضرعانہ دعائیں اس دُور دراز ملک میں ہمارے شامل حال ہو گئی ہیں۔

4۔ یہاں ایک اہم شخصیت کا ذکر ضروری ہے۔ فرنچ گیانا کی آرمی (Army)کے ہیڈ General Pierre Jean Dupont نے ہمارے جلسہ میں شرکت کی اور پورے اجلاس کی کارروائی سنی۔ فجزاہ اللہ تعالیٰ۔ یہ سب جلسہ کی برکتیں ہیں۔

آخر میں دعا کی درخواست ہے کہ قادر مطلق خارق عادت طور پر جماعت احمدیہ فرنچ گیانا کو ترقی عطا فرمائے اور اس کے نفوس و اموال میں برکت دے۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button