آنحضرت ﷺکااپنے معاندین کے ساتھ عفو کا سلوک
تقریر بر موقع جلسہ سالانہ ہالینڈ ۲۰۲۵ء
وَلۡیَعۡفُوۡا وَلۡیَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔(النور:۲۳)اور چاہیے کہ وہ عفو سے کام لیں اور درگزر کریں کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرے اور اللہ بہت معاف کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔
لیا ظلم کا عفو سے انتقام
عَلَیْکَ الصَّلوٰۃُ عَلَیْکَ السَّلَام
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔
ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت عائشہؓ سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیے تو حضرت عائشہؓ نے بڑا جامع و مانع بیان فرمایا کہ کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآن۔ یعنی آپؐ کے اخلاق حمیدہ سب قرآن کریم کے مطابق تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ حضرت امام مالک ؒنے بیان کیا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ مجھے اخلاق حسنہ کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ (مشكوٰة المصابيح كتاب الآداب حدیث: ۵۰۹۶)
آپؐ کے اخلاق حسنہ کا ظہور اپنوں ، بیگانوں ، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ یکساں نظر آتا ہے۔ جو آیت قرآنی خاکسار نے شروع میں تلاوت کی تھی اس کا ترجمہ حضرت مسیح موعودؑ نے یوں بیان فرمایا ہے: ’’لوگوں کے گناہ بخشو اور ان کی زیادتیوں اورقصوروں کو معاف کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہیں معاف کرے اور تمہارے گناہ بخشے اور وہ تو غفوراور رحیم ہے۔ ‘‘(چشمۂ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳، صفحہ۳۸۷)
اس آیت کریمہ کے مطابق آپ کی ذات سراپا شفقت و رحمت تھی۔ آپ کا ہر ایک کے ساتھ پیار، محبت اور عزت کا رشتہ استوار تھا۔ لیکن جوں ہی آپؐ نے خدائی حکم کے مطابق اپنی قوم کو ایک خدا کی طرف بلایا۔ تو وہ آپ کے جانی دشمن بن گئے جس کی چند مثالیں ذیل میں پیش ہیں۔ لیکن اس سے قبل یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے پیارے امام حضرت سیدنا خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ایک لمبے عرصے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، اسلام کی حسین تعلیم، رسول کریم ﷺ کی حسین سیرت، عفو و کرم اور رحم کے واقعات اپنے خطبات جمعہ میں بیان فرما رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان کو غور سے سنیں اور اُن کا مطالعہ کرتے رہیں۔
رسول کریم ﷺ پر مظالم
آنحضرت ﷺ کو جو تکالیف دی گئیں ان کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ گو آپ کو خانہ کعبہ میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں تھی مگر کبھی کبھی آپ محبتِ الٰہی کے جوش میں وہاں چلے جاتے اور نماز ادا فرماتے۔ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ شہر کے غُنڈے اکٹھے ہوگئے اور انہوں نے آپ کو پیٹنا شروع کر دیا اور پھر آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر اُسے گھونٹنے لگے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ دَوڑے دَوڑے وہاں آئے اور انہیں ہٹانا شروع کیا۔ اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پُونچھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ اے میری قوم! تم کو کیا ہوگیا کہ تم ایک ایسے شخص کو مارتے ہو جس کا قصور سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔ (بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم باب قول النبي صلى الله عليه وسلّم لو كنت متخذا خليلا!) اسی طرح آپ پر ایمان لانے والوں کو طرح طرح کے دُکھ دیئے جاتے۔ (سیر روحانی (۲)،انوار العلوم جلد ۲۲صفحہ ۵۹۸)
ایک دفعہ آپؐ نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ کی پیٹھ مبارک پر اُونٹ کی اوجھری لا کر رکھ دی گئی اور اس کے بوجھ سے اُس وقت تک آپؐ سر نہ اُٹھا سکے جب تک بعض لوگوں نے پہنچ کر اُس او جھری کو آپ کی پیٹھ سے ہٹایا نہیں۔
ایک دفعہ آپؐ بازار سے گزر رہے تھے تو مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپؐ کے گرد اکٹھی وہ گئی اور رستہ بھر آپؐ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو! یہ وہ شخص ہے جو کہتا ہے میں نبی ہوں۔
