تر بیتِ اولا داور انصار اللہ کی ذمہ داریاں قسط 5
(قرآن و حدیث اورحضرت اقدس مسیح موعود ؑ اورآپ کے خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں)
7سال کی عمر تک بچوں کی تر بیت کے لئے غذا وغیرہ سے متعلق کچھ ضروری امور:
غذابچے کو مقررہ وقت پر دینی چاہئے۔ اس سے بچے میں یہ عادت پید اہوتی ہے کہ وہ خواہشات کو دبا سکتا ہے اور اس طرح بہت سے گناہوں سے بچ سکتا ہے۔
ہر قسم کی خوراک یعنی گوشت،ترکاریاں اور پھل دیئے جائیں کیونکہ غذاؤں سے بھی مختلف اقسام کے اخلاق پیدا ہوتے ہیں ۔بازار کی بنی ہوئی چیزوں خصوصاً بسکٹ، چپس ، گولیوں ٹافیوں وغیرہ کا بہت زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
غذا اندازے کے مطابق دینی چاہیے۔ اس سے قناعت پیدا ہوتی ہے اور حرص دُور ہوتی ہے۔
اگر بچہ بیمار ہو تو والدین کو چاہیے کہ جو چیز اس نے نہیں کھانی والدین بھی نہ کھائیں اور ایثار سے کام لیں۔ اسی طرح بچے کو مقررہ وقت پر پاخانہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔یہ اس کی صحت کے لئے مفید ہے اور اس کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ بچے کے اعضاء میں وقت کی پابندی کی حِس پیدا ہوجاتی ہے۔اور وقت پر کام کرنے والے بچہ میں نماز، روزہ کی عادت پختہ ہو جاتی ہے۔
دعاؤں کی عادت ڈالنا:ہر کام شروع کر نے سے پہلے خصوصاً کھا نا کھا نے سے پہلے ، کھانا ختم کرنے کے بعد، رات کو سونے سے پہلے دعا کی عادت بچے کو ڈالنی چاہئے۔اسی طرح بچپن سے ہی بچے کو اپنی ضرو ریات کے لئے خدا تعالیٰ سے ما نگنے کی تلقین کرتے رہنا چاہئے اور شرکِ خفی سے ہو شیار رکھنا چاہئے۔
اُونچی آواز میں سلام کر نے کی عا دت ڈالنا : بچپن سے ہی اُونچی آواز میں سلام کرنے کی عادت ڈالنا بھی نہایت ضروری ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک بچے (حضرت کلدہ ؓ بن حنبل) کو جو بلا اجازت اور بغیر سلام کہے اندر آگئے تھے فرمایا کہ پہلے باہر جاؤ ،پھر السلام علیکم کہہ کر اندر آنے کی اجازت مانگو تو اندر آسکتے ہو۔
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب کیف الاستئذان حدیث نمبر 5176 )
آپؐ نے یہ نہیں سوچا کہ چھوٹا ہے ،اندر آگیا تو کوئی حرج نہیں بلکہ فوری تربیت فرمائی کہ اعلیٰ اخلاق ابتدا سے ہی بچوں کے ذہن میں پیدا کرنے ہیں ۔ایک تو یہ کہ بلااجازت کسی کے گھر میں نہیں جانا، دوسرے اجازت کا بہترین طریق یہ ہے کہ سلام کرو اور ایسے طریق سے اجازت چاہو جس سے محبت کی فضا پیدا ہو اورایک دوسرے کے لئے دعائیں نکلیں۔
سلام کرنے کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’اب اللہ تعالیٰ کا ایک حکم ہے جو اخلاق کے معیاروں کو اونچا کرنے کے لئے بھی ضروری ہے، فساد اور شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لئے بھی ضروری ہے اور ایک دعا بھی ہے جس سے ایک دوسرے کے لئے پیار و محبت کے جذبات اُبھرتے ہیں اور یہ حکم اُس وقت سَلَام کہنے کا ہے جب تم کسی کے گھر جائو۔ بجائے اطلاع دینے کے دوسرے طریقے اپنانے کے، بہترین طریقہ کسی کے گھر پہنچ کر اطلاع دینے کا یہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ گھر والوں کو اونچی آواز میں سَلَام کیا جائے۔ بعض امیر لوگ جن کی بڑی بڑی کوٹھیاں ہیں یاایسے بھی گھروں والے ہیں جن کے گھروں میں گھنٹی بجنے کی آواز نہیں پہنچ سکتی تو اُنہوں نے گیٹ پر فون لگائے ہوتے ہیںتا کہ اس کے ذریعہ سے پیغام پہنچایا جائے۔ اگر گھنٹی بجائی ہے تو جب بھی گھر والا پوچھے تو پہلیسَلَام کیا جائے پھر نام بتایا جائے۔ یہ ایک ایسا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کی ہدایت فرمائی ہے۔‘‘ (خطباتِ مسرور جلدپنجم صفحہ 212)
کھیل کُود اور کام کرنے کی عادت ڈالنا: جب بچہ ذرا بڑا ہو تو کھیل کُود کے طور پر اس سے کام لینا چاہئے۔ مثلاً فلاں برتن اُٹھا لاؤ ،یہ چیز وہاں رکھ دو ،یہ فلاں کو دے آؤ۔اس سے بچے کو کام کی عادت پڑے گی۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو اپنے طور پر کھیلنے کی بھی اجازت دینی چاہئے۔مثال کے طور پر کوئی کھلونا ہو تو کہا جائے کہ سب اس سے کھیلیں ،اس طرح سے قومی مال کی حفاظت کی عادت پیدا ہوتی ہے۔لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ چھوٹی عمر میں بچوں کو علیحدہ بیٹھ کر کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ بچے کو اس کی عمر کے مطابق بعض ذمّہ داری کے کام دیئے جائیں تا کہ اس میں ذمّہ داری کااحساس پیدا ہو۔
بچوں کو بعض مفید فقرات ( ہم یہ کریں گے، یہ نہیں کریں گے) یاد کر وانا: صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے کہ بچے نے بولنا شروع کر دیا ہے خواہ وہ فضول باتیں منہ سے نکالے بلکہ خود سے اسے ایسی باتیں بولنا سکھایا جائے جو اچھی اور نصیحت پر مبنی ہوں جو آئندہ اس کے کام آئیں ۔حضرت امام حسن ؓ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک فقرہ حفظ کروایا تھا جو ابھی تک مجھے یاد ہے دَعْ مَا یُرِیْبُکَ اِلیٰ مَا لَا یُرِیْبُکَ ۔یعنی چھوڑ دے وہ بات جو بُری اور شبہ والی ہو۔ اور اختیار کر وہ بات جو اچھی اور شبہ سے پاک ہو۔
چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کو بعض مفید فقرے یاد کر وادیئے جائیں جن میں اُن کو بتایا جائے کہ ہم یہ کریں گے، یہ نہیں کریں گے،اس کا بھی بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔(بحوالہ الازھار لذوات ا لخمار صفحہ159)۔
حضرت میرمحمد اسمعیل صاحبؓ نے ’’کر نہ کر‘‘ کے نام سے چھوٹی چھوٹی نہایت کام کی باتیں تحریر فرمائی ہیں اُن سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔پھر ایسی نظمیں یاد کروانی بھی مفید ہو سکتی ہیںجیسے
ہُوں اللہ کا بندہ ، محمدؐ کی اُمّت
ہے احمد ؑسے بیعت ،خلیفہ کی طاعت
میرا نام پوچھو تو مَیں احمدی ہوں
اسی طرح
ہم احمدی بچے ہیں کچھ کر کے دکھا دیں گے
شیطاں کی حکومت کو دنیا سے مٹا دیں گے
اس کے ساتھ ساتھ بچے کے دل میں یہ بات ڈالنی چاہیے کہ وہ نیک اور اچھا ہے۔
