کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

ارشادات عالیہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام

اے لوگو! مَیں وہی مسیح ہوں جو اپنے وقت پر آیا اور آسمان سے روشن دلیل کے ساتھ نازل ہوا اور تمہیں اس نے اللہ کے نشانات دکھائے ہیں، تم میں، اپنی ذات میں اور اپنے انصار میں۔اور زمانے نے اس کے لئے اپنی زبان حال سے گواہی دی۔ اور اللہ نے اس کے لئے اپنے قرآن میں شہادت دی ہے۔ پس اللہ کی شہادت اور اس کے بیان کے خلاف تم کس بات پر ایمان لائو گے؟

’’اے لوگو! اگر تم متقی ہو تو پھر تم اللہ اور اس کے حَکَم سے آگے کیوں بڑھ رہے ہو؟ کیا تمہارا تقویٰ یہ ہے کہ تم نے تکفیر کی جبکہ تمہیں پورا علم نہیں تھا اور تم صاف دلوں کے ساتھ سوال نہیں کرتے اور اگر تم سے سوال کیا جائے تو بھڑک اٹھتے ہو۔ کیا تم پر یہ گراں گزرا ہے کہ اللہ نے مجھے اس صدی کے سر پر مبعوث فرمایا اور مجھے اللہ کے دین کی بہتر طور پر تجدید کی خاطر منتخب کیا تا کہ مَیں اس قوم کو جو عیسیٰ کو معبود بنانے میں غلو میں بڑھ گئی ہے ساکت کروں اور اس صلیب کو توڑوں جسے وہ بلند کرتے ہیں اور (جس کی) وہ عبادت کرتے ہیں یا کیا تمہیں اس بات نے غضبناک کیا ہے کہ میرے ربّ نے اپنی وحی میں تمہاری مخالفت کی ہے۔ اسی طرح اس سے پہلے یہود بھی غضبناک ہوئے تھے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟

اے لوگو! مَیں وہی مسیح ہوں جو اپنے وقت پر آیا اور آسمان سے روشن دلیل کے ساتھ نازل ہوا اور تمہیں اس نے اللہ کے نشانات دکھائے ہیں، تم میں، اپنی ذات میں اور اپنے انصار میں۔

اور زمانے نے اس کے لئے اپنی زبان حال سے گواہی دی۔ اور اللہ نے اس کے لئے اپنے قرآن میں شہادت دی ہے۔ پس اللہ کی شہادت اور اس کے بیان کے خلاف تم کس بات پر ایمان لائو گے؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ تم اللہ اور اس کی ملاقات کے دن سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جو کھالوں کو اپنی آگ سے پگھلا دے گا۔ تم اللہ کی آیات کے متعلق کیوں غور نہیں کرتے۔ اس کے فرقان سے بڑھ کر اور کون سی شہادت ہو سکتی ہے؟ کیا تم اس پر غور نہیں کرتے کہ اگر مَیں اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے میرا انکار کر دیا تو تمہیں کیسے اس کی اَمان سے حصہ ملے گا؟ کیا تم یہو د کے واقعات کو نہیں پڑھتے۔ وہ کس طرح بندر بنا دئیے گئے ، کیا ان کے پاس بالکل اسی طرح کے عذر نہ تھے جیسے تم پیش کر رہے ہو۔ پس اپنی جانوں پر رحم کرو۔ کب تک جسارت کرو گے؟ اے نادانو! اللہ سے جنگ نہ کرو۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنی موت کو یاد نہیں کرتے اور ڈرتے نہیں۔ وہ غیور (خدا) جس نے مجھے مبعوث فرمایا اور جس کی تم نے نافرمانی کی بلاشبہ وہ ایک صاعقہ ہے اور اس کا عذاب مجرم قوم سے ٹالا نہ جائے گا۔ یقینا وہ تمہارے منہ سے نکلی ہوئی بات کو سنتا اور تمہارے خفیہ مشوروں اور سب مکروں کو دیکھتا ہے اور ظالم لوگ ضرور جان لیں گے کہ کس مقام کی طرف ان کو لَوٹ کر جانا ہو گا۔ ہلاکت ہو ان لوگوں پر جوصادق اور کاذب کے درمیان تمیزنہیںکرتے اورڈرتے نہیں؟ اور نہ وہ صادقوں کو ان کے چہروں سے پہچانتے ہیں اور نہ فراست سے کام لیتے ہیں۔ نہ وہ کلمات مقربین کاذوق رکھتے ہیں اور نہ نشانات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیتے۔

اے لوگو! تم میری تکذیب میں کیوں جلدی کرتے ہو۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم متقیوں کی طرح نہیں چلتے اور بیہودہ گوئی کرتے ہو اور وقار اختیار نہیں کرتے۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم عیسٰی ؑ کے متعلق اللہ عزّوجلّ کے قول