آپؐ کے گھر میں اردگرد کے گھروں سے متواتر پتھر پھینکے جاتے تھے۔ باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں۔ جن میں بکروں اور اونٹوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔ جب آپ نماز پڑھتے تو آپ پر خاک دھول ڈالی جاتی حتٰی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے ایک پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی تھی۔ مگر یہ مظالم بیکار نہ جارہے تھے۔ شریف الطبع لوگ اِن کو دیکھتے اور اسلام کی طرف اُن کے دل کھنچے چلے جاتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خانہ کعبہ کے قریب صفا پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ابوجہل آپ کا سب سے بڑا دشمن اور مکہ کا سردار وہاں سے گزرا اور اُس نے آپ کو گالیاں دینی شروع کیں۔ آپ اُس کی گالیاں سنتے رہے اور کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے۔ آپ کے خاندان کی ایک لونڈی اس واقعہ کو دیکھ رہی تھی۔ شام کے وقت آپ کے چچا حمزہؓ جو ایک نہایت دلیر اور بہادر آدمی تھے اور جن کی بہادری کی وجہ سے شہر کے لوگ اُن سے خائف تھے شکار کھیل کر جنگل سے واپس آئے اور کندھے کے ساتھ کمان لٹکائے ہوئے نہایت ہی تبختر کے ساتھ اپنے گھر میں داخل ہوئے۔ لونڈی کا دل صبح کے نظارہ سے بےحد متاثر تھا۔ وہ حمزہؓ کو اس شکل میں دیکھ کر برداشت نہ کر سکی اور انہیں طعنہ دے کر کہا۔ تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو، ہر وقت اسلحہ سے مسلح رہتے ہو۔ مگر کیا تمہیں معلوم ہے کہ صبح ابو جہل نے تمہارے بھتیجے سے کیا کیا؟ حمزہ ؓنے پوچھا کیا کیا؟ اُس نے وہ سب واقعہ حمزہؓ کے سامنے بیان کیا۔ حمزہؓ گو مسلمان نہ تھے مگر دل کے شریف تھے۔ اسلام کی باتیں تو سنی ہوئی تھیں اور یقیناً اُن کے دل پر ان کا اثر ہو چکا تھا مگر اپنی آزاد زندگی کی وجہ سے سنجیدگی کے ساتھ اُن پر غور کرنے کا موقع نہیں ملا تھا لیکن اس واقعہ کو سن کر اُن کی رگِ حمیت جوش میں آگئی۔ آنکھوں پر سے غفلت کا پردہ دُور ہو گیا اور انہیں یوں معلوم ہوا کہ ایک قیمتی چیز ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ اُسی وقت گھر سے باہر آئے اور خانہ کعبہ کی طرف گئے جو رؤساء کے مشورے کا مخصوص مقام تھا۔ اپنی کمان کندھے سے اُتاری اور زور سے ابو جہل کو ماری اور کہا سنو ! میں بھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مذہب کو اختیار کرتا ہوں۔ تم نے صبح اُسے بلا وجہ گالیاں دیں اس لیے کہ وہ آگے سے جواب نہیں دیتا۔ اگر بہادر ہو تو اَب میری مار کا جواب دو۔ یہ واقعہ ایسا اچانک ہوا کہ ابو جہل بھی گھبرا گیا۔ اُس کے ساتھی حمزہؓ سے لڑنے کو اُٹھے لیکن حمزہؓ کی بہادری کا خیال کر کے اور اُن کے قومی جتھا پر نظر کر کے ابوجہل نے خیال کیا کہ اگر لڑائی شروع ہو گئی تو اس کا نتیجہ نہایت خطرناک نکلے گا اِس لیے مصلحت سے کام لے کر اُس نے اپنے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے روک دیا کہ چلو جانے دو میں نے واقعہ میں اِس کےبھتیجے کو بہت بُری طرح گالیاں دی تھیں۔ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۱۹۷تا ۱۹۹)
حضرت خبابؓ پر ظلم
حضرت خبابؓ مکہ میں شروع اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے۔ یہ ایک عورت کے غلام تھے۔ اور لوہار کا کام کیا کرتے تھے۔ اُن کو بھی خدا کے راستہ میں سخت سے سخت تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ سب سے پہلے گھر سے باہر کے لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تھے۔ وہ یہ ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ، خبابؓ، صہیبؓ، بلال ؓ، عمارؓ، عمار کی والدہ اور والد۔ حضرت ابوبکرؓ کے سوا باقی یہ لوگ یا تو غلام تھے یا پیشہ ور تھے۔ اور تھے بھی ادنیٰ درجے کے۔ اس لیے ان پر بڑے بڑے ظلم توڑے جاتے تھے۔ ان کو لوہے کی زرہیں پہنائی جاتی تھیں۔ اور چلچلاتی دھوپ میں لٹایا جاتا تھا اور ان پر پتھر رکھے جاتے۔ گلے میں رسیاں باندھ کر زمین پر گھسیٹا جاتا۔ لوہا گرم کر کے بدن کو داغ دیئے جاتے۔ مگر یہ لوگ استقلال سے اسلام پر قائم تھے۔ حضرت خبابؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم نے تنگ آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تکلیفوں کی شکایت کی۔ آپؐ کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر لیٹے تھے۔ ہم لوگوں نے عرض کیا۔ یارسول اللہؐ! آپ ہمارے لیے خدا سے مدد کیوں نہیں مانگتے ؟ آپؐ یہ سن کر اُٹھ بیٹھے۔ آپؐ کا چہرہ مبارک سُرخ ہو گیا اور فرمانے لگے تم سے پہلی اُمتوں میں جو ایمان والے گزر چکے ہیں۔ ان کی تو یہ حالت تھی کہ ایک کو پکڑ کر زمین کھود کر آدھا گاڑ دیتے تھے۔ اور پھر آرا سے اُسے لکڑی کی طرح چیر ڈالتے تھے۔ مگر وہ اپنے دین پر قائم رہتے تھے۔ اور کسی کا گوشت لوہے کی کنگھیوں سے ادھیڑا جاتا تھا۔ اور وہ کنگھیاں اس کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھیں۔ مگر وہ اپنے دین سے نہ پھرتے تھے۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو بھی یقیناً غلبہ دے گا… مگر تم لوگ جلدی کرتے ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خبابؓ کی دکان پر کبھی کبھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔ اور ان سے بہت محبت کیا کرتے تھے۔ جب خبابؓ کی مالکن کو یہ خبر ملی۔ تو وہ لوہا گرم کر کے ان کے سر پر رکھا کرتی…
حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے زمانےمیں ایک دن ان سے پوچھا کہ اے خبابؓ !سناؤ تمہیں مکہ کے کافروں سے کیا کیا تکالیف پہنچا کرتی تھیں۔ خبابؓ بولے۔ اے امیر المومنینؓ! میری پیٹھ دیکھ لو۔ حضرت عمرؓ نے دیکھ کر کہا کہ میں نے آج تک ایسی پیٹھ کسی کی نہیں دیکھی۔ خبابؓ کہنے لگے کہ آگ روشن کی جاتی تھی۔ اور اس دہکتی آگ پر وہ لوگ مجھے لٹا دیتے تھے۔اور پکڑ کر دبائے رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ میری چربی پگھل کر آگ کو بجھا دیتی تھی۔ (مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب جلد اول صفحہ ۵۰۵، ۵۰۶)
جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کی تبلیغ کو جاری رکھا اور کسی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر خدائے واحد کی طرف لوگوں کو بلانا شروع کیا تو پھر مکہ کے رؤساء گھبرا گئے۔ اُن کے دلوں میں خوف پیدا ہوگیا۔ وہ سب جمع ہوگئے۔ اور مشورے شروع کر دیے، منصوبے بنائے۔ وہ ایسے فیصلے اور منصوبے تھے گویا اب مکہ سنجیدگی سے اسلام کے ساتھ ٹکرانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ کیوں کہ اسلام ان کی نگاہ میں مکہ کی سیاست کے لیے خطرہ تھا۔ مکہ کے مذہب کے لیے خطرہ تھا۔ مکہ کے تمدن کے لیے خطرہ تھا اور مکہ کے رسم و رواج کے لیے خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔ اسلام ایک نیا آسمان اورنئی زمین بناتا ہوا نظر آرہا تھا۔ اب یہ مکہ والوں کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہوگیا تھا۔
چنانچہ مکہ والوں نے جو مظالم توڑے ان کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: عورتیں بےشرمانہ طریقوں سے قتل کی گئیں۔ مرد ٹانگیں چیرچیر کر مار ڈالے گئے۔ غلام تپتی ہوئی ریت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹے گئے۔ اِس حد تک کہ اُن کے چمڑے انسانی چمڑوں کی شکلیں بدل کر حیوانی چمڑے بن گئے۔ ایک مدت بعد اسلام کی فتح کے زمانہ میں جب اسلام کا جھنڈا مشرق و مغرب میں لہرا رہا تھا ایک دفعہ ایک ابتدائی نو مسلم غلام خبابؓ کی پیٹھ ننگی ہوئی تو اُن کے ساتھیوں نے دیکھا کہ اُن کی پیٹھ کا چمڑا انسانوں جیسا نہیں جانوروں جیسا ہے وہ گھبرا گئے اور اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو یہ کیا بیماری ہے؟ وہ ہنسے اور کہا بیماری نہیں یہ یاد گار ہے اُس وقت کی جب ہم نو مسلم غلاموں کو عرب کے لوگ مکہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور متواتر یہ ظلم ہم پر روار کھے جاتے تھے اُس کے نتیجہ میں میری پیٹھ کا چمڑا یہ شکل اختیار کر گیا ہے۔
مومن غلاموں پر کفّارِ مکہ کا ظلم و ستم
یہ غلام جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے مختلف اقوام کے تھے ان میں حبشی بھی تھے جیسے بلالؓ، رومی بھی تھے جیسے صہیبؓ۔ پھر اُن میں عیسائی بھی تھے جیسےجبیر ؓ اور صہیبؓ۔ اور مشرکین بھی تھے جیسے بلالؓ اور عمارؓ۔
بلالؓ کو اُس کے مالک تپتی ریت پر لٹاکر او پر یا تو پتھر رکھ دیتے یا نو جوانوں کو سینہ پر کودنے کے لیے مقرر کر دیتے۔ حبشی النسل بلالؓ امیہ بن خلف نامی ایک مکی رئیس کے غلام تھے۔ اُمیہ اُنہیں دو پہر کے وقت گرمی کے موسم میں مکہ سے باہر لے جا کر تپتی ہوئی ریت پر ننگا کر کے لٹا دیتا تھا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ کر کہتا تھا کہ لات اور عزیٰ کی الوہیت کو تسلیم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے علیحدگی کا اظہار کر۔ بلال اُس کے جواب میں کہتے اَحَدٌ اَحَدٌ یعنی اللہ ایک ہی ہے اللہ ایک ہی ہے۔ بار بار آپ کا یہ جواب سن کر اُمیہ کو اور غصہ آجاتا اور وہ آپ کے گلے میں رسہ ڈال کر شریر لڑکوں کے حوالے کر دیتا اور کہتا کہ ان کو مکہ کی گلیوں میں پتھروں کے اوپر سے گھسیٹتے ہوئے لے جائیں۔ جس کی وجہ سے اُن کا بدن خون سے تر بتر ہو جا تا مگر وہ پھر بھی اَحَدٌ اَحَدٌ کہتے چلے جاتے، یعنی خدا ایک خدا ایک… خدا تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرتا رہتا تھا اور اپنی وفاداری، اپنے توحید کے عقیدہ اور اپنے دل کی مضبوطی کا ثبوت دیتا تھا…
