خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب

(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳؍دسمبر۲۰۲۴ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)

سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟

جواب:فرمایا: آنحضرتﷺکی سیرت کے حوالے سے آج ایک سریہ کا ذکر کروں گا جو سَرِیہ قُرْطَاءکہلاتا ہے۔

سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےسریہ قر طاء کی بابت کیابیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: یہ سریہ دس محرم چھ ہجری کو ہوا اور آنحضرتﷺنے حضرت محمد بن مَسْلَمَہ ؓ کو تیس سواروں کے ہمراہ قُرْطَاءکی جانب بھیجا۔قرطاء بنو بَکر بن کِلَاب کی ایک شاخ تھی جوضَرِيَّہ کے نواح میں بَکْرَات نامی جگہ پر رہتے تھے۔ بکرات مدینہ سے سات راتوں کی مسافت پر تھا۔ اور ضریہ بنوکلاب کی ایک قدیم بستی تھی…ان تیس صحابہؓ میں حضرت عَبَّاد بن بِشر   ؓ، حضرت سَلَمَہ بن سَلَامہؓ اور حضرت حارث بن خزمہؓ شامل تھے۔ رسول اللہﷺنے اس جماعت کو رات کو چلنے اور دن کو چھپنے اور ان پر اچانک حملہ کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ جب وہ شَرَبَّہ نامی جگہ پر تھے۔ (شَرَبَّہ نجد میں ایک جگہ تھی) تو انہیں کچھ سواریاں ملیں۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اپنے ایک ساتھی کو بھیجا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ وہ گئے اور واپس آکر بتایا کہ وہ قبیلہ مُحَارِب کے لوگ ہیں۔ انہوں نے قریب ہی پڑاؤ ڈالا ہوا ہے اور اپنے جانوروں کو چرنے کے لیے چھوڑا ہے یہاں تک کہ مسلمانوں نے ان کو اتنی مہلت دی کہ ان کے جانور پانی کے گرد بیٹھ گئے تو مسلمانوں نے ان لوگوں پر حملہ کر دیا۔ ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور باقی سب بھاگ گئے۔ جو بھاگ گئے ان کا تعاقب نہ کیا گیا۔ صحابہؓ نے اونٹوں اور بکریوں کو ہانکا اور عورتوں کو کچھ نہ کہا۔ پھر وہاں سے چل پڑے اور جب ایک ایسی جگہ پر پہنچے جہاں سے وہ بنو بکر کو دیکھ سکتے تھے تو حضرت محمد بن مسلمہؓ نے حضرت عَائِذ بن بُسرؓ  کو بنو بکر کی طرف حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا۔ حضرت عائذؓ نے واپس آ کر حضرت محمد بن مسلمہؓ کو حالات سے آگاہ کیا۔ پھر حضرت محمد بن مسلمہؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلے اور بنو بکر پر حملہ کیا۔ ان میں سے دس آدمیوں کو قتل کر دیا اور اونٹ اور بکریوں کو ہانک لائے اور مدینہ کی طرف تیزی سے چلے۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اپنے چند ساتھیوں کو بکریوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا اور اونٹوں کو ہانک کر رسول اللہﷺکے پاس مدینہ پہنچ گئے۔ اس کے بعد بکریاں بھی پہنچ گئیں۔ رسول اللہﷺنے اس میں سے خُمْس نکالا اور باقی حضرت محمد بن مسلمہؓ کے ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر رکھا گیا…حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ نے جو تحریر فرمایا ہے وہ اس طرح ہے کہ ’’ابھی چھ ہجری شروع ہی ہوا تھا اور قمری سال کے پہلے مہینہ یعنی محرم کی ابتدائی تاریخیں تھیں کہ آنحضرتﷺکواہلِ نجد کی طرف سے خطرہ کی اطلاعات پہنچیں۔ یہ اندیشہ قبیلہ قُرْطَاءکی طرف سے تھا جوقبیلہ بنوبکر کی ایک شاخ تھا اور نجد کے علاقہ میں بمقام ضَرِيَّہ آباد تھا جومدینہ سے سات یوم کی مسافت پرواقع تھا۔ یہ خبرپاکر آنحضرتﷺنے فوراً تیس سواروں کا ایک ہلکا سادستہ اپنے ایک صحابی محمد بن مَسْلَمہ انصاری کی کمان میں نجد کی طرف روانہ فرما دیا مگر اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں کچھ ایسا رعب پیدا کر دیا کہ وہ معمولی سے مقابلہ کے بعد ہی بھاگ نکلے اور گو اس زمانہ کے طریق جنگ کے مطابق مسلمانوں کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ دشمن کی عورتوں اور بچوں کوقید کر لیتے کیونکہ دشمن انہیں چھوڑ کر بھاگ نکلا تھا مگر محمد بن مسلمہ نے عورتوں اور بچوں سے کوئی تعرض نہیں کیا اور عام سامانِ غنیمت لے کر جو اونٹوں اور بکریوں پرمشتمل تھا مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے۔‘‘یہ وضاحت ہو گئی کہ جو دشمن قوم تھی وہ مدینہ پر حملہ کرنے کی planningکر رہے تھے، اس کے سدّ باب کے لیے آنحضرتﷺنے بھیجا تھا اور وہاں بھی یہ نرمی دکھائی کہ عورتوں اور بچوں کو کچھ نہیں کہا گیا۔

سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ثمامہ بن اثال کے قید ہونے اور اسلام لانے کی بابت کیا بیان فرمایا ؟

جواب: فرمایا: اس موقع پر ثُمَامہ بن اُثال کا قیدی بننا اور اسلام قبول کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ سَرِیہ قُرْطَاءسے واپسی پرثُمَامہ بن اُثال کے قید ہونے کا واقعہ پیش آیا۔ اس کی تفصیل میں سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھا ہے کہ ’’اس مہم‘‘ یعنی سَرِیہ قُرْطَاء ’’کی واپسی پرثُمَامہ بن اُثال کے قید کیے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ یہ شخص یمامہ کا رہنے والا تھا اور قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک بہت بااثر رئیس تھا اور اسلام کی عداوت میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ہمیشہ بے گناہ مسلمانوں کے قتل کے درپے رہتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آنحضرتﷺکاایک ایلچی اس کے علاقہ میں گیا تو اس نے تمام قوانین جنگ کو بالائے طاق رکھ کر اس کے قتل کی سازش کی بلکہ ایک دفعہ اس نے خود آنحضرتﷺکے قتل کا بھی ارادہ کیا تھا۔ جب محمد بن مسلمہ کی پارٹی ثُمَامہ کوقید کر کے لائی تو انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ کون شخص ہے بلکہ انہوں نے اسے محض شبہ کی بنا پر قید کرلیا تھا اور معلوم ہوتا ہے کہ ثُمَامہ نے بھی کمال ہوشیاری کے ساتھ ان پر اپنی حقیقت ظاہر نہیں ہونے دی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ میں اسلام کے خلاف خطرناک جرائم کا مرتکب ہو چکا ہوں اور اگر اسلام کے ان غیرت مند سپاہیوں کویہ پتہ چل گیا کہ میں کون ہوں تو وہ شاید مجھ پر سختی کریں یا قتل ہی کر دیں۔‘‘ کیونکہ خود یہ بہت سارے ایسے کام کر چکا تھا جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا تھا ’’مگر خود آنحضرتﷺسے وہ بہتر سلوک کی توقع رکھتا تھا۔‘‘ اس کا خیال تھا کہ آنحضرتﷺتک پہنچ جاؤں تو وہاں مجھ سے بہتر سلوک ہو گا۔ ’’چنانچہ مدینہ کی واپسی تک محمد بن مسلمہ کی پارٹی پرثُمَامہ کی شخصیت مخفی رہی۔مدینہ پہنچ کر جب ثُمَامہ کوآنحضرتﷺکے سامنے پیش کیا گیا توآپؐ نے اسے دیکھتے ہی پہچان لیا اور محمد بن مسلمہ اوران کے ساتھیوں سے فرمایا: جانتے ہو یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے لاعلمی کااظہار کیا جس پر آپؐ نے ان پر حقیقت حال ظاہر کی۔ اس کے بعد آپؐ نے حسبِ عادت ثُمَامہ کے ساتھ نیک سلوک کیے جانے کا حکم دیا اور پھر اندرونِ خانہ تشریف لے جا کر گھر میں ارشاد فرمایا کہ جو کچھ کھانے کے لیے تیار ہو ثُمَامہ کے لیے باہر بھیجوا دو۔ اس کے ساتھ ہی آپؐ نے صحابہ سے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ثُمَامہ کوکسی دوسرے مکان میں رکھنے کی بجائے مسجد نبوی کے صحن میں ہی کسی ستون کے ساتھ باندھ کر قید رکھا جائے جس سے آپؐ کی غرض یہ تھی کہ تا آپؐ کی مجالس اور مسلمانوں کی نمازیں ثُمَامہ کی آنکھوں کے سامنے منعقد ہوں اور اس کا دل ان روحانی نظاروں سے متاثر ہوکر اسلام کی طرف مائل ہو جائے۔‘‘تو اُسے اس طرح باندھا گیا تھا۔ یہ نہیں کہ اس طرح باندھا جاتا کہ وہ متاثر نہ ہوتا اور غصہ میں رہتا بلکہ نرمی سے آرام سے ہی باندھا گیا ہو گا جس طرح ایک قیدی کو باندھا جاتا ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں بھی ہلا سکے۔ ’’ان ایام میں آنحضرتﷺہر روز صبح کے وقت ثُمَامہ کے قریب تشریف لے جاتے اور حال پوچھ کر دریافت فرماتے کہ ثُمَامہ! بتاؤ اب کیا ارادہ ہے؟ ثُمَامہ جواب دیتا۔‘‘اے محمدؐ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) اگرآپ مجھے قتل کردیں تو آپ کو اس کا حق ہے کیونکہ میرے خلاف خون کا الزام ہے لیکن اگر آپ احسان کریں تو آپ مجھے شکر گزار پائیں گے اور اگر آپ فدیہ لینا چاہیں تو میں فدیہ دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔’’ تین دن تک یہی سوال وجواب ہوتا رہا۔ آخر تیسرے دن آنحضرتﷺنے ازخود صحابہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ‘‘ثُمامہ کو کھول کر آزاد کر دو۔’’ صحابہؓ نے فوراً آزاد کر دیا اور ثُمامہ جلدی جلدی مسجد سے نکل کر باہر چلا گیا۔ غالباً صحابہؓ یہ سمجھے ہوں گے کہ اب وہ اپنے وطن کی طرف واپس لوٹ جائے گا مگر آنحضرتﷺسمجھ چکے تھے کہ ثُمَامہ کادل مفتوح ہو چکا ہے۔‘‘ اب اس پر آنحضرتﷺکی قوتِ قدسیہ کا اثر ہو چکا ہے۔ اور نتیجہ بھی یہی نکلا۔ آگے لکھا ہے کہ ’’چنانچہ وہ ایک قریب کے باغ میں گیا اور وہاں سے نہا دھو کر واپس آیا اور آتے ہی آنحضرتﷺکے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے آنحضرتﷺسے عرض کیا۔ ‘‘یارسول اللہؐ! ایک وقت تھا کہ مجھے تمام دنیا میں آپؐ کی ذات سے اور آپؐ کے دین سے اور آپؐ کے شہر سے سب سے زیادہ دشمنی تھی لیکن اب مجھے آپؐ کی ذات اور آپؐ کادین اور آپؐ کاشہر سب سے زیادہ محبوب ہیں۔’’اس دن شام کوجب حسبِ دستور ثُمامہ کے لیے کھانا آیا تو اس نے تھوڑا سا کھانا کھا کر چھوڑ دیا۔ جس پرصحابہؓ نے تعجب کیا کہ صبح تک تو ثُمامہ بہت زیادہ کھاتا رہا ہے۔‘‘ قید کیا ہوا تھا، باندھا ہوا تھا اس سے بھی یہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح قید تھا کہ وہ کھا پی سکتا تھا اور باندھا اس طرح ہوا تھا کہ کھاپی سکتا تھا اور اس کے کھانے میں خوب خاطر مدارت کی جاتی تھی۔ بہرحال اس نے تھوڑا کھایا اور پہلے بہت زیادہ کھایا کرتا تھا ’’اور گویا پیٹو تھا لیکن اب اس نے بہت تھوڑا کھانا کھایا ہے۔ یہ بات آنحضرتﷺتک پہنچی تو آپؐ نے فرمایا۔ ‘‘صبح تک ثُمامہ کافروں کی طرح کھانا کھاتا تھا اوراب اس نے ایک مسلمان کی طرح کھایا ہے۔’’ اور آپؐ نے اس کی تشریح یوں فرمائی کہ ‘‘کافر سات آنتوں میں کھانا کھاتا ہے مگر مسلمان صرف ایک آنت میں کھانا کھاتا ہے۔’’ اس سے آپؐ کی مراد یہ تھی کہ جہاں ایک کافر کو دنیوی لذات میں انہماک ہوتا ہے اور گویا وہ اسی میں غرق رہتا ہے وہاں ایک سچا مسلمان اپنی جسمانی ضروریات کو صرف اس حد تک محدود رکھتا ہے جو زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہے کیونکہ اسے حقیقی لذت صرف دین میں حاصل ہوتی ہے۔

سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ثمامہ بن اثال کی قریش مکہ کوتبلیغ اور ان کی تجارت کو روکنے کی بابت کیا بیان فرمایا؟

جواب: فرمایا: مسلمان ہونے کے بعد ثُمَامہ نے آنحضرتﷺسے عرض کیا کہ ‘‘یا رسول اللہؐ! جب آپؐ کے آدمیوں نے مجھے قید کیا تھا تو اس وقت میں خانہ کعبہ کے عمرہ کے لیے جا رہا تھا۔ اب مجھے کیا ارشاد ہے؟’’آپؐ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی اور دعا کی اور ثُمامہ مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچ کر ثُمامہ نے جوشِ ایمان میں۔‘‘ اب اس کا جوش ایمان بالکل اَور شکل اختیار کر گیا تھا۔ کہاں مخالفت تھی کہاں ایمان کا جوش تھا۔مکہ پہنچ کے وہاں اس نے ’’قریش کے اندر برملا تبلیغ شروع کر دی۔ قریش نے یہ نظارہ دیکھا تو ان کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور انہوں نے ثُمَامہ کو پکڑ کر ارادہ کیا کہ اسے قتل کر دیں مگر پھر یہ سوچ کر کہ وہ یمامہ کے علاقے کا رئیس ہے اور یمامہ کے ساتھ مکہ کے گہرے تجارتی تعلقات ہیں وہ اس ارادہ سے باز آگئے اور ثُمَامہ کو برا بھلا کہہ کر چھوڑ دیا مگر ثُمَامہ کی طبیعت میں سخت جوش تھا اور قریش کے وہ مظالم جو وہ آنحضرتﷺاور آپؐ کے صحابہؓ پر کرتے رہے تھے وہ سب ثُمَامہ کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ اس نے مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے قریش سے کہا ‘‘خدا کی قسم!آئندہ یمامہ کے علاقہ سے تمہیں غلہ کاایک دانہ نہیں آئے گا جب تک کہ رسول اللہﷺاس کی اجازت نہ دیں گے۔’’اپنے وطن میں پہنچ کر ثُمَامہ نے واقعی مکہ کی طرف یمامہ کے قافلوں کی آمد ورفت روک دی اور چونکہ مکہ کی خوراک کابڑا حصہ یمامہ کی طرف سے آتا تھا اس لیے اس تجارت کے بند ہوجانے سے قریش مکہ سخت مصیبت میں مبتلا ہو گئے اور ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ انہوں نے گھبرا کر آنحضرتﷺکی خدمت میں خط لکھا کہ آپ ہمیشہ صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں اور ہم آپ کے بھائی بند ہیں۔ ہمیں اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ اس وقت قریش مکہ اس قدرگھبرائے ہوئے تھے کہ انہوں نے صرف اس خط پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ اپنے رئیس ابوسفیان بن حرب کو بھی آنحضرتﷺکے پاس بھجوایا جس نے آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر زبانی بھی بہت آہ وپکار کی‘‘ بہت شور مچایا ’’اور اپنی مصیبت کااظہار کرکے رحم کاطالب ہوا۔ جس پر آنحضرتﷺنے ثُمامہ بن اُثال کوہدایت بھجوادی کہ قریش کے ان قافلوں کی جن میں اہلِ مکہ کی خوراک کا سامان ہوروک تھام نہ کی جاوے۔ چنانچہ اس تجارت کاسلسلہ پھرجاری ہو گیا اور مکہ والوں کو اس مصیبت سے نجات ملی۔ یہ واقعہ جہاں آنحضرتﷺکی بےنظیر شفقت اور رحم اور عفو کاایک بین ثبوت ہے وہاں اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ شروع شروع میں جو آنحضرتﷺنے قریش کے قافلوں کی روک تھام کا سلسلہ شروع کیا تھا تو اس کی اصل غرض وغایت یہ نہیں تھی کہ قریش کو قحط میں مبتلا کرکے تباہ کیا جائے بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ مدینہ کے قرب وجوار کوقریش کے خطرہ سے محفوظ کر لیا جائے۔ اس واقعہ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے حربی دشمن کے متعلق بھی یہ بات پسندیدہ نہیں ہے کہ عام حالات میں اس کے سلسلہ رسل ورسائل کو اس حد تک بند کردیا جائے کہ وہ نانِ جویں تک سے محروم ہو جائے۔‘‘ روٹی پانی سے محروم ہو جائے۔ خوراک سے محروم ہو جائے۔ ’’ہاں سامانِ حرب کی آمدورفت یاضروری سامان خورو نوش کے علاوہ دوسری اشیا کی برآمد ودرآمد کا سلسلہ جنگی ضروریات کے ماتحت روکا جاسکتا ہے۔‘‘

مزید پڑھیں: اختتامی خطاب سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی۲۰۰۷ء

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button