خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 29؍مئی 2026ء
’’ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے۔ خدا اس پر راضی ہوتا ہے‘‘(حضرت اقدس مسیح موعودؑ)
آپؑ کی عاجزی کے اعلیٰ معیار کو دیکھتے ہوئے خود اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو الہاماً اس کی سند عطا فرمائی۔ 18؍مارچ 1907ء کو آپؑ کو الہام ہوا کہ ’’تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں‘‘
’’ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ تمام تکلّفات جو کہ آج کل یو رپ نے لوازمہ زند گی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے۔ رسم وعادت کے ہم پا بند نہیں ہیں‘‘
’’عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کا سیکھنا ہی کیا ہے انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے ۔ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ…تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں۔ اگر وہ اس بناوٹ کو اتا ر دے تو پھراس کی فطرت میں عاجز ی ہی نظر آوےگی‘‘
’’انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے تو سب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے۔ اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہو گا تو میزبان خود اسے بلا کر جگہ دے گا اور اس کی عزّت کرے گا‘‘
’’انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔ عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے‘‘
انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکساری اور عجزاختیار کر نی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہو نا پڑتا ہے۔ تب وہ نشوونما کے قابل ہو تا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا
’’جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدر تم سے خوش ہو گا‘‘
’’غربت کے ساتھ بے شر ہو کر مسکینی اور عاجزی میں جو لوگ مرتے ہیں ان کی پیشوائی کے واسطے گویا بہشت آگے آتا ہے‘‘
’’ انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور، رعونت وکبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘
’’ جب انسان کو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے اور عجز و مصیبت کی حالت نہیں رہتی تو جو شخص اس وقت انکسار کو اختیار کرے اور خدا کو یاد رکھے وہ کامل ہے ۔‘‘
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھر کا کوئی کام کرنے سے کبھی عار نہ تھی۔ چارپائیاں خود بچھا لیتے تھے۔ فرش کر لیتے تھے۔بسترہ کر لیا کرتے تھے۔کبھی یک دم بارش آ جاتی تو چھوٹے بچے تو چارپائیوں پرسوتے رہتے حضور ایک طرف سے خود ان کی چارپائیاں پکڑتے دوسری طرف سے کوئی اَور شخص پکڑتا اور اندر برآمدہ میں کروا لیتے۔‘‘ (روایت حضرت ڈاکٹرمیر محمد اسماعیل صاحبؓ)
’’رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں … فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے کیونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار و تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔‘‘
مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی بدزبانی اور تکبر کے مقابلے پر حضور علیہ السلام کے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی اور عجز و انکسار کا ایک سمندر موجزن ہے
’’میرے خیال میں اخلاق کے تمام حصوں میں سے جس قدر خدا تعالیٰ تواضع اور فروتنی اور انکسار اور ہر ایک ایسے تذلل کو جو منافی نخوت ہے پسند کرتا ہے ایسا کوئی شعبہ خلق کا اس کو پسند نہیں‘‘
’’ ہمارے لئے بھی بہتر ہے کہ جیسے ہم درحقیقت خاکسار ہیں۔ خاک ہی بنے رہیں جبکہ ہمارا مولیٰ ہم سے تکبر اور نخوت پسند نہیں کرتا تو کیوں کریں۔ ہمارے لئے ایسی عزّت سے بے عزتی اچھی ہے جس سے ہم مورد عتاب ہو جائیں ‘‘
آپؑ کا ہر قول اور فعل عاجزی کے اظہار سے بھرا ہوا تھا۔ صرف ایک جستجو تھی صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ اس کے پیغام کو دنیا میںپہنچایا جائے اس کی وحدانیت کو قائم کیا جائے۔ ہمیں بھی بار بار آپؑ نے یہی نصیحت فرمائی کہ عاجزی اختیار کرو ۔اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ اور یہی چیز تمہیں خداتعالیٰ کا قرب بھی دلائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی راہوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 29؍مئی 2026ء بمطابق 29؍ہجرت1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
اپنے آقاو مطاع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور سنت کے مطابق
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ِصادقؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات اور اپنی جماعت کو عاجزی و انکساری اختیار کرنے کی نصیحت کے حوالے سے آج کچھ کہوں گا۔ آپؑ کی عاجزی کے اعلیٰ معیار کو دیکھتے ہوئے خود اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو الہاماً اس کی سند عطا فرمائی۔ 18؍مارچ 1907ء کو آپؑ کو الہام ہوا کہ
’’تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں۔‘‘
(تذکرہ صفحہ 675،ایڈیشن 2023ء)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہیں۔ گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بِحَدِّی اتحادہے ‘‘ یعنی ایک ہی طرح کا اتحاد ہے’’ کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر بھی ایک مشابہت ہے اور وہ یوں کہ مسیح ایک کامل اور عظیم الشان نبی یعنی موسیٰ کا تابع اور خادم دین تھا اور اس کی انجیل توریت کی فرع تھی اور یہ عاجز بھی اس جلیل الشان نبی کے احقر خادمین میں سے ہے کہ جو سید الرسل اور سب رسولوں کا سرتاج ہے۔ ‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم،روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 593۔594 بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر3)
ایک دفعہ ’’ایک شخص نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ حضور نے حقیقة الوحی کے لکھنے ۔‘‘ اور یہ کتاب آخری زندگی میں لکھی گئی تھی۔ اس کے لکھنے’’ اور پروفوں کے بار بار پڑھنے میں بہت محنت اٹھائی ہے اور یہی وجہ ہے کہ بار بار حضور کی طبیعت علیل ہو جاتی ہے۔ اب حضور چند روز بالکل آرام فرماویں اور پڑھنے لکھنے کے کام کو بالکل ترک فرماویں۔ حضرتؑ نے جواب فرمایا:
ہماری محنت ہی کیا ہے۔ ہمیں تو شرم آتی ہے جبکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی محنتوں کی طرف نگاہ کرتے ہیں کہ کس طرح خوشی کے ساتھ انہوں نے خدا کی راہ میں اپنے سر بھی کٹوا دئیے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 9صفحہ182، ایڈیشن 2022ء)
ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حد سے بڑھاتا ہوں۔‘‘ یعنی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام اپنے درجے بہت بڑھا رہے ہیں۔ فرمایا کہ’’ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہش مند پاؤں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔ مَیں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا رہا لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خدا تعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے کیا ۔‘‘ آپؑ نے فرمایا کہ ’’یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد4صفحہ114،ایڈیشن 2022ء)
نَومسلموں کو بھی آپؑ اسلام کی عاجزی اور سادگی کی تعلیم کی نصیحت فرمایا کرتے تھے۔
چنانچہ لکھا ہے کہ 22؍ اکتوبر 1903ءکو حضرت اقدسؑ کی خدمت میں ایک آسٹریلین نومسلم جن کا نام محمد عبدالحق تھاآیا۔ دوران گفتگو حضرت اقدس نے اسے فرمایا کہ
’’ ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ تمام تکلّفات جو کہ آج کل یو رپ نے لوازمہ زند گی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاک ہے۔ رسم وعادت کے ہم پا بند نہیں ہیں۔
اس حد تک ہر ایک عادت کی رعایت رکھتے ہیں کہ جس کے تر ک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اند یشہ ہو۔‘‘ جس سے تکلیف نہ پہنچے، گناہ نہ ہو۔ ’’با قی کھا نے پینے اور نشست وبر خاست میں ہم سادہ زند گی کو پسند کر تے ہیں ۔‘‘
(ملفوظات جلد5صفحہ294و298-299،ایڈیشن2022ء)
یہ عاجزی کے اعلیٰ معیار ہیں جو آپؑ اپنی جماعت کے افراد میں بھی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔عاجزی کا سیکھنا مشکل نہیں ہے۔ اس کا سیکھنا ہی کیا ہے۔ انسان تو خود ہی عاجز ہے اور وہ عاجزی کے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔ مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ…‘‘ اور مَیں نے جنّوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ ’’تکبر وغیرہ سب بناوٹی چیزیں ہیں۔ اگر وہ اس بناوٹ کو اتا ر دے تو پھراس کی فطرت میں عاجز ی ہی نظر آوےگی۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ 38، ایڈیشن 2022ء)
پس
یہ ہے وہ اصول جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب بھی حاصل ہوتا ہے۔
عاجزی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزّت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے ربّ کریم کو یاد رکھتے ہیں اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔ سو مَیں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات طیار کی گئی ہے۔ جو شخص شرارت اور تکبر اور خودپسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں وہ اُس جہان میں کبھی باہر نہیں ہوگا۔ ‘‘یعنی کہ اِس جہان میں نیکی کے جو عمل ہوں گے وہی اگلے جہان میں بھی کام آئیں گے۔ فرمایا کہ ’’مَیں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں۔‘‘ یعنی مجھے ماننے والوں پر۔’’ خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جو ان دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کی زہر کو دور کردیں۔ میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہو کہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہریک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے ربّ سے ڈرتے رہیں گے۔‘‘
(شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 398)
بعض لوگوں کو جلسہ کے دنوں میں یا جب فنکشن ہوتے ہیں خاص طور پر آگے کرسیوں پر بیٹھنے کی خواہش ہوتی ہے۔ عموماً جلسوں وغیرہ پہ بعض دفعہ گرین ایریا یا ایسے علاقے ہیں جہاں خاص طورپر آگے بیٹھنے کے لیے قریب ہو کے خلیفہ وقت کو سننے کے لیےخاص خواہش کی جاتی ہے ۔ تو بات ٹھیک ہے لیکن بعض دفعہ انائیں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ نہیں ہونی چاہئیں کیونکہ اس سے پھر انتظامات کرنے والوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
بہرحال ایسی خواہش رکھنے والوں کو نصیحت فرماتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:
’’انسان کو چاہیے کہ جب کہیں جاوے تو سب سے نیچی جگہ اپنے لیے تجویز کرے۔ اگر وہ کسی اَور جگہ کے لائق ہو گا تو میزبان خود اسے بلا کر جگہ دے گا اور اس کی عزّت کرے گا۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 93، ایڈیشن 2022ء)
اگر آگے بٹھانا ہے تو ٹھیک ہے۔ ایک نظام ہے جو کہتا ہے درخواست دے دو ہم دیکھیں گے۔
اگر نظام نے درخواست پہ غور نہیں کیا یا بعض مجبوری کی وجہ سے انکار کر دیا ہے تو پھر بغیر کسی اعتراض کے، بغیر کسی دل میں شکوہ پیدا کیے اس کی بات کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
پھر
محبت الٰہی حاصل کرنے کے لیے بھی عاجزی ضروری ہے۔
اس بارے میں آپؑ فرماتے ہیں:
’’کوئی شخص محبت الٰہی اور رضائے الٰہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔ اوّل تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔ اسی طرح
انسان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔ عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے۔
اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر مُتَصَدِّعًا ۔‘‘ قرآن شریف میں مُتَصَدِّعًا کا لفظ آیا ہے یعنی ٹکڑے ٹکڑے ‘‘ہو جاتا ہے۔ اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے۔ایسا ہی اس کے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الٰہی نارضامندی کے تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں۔ ’’مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر جو غلط تعلقات تھے ان کو توڑنا ہے۔ جب پرانے تعلقات جن سے برائیاں پیدا ہو رہی تھیں ٹوٹ جائیں۔ یہ مطلب نہیں کہ تمام رشتے ٹوٹ جائیں تا کہ پھر نیکی کی طرف رغبت پیدا ہو‘‘ اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔‘‘ (ملفوظات جلد2صفحہ171،ایڈیشن 2022ء) جو عمل بھی ہو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہو۔
ایک جگہ آپؑ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ کے گناہ سے بچنے کے لیے یہ آیت ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ…۔ ‘‘کہ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی ہم مدد چاہتے ہیں۔’’ جو لوگ اپنے ربّ کے آگے انکسار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ شاید کوئی عاجزی منظور ہو جاوے تو ان کا اللہ تعالیٰ خود مددگار ہو جاتا ہے ۔‘‘اس حوالے سے آپؑ ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ’’کوئی شخص عابد بہت دعا کرتا تھا۔‘‘ بڑا دعا کرنے والا شخص تھا’’ کہ یا اللہ تعالیٰ مجھ کو گناہوں سے آزادی دے۔ اس نے بہت دعا کرنے کے بعد سوچا کہ سب سے زیادہ عاجزی کیوں کر ہو۔‘‘کس طرح ہو سکتی ہے عاجزی ۔کیا طریقہ ہے ؟تو پھر سوچ کے کہتا ہے اسے ’’معلوم ہوا کہ کتّے سے زیادہ عاجز کوئی نہیں تو اس نے اس کی آواز سے رونا شروع کیا۔ کسی اَور شخص نے سمجھا کہ مسجد میں کتّا آ گیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی میرا برتن پلید کر دیوے تو اس نے آ کر دیکھا تو عابد ہی تھا۔ کتّا کہیں نہ دیکھا ۔ آخر اس نے پوچھا کہ یہاں کتّا رو رہا تھا‘‘ مجھے آواز آئی تھی کون تھا؟ ’’ اس نے کہا کہ مَیں ہی کتّا ہوں۔ پھر پوچھا کہ تم ایسے کیوں رو رہے تھے؟ کہا کہ خدا کو عاجزی پسند ہے۔ اس واسطے مَیں نے سوچا کہ اس طرح میری عاجزی منظور ہو جاوے گی۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 210،ایڈیشن 2022ء)