حضرت عمارؓ کے والد یا سرؓ اور آپ کی والدہ سمیہؓ کو بھی کفار بہت دکھ دیتے تھے۔ چنانچہ ایک دفعہ جبکہ اُن دونوں کو دکھ دیا جارہا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس سے گزرے۔ آپ نے اُن دونوں کی تکلیفوں کو دیکھا اور آپ کا دل درد سے بھر آیا۔ آپ اُن سے مخاطب ہو کر بولے صَبرًا اٰلَ يَاسِر فَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْجَنَّةَ۔ اے یا سر کے خاندان ! صبر سے کام لو۔ خدا نے تمہارے لیے جنت تیار کر چھوڑی ہے۔ اور یہ پیشگوئی تھوڑے ہی دنوں میں پوری ہوگئی کیونکہ یا سرؓ مار کھاتے کھاتے مرگئے مگر اِس پر بھی کفار کو صبر نہ آیا اور اُنہوں نے اُن کی بڑھیا بیوی سمیہؓ پر ظلم جاری رکھے۔ چنانچہ ابو جہل نے ایک دن غصہ میں اُن کی ران پر زور سے نیزہ مارا جو ران کو چیرتا ہوا اُن کے پیٹ میں گھس گیا اور تڑپتے ہوئے اُنہوں نے جان دے دی۔
ز نیرہؓ بھی ایک لونڈی تھیں اُن کو ابو جہل نے اتنا مارا کہ اُن کی آنکھیں ضائع ہو گئیں۔
ابوفکیہہؓ صفوان بن امیہ کے غلام تھے۔ اُن کو اُن کا مالک اور اُس کا خاندان گرم تپتی ہوئی زمین پر لٹا دیتا اور بڑے بڑے گرم پتھر اُن کے سینہ پر رکھ دیتا یہاں تک کہ اُن کی زبان باہر نکل آتی۔ (دیباچہ تفسیر القرآن،انوار العلوم جلد ۲۰ صفحہ ۱۹۳تا ۱۹۶)
یہ تو غلاموں کا حال تھا۔ مگر آزاد مسلمان بھی کفار کے ظلموں کا اسی طرح نشانہ بنے۔ حضرت عثمانؓ چالیس سال کی عمر کے تھے۔ مالدار تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو اُن کے چچا نے اُن کو رسیوں سے باندھ کر خوب پیٹا۔
جب یہ سب دلسوز واقعات ہو رہے تھے اور کفار مسلمانوں کو تکلیف دینا اپنا فریضہ سمجھ رہے تھے تو اس زمانے میں حضرت خباب بن ارتؓ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم )! دشمنوں کے حق میں بددعا فرمائیے۔ یہ سن کر آپؐ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔
جب اس قسم کی بات کچھ اور صحابہؓ نے بھی آپؐ سے کہی تو آپ نے فرمایا:إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لَعَّانًا، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ رَحْمَةً۔ (صحیح مسلم کتاب البر و الصلۃ و الآداب باب النَّهْيِ عَنْ لَعْنِ الدَّوَابِّ وَغَيْرِهَا حدیث نمبر ۶۶۱۳)میں دنیا کے لیے لعنت نہیں بلکہ رحمت بنا کربھیجا گیا ہوں۔
وہ قریش جنہوں نے تین برس تک آپ کو محصور رکھا۔ اور ہر قسم کا بائیکاٹ کیا۔ جو ایک دانہ غلہ کا بھی آپ تک پہنچانے کے روادار نہ تھے۔ اس وقت مکہ میں شدید قحط پڑا خدا تعالیٰ نے اُن سے ابر رحمت اٹھا لیا۔ لوگ ہڈیاں اور مردار کھانے لگے اس وقت ابوسفیان نے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ محمد! تمہاری قوم ہلاک ہورہی ہے خدا سے دعا کرو کہ یہ مصیبت دُور ہو۔ آپؐ نے بلاعذر فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور خدانے اس مصیبت سے اُن کو نجات دی۔ (صحیح بخاری تفسیر سورۃ الدخان)
جنگ احد کے واقعات بھی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہمیں سنائے اس موقع پر دشمن نے آپؐ پر پتھر پھینکے۔ تیر برسائے، تلواریں چلائیں۔ دندان مبارک کو شہید کیا۔جبین مبارک خون آلودہ ہوگئی لیکن ان مظالم کے باوجود آپؐ نےیہی دعا کی۔
اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۔ خدایا !ان کو معاف کرنا کہ یہ نادان ہیں۔
دوس کا قبیلہ یمن میں رہتا تھا، حضرت طفیل بن عمر دوسیؓ اسی قبیلہ کے رئیس تھے۔ مدت تک وہ اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیتے رہے لیکن وہ اپنے کفر پر اڑا رہا۔ ایک دفعہ حضرت طفیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے قبیلے کی حالت بیان کر کے بد دعا کی درخواست کی لیکن رحمۃ للعالمین نے جو دعا کی وہ یہ تھی۔اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ۔ اے اللہ! دوس قبیلہ کو ہدایت دے کر لا۔