رو ز مرّہ زندگی میں کھا نے پینے ،کپڑے پہننے، ملاقات کرنے ، گفتگو کر نے ، مجلس ، مسجد اور نماز وغیرہ کے آداب سکھلانا: مثلاً کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھنا، دائیں ہاتھ سے کھانا،اپنے آگے سے کھانا،لقمہ منہ میں ہو تو بات نہ کرنا ،حلال اور طیّب چیزیں کھانا اور حرص نہ کرناوغیرہ جیسی باتیں بچپن سے سکھانے کی ضرورت ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ بھی اکثر مشاہدے میں آتا ہے کہ ٹرالیوں یا گاڑیوں میں لدے ہوئے گنیّ بغیر اجازت نکال کر کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا یا کسی کے درختوں پر لگا ہوا پھل بڑے یا بچے مالک سے پوچھے بغیر اُتار کر کھا لیتے ہیں۔ ایسی باتیں اور ان کے خطرناک نتائج بھی بچوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔ہاں راستے میں بغیر پتھر مارے اگر کوئی پھل نیچے گرا ہوا مل جائے تو اُس کا کھانا ناجائز نہیں ہے۔
اسی طرح بچپن سے ہی بچوں خاص طور پر بچیوں کو مناسب اور جسم کوڈھانپنے والا لباس پہنایا جائے۔ چار پانچ سال کی عمر میں ہی اگر مناسب لباس کی طرف اُن کو توجہ دلائیں گے تو بڑے ہو کر اُن میں درست لباس کا احساس پیدا ہو گا۔پھر کسی کے سامنے بھی اُن کے کپڑے نہ بدلوائے جائیں۔ شرم وحیا کی حِس چھوٹی عمر سے اُن میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔بچیوں کے علاوہ لڑکوں کی تربیت میں بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ اُنہیں بچپن سے یہ بتایا جائے کہ پردہ خدا کا حکم ہے تاکہ وہ بڑے ہو کر اپنی بیویوں کو پردہ کروانے والے ہوں نہ کہ اُتروانے والے۔
پھر ایک دوسر ے سے ملتے ہوئے بلند آواز سے سلام کہنا اورچھوٹے بچوں کو بڑوں سے بات کرتے ہوئے تُم کی بجائے آپ کہہ کر مخاطب کرنے کی عادت شروع سے ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ناز و نخرے میں نہ ڈالنا: بچے کو بہت زیادہ چومنا نہیں چاہئے ،اس طرح سے وہ جس مجلس میں جاتا ہے خواہش کرتا ہے کہ سب اُسے چومیں اور پیار کریں۔
آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بچے کی بودی(یعنی سر کے بالوں کو بعض جگہوں سے مونڈنا اور بعض جگہوں سے چھوڑ دینا) رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ بعض بچے سر کے اگلے حصہ میں یا سر کے اُوپر درمیان میں خاص صورت کے بال رکھتے ہیں، لڑکوں کازنانہ خصلتیں اختیار کرنا مثلاً لڑکیوں کی طرح نیل پالش وغیرہ لگا لینابھی ہر گز درست نہیں ۔ اسی طرح کھانے پینے میں ،لباس میںبھی بچوں کو نازو نخرے میں نہیں ڈالنا چاہئے۔
گھر میں کو ئی چیز آنے پر پہلے بچوں کو دینا پھر خود کھانا: حضرت ابوھریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول کریمؐ کے پاس کوئی بھی پہلا پھل آتا تو پھلوں میں برکت کی دعاکرتے اور پھرپہلے وہ پھل مجلس میں موجود سب سے چھوٹے بچے کو عطافرماتے۔
( مسلم (16)کتاب الحج باب 85 )
کو ئی چیز دیکھ کر لا لچ نہ کر نا سکھانا اور بچے کی خواہش خود پوری نہ کر سکنے کی صورت میں کیا کرنا چا ہئے: بچے کی خواہش خود پو ری نہ کر سکنے کی صورت میں والدین کو دوسروں سے مانگ کرکبھی وہ چیز مہیا نہیں کرنی چاہئے۔ اس طرح بجائے اس کے کہ وہ بچے کی خواہشات کو مار دیں اور بھی اس کی خواہشات کو اُبھارتے ہیں۔حالانکہ اگر بچے کو سمجھایا جائے کہ بچے ہم غریب ہیںیا یہ چیز ابھی نہیں خرید سکتے تو بچے جیسا صابر بھی کوئی نہیں وہ اتنا کہہ دینے سے بھی خوش ہو جاتا ہے،بصورتِ دیگر دوسروں سے چیز لے کربچے کی خواہش پوری کرنے سے بچے کے اندر صبر اور قناعت کا مادہ پیدا نہیں ہو گا اور اس کی حرص بہت بڑھ جائے گی۔