 پر غور نہیں کرتے۔ کیا تم مرو گے نہیں اور ہمیشہ زندہ رہو گے؟ کیا تم نے عیسیٰؑ کو دیکھا جب وہ آسمان پر چڑھے تو تم نے کہا کہ جو ہم نے دیکھا اور مشاہدہ کیاہے اسے ہم کیسے چھوڑ دیں۔ تمہارے لئے ہلاکت ہو! کیوں تم عوام الناس کو بغیر علم کے گمراہ کرتے ہو اور اُس ذات سے نہیں ڈرتے جس کی طرف تم لوٹائے جائو گے۔ تم جھوٹ پر مصر ہو۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم جھوٹ بول رہے ہو پھر اس جھوٹ پر دلیری دکھا رہے ہو۔ اور اگر مَیں تم میں مبعوث نہ کیا جاتا تو تم معذور تھے۔ لیکن اللہ کے مجھے مبعوث فرمانے کے بعد اب تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا ۔ پس تمہیں کیا ہو گیاہے کہ تم ڈرتے نہیں۔ اللہ کے حَکَم سے جو تم نے کیا وہ بہت بُرا ہے اور بُرا ہے جو تم افترا کرتے ہو۔

ہائے افسوس تم پر، تم نے زمانے کو نہ پہچانا اور انبیاء کے فرمودات کو یاد نہ رکھا۔ اللہ نے اپنی جناب سے تم پر نشانات کے ذریعہ احسان فرمایا لیکن تم نے ان پر نگاہ تک نہ ڈالی اور اپنے آپ کو بہرا اور اندھا بنا لیا اور ان لوگوں میں شامل ہو گئے جو مر جاتے ہیں۔ تم نے اپنی گمراہیوں میں سے ایک ذرہ بھی نہ ترک کیا بلکہ تم ان پر اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے تم پر اپنے مسیح کی آمد کے وقت کی پوری صراحت کر دی تھی اور کسی دلیل کو نہ چھوڑا۔ اللہ نے بدر میں تمہاری مدد اس حالت میں فرمائی جب تم کمزور تھے۔ تمہیں کیا ہے کہ اس راز کو نہیں سمجھتے اور نہ ہی توجہ کرتے ہو۔ کیا یہ صدی بدر کی (چودھویں) صدی نہیں؟ پھر تم اللہ کی آیات کی حقیقی قدر کیوں نہیں کرتے اور نہ ان سے فائدہ اٹھاتے ہو۔

 نادان کہتے ہیں کہ ہم اس شخص کی کیسے اتباع کریں جو الگ ہو گیا ہے اور ہم کیسے سوادِ اعظم کو چھوڑ دیں۔کوئی نبی بھی نہیں آیا مگر وہ سوادِ اعظم سے کٹ کر اور گمراہی سے پاک ہوتاتھا۔ دیکھ ہم ان کے وسوسوں کا کس طرح ازالہ کر رہے ہیں پھر دیکھ کہ وہ کیسے اندھے بن رہے ہیں۔ وہ اس دن کو بھول گئے ہیں جس میں وہ ایک ایک کر کے اس کے حضور لوٹائے جائیں گے پھر ان سے ان کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ موسیٰ، عیسیٰ اور ہمارے نبی اکرم (ﷺ) پر نگاہ نہیں ڈالتے کہ وہ کیسے اپنے آغاز میں (سوادِاعظم سے) الگ تھلگ مبعوث کئے گئے۔ پھر صلحاء کی ایک جماعت ان کے گرد جمع ہو گئی اور سب نے تصدیق کی اور سر تسلیم خم کیا اور اس پر ایمان لائے جو الگ تھلگ تھا اور اپنے سوادِ اعظم کو چھوڑ دیا، سوائے اس کے جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا۔ پس ہلاکت ہو ان کے لئے جنہوں نے اپنے وقت کے نبی کو چھوڑ دیا۔ یہی تووہ لوگ ہیں جو (جماعت سے) الگ ہو گئے اور جن کا نام ہمارے نبی(ﷺ)نے فیج اعوج اور منحوس رکھا اورفرمایا کہ وہ مجھ سے نہیں اورنہ مَیں ان سے ہوں۔ پس یہ ہیں الگ تھلگ جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے۔ جب ان کے پاس ان کے ربّ کی طرف سے حَکَم آیا تو انہوں نے اپنی آنکھیں پھوڑ لیں اور اپنے کانوں کو بہرا کر لیا اور اس کے متعلق تحقیق نہ کی اور گونگے کی طرح ہو گئے۔‘‘(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 93۔97)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button