خدا تعالیٰ کی صفت قدوس
اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدّوس ہے۔ مختلف لغات میں اس لفظ کے جو معنی لکھے ہیں اور پرانے مفسرین نے جو تفسیریں کی ہیں ان میں سے چند مشہور مفسرین کی مختصر تفسیر اور معانی مَیں پیش کرتا ہوں۔ تاج العروس میں لکھا ہے کہ اَلْقُدُّوْس اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنہ میں سے ایک اسم ہے اور اَلْقُدُّوْس کے معنی ہیں اَلَطَّاہِر تمام عیوب و نقائص سے منزہ ہستی۔ اور اَلْمُبَارک، بابرکت جس میں تمام قسم کی برکات جمع ہیں۔ اور اَلتَّقْدِیْس کا مطلب ہے اَلتَّطْہِیْر، اللہ عزّو جل کو پاک اور بے عیب قرار دینا۔
مفردات امام راغب میں لکھا ہے کہ اَلتَّقْدِیْس اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہونے والی وہ طہارت ہے، وہ پاکیزگی ہے جس کا ذکر ارشاد ربانی وَیُطَھِّرُکُمْ تَطْھِیْرًا میں ہوا ہے اور اس سے مراد ظاہری نجاست کا دُور کرنا نہیں ہے بلکہ جیسا کہ دوسری آیات سے ثابت ہے، نفس انسانی کی تطہیر کرنا ہے۔
پھر اقرب الموارد میں لکھا ہے کہ قدّوس ایسی ہستی ہے جو پاک اور تمام عیوب و نقائص سے منزّہ و مبرّا ہے۔ بالکل پاک صاف ہے۔ ہر لحاظ سے پاک کی ہوئی ہے۔ پھر اَلْقُدْس کے معنی لکھتے ہیں پاکیزگی اور برکت۔ تقریباً یہی ملتے جلتے معنی لسان العرب میں لکھے ہیں، یہ چند مشہور لغات ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تمام لغات سے جو معنی اخذ کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ اَلْقُدُّوْس تمام پاکیزگیوں کا جامع ہے یعنی صرف عیوب سے ہی مبرّا نہیں ہے، صرف عیوب سے ہی پاک نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی خوبیاں بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ پاک ذات ہے جس میں ہر قسم کی پاکیزگی جمع ہے، ہر قسم کے عیب سے وہ پاک ہے، اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کسی بھی قسم کے عیب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور کوئی ایسی خوبی نہیں جس کا انسانی عقل احاطہ کر سکے اور اس میں موجود نہ ہوبلکہ وہ تو اُن خوبیوں کا بھی جامع ہے جو اس میں جمع ہیں، جو موجود ہیں اور وہ تمام خوبیاں بھی جن کا انسانی عقل احاطہ نہیں کر سکتی اور یہی اس قدوس ذات کی عظمت ہے…
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں ایک جگہ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ‘‘آپؐ کی تاثیرات کا سلسلہ بند نہیں ہوا بلکہ اب تک وہ چلی جاتی ہیں۔ قرآن شریف کی تعلیم میں وہی اثر، وہی برکات اب بھی موجود ہیں ۔’’ (ملفوظات جلد ۴صفحہ۶۳۰۔ ایڈیشن۱۹۸۸)
پس جب خدا بھی وہی قدوس ہے توجو اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرے وہ اس سے فیض پاتا ہے۔ اس کے رسول کی تاثیرات بھی قائم ہیں، اس کی کتاب کی تاثیریں بھی قائم ہیں، اِس زمانے میں اُس نے اپنے مسیح و مہدی کی قوت قدسی کے نظارے بھی ہمیں دکھا دئیے اور دکھا رہا ہے۔ یہ سب باتیں ہمیں اس قدوس خدا کی صفت سے فیضیاب بنانے والی ہونی چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۰؍اپریل ۲۰۰۷ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل لندن مورخہ ۱۱تا۱۷؍مئی۲۰۰۷ءصفحہ۵تا۷)
مزید پڑھیں: غزوۂ حنین کے تناظر میں سیرت نبویﷺ کا بیان۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۵؍ستمبر ۲۰۲۵ء