جب آپؐ طائف تشریف لے جاتے ہیں۔ یہ شہر مکہ سے ساٹھ میل کی مسافت پر ہے اور یہ شہر بھی بت پرستی میں مکہ والوں سے کم نہ تھا۔ جب آپ طائف پہنچے اور پیغام حق پہنچانے لگے تو کوئی شخص بھی سننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ آپؐ حضرت زیدؓ کی ہمراہی میں وہاں گئے تھے۔ اہل طائف اور اُن کے رؤساء اکٹھے ہوگئے۔ انہوں نے کتے اپنے ساتھ لیے، لڑکوں کو اکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور بے دردی کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھراؤ کرنا شروع کر دیا۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔ آپؐ کے پاؤں لہولہان ہوگئے۔ اور زید ؓ بھی آپ کو بچاتے بچاتے سخت زخمی ہوگئے۔ مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا۔ وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے۔ چلتے گئے اورجب تک شہر سے باہر کئی میل دور کی پہاڑیوں تک آپ پہنچ نہ گئے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔
اس دوران پہاڑوں کا فرشتہ آپؐ پر نمودار ہوا اور کہا کہ اگر آپؐ پسند کریں تو یہ پہاڑ اِن پر الٹ دوں اور ان کو ہلاک کر دوں۔ مگر آپؐ نے فرمایا نہیں اور دعا کی کہ اے اللہ! اِن کو معاف کر دے یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوارالعلوم جلد۲۰ صفحہ ۲۱۱)
اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں آنحضرت ﷺ کو عفو کی تعلیم دی اور حکم فرمایا۔ سورۃ الحجر آیت ۸۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْل۔ اے رسول !تو ان کی زیادتیوں پر بہت درگزر سے کام لے۔
چنانچہ آپؐ کی ساری زندگی ہی عفو کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ آپؐ نے صحابہ ؓکو بھی یہی تعلیم فرمائی کہ پہلوان وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے۔ بلکہ اصل پہلوان وہ ہے جو اپنے غصہ کو دبا لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھے کوئی خاص نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا کبھی غصہ نہ کرنا۔ اور آپؐ نے یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا کہ غصہ مت کرنا۔ غصہ مت کرنا۔ (صحیح بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب)
ابوجہل کے بیٹے عکرمہ سے عفو کا سلوک
واجب القتل مجرموں میں دشمن اسلام ابوجہل کا بیٹا اور مشرکین مکہ کا سردار عکرمہ بھی تھا۔ جس نے ساری عمر مخالفت اور عداوت میں گزاری مسلمانوں اور بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کو وطن سے بے وطن کیا۔ پھر مدینے میں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ ان پر جنگیں مسلط کیں۔ حدیبیہ کے مقام پر عمرہ کرنے سے بھی روکا۔ اور پھر اس موقعہ پر جو معاہدہ کیا اُسے توڑنے اور پامال کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ فتح مکہ کے موقع پر امن کے اعلان عام کے باوجود ہتھیار نہ ڈالے۔ اپنے ان جرائم کی معافی کی کوئی صورت نہ دیکھ کر فتح مکہ کے بعد عکرمہ یمن کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کی بیوی مسلمان ہو چکی تھی۔ وہ رسول کریم ﷺ کے دربار عفو سے اپنے خاوند کی معافی اور امن کی طالب ہوئی۔
حضور ﷺ نے اس جانی دشمن کے لیے بھی امان نامہ عطا فرمایا۔ اس کی بیوی اسے تلاش کرتےکرتے اسے جاملی اور اپنے خاوند عکرمہ سے کہا کہ میں اس عظیم انسان کے پاس سے آئی ہوں جو بہت ہی صلہ رحمی کرنے والا ہے۔ تم اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔ میں تمہارے لیے پروانہ امن اور امان لے کر آئی ہوں۔ عکرمہ کو اپنے جرائم کی وجہ سے معافی کا یقین تو نہ آتا تھا مگر اپنی بیوی پر اعتماد کر کے واپس لوٹ آیا۔ جب رسول کریم ﷺ کےدربار میں حاضر ہوا تو عکرمہ نے عرض کیا کہ میری بیوی کہتی ہے آپ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں وہ درست کہتی ہے۔ عکرمہ کا سینہ کھل گیا اور بے اختیارکہہ اٹھا۔ اے محمدﷺ! آپ تو بہت ہی صلہ رحمی کرنے والے ہیں بے حد حلیم اور بہت ہی کریم ہیں۔چنانچہ وہ کلمہ شہادت پڑھ کر فوراً مسلمان ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب رسول کریم ﷺ کے ایک خواب کی تعبیر بھی پوری ہورہی تھی۔ آپؐ نے ایک رؤیا میں ابوجہل کے ہاتھ میں جنتی پھل انگور کے خوشے دیکھے تھے۔ آج ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کے قبول اسلام سے اس کی تعبیر ظاہر ہوئی۔
عکرمہ نے عرض کی اے خدا کے رسول! میرے لیے اپنے مولیٰ سے بخشش کی دعا کیجئے کہ جو دشمنی میں نے آج تک آپ سے کی وہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے۔ آپ نے اسی وقت دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے اور خدا کے حضور عرض کی:مولیٰ اے میرے مولیٰ! عکرمہ کی سب عداوتیں اور قصور معاف فرما دے۔ اور خود ہی آپ نے عکرمہ کو صدقِ دل سے معاف فرمایا اور ایسا معاف فرمایا کہ مسلمانوں کو تاکید کی کہ عکرمہ کے سامنے اس کے باپ ابوجہل کو برا بھلا نہ کہنا۔ اس سے میرے ساتھی عکرمہ کی دل آزاری ہو گی۔ (اسوۂ انسان کامل صفحہ۵۲۴-۵۲۵)
