حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ایک بہت اہم تعلیم اپنے عہد کو پورا کرنا ہے

آج کل کے معاشرے میں ایک یہ بھی بیماری عام ہے کہ بات کرو تو مکر جاؤ، وعدہ کرو تو اسے پورا کرنے میں ٹال مٹول سے کام لو، جب کوئی عہد کرو تو اس کو توڑنے کے بہانے تلاش کرو کیونکہ دوسری طرف بہتر مفاد نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اور یہ باتیں انفرادی طور پر بھی اور جہاں پانچ دس افراد اکٹھے مل کر کام کررہے ہوں، کوئی مشترکہ کاروبار ہو وہاں بھی۔ اور بدقسمتی سے ملک ملک سے بھی جب معاہدے کرتے ہیں تو بدعہدی اور زیادتی کر رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر جب کسی امیر ملک اور غریب ملک میں کوئی معاہدہ ہو تو بعض دفعہ اپنے مفاد منوانے کی خاطر دباؤ ڈالتے ہیں اور اگر دباؤ میں آنے سے کوئی انکاری ہو تو پھر معاہدوں میں بد عہدیاں شروع ہو جاتی ہیں تو بہرحال یہ ایک ایسی برائی ہے جو شخصی معاہدوں سے لے کر بین الاقوامی معاہدوں تک حاوی ہے، سب تک پھیلی ہوئی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ فرمایا اگر تم میری محبت چاہتے ہو، یہ چاہتے ہو کہ میں تم سے راضی رہوں، یہ چاہتے ہو کہ میں تمہاری دعاؤں کو سنوں تو تقویٰ اختیا کرو، مجھ سے ڈرو، میری تعلیم پر عمل کرو۔ اور تعلیم میں سے بھی ایک بہت اہم تعلیم اپنے عہد کو پورا کرنا ہے، اپنے وعدوں کا پاس رکھنا ہے۔ تو قرآن کریم نے مختلف پیرایوں میں، مختلف حالات میں عہد کی جو صورتیں ہو سکتی ہیں ان پر روشنی ڈالی ہے۔ فرماتا ہے کہ نیکیاں قائم کرنے کے لئے حقوق اللہ اورحقوق العباد بھی ادا کرو اور ان کو ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد کو بھی پورا کرو اور بندوں سے کئے گئے معاہدوں اور وعدوں پر بھی عملدرآمد کرو۔

امام رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں اَوْفُوْ ابِالْعَھْدِ خداوند تعالیٰ کے اس حکم کے مشابہ ہے کہ یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِِ اور اس قول میں تمام عقد مثلاً عقد بیع، عقد شرکت، عقد یمین، عقد نظر، عقد صلح اور عقد نکاح وغیرہ سب شامل ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ خلاصہ یہ کہ اس آیت کا منشاء یہ ہے کہ دو انسانوں کے درمیان جو بھی عقد ہو اور جو عہد قرار پائے اس کے مطابق دونوں پر اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ (تفسیر کبیر رازی جلد ۵ صفحہ ۵۰۵)

…بہت سے جھگڑے اس بات پر ہو رہے ہوتے ہیں کہ فروخت کرنے والا کہتا ہے کہ میں نے فلاں چیز اتنی تعداد میں دی یا اگر زمین کا معاملہ ہے تو اتنا رقبہ دیا ہے اور معاہدے میں اتنا ہی لکھا ہوتا ہے لیکن اصل میں موقع پر کچھ اور ہوتا ہے۔ اب بیچنے والا اپنے اس عمل کی وجہ سے اس سودے میں بد عہدی کا مرتکب ہو رہا ہوتا ہے اور جھگڑے ہوتے ہیں پھر جھگڑے قضا میں جاتے ہیں، عدالتوں اور پولیس میں جاتے ہیں، کیس بن رہے ہوتے ہیں، تو ایک فریق تو بدعہدی کا مرتکب ہورہا ہوتا ہے اور دوسرا بے صبری اور کم حوصلگی کا۔ پھر جیسا کہ امام رازی نے لکھا ہے، کاروبار میں شراکت داریاں ہیں اس میں بھی عہد کی پابندی کی ضرورت ہے، معاہدے ہوتے ہیں جس جس کا جتنا جتنا حصہ ہو جتنا جتنا شیئر(Share)ہو اس کے مطابق کاروبار ہو گا۔ پھر یہ کہ کس نے کیاکام کرنا ہے کس نے کتناسرمایہ لگانا ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اگر کسی فریق میں بھی کوئی بدنیتی پیدا ہو جائے تو پھر اس کے ساتھ ہی بدعہدی بھی شروع ہو جاتی ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷؍فروری ۲۰۰۴ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل۱۲؍مارچ ۲۰۰۴ء)

مزید پڑھیں: زنا کی ہر قسم سے بچو

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button