سورج اور چاند گرہن
(انتخاب از خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۰؍مارچ۲۰۱۵ء)
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ جب سورج گرہن ہوا تو میں حضرت عائشہؓ کے پاس آئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی ہیں۔ مَیں نے کہا لوگوں کو کیا ہوا ہے اس وقت کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضرت عائشہؓ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی نشان ہے؟ انہوں نے سر ہلا کر اشارے سے کہا: ہاں۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں بھی کھڑی ہو گئی یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی۔ (یعنی نماز اتنی لمبی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی۔) کہتی ہیں مجھے غشی طاری ہونے لگی تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جسے میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا مگر اپنی اس جگہ پر کھڑے کھڑے اسے دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جنت اور آگ کو بھی۔ اور مجھے وحی کی گئی ہے کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے دجّال کے فتنے کی طرح یا اس کے قریب۔
پھر فرمایا تم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا۔ اس سے پوچھا جائے گا کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تجھے کیا علم ہے؟ تو مومن یا یقین رکھنے والا جو ہے، (اسماء کہتی ہیں دونوں میں سے کوئی ایک لفظ استعمال ہوا) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ہمارے پاس نشانات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے آپ کو قبول کیا اور ایمان لائے اور آپ کی پیروی کی۔ اسے کہا جائے گا تو عمدہ نیند سو جا۔ ہمیں پتا ہے کہ تو یقیناً ایمان رکھنے والا تھا۔ اور جو شخص منافق یا شبہ رکھنے والا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں کہے گا مَیں نہیں جانتا، کیا ہیں۔ میں نے تو لوگوں کو سنا وہ ایک بات کہتے تھے مَیں نے بھی ہاں کہہ دی۔ (صحیح البخاری کتاب الکسوف باب صلوٰۃ النساء مع الرجل حدیث: 1035)
اسی طرح آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔ اس کا کسی کی زندگی اور موت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس میں دعا کرنی چاہئے۔ استغفار کرنا چاہئے۔ (صحیح مسلم کتاب الکسوف وصلاتہ باب ذکر النداء بصلوٰۃ الکسوف… حدیث: 2117)
اب میں چاند سورج گرہن کی پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجودیکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں اللہ تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الٰہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن ان کا خذلان اور ان کا نامراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔ (یعنی ان کی بدنصیبی اور نامرادی ثابت ہوتی ہے۔ ) مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگا تھا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑکا شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا مدّعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اوّل تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہرگز کسوف خسوف نہیں ہو گا بلکہ اس وقت ہو گا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے۔ اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں کے مطابق نہیں کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اوّل رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے گا‘‘۔ فرمایا ’’حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔ اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مرادنہیں اور پہلی تاریخ کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔ سو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اُس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔ یعنی مہینے کی تیرھویں رات۔ اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔ تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کو سن کر بڑے شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکاہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے۔ (یعنی جو روایت کرنے والے تھے ان میں سے ایک راوی اچھا نہیں تھا۔ ) تب ان کو کہا گیا کہ جبکہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہو گئی تو وہ جرح جس کی بناء شک پر ہے اس یقینی واقعے کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔ یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ وہ صادق کا کلام ہے اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محدثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانے میں پوری ہو جانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔ لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔ (یعنی مدّعی کے) یہ ایک شکّی امر ہے اور کبھی کاذب بھی سچ بولتا ہے(یعنی کبھی جھوٹا بھی سچ بول سکتا ہے۔ ) ماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طُرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے۔ اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہو گا مگر یہ شخص امام موعودنہیں ہے (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) بلکہ وہ اَور ہو گا جو بعد میں اس کے عنقریب ظاہر ہو گا۔ مگر یہ ان کا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔ اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ ان کی کتابیں مت دیکھو۔ ان سے ملاپ مت رکھو۔ ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔ لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔ یہ کس قدر اُن کی ذلّت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبے کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔‘‘(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13صفحہ 507تا509)
اور ایک جگہ آپؑ نے فرمایا کہ ’’ہمارے لئے کسوف خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور صدہا آدمی اس کو دیکھ کر ہماری جماعت میں داخل ہوئے اور اس کسوف خسوف سے ہم کو خوشی پہنچی اور مخالفوں کو ذلّت۔ کیا وہ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کا دل چاہتا تھا کہ ایسے موقع پر جو ہم مہدی موعود کا دعویٰ کر رہے ہیں کسوف خسوف ہو جائے اور بلاد عرب میں اس کا نام و نشان نہ ہو اور پھر جبکہ خلاف مرضی ظاہر ہو گیا تو بیشک ان کے دل دکھے ہوں گے اور اس میں اپنی ذلّت دیکھتے ہوں گے۔‘‘ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 33)
اس کے بعد اب میں بعض صحابہ کے واقعات بیان کرتا ہوں۔ حضرت غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خاکسار کے گاؤں میں پہلے پہل ایک صاحب مولوی بدرالدین صاحب نامی تھے۔ ان دنوں میں فدوی کی عمر قریباً پندرہ برس کی ہو گی۔ بندہ مولوی بدرالدین صاحب کے گھر کے سامنے ان کے ہمراہ کھڑا تھا کہ دن میں سورج کو گرہن لگا اور مولوی صاحب نے فرمایا: سبحان اللہ! مہدی صاحب کے علامات ظہور میں آ گئے اور ان کی آمد کا وقت آ پہنچا۔ بعد کچھ عرصہ گزرنے کے مولوی صاحب احمدی ہو گئے۔ مولوی صاحب بہت ہی مخلص اور نیک فطرت اور پُر اخلاص تھے۔ انہوں نے اپنے والدین اور بیوی کو ایک سال کی کوشش کرکے احمدی کیا۔ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ، جلد 6صفحہ 305، 306روایت حضرت غلام محمد صاحبؓ والد علی بخش صاحب سکنہ قادرآباد ضلع امرتسر)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: بعض معاشرتی برائیوں کی نشاندہی اور ان سے بچنے کی تلقین




