خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… ایران نے امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ایک بیان میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جب بھی ہمیں لڑنے پر مجبور کیا جائے گا، ہم لڑیں گے، سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے تو تہران اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے، جب بھی سفارت کاری کی گنجائش ہو گی، ہم اس موقع کو استعمال کریں گے۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری کے بھی اپنے اصول ہوتے ہیں اور ایران ہر فیصلہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کرے گا۔ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بھی غیر معقول مطالبات پر قائم ہے، جبکہ ایران کی جانب سے اتوار کو پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا جواب ہرگز حد سے تجاوز کرنے والا نہیں تھا۔اسماعیل بقائی نے خبردار کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تہران کے مؤقف کو مسترد کیے جانے کے بعد خطے کا امن اور استحکام مزید متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال نے پورے خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جبکہ ایران اپنے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
٭… ایرانی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران کے جواب پر امریکی صدر ٹرمپ کے ردّعمل کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایران میں منصوبے امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے نہیں بنائے جاتے۔ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب سے خوش نہیں تو یہ ایران کے حق میں بہتر ہے۔قبل ازیں ایرانی سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ امریکی تجاویز ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھیں۔ ایرانی تجاویز میں امریکہ کو جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی پر زور دیا، ایرانی تجاویز میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری پر بھی زور دیا گیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا جواب قابلِ قبول نہیں ہے۔
٭… امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کرنے اور آبنائے ہرمز کھلنے کی غیریقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تین فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۰۴؍ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت ۹۹؍ڈالر فی بیرل ہوگئی۔تیل کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً ۲۰؍ڈالر بڑھی ہے۔
٭… مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث ہیتھرو ایئر پورٹ پر گذشتہ ماہ مسافروں کی تعداد میں ۵.۳؍فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اپریل میں ہیتھرو ایئر پورٹ کے چاروں ٹرمینلز سے ۶.۷؍ملین مسافر گزرے جبکہ گذشتہ برس اسی ماہ یہ تعداد ۷.۱؍ملین تھی۔ایئر پورٹ کے چیف ایگزیکٹیو تھامس وولڈ بائے نے کہا ہے کہ مسافر تعطیلات کے لیے بکنگ کرتے وقت غیر یقینی صورتِ حال نہیں چاہتے اور ہم موسمِ گرما میں حکومت اور ایئر لائنز کے ساتھ مل کر مسافروں کے لیے بغیر کسی دشواری کے سفر کو یقینی بنانے کے منصوبوں کی حمایت کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث کچھ قلیل مدتی رکاوٹوں کا سامنا ضرور رہا، لیکن سفر کی مجموعی طلب اب بھی بلند ہے اور فی الحال فیول سپلائی بھی مستحکم ہے۔تھامس وولڈ بائے نے کہا کہ اپریل میں ٹرانسفر مسافروں کی تعداد میں دس فیصد اضافہ ہوا، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث بہت سے مسافر وہاں کے ایئر پورٹس استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
٭… امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بروزبدھ کی شام چین پہنچیں گے جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ سے ایران جنگ، تجارت اور عالمی سیکیورٹی سمیت اہم معاملات پر بات چیت کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں راہنماؤں کے درمیان باضابطہ ملاقات جمعرات کو ہو گی جبکہ دورہ جمعے کو ختم ہو گا۔ امریکہ نے بھی رواں سال کے آخر میں چینی صدر شی جن پنگ کو جوابی دورے کی دعوت دی ہے۔امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ چین پر ایران سے تیل خریدنے اور تہران کو استعمال کی اشیا فراہم کرنے کے معاملے پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ کا دعویٰ ہے کہ چین ایران کی معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔واضح رہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردِعمل میں آبنائے ہرمز بند کر دی تھی جس سے عالمی توانائی ترسیل متاثر ہوئی اور ایشیائی معیشتوں پر دباؤ بڑھا۔چین نے ایران جنگ کے خاتمے کی خواہش ظاہر کی ہے اور گذشتہ ہفتے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی میزبانی بھی کی تھی، بیجنگ نے ایران کے تیل پر امریکی پابندیوں کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
٭… روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اشارہ دیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ سکتی ہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق روس کے فتحِ یوم کی تقریبات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ ہم یوکرینی صدر وولودیمیر زیلینسکی سے ماسکو یا کسی غیر جانبدار ملک میں براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔جنگ کا حتمی خاتمہ مذاکرات کے بعد ہونا چاہیے نہ کہ مذاکرات خود آخری مرحلہ ہوں۔ اُنہوں نے مغربی ممالک سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک یوکرین کو فوجی مدد فراہم کر کے جنگ کو طول دے رہے ہیں۔پیوٹن نے کہا ہے کہ مغربی ممالک روس کو شکست دینا چاہتے تھے لیکن ان کی کوششیں ناکام رہیں۔اُنہوں نے ایک بار پھر نیٹو کی توسیع کو روس کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
٭…٭…٭