تو یہ بہرحال اس کی سوچ تھی۔ اس کے مطابق اس نے عمل کیا۔ مقصد یہ تھا کہ کم ترین چیز بنوں تاکہ کسی طرح اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکوں۔
اسی حوالے سے آپؑ ایک جگہ فرماتے ہیں:
’’انسان جو ایک عاجز مخلوق ہے اپنے تئیں شامتِ اعمال سے بڑا سمجھنے لگ جاتا ہے۔‘‘
یہ شامت اعمال ہی ہے جو بڑائی پیدا ہو جاتی ہے۔
’’ کبر اور رعونت اس میں آجاتی ہے۔ اللہ کی راہ میں جب تک انسان اپنے آپ کو سب سے چھوٹا نہ سمجھے چھٹکارا نہیں پا سکتا۔‘‘
(ملفوظات جلد5 صفحہ 138، ایڈیشن 2022ء)
اپنی بیعت میں آنے والوں کو عاجزی کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی تلقین
کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:
’’یہ بیعت جو ہے اس کے معنے اصل میں اپنے تئیں بیچ دینا ہے۔ اس کی برکات اور تاثیرات اسی شر ط سے وابستہ ہیں جیسے ایک تخم زمین میں بویا جاتا ہے۔‘‘ بیج لگاتے ہیں زمین میں تو’’ اس کی ابتدائی حالت یہی ہوتی ہے کہ گویا وہ کسان کے ہاتھ سے بویا گیا اور اس کا کچھ پتا نہیں کہ اب وہ کیا ہو گا۔‘‘زمین میں ڈال دیا۔ زمین کے اندر گہرائی میں چھپ گیا ۔اب پتہ نہیں اس کا کیا حال ہونا ہے۔ ’’لیکن اگر وہ تخم عمدہ ہوتا ہے اور اس میں نشوونما کی قوّت موجود ہوتی ہے تو خدا کے فضل سے اور اس کسان کی سعی سے وہ اوپر آتا ہے۔ ‘‘پھوٹ پڑتا ہے۔ اس کی کونپلیں نکل آتی ہیں۔’’ اور ایک دانہ کا ہزار دانہ بنتا ہے۔ اسی طرح سے
انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکساری اور عجزاختیار کر نی پڑتی ہے اور اپنی خودی اور نفسانیت سے الگ ہو نا پڑتا ہے۔ تب وہ نشوونما کے قابل ہو تا ہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھی رکھتا ہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 306-307، ایڈیشن 2022ء)
عاجزی کے بغیر تو بیعت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔
فرمایا:
’’ جس قدر نرمی تم اختیار کرو گے اور جس قدر فروتنی اور تواضع کرو گے اللہ تعالیٰ اسی قدر تم سے خوش ہو گا۔‘‘
(ملفوظات جلد9 صفحہ 66، ایڈیشن 2022ء)
آپؑ فرماتے ہیں:
’’ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے۔ خدا اس پر راضی ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد9 صفحہ 211 ایڈیشن 2022ء)
پھر عاجزی کے حوالے سے یا عاجزی کرنے سے کیا ملتا ہے اور تکبر انسان کو کہاں لے جاتا ہے۔ یہ نکتہ بیان فرماتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’سب سے اوّل آدم نے بھی گناہ کیا تھا اور شیطان نے بھی۔مگر آدم میں تکبر نہ تھا۔ اس لیے خداتعالیٰ کے حضور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور اس کا گناہ بخشا گیا۔اسی سے انسان کے واسطے توبہ کے ساتھ گناہوں کے بخشا جانے کی امید ہے ۔‘‘کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے گناہ بخشے تو انسان بھی اگر عاجزی دکھائے، توبہ کرے تو اس کو امید ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بخش دے گا’’ لیکن شیطان نے تکبر کیا اور وہ ملعون ہوا۔‘‘ اس پر اللہ کی لعنت پڑی۔ جو چیز کہ انسان میں نہیں ۔ شیطان میں جو چیزیں ہیں وہ انسان میں نہیں ہیں۔ انسان تو عاجز بن سکتا ہے۔ متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لیے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہو جاتا ہےیعنی عاجزی کے واسطے۔ فرمایا کہ ’’جو چیز کہ انسان میں نہیں ،متکبر آدمی خواہ مخواہ اپنے لیے اس چیز کے دعوے کے واسطے تیار ہو جاتا ہے۔‘‘ یہ تو انسان کی فطرت میں نہیں ہے کہ تکبر ہو پھر بلا وجہ وہ شیطان کی طرح تکبر کا دعویٰ کرنے لگ جاتا ہے۔ فرمایاکہ ’’انبیاء میں بہت سے ہنر ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہنر سلبِ خودی کا ہوتا ہے۔‘‘ یعنی خودی کو ختم کرنا۔ ’’ان میں خودی نہیں رہتی۔ وہ اپنے نفس پر ایک موت وارد کر لیتے ہیں۔ کبریائی خدا کے واسطے ہے۔ جو لوگ تکبر نہیں کرتے اور انکساری سے کام لیتے ہیں وہ ضائع نہیں ہوتے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد9 صفحہ 173،ایڈیشن 2022ء)
پھر عاجزی اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا:
’’ابھی تک بہت سے آدمی جماعت میں ایسے ہیں کہ تھوڑی سی بات بھی خلاف ِنفس سن لیتے ہیں تو ان کو جوش آ جاتا ہے۔ حالانکہ ایسے تمام جوشوں کو فِرَو کرنا بہت ضروری ہے تا کہ حلم اور بردباری طبیعت میں پیدا ہو۔ دیکھا جاتا ہے کہ جب ایک ادنیٰ سی بات پر بحث شروع ہوتی ہے تو ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کی فکر میں ہوتا ہے ۔‘‘ ایک دوسرے کو مغلوب کرنے کی فکر میں ہوتا ہے ’’کہ کسی طرح میں فاتح ہو جاؤں۔ ایسے موقع پر جوشِ نفس سے بچنا چاہیے اور رفع فساد کے لیے ادنیٰ ادنیٰ باتوں میں دیدہ دانستہ خود ذلّت اختیار کر لینی چاہیے۔ اس امر کی کوشش ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ مقابلہ میں اپنے دوسرے بھائی کو ذلیل کیا جاوے۔‘‘
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 65 حاشیہ ، ایڈیشن 2022ء)
اگر ہم اس کا جائزہ لیں اپنی زندگی میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو یہ جھوٹی غیرت رکھتے ہیں اور انا پائی جاتی ہے ۔اس لیے جھگڑے بھی بڑھتے ہیں ۔لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے تو اس سے نجات حاصل ہو جاتی ہے۔ بلکہ بعض تو غلط رنگ میں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ شکایات کر دیتے ہیں کہ ہماری فلاں جگہ لڑائی ہوئی تھی ۔فلاں جگہ اس نے مجھے برا کہا تھا تو اب میں اس کو کسی بھی غلط طریقے سے کسی غلط مقدمے میں یا کسی سزا میں ملوّث کرنے کی کوشش کروں۔
ایک موقع پر عاجزی اختیار کرنے والوں کی مرنے کے بعد مثال دیتے ہوئے آپؑ نے فرمایا کہ
’’ مرنا تو سب کے واسطے مقدر ہے۔‘‘ ایک دن جانا ہے اس دنیا سے۔’’آخر ایک نہ ایک دن سب کے ساتھ یہی حال ہونے والا ہے مگر
غربت کے ساتھ بے شرّ ہو کر مسکینی اور عاجزی میں جو لوگ مرتے ہیں ان کی پیشوائی کے واسطے گویا بہشت آگے آتا ہے۔
جیسا کہ حضرت عیسیٰؑ نے لَعْزَرکے متعلق بیان کیا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 8 صفحہ 289-290، ایڈیشن 2022ء)
لعزرکون تھا؟