خیبر کی جنگ کے بعد یہود کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی ایک سازش ہوئی تھی۔
اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۸؍فروری ۲۰۲۵ء میں فرمایا: جب خیبر فتح ہوگیا اور اہل خیبر کے ساتھ معاہدہ ہوگیا۔جس کی بنا پر یہ بری طرح شکست کھانے کے بعد ایک بار پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت سے اس طرح فیض یاب ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف ان کو معاف کردیا بلکہ خیبر میں رہنے کی بھی اجازت دے دی۔
وہ واقعہ یہ ہے کہ یہود خیبر کی فوج کے سپہ سالار سلَّام بن مِشْکَم کی بیوی زینب بنت حارث نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھنی ہوئی بکری کا گوشت پیش کیا اور کہا کہ آپ کے لیے ہدیہ لائی ہوں۔ حضور فرماتے ہیں کہ بعض جگہ یہ بھی ملتا ہے کہ اس سازش میں صرف یہ اکیلی عورت شامل نہ تھی بلکہ یہود کے کچھ اور لوگ بھی تھے… جب صحابہؓ یہ کھانے لگے تو آپؐ نے فرمایا اپنے ہاتھ روک لو کیونکہ یہ دستی کا گوشت بتا رہا ہے کہ یہ زہر آلودہ ہے۔…
مسلم کی روایت کے مطابق اس عورت نے کہا میرا ارادہ آپؐ کو قتل کرنے کا تھا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی طاقت دے۔ لوگوں نے کہا کیا ہم اس عورت کو قتل نہ کردیں۔ جس نے یہ ارادہ کیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا نہیں۔ (الفضل انٹرنیشنل ۲۱، ۲۲ مارچ ۲۰۲۵ء)
فتح مکہ
جب آپؐ دس ہزار قدوسیوں کے لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوتے ہیں تو عجیب منظر ہوتا ہے۔ کوئی قتل و غارت کا بازار گرم نہ ہوا بلکہ امن و سلامتی کا شہزادہ جو کہ یہ کہتا ہے کہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ آج مسجد حرام میں داخل ہونے والے ہر شخص کو امان دی جائے گی۔ اُس ہر شخص کو جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوجائے گا یا اپنے ہتھیار پھینک دے، اپنا دروازہ بند کرلے اور ہاں جو شخص بلالؓ کے جھنڈےکے نیچے آجائے اسے بھی پناہ دی جاتی ہے۔
جب دس ہزار قدوسیوں کا یہ لشکر چلا تو ایک انصاری سعد بن عبادہؓ اپنا دستہ لے کر ابوسفیان کے پاس سے گذرے تو جوش میں آکر یہ کہہ دیا:اَلْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، اَلْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ۔آج جنگ و جدال کا دن ہے۔ آج کعبہ کی عظمت قائم کرنے کا دن ہے۔ (بخاری کتاب المغازی فتح مکہ)
نبی کریم ؐنے یہ سنا تو آپؐ نے اپنے اس کمانڈر کو جو ایک طاقتور قبائلی سردار تھا فوراً معزول کر دیا کہ اس نے حرمت کعبہ کے بارے میں ایک ناحق بات کہہ دی تھی اور ابوسفیان کا دل بھی دکھایا۔ ہاں اس دشمن اسلام ابوسفیان کا جو مفتوح ہوکر بھی آپؐ کی رسالت قبول کرنے میں متامل تھا۔
اے دنیا والو! دیکھو اس عظیم رسولؐ کا حوصلہ،عین حالتِ جنگ میں جرنیلوں کی معزولی کے تمام خطرات سے آگاہ ہوتے ہوئے یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ سعد سے اسلامی جھنڈا واپس لے لیا جائے۔
اور آپؐ نے سعد کا بھی اس قدر خیال رکھا اور ساتھ ہی دوسرا حکم یہ بھی صادر فرمایا کہ سعد کی بجائے سالار فوج اُن کے بیٹے قیس بن سعد کو مقرر کیا جاتا ہے۔ (اسوۂ انسان کامل صفحہ۳۸۹۔۳۹۰)
فتح مکہ کے دن امن کے اعلان عام کی خاطر رسول خداؐ نے سفید جھنڈا لہرایا۔ اور سورۃ فتح کی آیات کی تلاوت فرماتے ہوئے خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اور پھر طواف کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلید بردارِ کعبہ عثمان بن طلحہؓ سے بیت اللہ کی چابیاں منگوائیں۔
جب حضورؐ مکہ میں تھے تو سوموار اور جمعرات کے دن خانہ کعبہ کا دروازہ کھولاجاتا تھا اور لوگ اندر جاتے تھے۔ ایک دفعہ آنحضرتؐ اندر جانے لگے تو اسی عثمان نے اِس پاک رسول کو خدا کےاس گھر میں داخل ہونے سے روک دیا۔ جس کے لیے یہ گھربنایا گیا تھا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت عثمان کو کہا تھا کہ اس خانہ خدا کی چابیاں ایک دن میرے پاس آئیں گی اور پھر جسے میں چاہوں گا دوں گا۔ آج وہ دن آپ کا تھا اور عثمان بن طلحہؓ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے چابیاں خدا کے رسول کو پیش کر رہا تھا۔ (ابن ہشام )