بچپن سے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کریں: والدین کو چاہئے کہ ہر وقت یہ کوشش کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت بچوں کے دلوں میں جاگزیں ہو۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بچپن سے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں پیدا کریں۔جب ذرا بات سمجھنے لگ جائیں تو جب بھی کوئی چیز دیں (اب یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں) تو یہ کہہ کر دیں کہ یہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اللہ میاں نے دی ہے۔شکر کی عادت ڈالیں ۔پھر آہستہ آہستہ سمجھائیں کہ جو چیز مانگنی ہے اللہ میاں سے مانگو۔‘‘
(مستورات سے خطاب بر موقع جلسہ سالانہ برطانیہ 2003 )
سچ کی عادت ڈالنا: سچائی ایک ایسا خُلق ہے کہ اگر یہ خُلق بچے کے دل میں ابتدا ہی سے بٹھا دیا جائے تو ساری عمر وہ بدیوں اور گنا ہوں سے بچتا رہے گا ۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تربیت ِ اولاد کے جوگُر ہمیںبتائے اور سکھائے ہیں ان میں سب سے اوّل سچائی کا قیام ہے کہ بچہ ہر حال میں سچ بولنا سیکھے اور سچائی کی خاطر جان دینے کو بھی کوئی غیرمعمولی بات نہ جانے بلکہ سچائی کے قیام کی خاطر اپنی جان پر بھی کھیلنے کا حوصلہ اس میں پیدا ہو جائے۔ فرمایا کہ بچے سے کسی ایسی بات کا وعدہ نہ کرو جس کے پورا کرنے کی تم استطاعت نہیں رکھتے یا ایسی چیز کا وعدہ نہ کرو جو تم ان کو لے کر نہیں دے سکتے تاکہ بچے میں بچپن ہی سے صداقت کو قائم کرنے کا حوصلہ پیدا ہو اور وہ اپنے اندر سچائی کی طاقت محسوس کرنا بچپن ہی سے شروع کر دے۔
اس کی ایک بہت ہی پیاری عملی مثال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ میں اس وقت ملتی ہے جب کہ حضرت مصلح موعودؓ ابھی چھوٹے بچے ہی تھے۔ ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو اُٹھایا ہوا تھا اور آپ کسی چیز کیلئے ضد کر رہے تھے ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کی توجہ کسی اور طرف مبذول کروانی چاہی اور فرمایا کہ دیکھو وہ تارا، اس پر بچے نے نئی ضد شروع کر دی کہ ’’ابّا تارے جانا‘‘۔ یعنی میں ستارے پر جانا چاہتا ہوںلیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو وقتی طور پر ٹالنے کیلئے کوئی بات نہیں گھڑی کیونکہ اس طرح بچے کی تربیت پر غلط اثر پڑتا اور اس کو جھوٹ اور کسل کی عادت پڑ جاتی۔بلکہ وہ آپ کو سمجھاتے ہی رہے کہ جو چیز آپ مانگ رہے ہیں وہ آپ کیلئے مضر ہے یا ہماری بساط سے بڑھ کے ہے ۔اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ بچوں کی باتوں سے بڑوں خاص طور پر والدین کو اُکتانا بھی نہیں چاہئے۔
اپنے بچوں کو پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی یہ نصیحت ہمیںیاد کرواتے رہنا ہے کہ: ’’کسی بھی احمدی بچے کو کبھی بھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا۔اپنے ساتھیوں سے کھیل رہے ہوں یا کوئی غلطی کرتے ہیں اور امّی ابّا آپ سے پوچھیں کہ فلاں کام تم نے تو نہیں کیا تو کبھی سزا کے ڈر سے بھی جھوٹ نہیں بولنا اور کبھی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا۔‘‘ (مشعلِ راہ جلد 5 حصہ دوئم صفحہ2 )
……………
(باقی آئندہ)
٭…٭…٭




