قطعات (منظوم کلام حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ)

باغِ کفار سے ہم نِت نئے پھل کھاتے ہیں
دل ہی دل میں وہ جسے دیکھ کے جل جاتے ہیں
یہ نہ سمجھو کہ وہ بن کھائے پئے جیتے ہیں
وہ بھی کھاتے ہیں مگر نیزوں کے پھل کھاتے ہیں
(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۵ء)
٭…٭…٭
لیکھوؔ سے کہا تھا جو ہوا وہ پورا
کیا تم نے وہ دیکھی نہیں مرزاؑ کی دعا
اب بھی کرو انکار تو حیرت کیا ہے
مشہور ہے بےشرم کی ہے دور بلا
(بدر ۶؍مارچ ۱۹۰۷ء)
٭…٭…٭
چھ مارچ کو لیکھوؔ نے اٹھایا لنگر
دنیا سے کیا کُوچ سوئے نار سقر
تھی موت کے وقت اس کی یہ طرفہ حالت
لب پہ تھی اگر آہ تو تن میں خنجر
یہ آریہ کہتے ہیں کہ لیکھوؔ ہے شہید
ایسی تو نہ تھی ہم کو بھی ان سے امید
تھی موت وہ ذلت کی شہادت کیسی
کیا جن پہ پڑے قہرِ خدا ہیں وہ شہید
(بدر ۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ء)
٭…٭…٭
کہتا ہے زاہد کہ میں فرمانروائی چھوڑ دوں
اگر خدا مجھ کو ملے ساری خدائی چھوڑ دوں
دانۂ تسبیح اور اشکوں کا مطلب ہے اگر
آب و دانہ کے لیے سب پارسائی چھوڑ دوں
(بدر ۱۸؍فروری ۱۹۰۹ء)
٭…٭…٭
ہائے کثرت مرے گناہوں کی
وائے کوتاہی میری آہوں کی
اس پہ یہ فضل یہ کرم یہ رحم
کیا طبیعت ہے بادشاہوں کی
(بدر۳۰؍ جون۱۹۱۰ء)
ہائے اس غفلت میں ہم یاروں سے پیچھے رہ گئے
یہ بھی کیسا پیار ہے پیاروں سے پیچھے رہ گئے
بڑھ گئے ہم سے صحابہؓ توڑ کر ہر روک کو
ہم سبک ہو کر گرانباروں سے پیچھے رہ گئے
(بدر۲۰؍ جولائی ۱۹۱۰ء)
٭…٭…٭
عابد کو عبادت میں مزا آتا ہے
قاری کو تلاوت میں مزا آتا ہے
میں بندۂ عشق ہوں مجھے تو صاحب
دلبر کی محبت میں مزا آتا ہے
(الفضل۹؍اگست ۱۹۱۰ء)
٭…٭…٭
مرکزِ شرک سے آوازۂ توحید اٹھا
دیکھنا دیکھنا مغرب سے ہے خورشید اٹھا
نور کے سامنے ظلمت بھلا کیا ٹھہرے گی
جان لو جلد ہی اب ظلمِ صنادید اٹھا
(۲۱؍ستمبر ۱۹۲۰ء)
٭…٭…٭
اٹھی آواز جب اذاں کی اللہ کے گھر سے
تو گونج اٹھے گا لندن نعرۂ اللہ اکبر سے
اڑے گا پرچم توحید پھر سقف معلی پر
ملیں گے دھکے دیو شرک کو گھر گھر سے در در سے
(الفضل ۱۱؍اکتوبر ۱۹۲۰ء)
٭…٭…٭
مرے جان و دل کے مالک مری جاں نکل رہی ہے
تیری یاد چٹکیوں میں مرے دل کو مل رہی ہے
نہیں جز دعائے یونسؑ کے رہا کوئی بھی چارہ
کہ غم و الم کی مچھلی مجھے اب نگل رہی ہے
کبھی وہ گھڑی بھی ہوگی کہ کہوں گا یا الٰہی!
مری عرض تو نے سن لی وہ مجھے اگل رہی ہے
(اخبار الفضل ۲۲؍نومبر ۱۹۲۰ء)
مزید پڑھیں: عہدشکنی نہ کرو اہل وفا ہو جاؤ




