مکتوب افریقہ(اپریل و مئی ۲۰۲۶ء)
براعظم افریقہ کے چند اہم واقعات و تازہ حالات کا خلاصہ
جنوبی افریقہ میں غیر ملکی افریقیوں کو بے دخل کرنے کی مہم
جنوبی افریقہ میں حالیہ عرصے میں غیر ملکی افریقی باشندوں خصوصاً نائیجیریا، زمبابوے، ملاوی، گھانا اور دیگر افریقی ممالک سے آئے ہوئے افراد کے خلاف مہم جاری ہے۔ اس مہم کو بعض حلقے ’’غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تحریک‘‘ کہتے ہیں جبکہ ناقدین اسے ’’زینوفوبیا‘‘ یعنی غیر ملکیوں سے نفرت قرار دیتے ہیں۔ اپریل اور مئی ۲۰۲۶ء میں ملک کے مختلف شہروں میں غیر ملکی افریقی باشندوں کے خلاف احتجاج اور پرتشدد واقعات سامنے آئے۔ اپریل کے وسط میں صوبہ KwaZulu-Natal کے شہر ڈربن میں “March and March” نامی گروہ کے احتجاج کے دوران غیر ملکیوں کی دکانوں پر حملے، لوٹ مار اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد جوہانسبرگ اور پریٹوریا میں بھی بڑے احتجاج ہوئے جہاں مظاہرین نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف مارچ کیے۔ مشرقی کیپ میں ایک احتجاج کے دوران منی بس، ٹیکسیوں اور سرکاری املاک کو آگ لگائی گئی۔ مختلف افریقی ممالک خصوصاً گھانا، نائجیریا، زمبابوے اور کینیا نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کیں۔ ان واقعات میں کچھ نائیجیرین، ایتھوپین افراد جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے صدر Cyril Ramaphosa نے پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملک کی پالیسی کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ وزیر خارجہ Ronald Lamola نے غیر ملکیوں کے خلاف حملوں کو روکنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
جنوبی افریقہ میں بے روزگاری کی شرح ۳۰؍فیصد سے زیادہ ہے۔ بہت سے مقامی لوگ سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی ان کی ملازمتیں لے رہے ہیں اور کم اجرت پر کام کر کے مقامی مزدوروں کے مواقع کم کر رہے ہیں۔ کچھ سیاسی اور سماجی گروہ دعویٰ کرتے ہیں کہ غیر قانونی تارکین وطن منشیات، اسمگلنگ اور جرائم میں ملوث ہیں۔بعض سیاسی جماعتیں اور تحریکیں عوامی غصے کو استعمال کر کے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خاص طور پر کچھ رہنماؤں نے بڑے پیمانے پر ملک بدری کا مطالبہ کیا۔
کینیا کے ایتھلیٹ کا عالمی ریکارڈ
کینیا کے ایتھلیٹ Sabastian Sawe نے ۲۶؍اپریل ۲۰۲۶ء کو London Marathon میں میراتھن کی تاریخ کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہوئے ۴۲.۱۹۵ کلومیٹر (۲۶.۲ میل) کا فاصلہ صرف ۱ گھنٹہ ۵۹ منٹ ۳۰ سیکنڈ میں مکمل کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ سرکاری مقابلے میں دو گھنٹے سے کم وقت میں میراتھن مکمل کرنے والے پہلے ایتھلیٹ بن گئے۔ اس سے قبل عالمی ریکارڈ ان ہی کے ہم وطن Kelvin Kiptum کے پاس تھا، جنہوں نے ۲۰۲۳ء میں Chicago Marathon دو گھنٹے اور ۳۵ سیکنڈ میں جیت کر نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ Sawe کی اس شاندار کارکردگی کو ایتھلیٹکس کی دنیا میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طویل عرصے سے “دو گھنٹے سے کم میراتھن” کو انسانی برداشت کی آخری بڑی حد سمجھا جا رہا تھا جس کو Sawe نے توڑ دیا ہے۔
امریکہ نے زیمبیا کو شعبہ صحت میں امداد دینے کو معدنیات تک رسائی سے مشروط کر دیا
حال ہی میں امریکہ نے زیمبیا کو اگلے پانچ برسوں میں صحت کے شعبہ میں تقریباً ۲؍ارب ڈالر امداد دینے کی پیشکش کی لیکن اس امداد کو اہم معدنیات خصوصاً تانبےاور دیگرنادر معدنیات تک رسائی کے معاہدے کے ساتھ جوڑ دیا۔ زیمبیا، جو کہ افریقہ کا دوسرا بڑا تانبہ پیدا کرنے والا ملک ہے، نے اس شرط پر اعتراض کرتے ہوئے واضح کیا کہ صحت کے لئے امداد کو معدنی وسائل کے سودوں سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ زیمبیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی تجویز میں ایسے نکات شامل تھے جو امریکی کمپنیوں کو ترجیح دیتے تھے اور بعض data-sharing شرائط زیمبیا کے شہریوں کی پرائیویسی اور قومی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتی تھیں۔ تاہم طب کے شعبہ میں امداد دیئے جانے کا معاہدہ نہ ہوا تولاکھوں کی تعداد میں زیمبیائی مریض متاثر ہوں گے کیونکہ زیمبیا کا شعبہ صحت بڑی حد تک امریکی امداد پر منحصر ہے