جس کا ذکر آیا ہے۔ یہ واقعہ انجیل میں لوقا باب 16 میں لکھا ہے کہ ’’ایک دولت مند تھا جو اَرْغَوَانِی اور مَہِین کپڑے پہنتا ‘‘ رنگ برنگے نرم ملائم کپڑے پہنا کرتا تھا ’’اور ہر روز خوشی مناتا اور شان و شوکت سے رہتا تھا۔‘‘ انجیل میں یہ واقعہ لکھا ہے۔ ’’اور لعزر نام ایک غریب ناسوروں سے بھرا ہوا ‘‘ پھوڑے پھنسیاں اس کو نکلی ہوئی تھیں۔ جلد کی بیماری تھی اس کے دروازے پر ڈالا گیا تھا۔ وہ ’’اس کے دروازہ پر ڈالا گیا۔ اسے آرزو تھی کہ دولت مند کی میز سے گرے ہوئے ٹکڑوں سے اپنا پیٹ بھرے‘‘ یعنی وہاں سے جو کھانا بچے گا وہ باہر پھینکیں گے تو مَیں بھی کھا لوں گا’’ بلکہ کتّے بھی آ کر اس کے ناسور چاٹتے تھے۔‘‘ اتنا بیچارہ لاغر تھا کہ اپنے کتّوں کو بھی نہیں ہٹا سکتا تھا۔ وہ بھی آکے اس کے زخموں کو چاٹتے تھے ’’اور ایسا ہوا‘‘ آخر میں بائبل نے لکھا ہے’’ کہ وہ غریب مر گیا اور فرشتوں نے اسے لے جا کر ابراہام کی گود میں پہنچا دیا اور دولت مند بھی مرا اور دفن ہوا۔ اس نے عالَمِ ارواح کے درمیان عذاب میں مبتلا ہو کر اپنی آنکھیں اٹھائیں۔‘‘ بائبل کہتی ہے عالم ارواح کے درمیان عذاب میں مبتلا ہوا، اپنی آنکھیں اٹھائیں’’اور ابراہام کو دور سے دیکھا اور اس کی گود میں لعزر کو۔ اور اس نے پکار کرکہا اے باپ ابراہام! مجھ پر رحم کرکے لعزر کو بھیج کہ اپنی انگلی کا سرا پانی میں بھگو کر میری زبان تر کرے۔‘‘لعزرکو بھیج دے۔ مجھے بھی اس عذاب سے نجات دے کہ اپنی انگلی تر کر کے کم از کم پانی میری زبان پر رکھے’’کیونکہ میں اس آگ میں تڑپتا ہوں۔ ابراہام نے کہا بیٹا! یاد کر کہ تُو اپنی زندگی میں اپنی اچھی چیزیں لے چکا اور اسی طرح لعزر بری چیزیں‘‘ اس کو تو کچھ نہیں ملا دنیا میں’’ لیکن اب وہ یہاں تسلی پاتا ہے اور تو تڑپتا ہے۔‘‘ (لوقا باب 16 آیت 19تا25) تو یہ انجام آپؑ نے فرمایا آخر میں تکبر کرنے والوں کا ہوتا ہے۔
’’ انسان جب تک ایک غریب و بیکس بڑھیا کے ساتھ وہ اخلاق نہ برتے جو ایک اعلیٰ نسب عالی جاہ انسان کے ساتھ برتتا ہے یا برتنے چاہئیں اور ہر ایک طرح کے غرور، رعونت وکبر سے اپنے آپ کو نہ بچاوے وہ ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔‘‘
(ملفوظات جلد 5 صفحہ 138، ایڈیشن 2022ء)
پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ
’’متکبر خدا کے تخت پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ پس اس قبیح خصلت سے ہمیشہ پناہ مانگو۔ خدا تعالیٰ کے تمام وعدے بھی خواہ تمہارے ساتھ ہوں مگر تم جب بھی فروتنی کرو ‘‘گے جب بھی فروتنی کرو۔ بعض وعدوں کے باوجود عاجزی دکھاؤ ’’کیونکہ فروتنی کرنے والا ہی خداکا محبوب ہوتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 10 صفحہ 217، ایڈیشن 2022ء)
تواضع اور انکسار کے حوالے سے ایک واقعہ
بیان فرماتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں:
’’تواضع اور مسکنت عمدہ شَے ہے ۔جو شخص باوجود محتاج ہونے کے تکبر کرتا ہے وہ کبھی مراد کو نہیں پا سکتا۔ اس کو چاہیے کہ عاجزی اختیار کرے۔ کہتے ہیں کہ جالینوس حکیم ایک بادشاہ کے پاس ملازم تھا۔‘‘ ایک اَور حکایت ہے’’ بادشاہ کی عادت تھی کہ ایسی ردّی چیزیں کھایا کرتا تھا جن سے جالینوس کو یقین تھا کہ بادشاہ کو جذام‘‘ کوڑھ ’’ہو جائے گا۔‘‘ غلط قسم کی خوراکیں تھیں۔ آج کل بھی شور مچتا ہے کہ جنک فوڈ (junk food)نہ کھایا کرو تو اس زمانے میں بھی ایسی چیزیں ہوں گی۔ بہرحال جالینوس کو یقین تھا کہ یہ چیزیں جو ہیں یہ اس کو بیمار کر دیں گی اور جذام تک بھی نوبت آ سکتی ہے۔’’چنانچہ وہ ہمیشہ بادشاہ کو روکتا تھا مگر بادشاہ باز نہ آتا تھا۔ اس سے تنگ آ کر جالینوس وہاں سے بھاگ کر اپنے وطن کوچلا گیا۔‘‘ چھوڑ گیا وہ بادشاہ کی درباری اور اپنے وطن چلا گیا۔’’ کچھ عر صہ کے بعد بادشاہ کے بدن پر جذام کے آثار نمودار ہوئے۔‘‘ آخر وہی بات ہوئی جو جالینوس نے کہی تھی۔ جذام ہونے لگا۔’’تب بادشاہ نے اپنی غلطی کو سمجھا اور اس نے انکسار اختیار کیا۔ اپنے بیٹے کو تخت پر بٹھایا اور خود فقیرانہ لباس پہن کر وہاں سے چل نکلا اور جالینوس کے پاس پہنچا۔ جالینوس نے اس کو پہچانا اور بادشاہ کی تواضع اسے پسند آئی‘‘ یعنی عاجزی اسے پسند آئی کہ اس نے اس کو ریلائز (realise)کر لیا اور آگیا ہے میرے پاس۔ اور پورے زور سے پھر اس نے اس کا علاج کیا۔ آپؑ نے فرمایا کہ’’اور پورے زور سے اس کے علاج میں مصروف ہوا۔ تب خدا نے اسے شفا دی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد9 صفحہ177-178، ایڈیشن 2022ء)
اپنی ایک مجلس میں اپنے الہام کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ نے جو نصیحت فرمائی ہے اس کا ذکر روایت میں یوں ملتا ہے کہ حضرت اقدسؑ نے فجر کے وقت تشریف لا کر نماز سے پیشتر تھوڑی دیر مجلس کی۔ یعنی فجر کی نماز سے بھی پہلے آگئے اور مجلس کی اور’’ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ اِلَّا الَّذِیْنَ عَلَوْا وَاسْتَکْبَرُوْا۔‘‘ یعنی میں دار کے اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے علو اور تکبر کیا، کے متعلق فرمایا کہ’’ اس میں علوّ اور تکبر سے یہ مراد نہیں ہے کہ مال و وجاہت کا تکبر ہو بلکہ ہر ایک شخص جو کہ عاجزی اور تذلل سے خدا کے سامنے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتا اور اس کے احکام کو نہیں مانتا وہ اس میں داخل ہے خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ (ملفوظات جلد3 صفحہ 443۔ 444،ایڈیشن 2022ء) گھر میں داخل ہونے والا وہی ہوگا جو عاجزی دکھانے والا ہو۔
پھر آپؑ نے ایک موقع پر فرمایا کہ
’’ جب انسان کو کامیابی حاصل ہو جاتی ہے اور عجز و مصیبت کی حالت نہیں رہتی تو جو شخص اس وقت انکسار کو اختیار کرے اور خدا کو یاد رکھے وہ کامل ہے ۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 417، ایڈیشن 2022ء)
اور صرف یہ باتیں آپؑ نے جماعت کو نصیحت نہیں فرمائیں بلکہ اپنے عمل سے بھی یہ باتیں بیان کی ہیں، ثابت کی ہیں جس کی شروع میں مَیں نے مثال بھی دی کہ اللہ تعالیٰ کو بھی آپؑ کا عمل پسند آیا۔ بہرحال
بعض روایات آپؑ کے اپنے عمل کی ہیں۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے روایت کی کہ مجھے مرزا سلطان احمد صاحب نے بتایا کہ دادا صاحب ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب کو کرسی دیتے تھے ۔مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے تو حضرت مرزا سلطان احمد کےجو دادا تھے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بھائی ان کو کرسی ملتی تھی۔ یعنی جب وہ دادا صاحب کے پاس جاتے تو انہیں کرسی پر بٹھاتے تھے لیکن والد صاحب جا کر خود ہی نیچے صف کے اوپر بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب بھی اس مجلس میں جاتے تو صف میں نیچے جہاں عام لوگ بیٹھے ہوتے وہاں بیٹھ جاتے۔ کبھی دادا صاحب ان کو اوپر بیٹھنے کو کہتے تو والد صاحب کہتے کہ میں یہاں ہی اچھا بیٹھا ہوں۔
(ماخوذ ازسیرت المہدی جلد 1 روایت نمبر 192 صفحہ 199-200)
کبھی آپؑ کو یہ خواہش نہیں ہوئی کہ اونچی جگہ بیٹھوں بلکہ عام لوگوں میں بیٹھتے تھے۔
جس طرح پہلے آپؑ نے نصیحت فرمائی ہے ناں کہ میزبان جو ہے وہ خود ہی بٹھا دے گا۔ خود ہمیشہ اس پہ زندگی میں عمل کیا ہے۔
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک اَور روایت بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہا کہ’’ ایک دفعہ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ حضور حدیث میں آتا ہے کہ سب نبیوں نے بکریاں چرائی ہیں ۔کیا کبھی حضور نے بھی چرائی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ایک دفعہ باہر کھیتوں میں گیا وہاں ایک شخص بکریاں چرا رہا تھا۔ اس نے کہا کہ میں ذرا ایک کام جاتا ہوں آپ میری بکریوں کا خیال رکھیں۔ مگر وہ ایسا گیا کہ بس شام کو واپس آیا اور اس کے آنے تک ہمیں اس کی بکریاں چرانی پڑیں۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 روایت نمبر108 صفحہ 88)
سارا دن اس کی بکریاں چراتے رہے حالانکہ آپؑ اس علاقے کے رئیس زادے تھے۔ایک رئیس کے بیٹے تھے لیکن آپؑ نے عار نہیں سمجھا اور شام تک آپؑ اس آدمی کی جو آپؑ کا مزارع تھا یا کام کرنے والا تھا، بکریاں چر اتے رہے۔
اسی طرح آپؑ کی اپنی عاجزی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خواجہ عبدالرحمان صاحب کارکن دفتر الفضل بیان کرتے ہیں:
’’میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے دروازے پر دربانی کی ہے۔‘‘ آپؑ کے باہر بیٹھا رہتا تھا ۔حفاظت کے لیے ،آنے جانے والوں کا پیغام دینے یا اطلاع کرنے یا کوئی ضروری کام ہو تو کرنے کے لیے۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں باہر آپؑ کے دروازے پہ اور حضورؑ کے مکان کے اندر بیٹھا ہوتا تھا اور فرمایا کہ دربانی کی ہے’’اور حضورؑ کے مکان کے اندر مکان میں دیر تک رہا ہوں‘‘ اور میں اندر بھی جاتا تھا۔ تو’’ میں نے حضرت صاحب ؑکو جی کے سوا کبھی کوئی لفظ بولتے نہیں سنا۔ ‘‘جب بھی حضرت صاحبؑ نے بات کی میرے سے ہمیشہ جی کر کے بات کرتے۔’’ ہمیشہ جب کلام کرتے تو جی کو ضرور استعمال کرتے۔ تکبر غرور مَیں نے نہیں دیکھا۔‘‘ کہتے ہیں غرور اور تکبر مَیں نے آپ میں کبھی نہیں دیکھا۔’’ ہمیشہ حلیمی سے بات کرتے۔ چہرہ پر ہمیشہ بشاشت رہتی۔ تیوری یا بل چڑھاتے مَیں نے نہیں دیکھا۔ ‘‘کبھی ماتھے پربل نہیں آیا۔’’مَیں نے کبھی بھی یہ نہیں سنا کہ کسی کو حضرت صاحبؑ نے ا وبے یا تُو کا لفظ استعمال کیا ہو۔‘‘
(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ 294-295)
او یا تُو کا لفظ کبھی استعمال نہیں کرتے تھے۔ ہمیشہ عزّت سے پیش آتے تھے۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ نے مجھے بیان کیا کہ
’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گھر کا کوئی کام کرنے سے کبھی عار نہ تھی۔ چارپائیاں خود بچھا لیتے تھے۔ فرش کر لیتے تھے‘‘ یعنی جو موپ (mop)وغیرہ کرتے ہیں وہ بھی کر لیتے تھے۔ ’’بسترہ کر لیا کرتے تھے‘‘جھاڑو دیتے تھے۔ ’’کبھی یک دم بارش آ جاتی تو چھوٹے بچے تو چارپائیوں پرسوتے رہتے حضور ایک طرف سے خود ان کی چارپائیاں پکڑتے دوسری طرف سے کوئی اَور شخص پکڑتا اور اندر برآمدہ میں کروا لیتے۔‘‘
آج کل تو اے سی اور پنکھے وغیرہ ہیں ۔اس زمانے میں تو نہیں تھے تو گرمیوں میں لوگ باہر صحن میں سویا کرتے تھے اور رات کو آندھی یابارش آ جائے تو چارپائیاں اٹھا کے پھر اندر برآمدے میں کرنی پڑتی تھیں۔ تو آپؑ بچوں کی چارپائیاں اٹھانے میں مدد کرواتے تھے۔ ’’اگر کوئی شخص ایسے موقعہ پر یا صبح کے وقت بچوں کو جھنجوڑ کر جگانا چاہتا تو حضور منع کرتے اور فرماتے کہ اس طرح یک دم ہلانے اور چیخنے سے بچہ ڈر جاتا ہے۔ آہستہ سے آواز دے کر اٹھاؤ۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 روایت 559 صفحہ 543)
پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ہی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ مجھے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا۔اور انہوں نے بھی آگے یہ روایت مولوی رحیم بخش صاحب سے سنی کہ ان کے’’ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے۔ وہیں ان کے لیے کھانا جاتا تھا۔ باہر گھر کا جو حصہ تھا اور جس قسم کا کھانا بھی ہوتا تھا کھا لیتے تھے۔ ‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 روایت نمبر 189 صفحہ 199)
حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کہا ہے کہ والد صاحب باہر چوبارے میں رہتے تھے باہر جو آپ کا ایک کمرہ تھا اس میں اوپر دوسری منزل میں رہتے تھے۔ وہیں رہتے تھے اور وہیں ان کے لیے کھانا جاتا تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روزے رکھے۔ یہ بھی بیان فرمایا ناں کہ اس زمانے میں بھی کھانا جایا کرتا تھا جو غریبوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ کھانا وہاں جاتا تھا اور جس قسم کا بھی کھانا ہوتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کھا لیتے تھے۔کبھی کچھ نہیں کہتے تھے۔
جماعت کی تاریخ میں ایک واقعہ بڑا مشہور ہے ۔آپؑ کے دعوے سے پہلے کی یہ بات ہے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب جب نئے نئے مولوی اور عالم بن کر دہلی سے واپس بٹالہ آئے تو علاقے میں ان کی دھوم مچ گئی۔ اس وقت مختلف مسائل پر مقلّدین جو کسی نہ کسی فقہ کے امام کے پیروکار ہوں جیسے حنفی مالکی وغیرہ ان کو مقلّدین کہتے ہیں اور غیر مقلّدین جو کسی فقہ کے امام کے پیروکار نہ ہوں جیسے اہل حدیث وغیرہ۔ ان کے مابین علمی بحث مباحثے عام تھے۔ اہالیانِ بٹالہ نے جب یہ شور و شر دیکھا تو ان کی نظر حضرت اقدس علیہ السلام پر پڑی کہ آپ علیہ السلام کو ان کے مدّ مقابل کیا جائے اور ان لوگوں کو یقین تھا کہ ایک آپؑ ہی ہیں جو اس نوجوان مولوی کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ حضرت اقدس ؑکو بمشکل اس مباحثہ کے لیے راضی کیا گیا۔ آپؑ پہلے تیار نہیں ہوتے تھے۔ بہرحال لوگوں نے بہت زور دیا آپؑ تیار ہو گئے۔ آپؑ کو مباحثے کے لیے لایا گیا۔ طرفین کی طرف سے حامیان کی ایک خاصی تعداد جمع تھی۔ دو مختلف گروپوں کے دونوں طرف سے جو لوگ تھے ان کے حامی کھڑے ہو کر اکٹھے ہو گئے۔ یہاں لکھا ہے اور آج تو خاص طور پر مقلّدین کا گروہ بجا طور پر اپنی پیشگی فتح کے لیے پُریقین تھا اور ہونا بھی چاہیے تھا کہ آج اس بزرگ عالم کو بحث کے لیے بلایا گیا تھا۔ مقلّدین کا خیال تھا کہ ہم آج تو جیتے ہی جیتے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام آج آئے ہیں کیونکہ آپؑ کی گرفت ایسی ہوتی تھی کہ مدّمقابل زیر دام چڑیا کی طرح بے کس و بے بس ہو جاتا تھا۔
