السلام علیکم، سلامت رہنے کے لئے ایک دعا ہے
میں نے خواب میں دیکھا کہ اوّل گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح اور ظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔ اَصْلَحَ اللّٰہُ اَمْرِیْ کُلَّہٗ (خدا تعالیٰ نے میرے سارے کام اپنے فضل سے درست کردیے)۔ اور پھر دیکھا کہ ایک مکان شبیہ مسجد میں ہوں اور ایک الماری کے پاس کھڑا ہوں اور حامد علی بھی کھڑا ہے۔ اتنے میں میری نظر پڑی مَیں نے میاں عبداللہ غزنوی کو دیکھا کہ بیٹھے (ہیں) اور میرا بھائی مرزا غلام قادر بھی بیٹھا ہے۔ تب مَیں نے نزدیک ہو کر اُن کو السلام علیکم کہا تو انہوں نے بھی وعلیکم السلام کہا اور بہت سے دعائیہ کلمات ساتھ ملا دئیے جن میں صرف یہ لفظ محفوظ رہا کہ اَخَّرَکَ اللّٰہُ مگر معنی یہی یاد رہے کہ ان کے کلمات ایسے ہی تھے کہ تیرا خدا مدد گار ہو۔ تیری فتح ہو، پھر میں اس مجلس میں بیٹھ گیا اور کہا کہ میں نے خواب بھی دیکھی ہے کہ کسی کو مَیں نے السلام علیکم کہا ہے اور اس نے جواب دیا ہے وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَالظَّفَرُ۔
(تذکرہ صفحہ220 مطبوعہ2023ء)
اس زمانہ میں اسلام کے اکثر امراء کا حال سب سے بدتر ہے وہ گویا یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف کھانے پینے اور فسق و فجور کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ دین سے وہ بالکل بے خبر اور تقویٰ سے خالی اور تکبر اور غرور سے بھرے ہوتے ہیں۔ اگر ایک غریب ان کو السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام کہنا اپنے لیے عار سمجھتے ہیں بلکہ غریب کے منہ سے اس کلمہ کو ایک گستاخی کا کلمہ اور بےباکی کی حرکت خیال کرتے ہیں حالانکہ پہلے زمانہ کے اسلام کے بڑے بڑے بادشاہ السلام علیکم میں کوئی اپنی کسر شان نہیں سمجھتے تھے مگر یہ لوگ تو بادشاہ بھی نہیں ہیں۔ پھر بھی بےجا تکبر نے ان کی نظر میں ایسا پیاراکلمہ جو السلام علیکم ہے جو سلامت رہنے کے لیے ایک دعا ہے حقیر کرکے دکھایا ہے۔ پس دیکھنا چاہیے کہ زمانہ کس قدربدل گیا ہے کہ ہر ایک شعار اسلام کا تحقیر کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
(چشمہ ٔمعرفت، روحانی خزائن جلد23 صفحہ327)
مزید پڑھیں: مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے



