ربوہ کا موسم(۲۳تا ۲۹؍جنوری ۲۰۲۶ء)
۲۳؍جنوری جمعۃالمبارک کی صبح کو گذشتہ رات کی موسلا دھار بارش کے اثرات موجود تھے ۔گلیا ں پانی میں نہائی ہوئی تھیں،ہر طرف کیچڑ اور پانی موجود تھا ۔ آسمان پر نظر کرتے تو کہیں کہیں بادلوں کی ٹولیاں منڈلاتی نظر آرہی تھیں ، ایسے لگتا تھا کہ وہ اپنا کام کرکے اب واپسی کی راہ لے رہی ہیں۔ سورج آب و تاب سے طلوع ہوا اور دھوپ ہر طرف پھیل گئی لیکن یخ بستہ ہوا تیز تھی جس کی وجہ سے دھوپ کی تمازت میں کمی رہی۔ دوپہر کے وقت ہلکے بادلوں کی تہ سورج کے سامنے آگئی ، کبھی کبھار سورج اس میں سے جھانک لیتا تاہم ٹھنڈی اور تیز ہوا نےموسم خوب سرد کیے رکھا۔ ہفتہ کو بھی صبح کے وقت تیز اور یخ ہوا جاری تھی جو تمام دن چلتی رہی اور سردی میں اضافہ بنائے رکھا ۔دھوپ نکلی ہوئی تھی لیکن اس کی سرد ہوا کے سامنے ایک نہ چل رہی تھی۔ دوپہر کے وقت کچھ بادل آسمان پر دیکھے گئے۔ شام کے وقت تیز ہوا میں کمی آگئی۔ اتوار کا موسم بھی کچھ اسی طرح کا گزرا ۔دن کے پہلے وقت ہوا درمیانی تھی شام کے وقت ہلکی رفتار بن گئی اور ٹھنڈ میں کچھ کمی واقع ہوگئی۔ سوموار کو فجر کے وقت موسم قدرے صاف تھا ،سرد ہوا چل رہی تھی ، صبح دس بجے کے قریب آسمان گہرے بادلوں سے ڈھک گیا اور دن بھر سورج نہ نکل سکا، کبھی کبھی بوندا باندی بھی ہوجاتی۔تیز اور سرد ہوا نے ٹمپریچر یکدم نیچے گرا دیا۔
منگل کو بھی موسم کی یہی کیفیت رہی۔فرق صرف یہ تھا کہ ہوا مزید سرد اور بادل اور گہرے اور سیاہ ہوگئے تھے۔ دن میں اندھیرے کا گمان ہوتا تھا۔ شمالی علاقہ جات میں برف باری کے گذشتہ ۲۰؍سال کے ریکارڈ ٹوٹ رہے تھے، جس کی وجہ سے ربوہ سمیت وسطی پنجاب کے کئی شہروں میں ٹمپریچر ۳؍درجہ سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ بدھ کو موسم نے پلٹا کھایا، صبح اٹھے تو آسمان بالکل صاف تھا بادلوں کا نام و نشان تک نہ تھا ، ہوا بھی بند تھی ، اس وجہ سے سردی میں کمی واقع ہوگئی تھی۔ دن بھر چمکتی دھوپ میں سب نے بہت انجوائے کیا ۔ جمعرات کو فجر کے وقت ہلکی ہوا رواں دواں تھی ، مطلع بالکل صاف تھا تاہم خنکی موجود تھی، سارا دن سورج دھوپ بکھیرتا رہا ، دھوپ میں بیٹھنے سے گرمی محسوس ہوتی تھی لیکن ٹھنڈی ہوا موسم کو خوشگوار بنادیتی رہی ۔ اس ہفتہ میں اوسط ٹمپریچر زیادہ سے زیادہ ۱۸؍اور کم سے کم ۶؍درجہ سینٹی گریڈ رہا۔(ابو سدید)