بہرحال آپؑ جب مقام بحث پر پہنچے تو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کے نظریات و خیالات اور عقائد کیا ہیں ؟وہ بتائیں تاکہ ان کی تردید کی جائے۔ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے کہا کہ میرے نزدیک قرآن کریم مقدم اور پھر حدیث اور قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ حضرت اقدسؑ نے مولوی صاحب سے ان کا یہ عقیدہ سنا تو فرمایا کہ میرے نزدیک آپ کے عقائد و نظریات میں کوئی ایسی بات نہیں کہ جوقابل اعتراض ہو اور اس کو ردّ کیا جائے۔ جو لوگ آپؑ کو لے کر گئے تھے ان کا خیال تھا کہ اس طرح تو ہماری شکست متصوّر ہو گی کہ فریق مخالف اپنی فتح کا نقارہ بجا دے گا۔ آپؑ نے سیدھا سیدھا مولوی صاحب کو کہہ دیا کہ مَیں تو کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں سمجھتا ۔اس لیے کچھ بھی ہو مولوی صاحب کو اس میدان مباحثہ میں کچھ تو ندامت اور شرمندگی کا قشقہ یعنی نشان یا داغ لگانا چاہیے لیکن
حضرت اقدسؑ فتح و شکست کے فخر اور رسوائی سے بے نیاز انتہائی عجز و انکسار کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔
حضرت اقدس علیہ السلام نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
’’ 1868 یا 1869 میں بھی ایک عجیب الہام اردو میں ہوا تھا جس کو اِسی جگہ لکھنا مناسب ہے۔ اور تقریب اس الہام کی یہ پیش آئی تھی کہ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی کہ جو کسی زمانہ میں اس عاجز کے ہم مکتب بھی تھے جب نئے نئے مولوی ہو کر بٹالہ میں آئے اور بٹالیوں کو ان کے خیالات گراں گزرے تو تب ایک شخص نے مولوی صاحب ممدوح سے کسی اختلافی مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے اس ناچیز کو بہت مجبور کیا۔ چنانچہ اس کے کہنے کہانے سے یہ عاجز شام کے وقت اس شخص کے ہمراہ مولوی صاحب ممدوح کے مکان پر گیا اور مولوی صاحب کو معہ ان کے والد صاحب کے مسجد میں پایا۔ پھر خلاصہ یہ کہ اس احقر نے مولوی صاحب موصوف کی اس وقت کی تقریر کو سن کر معلوم کرلیا کہ ان کی تقریر میں کوئی ایسی زیادتی نہیں کہ قابل اعتراض ہو۔ اس لئے خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا
رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اسی ترکِ بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے کیونکہ خالصاً خدا اور اس کے رسول کے لئے انکسار و تذلل اختیار کیا گیا اس لئے اس محسن مطلق نے نہ چاہا کہ اس کو بغیر اجر کے چھوڑے۔‘‘
(براہین احمدیہ حصہ چہارم،روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 621-622 بقیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر 3)
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے اس واقعے کو اپنی تصنیف حیات احمد میں بیان کیا ہے اس پر ایک نوٹ بھی لکھا ہے لکھتے ہیں کہ
’’ لوگ مباحثات کے عام طرز اور مناظرہ کنندگان کی حالت سے خوب واقف ہیں۔‘‘ جو مناظرہ کرنے والے ہیں ان کی حالت سے واقف ہیں کہ’’ اپنے فریق مخالف یا مقابل کی بات کو جو حق ہو قبول کر لینا اور پبلک کے سامنے تسلیم کر لینا بہت ہی مشکل ہے۔ مَیں علماء کی تحقیر نہیں کرتا مگر علماء کے لیے تو جان دے دینا آسان مگر اپنی غلطی تو درکنار فریق ثانی کی صحیح اور معقول بات کو مان لینے کی عادت بھی نہیں رہی۔ ‘‘ آج بھی یہی حال ہے ’’مگر حضرت مسیح موعودؑکی حالت محض اخلاص اور مرضاۃ اللہ کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ بالطبع اس کو پسند نہیں کرتے تھے کہ مسلمانوں میں اندرونی طور پر خانہ جنگی ہو اور وہ باہم مسائل کے اختلاف پر حق پَژُوْہِی‘‘ یعنی حق کی تلاش اور طلب ’’اور حق گوئی کو چھوڑ دیں۔ اور پھر یہ کس قدر جرأت اور دلیری ہے کہ جس شخص سے مناظرہ کرنے جاتے ہیں اس کے گھر پہنچتے ہیں کوئی روک اور جھجک طبیعت میں اس کے علم اور اثر سے نہیں لیکن اس کے منہ سے ایک حق بات سن کر اس بات کی قطعاً پرواہ نہیں کی جاتی کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ اس کو گریز قرار دیں گے یا فریق ثانی سے مرعوب ہونے سے تعبیر کریں گے۔ جو بات حق تھی اسے تسلیم کر لیا‘‘ جو بات حق تھی اسے تسلیم کر لیا۔ آپؑ نے کوئی پرواہ نہیں کی کہ لوگ کیا کہتے ہیں’’ اور اس کی صحت پر اپنے اقرار سے مہر کر دی۔ یہ ایک ایسا فعل ہے جس کی نظیر انبیاء علیہم السلام اور ان کے خاص متبعین کی زندگیوں کے سوا کہیں نہیں ملتی۔ اخلاص فی الدین اور اپنی ہوا و حوس کو کچل دینے کا زوردار جذبہ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے مل سکتا ہے۔ پھر اس فعل کی قبولیت کے آثار اسی وقت ظاہر ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعے بشارت دی اور رضی اللہ عنہ کا گویا سرٹیفکیٹ عطا کر دیا۔ انسان دنیا میں چاہتا ہے کہ اس کی قبولیت بڑھے اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے اس فعل کے ثمرہ میں بتایا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ براہین احمدیہ کی تالیف و ترتیب کا بھی ابھی تک خیال پیدا نہیں ہوا تھاچہ جائیکہ کوئی دعویٰ ہوتا۔ دنیا سے قریباً بے تعلقی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ملازمت کے سلسلہ کو بھی ترک کرچکے ہیں۔ آئندہ زندگی گزارا کے خیالات گو آپ کے دل و دماغ پر متاثر نہیں مگر گھر والوں کو اس کا خیال ضرور ہوتا ہے کہ یہ کیا کریں گے۔‘‘ اس وقت الہام ہوتا ہے کہ بادشاہ برکت ڈھونڈیں گے جب آپؑ کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ ’’حضرت والد صاحب قبلہ ابھی زندہ ہیں‘‘ اس وقت آپؑ کے۔’’غرض زندگی کی اس منزل میں ہیں جہاں ایک دنیا دار کے لیے بڑی امیدیں ہوتی ہیں اور عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ہر قسم کے خیالات اور خودداری اور خود نمائی کے جذبات پورے جوش اور زور میں ہوتے ہیں۔ اپنی بات کی پچ اور ضد ہوتی ہے۔ان تمام حالات میں حضرت مرزا صاحب ایک مشہور مولوی سے مباحثہ کے لیے جاتے ہیں اور اس کی تقریر سن کر اسے صحیح پا کر اس کی تصدیق کر دیتے ہیں۔ نہ تو خیال آتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور نہ اس بات کی پرواہ کی جاتی ہے کہ اس شخص کی عام مخالفت اس کے بعض عقائد کی وجہ سے ہو رہی ہے اور میں اپنے بیان سے اس کی تائید کر رہا ہوں۔ میرے خلاف بھی ایک طوفان بےتمیزی پیدا ہو جائے گا۔ پس آپ غور کریں کہ ان حالات میں جبکہ حنفیوں اور غیر مقلّدوں میں سخت معرکہ کی جنگ جاری تھی اور کسی اہل حدیث کی تائید سے بے انتہا بلاؤں کو خرید لینا ہوتا تھا حضرت مرزا صاحب مولوی محمد حسین صاحب کی تائید کر دیتے ہیں بحالیکہ ان سے مباحثہ کے لیے بلائے گئے تھے۔ یہ خیال اور وہم نری حماقت ہوگی کہ مولوی ابوسعید صاحب کا علم یا زور یہاں آپ کے خاموش کرا دینے کا موجب ہو سکا ہو گا۔ ممکن تھا کہ یہ وہم کوئی وقعت رکھتا اور بعد میں آنے والے واقعات نے اسے مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثات بالمشافہ اور بذریعہ تحریروں کے نہ کرائے ہوتے اور اس کے خطرناک مقابلہ میں یہ جواِن محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ آیا ہوتا۔‘‘یہ خیال نہیں ہے کہ اس وقت آپؑ زیر اثر آگئے کیونکہ بعد میں تو تاریخ سے ثابت ہے کہ آپؑ نے مولوی محمد حسین صاحب کو کئی دفعہ چیلنج دیا ۔ان کو بلایا ۔ان کو بتایا بھی کہ کیا آپ غلط کررہے ہیں کیا صحیح کر رہے ہیں اور پھر لکھتے ہیں کہ’’اور کبھی اور کسی حال میں اس پر ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کی علمیت اور اثر کا خوف موثر نہیں ہو سکا۔ یہ واقعات ہیں اور کوئی ان کی تکذیب نہیں کر سکتا۔ پس ایسی حالت میں یہ خیال محض نادانی ہے بلکہ اس کی تہہ میں ایک اور صرف ایک ہی بات تھی اور وہ اخلاص فی الدین تھا۔‘‘
( حیات احمدؑ جلد 1 صفحہ 291تا292)
دین کے معاملے میں اخلاص تھا۔ اس لیے آپؑ نے اس وقت یہ تسلیم کر لیا تو مولوی محمد حسین بٹالوی سے ڈر کے تسلیم نہیں کیا کیونکہ بعد میں آپؑ نے ان کو کئی دفعہ چیلنج بھی دیے۔ اور ان کو دعوتیں بھی دیں اور ان کو صحیح راستے پر آنے کے لیے تلقین بھی کی۔
اپنے ایک خط میں مولوی محمد حسین بٹالوی کو آپؑ نے لکھا۔اور اس میں آپؑ نے پیغام حق پہنچایا لیکن
باوجود خدا کی طرف سے ماموریت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے اپنے متعلق عجز و انکسار کا کمال درجے کا اظہار فرمایا ۔
چنانچہ آپؑ لکھتے ہیں کہ
’’مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ…عنایت نامہ پہنچا۔ ‘‘آپ کا خط ملا۔’’ اس عاجز کے لئے بڑی مشکل کی بات یہ ہے۔ ‘‘السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ بھی اس میں آپؑ نے لکھا تھا۔ بہرحال لکھتے ہیں کہ اس عاجز کے لیے بڑی مشکل کی بات یہ ہے ’’کہ طبیعت اکثر دفعہ ناگہانی طور پر ایسی علیل ہو جاتی ہے کہ موت سامنے نظر آتی ہے اور کچھ کچھ علالت تو دن رات شامل حال ہے۔ اگر زیادہ گفتگو کروں تو دورہ مرض شروع ہو جاتا ہے ۔اگر زیادہ فکر کروں تو وہی دورہ شامل حال ہے چونکہ آپ کا آخری خط آیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ گویا بشمولیت مولوی عبدالجبار صاحب لکھا گیا ہے ‘‘یعنی دونوں نے مل کر خط لکھا ہے۔’’ اس لئے جواب اس طرز سےلکھا گیا تھا ۔یہ عاجز غلبہ مرض سے بالکل نکما ہو رہا ہے۔‘‘ بہت زیادہ بیماری کا زور ہے اس وقت۔ ’’یہ طاقت کہاں ہے کہ مَبَاحِث تقریری یا تحریری شروع کروں۔ ‘‘بحثیں کرنے کی اس وقت میرے میں ہمّت نہیں ہے’’ محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تینوں رسالے‘‘ آپ نے جو کتابیں لکھی تھیں فتح اسلام اور توضیح المرام اور ازالہ اوہام۔’’ لکھے گئے اور وہ بھی اس طرح سے کہ اکثر دوسرا شخص اس عاجز کی تقریر کو لکھتا گیا اور نہایت کم اتفاق ہوا کہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھا ہو۔ اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ عبارت کو عمدگی سے درست کر دیا جاوے۔ آپ کی معلومات حدیث میں بہت وسیع ہیں‘‘ مولوی صاحب کو لکھ رہے ہیں ۔مَیں نے تو یہ تین کتابیں لکھی ہیں آپ کی معلومات حدیث میں بہت وسیع ہیں۔ بڑے عالم ہیں’’ یہ عاجز ایک اُمِّی اور جاہل آدمی ہے۔‘‘ اپنے آپ کو تو اُمِّی اور جاہل کہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے’’ نہ عبادت ہے ،نہ ریاضت ،‘‘ نہایت عاجزی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ’’نہ علم ہے، نہ لیاقت ، غرض کچھ بھی چیز نہیں۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امر تھا اور قطعی اور یقینی تھا، اس عاجز نے پہنچا دیا۔ ماننا نہ ماننا اپنی اپنی رائے اور سمجھ پر موقوف ہے۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 319-320 مکتوب نمبر 10) آپؑ نے نہایت عاجزی سے ان کو تبلیغ بھی کی۔
حضرت منشی احمد جان صاحبؓ کے نام حضور علیہ السلام کا ایک خط شائع شدہ ہے ۔اس میں بھی آپؑ کا عجز وانکسار کا ذکر ہے۔
آپؑ لکھتے ہیں:
’’ آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا ۔خداوند کریم کے احسانات کا شکر ادا نہیں ہوسکتا جس نے اس احقر العباد کے لئے ایسے دلی احباب میسّر کیے جن کا وجود اس ناچیز کے لئے موجب عزّت و فخر ہے۔ خداوند کریم آپ کو خوش و خرم رکھے اور آپ کو ان دلی توجہات کا اجر بخشے۔ یہ عاجز سخت ناکارہ اور حقیر ہے اور حضرت ارحم الراحمین کا سراسر منّت اور احسان ہے کہ اس نالائق پر بغیر ایک ذرّہ استحقاق کے تَفَضُّلَاتِ کثیرہ کی بارش کر رہا ہے۔ ‘‘بہت بارشیں برسا رہا ہے فضلوں کی۔’’ قصور پر قصور پاتا ہے اور احسان پر احسان کرتا ہے۔ ظلم پر ظلم دیکھتا ہے اور انعام پر انعام کرتا ہے۔ فی الحقیقت وہ نہایت رحیم و کریم ہے۔ ایسی زبان کہاں سے لاؤں جو اس کا شکر ادا کر سکوں۔ یہ عاجز ہیچ اور ذلیل اور بے بضاعت اور سراسر مفلس ہے۔ اس نے خاک میں مجھے پایا اور اٹھا لیا ’’کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زمین پر پایا اوراٹھا لیا ‘‘اور نالائق محض دیکھا اور میری پردہ پوشی کی۔ میرے ضعف پر نظر کر کے مجھ کو آپ قوّت دی اور میری نادانی کو دیکھ کر مجھ کو آپ علم بخشا۔ ’’سب علم اللہ تعالیٰ کا بخشا ہوا ۔جو میرے پاس علم ہے وہ اللہ کا بخشا ہوا ہے۔‘‘ میرے حال پر وہ عنایتیں کیں جن کو میں گن نہیں سکتا اور اس کی عنایات کا ایک یہ ظہور ہے کہ آپ جیسے بزرگ بھائیوں کے دلوں میں اس احقر کی محبت ڈال دی۔ سو اس کے احسانات سے تعلق ہے کہ اس حُبّ کو ترقی دے گا اور وہ ان سب پر فضل کرے گا جن کو اس سلک میں منسلک کیا ہے۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد 3 صفحہ 25-26، مکتوب بنام صوفی احمد جان صاحبؓ، مکتوب نمبر 3) جو اَب میری جماعت سے منسوب ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کو ترقی دے گا۔
حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؑ اس خط کو شائع کرتے ہوئے اپنے ایک نوٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’اس مکتوب سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دل پر محبت و عظمتِ الٰہی کا بےانتہا غلبہ ہے اور اپنی فروتنی، مسکینی اور خاکساری کا کمال بھی نمایاں ہے۔ انہی تفضّلات اور انعامات پر شکر گزاری کی روح آپ کے اندر بول رہی ہے۔‘‘
(مکتوبات احمد جلد 3 صفحہ 26)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے سخت مخالفت شروع کی اور نہایت متکبرانہ انداز میں انتہائی ناشائستہ الفاظ اور القاب سے حضور علیہ السلام کو خط لکھنے شروع کیے اور اپنے رسالہ اشاعةالسنة میں بھی خلافِ تہذیب الفاظ استعمال کرنے شروع کیے اور اعلان کیا کہ یہ ایک فتنہ ہے اور مَیں اس جماعت کو تتر بتر کر کے رکھ دوں گا اور یہاں تک لکھا کہ جیسا کہ میں نے آسمان پر چڑھایا تھا ویسا ہی اب زمین پر گراؤں گا ۔یعنی نعوذ باللہ مولوی محمد حسین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تعریفیں کر کے آسمان پہ چڑھایا تھا ،کہتا ہے مَیں اب گراؤں گا۔
(ماخوذ از رسالہ اشاعۃ السنۃ 1890، نمبر 1 جلد 13، صفحہ 3-4)
مولوی صاحب کو زعم تھا کہ براہین احمدیہ پر میرے ریویو نے حضرت ؑکو گویا آسمان پر چڑھایا تھا لیکن اس ساری بد زبانی اور متکبرانہ گفتگو اور خط و کتابت کے جواب میں حضور علیہ السلام نے ایسے حلم اور تحمل اور عجز و انکسار کا اظہار فرمایا کہ مسیح ناصری کے حلم کو بھی مات دے دی۔یہاں مولوی صاحب کے نام حضور علیہ السلام کا صرف ایک خط پیش کیا جاتا ہے جس سے ظاہر ہو تاکہ
اس کی بدزبانی اور تکبر کے مقابلے پر حضور علیہ السلام کے دل میں ہمدردی اور خیر خواہی اور عجز و انکسار کا ایک سمندر موجزن ہے۔
چنانچہ آپؑ مولوی صاحب کو مخاطب کر کے لکھتے ہیں :
’’عنایت نامہ پہنچا۔‘‘ آپ کا خط ملا۔’’ اگرچہ خداوند کریم خوب جانتا ہے کہ یہ عاجز اس کی طرف سے مامور ہے اور ایسے امور میں جہاں عوام کے فتنے کا اندیشہ ہے ،جب تک کامل اور قطعی اور یقینی طور پر اس عاجز پر ظاہر نہیں کیا جاتا ،ہرگز زبان پر نہیں لاتا۔ لیکن اس میں کچھ حکمت خداوند کریم کی ہوگی کہ اس نزول مسیح کے مسئلے میں جس کو اصل اور لُبِّ اسلام‘‘ یعنی اسلام کی حقیقت اور مغز جو ہے ’’سے کچھ تعلق نہیں اور ایک مسلمان پر اس کی اصل حقیقت کھولی گئی ہے جس پر بوجہ اخوّت حسن ظن بھی کرنا چاہیے ۔آں مکرم کو مخالفانہ تحریر کے لئے جوش دیا گیا ہے۔‘‘اول تو یہ تھا کہ عیسیٰ ؑکو میں نے اگر کہا فوت ہو گئے ہیں تو آپ لوگوں کو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے میری تائید کرنی چاہیے تھی لیکن آپ نے مخالفانہ باتیں شروع کر دی ہیں۔ فرمایا کہ آنمکرم کو مخالفانہ تحریر کے لیے جوش دیا گیا ہے ’’اور میں جانتا ہوں کہ آپ کی اس میں نیت بخیر ہوگی۔‘‘نیک نیت سے شاید کیا ہو۔’’اور اگرچہ مجھے آپ کے استعجال کی نسبت شکایت ہو ‘‘جو جلدی آپ دکھا رہے ہیں۔ اور جو الفاظ استعمال کر رہے ہیں جلد بازی میں ’’اور اس کو روبرو یا غائبانہ بیان بھی کروں مگر آپ کی نیت کی نسبت مجھے حسن ظن ہے‘‘ پھر بھی میں آپ سے حسن ظن رکھتا ہوں اور’’ آپ کو زمانہ حال کے اکثر علماء بلکہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو بعض للّہی جدوجہد کے کاموں کے لحاظ سے مولوی نذیر حسین صاحب سے بھی بہتر سمجھتا ہوں اور اگرچہ میں آپ سے ان باتوں کی شکایت کروں تاہم مجھے بوجہ آپ کی صفائی باطن کے آپ سے محبت ہے۔ اگر میں شناخت نہ کیا جاؤں تو میں سمجھوں گا کہ میرے لئے یہی مقدر تھا ۔
مجھے فتح اور شکست سے بھی کچھ تعلق نہیں بلکہ عبودیت و اطاعت حکم سے غرض ہے‘‘
اطاعت حکم سے غرض ہے مجھے اس سےغرض نہیں کہ میں فتح پاتا ہوں کہ نہیں۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ یہ کرو۔ اس کی اطاعت میں مَیں یہ کر رہا ہوں کہ مَیں نے دعویٰ کیا ہے۔’’ مَیں جانتا ہوں کہ اس خلاف میں آپ کی نیت بخیر ہو گی ۔لیکن میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ اوّل مجھ سے بات چیت کر کے اور میری کتابوں کو یعنی رسالہ ثلاثہ ‘‘فتح اسلام توضیح المرام اور ازالہ اوہام اس ’’کو دیکھ کر کچھ تحریر کریں۔ مجھے اس سے کچھ غم اور رنج نہیں کہ آپ جیسے دوست مخالفت پر آمادہ ہوں کیونکہ یہ مخالفت رائے بھی حق کے لئے ہو گی۔… ‘‘آپ شاید حق کے لیے لڑ رہے ہوں لیکن پہلے آپ میری کتابیں تو پڑھ لیں۔
’’ اب مجھے آپ کی ملاقات کے لئے صحت حاصل ہے۔‘‘ میری صحت ٹھیک ہے۔میں ملاقات کے لیے آسکتا ہوں۔’’اگر آپ بٹالہ میں آ جائیں تو اگرچہ میں بیمار اور دوران سر اس قدر ہے کہ نماز کھڑے ہو کرنہیں پڑھی جاتی تاہم اُفْتَاں و خیزاں آپ کے پاس پہنچ سکتا ہوں ۔‘‘ (مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 311-312، مکتوب نمبر 6) بہرحال مجھے سردرد اور چکروں کی تکلیف ہے لیکن اتنی صحت تو ہو گی کہ مَیں سفر کر سکتا ہوں۔تو بہرحال مَیں پہنچ جاؤں گا۔
پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے نام ایک دوسرے مکتوب میں لکھتے ہیں:
’’ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو اس عاجز کی دانست میں اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب کے مقابل آپ کی تحریر میں کسی قدر سختی تھی۔ ‘‘حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ نے جو خط آپ کو لکھا اس کے جواب میں آپ نے بڑے سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔
’’ خدا تعالیٰ انکسار اور تذلل کو ہمیشہ پسند کرتا ہے اور علماء کے اخلاق اپنے بھائیوں کے ساتھ سب سے اعلیٰ درجے کے چاہئیں۔ ‘‘
اخلاق اچھے ہونے چاہئیں۔ ’’جس دین کی حمایت اور ہمدردی کے لئے دن رات کوششیں ہو رہی ہیں، وہ کیا ہے؟ صرف یہی کہ اللہ اور رسول کی منشاء کے موافق ہمارے جمیع احوال و افعال و حرکات و سکنات ہو جائیں۔
میرے خیال میں اخلاق کے تمام حصوں میں سے جس قدر خدا تعالیٰ تواضع اور فروتنی اور انکسار اور ہر ایک ایسے تذلل کو جو منافی نخوت ہے پسند کرتا ہے ایسا کوئی شعبہ خلق کا اس کو پسند نہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک سخت بے دین ہندو سے اس عاجز کی گفتگو ہوئی اور اس نے حد سے زیادہ تحقیرِ دین ِمتین کے لئے الفاظ استعمال کئے۔ غیرت دینی کی وجہ سے کسی قدر اس عاجز نے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ۔’’ کہ ان پر سختی کرو اس’’ پر عمل کیا مگر چونکہ وہ ایک شخص کو نشانہ بنا کر درشتی کی گئی تھی اس لئے الہام ہوا کہ تیرے بیان میں سختی بہت ہے ۔رِفْق چاہیے رفق۔ ‘‘میں نے حالانکہ اس کا جواب دیا تھا تو اس پہ بھی مجھے اللہ تعالیٰ نے کہا تم نرمی کرو۔ ’’اور اگر ہم انصاف سے دیکھیں تو ہم کیا چیز اور ہمارا علم کیا چیز۔ اگر سمندر میں ایک چڑیا منقار مارے ‘‘یعنی چونچ مارے ’’تو اس سے کیا کم کرے گی۔ ‘‘سمندر سے چڑیا اگر پانی پیتی ہے، چونچ مارتی ہے تو اس سے کیا کم ہوگا؟
’’ ہمارے لئے بھی بہتر ہے کہ جیسے ہم درحقیقت خاکسار ہیں۔ خاک ہی بنے رہیں جبکہ ہمارا مولیٰ ہم سے تکبر اور نخوت پسند نہیں کرتا تو کیوں کریں۔ ہمارے لئے ایسی عزّت سے بے عزتی اچھی ہے جس سے ہم مورد عتاب ہو جائیں۔ ‘‘
(مکتوبات احمد جلد 1 صفحہ 315-316، مکتوب نمبر 8)
اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے سے بہتر ہے کہ ہماری بے عزتی ہوتی رہے۔
پس
آپؑ کا ہر قول اور فعل عاجزی کے اظہار سے بھرا ہوا تھا۔ صرف یہ ایک جستجو تھی کہ خداتعالیٰ کی رضا حاصل ہو۔ اس کے پیغام کو دنیا میںپہنچایا جائے۔ اس کی وحدانیت کو قائم کیا جائے۔ ہمیں بھی بار بار آپؑ نے یہی نصیحت فرمائی کہ عاجزی اختیار کرو ۔اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ اور یہی چیز تمہیں خداتعالیٰ کا قرب بھی دلائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عاجزی کی راہوں کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍مئی 2026ء