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اپنی نئی افریقی پالیسی کے تحت امدادی نظام کو حکومتی کنٹرول میں لا رہا ہے، USAID کے کردار کو محدود کیا جا رہا ہے اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) کی شمولیت کم کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور چین دونوں افریقہ کے اہم معدنی وسائل پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، ٹیکنالوجی اور عالمی توانائی کی صنعت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ حال ہی میں زیمبیا سے سبکدوش ہونے والے امریکی سفیر Michael C. Gonzales نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
سوڈان کی خانہ جنگی میں ایتھوپیا اور متحدہ عرب امارات کی مداخلت
۲۰۲۳ء سے سوڈانی فوج (SAF) اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان خانہ جنگی جاری ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں اور ہزاروں ہلاک ہوئے ہیں۔گزشتہ سال سے باغی گروہ (RSF) کی طرف سے ڈرون حملوں میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ خصوصاًخرطوم، کردفان، بلیو نائل اور وائٹ نائل کے علاقوں میں تواتر سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ سوڈانی حکومت کا الزام ہے کہ RSF کو بیرونی حمایت حاصل ہے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات (UAE) سے، جو مبینہ طور پر اسلحہ اور ڈرون فراہم کر رہا ہے، جبکہ ایتھوپیا پر الزام لگایا گیا کہ اس کی سرزمین، خصوصاً Bahir Dar ایئرپورٹ پرحملوں کے لیے استعمال ہوئی۔ مئی ۲۰۲۶ء میں خرطوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دیگر فوجی و شہری تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد سوڈان نے ایتھوپیا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ ایتھوپیا اور UAE دونوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انکار کیا۔
مالی میں دہشت گردوں کے بڑے حملے، وزیروفاع سمیت سینکڑوں ہلاک
اپریل اور مئی میں مالی شدید بدامنی اور باغیوں کے حملوں کی وجہ سے عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ ۲۵ اپریل کو القاعدہ سے وابستہ تنظیم JNIM اور Tuareg باغی اتحاد(FLA) نے ملک بھر میں ایک بڑا مربوط حملہ کیا، جسے ۲۰۱۲ء کے بعد مالی کا سب سے بڑادہشتگرد حملہ قرار دیا گیا۔ ان حملوں میں دارالحکومت باماکو، کاتی (Kati) کی اہم فوجی چھاؤنی، موپتی، گاؤ، سیوارے اور شمالی شہر کدال (Kidal) کو نشانہ بنایا گیا۔ شدت پسندوں نے خودکش کار بم، ڈرون، مارٹر، راکٹ لانچر اور بھاری ہتھیار استعمال کیے۔ اسی حملے میں مالی کے وزیر دفاع جنرل Sadio Camara اپنے گھر پر ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق ہوگئے۔بعض رپورٹس کے مطابق فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی مارے گئے۔ ۲۶ اور ۲۷ اپریل کو کاتی اور باماکو کے اطراف شدید لڑائی جاری رہی۔ باغیوں نے کئی فوجی اڈوں اور شمالی علاقوں، کدال اور ٹیسالیت جیسے اہم علاقوں پر قبضے کا دعویٰ کیا۔ حملوں کے بعد حکومت نے ملک بھر میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا اور روسی حمایت یافتہ فوجی دستہ Africa Corps کے ساتھ مل کر فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ فوجی حکمران جنرل Assimi Goïta نے خود وزارت دفاع کی کمان سنبھال لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی فورسز نے شمالی علاقوں کے بعض اڈوں سے پسپائی اختیار کی ہے، جس سے باغیوں کو فائدہ پہنچا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مئی کے پہلے دو ہفتوں میں مختلف حملوں میں ۷۰ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں فوجی، ملیشیا ارکان اور عام شہری شامل تھے۔
امریکہ کا افغان شہریوں کو افریقی ممالک منتقل کرنے پر غور
۲۰۲۱ء میں امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت وہ افغان شہری جنہوں نے امریکی افواج اور اداروں کے ساتھ تعاون کیا تھا اور طالبان کی آمد کے بعد وہ خوف کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، ان کی ایک بڑی تعداد قطر کی العدید ایئر بیس پر آج بھی قیام پذیر ہیں اور امریکہ میں مستقل آبادکاری کی منتظر ہے۔ یہ افراد مترجمین، سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری ملازمین اور امریکی مشنز کے معاونین تھے۔ اس وقت تقریباً ۱۱۰۰ افغان، امریکی اڈے پر موجود ہیں۔
Donald Trump انتظامیہ کے سامنے ایک تجویز زیرِ غور ہے جس کے مطابق ان افغانوں کے لیے متبادل مقامات پر ’’رضاکارانہ آبادکاری ‘‘ کا انتظام کیا جائے۔ ان ممالک میںCongo بھی شامل ہے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور افغان مہاجرین کے حامی گروپوں نے اس منصوبے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے، کیونکہ DR Congo خود سکیورٹی بحران، غربت اور مسلح تنازعات کا شکار ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جن افغانوں سے جنگ کے دوران وفاداری اور تعاون حاصل کیا، اب ان کی حفاظت کی اخلاقی ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔
چیونٹیوں کی غیر قانونی سمگلنگ کے الزام میں چینی شہری کو سزا
کینیا میں ایک چینی شہری Zhang Kequn کو جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس شخص کو ایئر پورٹ پر گرفتار کیا گیا جب حکام نے اس کے سامان سے دو ہزارسے زائد چیونٹیاں برآمد کیں، جنہیں بغیر اجازت ملک سے باہر اسمگل کیا جا رہا تھا۔ کسٹم حکام کے مطابق یہ نایاب چیونٹیاں چین، امریکہ اور یورپ کی مارکیٹوں میں فروخت کے لیے بھیجی جا رہی تھیں، جہاں بعض اقسام کی قیمت ۱۰۰ ڈالر تک فی چیونٹی بتائی جاتی ہے۔ عدالت میں Zhang نے بغیر اجازت جنگلی حیات رکھنے اور اسمگلنگ کی کوشش کا جرم قبول کیا۔ عدالت نے اسے ایک سال قید کے علاوہ تقریباً ۸ہزار ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا، بصورت دیگر مزید ایک سال قید بھگتنا ہوگی۔
غلامی کے حوالے سے مالی ہرجانے کا مطالبہ کرنے والوں پر ویزا پابندیاں لگائی جائیں: Reform UK
برطانیہ کی دائیں بازو کی جماعتReform UK نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر کوئی ملک برطانیہ سے نوآبادیاتی دور اور غلامی کے حوالے سے مالی ہرجانہ یا معاوضہ کا مطالبہ کرے گا تو اس ملک کے شہریوں کے لیے ویزا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق برطانیہ کو ’’تاریخی جرم‘‘ کے نام پر مالی دباؤ قبول نہیں کرنا چاہیے اور ایسے مطالبات کو ’’غیر منصفانہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ غلامی کے معاوضے کا مطالبہ خاص طور پرکریبین ممالک(CARICOM)اور افریقی ممالک کی جانب سے کئی برسوں سے کیا جا رہا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ یورپی طاقتوں، خصوصاً برطانیہ، فرانس اور پرتگال نے صدیوں تک غلام تجارت اور نوآبادیاتی استحصال سے بے پناہ دولت حاصل کی، جس کے اثرات آج بھی ترقی پذیر ممالک میں غربت، عدم مساوات اور معاشی کمزوری کی صورت میں موجود ہیں۔ دوسری طرف برطانیہ میں قدامت پسند اور دائیں بازو کے سیاسی حلقے اس قسم کے معاوضوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
نائیجیریا، چاڈ میں بد امنی کے واقعات اور حکومتی رد عمل
اپریل میں نائجیریا کی فوج نے ملک کے مختلف حصوں خصوصاً شمال مشرقی علاقوں بورنو، یوبي اور آدماؤا میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف بڑے انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیے۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران ۲۱۶ دہشت گرد مارے گئے، ۲۸۴ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اغوا کیے گئے ۱۸۸ افراد کو بازیاب کرایا گیا۔
۲۷؍اپریل کو نائجیریا کی ریاست Adamawa کے ایک گاؤں Guyaku میں شدت پسندوں نے فٹبال گراؤنڈ میں جمع لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس میں کم از کم ۲۹ افراد ہلاک ہوئے۔
اسی طرح ۴؍مئی کو میں چاڈ میں Lake Chad کے علاقے میں قائم ایک فوجی اڈے پر Boko Haram نے حملہ کر کے کم از کم ۲۳ چاڈی فوجی ہلاک اور ۲۶ کوزخمی کردیا۔ شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں، تیز رفتار کشتیوں اور اچانک حملے کی حکمت عملی استعمال کی۔ فوج کے مطابق حملہ آوروں میں سے بھی بڑی تعدادمار دی گئی اور آخرکار حملہ پسپا کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: آپ بھی جا مِ مے اُڑا غیر کو بھی پلائے جا