اب دنیا منتظر تھی کہ عثمان بن طلحہ سے بطور انتقام چابیاں واپس لے لی جائیں گی اور کسی اور کے سپرد ہوں گی۔ حضرت علیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض بھی کر چکے تھے کہ آج سے دربانی کعبہ کی خدمت بنو ہاشم کو عطا کی جائے۔ ادھر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں نماز پڑھ کر باہر تشریف لائے اور عثمان بن طلحہ سے ایک عجیب تاریخ ساز انتقام لیا۔ آپؐ نے چابیاں اس کے حوالے کر دیں اور فرمایا ’’آج کا دن احسان اور وفا کا دن ہے اور اے عثمانؓ میں یہ چابیاں ہمیشہ کے لیے تمہیں اور تمہارے خاندان کے حوالے کرتا ہوں اور کوئی بھی تم سے یہ چابیاں واپس نہیں لے گا۔ سوائے ظالم کے۔ ‘‘
یہ احسان دیکھ کر عثمان بن طلحہ کا سر جھک گیا اور اس کا دل محمد مصطفیٰ ؐ کے قدموں میں تھا اُس نے ایک دفعہ پھر صدق دل سے اعلان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک محمدؐ اس کا رسول ہے۔ (الحلبیہ)
یہ تھا انتقام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کتنا حسین ہے یہ انتقام !کوئی ہے جو اس کی نظیر پیش کرے؟
حضرت عائشہؓ نے کیا صحیح فرمایا تھا کہ مَا انْتَقَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِہٖ قَطُّ کہ آپؐ اپنی ذات کے لیے کسی سے ہرگز انتقام نہ لیتے تھے۔
فتح مکہ میں جانی دشمنوں سے عفو
حضورؐ طواف سے فارغ ہو کر جب باب کعبہ کے پاس تشریف لائے تو آپؐ کے تمام جانی دشمن آپؐ کے سامنے تھے۔ آپؐ نے اس جگہ وہ عظیم الشان تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا جس میں اپنے خونی دشمنوں کے لیے معافی کا اعلان تھا، مساوات انسانی کا اعلان تھا، کسی غرور کی بجائے فخر و مباہات کالعدم کرنے کا اعلان تھا۔ یہ معرکہ آراء خطبہ بھی دراصل آپ کے خلق عظیم کا زبردست شاہکار ہے۔ آپؐ نے فرمایا: لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهُ نَصَرَ عَبْدَهٗ وَ هَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَهٗ۔ “اے لوگو! خدا ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس نے فتح کے جو وعدے اس عاجز بندے سے کیے تھے وہ آج پورے کر دکھائے ہیں۔ اس خدائے وحدہٗ لاشریک نے اپنے اس کمزور بندے کی مدد کر کے اس کے مقابل پر تمام جتھوں کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ آج تمام گذشتہ ترجیحات اور مفاخر اور تمام انتقام اور خون بہا میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ …
پھر آپؐ نے فرمایا: ’’اے مکہ والو! اب تم خود ہی بتاؤ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ ‘‘
یہاں ذرا ٹھہریے اور دیکھیے رسول کریمؐ کن لوگوں سے مخاطب تھے ؟ ان خون کے پیاسوں سے جن کے ہاتھ گذشتہ بیس سال سے مسلمانوں کے خون سے لال رنگ تھے۔ ہاں! مسلمان غلاموں کو مکہ کی گلیوں میں گھسیٹنے والے، مسلمان عورتوں کو بیدردی سے ہلاک کرنے والے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے والے اور خود ہمارے آقا و مولا کو تین سال تک ایک گھاٹی میں قید کر کے اذیتیں دینے والے، مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر ان کی نعشوں کا مثلہ کرنے والے، آپ کے چچا حمزہؓ کا کلیجہ چبانے والے، آپؐ کی صاحبزادی زینب پر حملہ کر کے حمل ساقط کرنے والے لیکن جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہیں کس سلوک کی توقع ہے تو کہتے ہیں:’’آپؐ جو چاہیں کر سکتے ہیں مگر آپؐ جیسے کریم انسان سے ہمیں نیک سلوک کی ہی امید ہے اس سلوک کی جو حضرت یوسفؑ نے اپنے بھائیوں سے کیا تھا۔‘‘
مگر رحمۃللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے توان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر ان سے حسن سلوک کیا۔ آپ نے فرمایا: اِذْهَبُوْا أَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ يَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ کہ جاؤ تم سب آزاد ہو صرف میں خود تمہیں معاف نہیں کرتا ہوں بلکہ اپنے رب سے بھی تمہارے لیے عفو کا طلب گار ہوں۔ (ابن ہشام )
یہ وہ سچا عفو تھا جس کے چشمے میرے آقا کے دل سے پھوٹے اور مبارک ہونٹوں سے جاری ہوئے۔ اس رحمت عام اور عفو تام کو دیکھ کر دنیا انگشت بدنداں ہے۔ مستشرقین بھی اس حیرت انگیز معافی کو دیکھ کر اپناسر جھکا لیتے ہیں اور اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
چنانچہ مسٹر آرتھر نے فتح مکہ میں آنحضورؐ کی رحمت و شفقت کے نظارہ پر یوں خراج تحسین پیش کیا ہے۔
It is greatly to his praise that on this occasion, when his resentment for ill-usage in the past might naturally have incited him to revenge, he restrained his army from all shedding of blood, and showed every sign of humility and thanksgiving to Allah for his goodness. Kalid, it is true, did meet force with force at one point, but he was rebuked by Mohammed.
Ten or twelve men who had on a former occasion shown a barbarous spirit, were proscribed, and of them four were put to death, but this must be considered exceedingly humane, in comparison with the acts of other conquerors; in comparison for example, with the cruelty of the Crusaders, who, in 1099, put seventy-thousand Moslems, men, women, and helpless children, to death when Jerusalem fell into their hands; or with that of the English army, also fighting under the cross, which, in the year of grace, 1874, burned an African capital, in its war on the Gold Coast. Mohammed’s victory was in very truth one of religion and not of politics; he rejected every token of personal homage, and declined all regal authority; and when the haughty chiefs of the Koreishites appeared before him he asked:
’’What can you expect at my hands?‘‘
’’Mercy, O generous brother.‘‘
’’Be it so; ye are free!’’ he exclaimed.‘‘
’’فتح مکہ کے اس موقع پر یہ بات ان کے حق میں جائے گی اور وہ قابلِ تعریف ٹھہریں گے کہ اُس وقت جب کہ اہل مکہ کے، ماضی کے انتہائی ظالمانہ سلوک پر انہیں جتنا بھی طیش آتا کم تھا اور ان کی آتشِ انتقام کو بھڑ کانے کے لیے کافی تھا۔ مگر انہوں نے اپنے لشکر وسپاہ کو ہر قسم کے خون خرابے سے روکا، اور اپنے اللہ کے سامنے انتہائی بندگی وعبدیت کا مظاہرہ کیا اور شکرانہ بجالائے۔ صرف دس بارہ آدمی ایسے تھے، جنہیں پہلے سے ہی، ان کے وحشیانہ رویہ کی وجہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا اور ان میں سے بھی صرف چار کو قتل کیا گیا۔ لیکن دوسرے فاتحوں کے وحشیانہ افعال و حرکات کے مقابلہ میں، اسے بہرحال انتہا درجہ کی شرافت و انسانیت سے تعبیر کیا جائے گا (مثال کے طور پر صلیبیوں کے مظالم، کہ ۱۰۹۹ء میں فتح یروشلم کے موقع پر انہوں نے ستر ہزار سے زائد مسلمان مرد، عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا، یا وہ انگریز فوج جس نے صلیب کے زیر سایہ لڑتے ہوئے ۱۸۷۴ء میں افریقہ کے سنہری ساحل پر ایک شہر کو نذر آتش کر ڈالا ) محمد (صلى الله علیہ وسلم) کی فتح درحقیقت دین کی فتح تھی، سیاست کی فتح تھی، انہوں نے ذاتی مفاد کی ہر علامت کو پس پشت ڈالا اور کروفرِشاہی کے ہر نشان کو مسترد کر دیا اور جب قریش کے مغرورو متکبر سردار ان کے سامنے سرنگوں ہو کر آئے تو محمد (صلى الله علیہ وسلم) نے اُن سے پوچھا کہ’’ تمہیں مجھ سے کیا توقع ہے؟‘‘
وہ بولے ’’رحم، اے سخی و فیاض بردار! رحم” انہوں نے فرمایا ‘‘جاؤ تم سب آزادہو۔‘‘ (آرتھر)
لیا ظلم کا عفو سے انتقام
عَلَیْکَ الصَّلوٰۃُ عَلَیْکَ السَّلَام
آئیے !ہم اپنے دلوں میں عہد کریں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کریں گے اور ہر مصیبت، تکلیف جو دشمن کی طرف سے ہمیں پہنچائی جارہی ہے اس پر صبر کرتے ہوئے عفو اور رحم کی اپیل اپنے خدا تعالیٰ سے کرتے رہیں گے۔
جماعت احمدیہ اِس وقت اس حقیقی اسوۂ حسنہ کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے کھڑی ہوئی ہے۔ ہم نے نہ صرف مغرب کی تقلید کو چھوڑنا ہے بلکہ مغربی تہذیب کو تباہ کر کے اس کی بجائے اسلامی تعلیم، اسلامی تہذیب اور اسلام کے اخلاق اور اسلام کے تمدن کو قائم کرنا ہے۔ اور یہ سب کچھ محبت سے ہوگا۔ عفو سے ہوگا۔ رحم سے ہو، لوگوں کے دل جیتنے سے اور تبلیغ کےذریعہ ہوگا۔کیوں کہ قرآن شریف یہی کہتا ہے کہ تم اس نبی رحمت، اس رسول رحمت اور اس عفو و کرم کے مجسم پیکر پر ایمان لاؤ۔وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَـهْتَدُوْنَ۔(الاعراف:۱۵۹) اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔
اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ(الاحزاب: ۲۲)اے لوگو! تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں کا لائحہ عمل بناؤ۔
آج اس مغربی تہذیب میں جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا: اسلام کا سایہ کھنچنے لگ گیا ہے۔ خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی اور دنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔
ایک اور شخص جس کی اطاعت کا آج دنیا کی اکثریت اقرار کر رہی ہے، ایک اور شخص جس کی حکومت میں انگلستان کی حکومت، فرانس کی حکومت، سپین کی حکومت، جرمنی کی حکومت، پولینڈ کی حکومت، فلپائن کی حکومت۔ امریکہ کی ساری حکومتیں اور ریاستیں اس کی خدائی کی اقراری ہیں اور اس کے آگے سر جھکاتی ہیں وہ بھی کہتا ہے کہ
اے خدا جس طرح آسمان پر تیری بادشاہت ہے اُسی طرح زمین پر بھی ہو۔
مگر آج انیس سو سال گذر گئے اس کے ذریعہ سے خدا کی بادشاہت جو آسمان پر ہے زمین پر قائم نہیں ہوئی…
اب خدا کی نوبت جوش میں آتی ہے اور تم کو۔ ہاں تم کو ! ہاں تم کو! خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خانے کی ضرب سپرد کی ہے۔ اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کےخون اس قرنا میں بھر دو۔ ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو۔ کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اٹھیں تاکہ تمہاری دردناک آوازیں اور تمہارے نعرہ ہائےتکبیر اور نعرہ ہائے شہادتِ توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہوجائے… سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہوجاؤ محمد رسول اللہ ؐ کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیحؑ سے چھین کر پھر وہ تخت محمد رسول اللہؐ کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ ؐ نے وہ تخت خدا کے آگے پیش کرنا اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے …پس میری سنو۔ اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے۔ میری آواز نہیں ہے۔ میں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں۔ تم میری مانو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ خدا تمہارے ساتھ ہو۔ اور تم دنیا میں بھی عزت پاؤ اور آخرت میں بھی عزت پاؤ۔‘‘
(انوار العلوم جلد ۲۴ صفحہ ۳۳۸تا ۳۳۹)
مزید پڑھیں: اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ




