شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
(بیان فرمودہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)
احمدی ڈاکٹر وقف کریں
جلسہ پر مَیں نے ڈاکٹروں کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے افریقہ کے ہسپتالوں کے لئے ڈاکٹر مستقل یا عارضی وقف کریں۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالات بہت بہترہیں۔ وہ دقّتیں اوروہ مشکلات بھی نہیں رہیں جو شروع کے واقفین کو پیش آئیں اور اکثر جگہ تو بہت بہتر حالات ہیں اور تمام سہولیات میسر ہیں۔ اور اگر کچھ تھوڑی بہت مشکلات ہوں بھی تو اس عہدبیعت کو سامنے رکھیں کہ محض للہ اپنی خداداد طاقتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائوں گا۔ آگے آئیں اور مسیح الزمان سے باندھے ہوئے اس عہد کو پورا کریں اور آپ کی دعائوں کے وارث بنیں۔ اسی طر ح ربوہ میں فضل عمر ہسپتال کے لئے بھی ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ وہاں بھی ڈاکٹرصاحبان کو اپنے آپ کو پیش کرنا چاہئے۔
پھر پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی بچوں کی تعلیم اور مریضوں کے علاج کے لئے مستقلاً احباب جماعتی انتظام کے تحت مالی اعانت کرتے ہیں اور پاکستان اورہندوستان جیسے ملکوں میں جہاں غربت بہت زیادہ ہے اس مقصد کے لئے مالی اعانت کرنے والے اس خدمت کی وجہ سے مریضوں کی دعائیں لے رہے ہیں۔ تو اس نیک کام کو بھی احباب جماعت کو جاری رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر جار ی رکھنا چاہئے اور پہلے سے بڑھ کر کرنا چاہئے کہ دکھوں میں اضافہ بھی بڑی تیزی سے ہورہاہے۔
اب مَیں بعض پرانے بزرگوں کے واقعات جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے پیش کرتاہوں۔
حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کے نمونہ کے بارہ میں ان کے متعلق بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ مرحوم ایک زندہ مثال تھا ایسے شخص کی جو حدیث کے مطابق اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند کرتا تھا جو اپنے لئے پسند کرتا اور کبھی اپنے بھائی سے ایسا سلوک روا نہ رکھتا جو اس کو ا پنے لئے ناگوار ہو۔ وہ ہمیشہ اس جستجو میں رہتاتھاکہ اس کو کوئی ایسی خدمت میسر آئے اورکوئی ایسا موقع ہو جس سے وہ کسی بھائی اور دوست کا کوئی کام سنوار سکے۔ (تو ان کے بارہ میں آتاہے کہ) جب وہ کالج میںپڑھا کرتے تھے اور جب جماعت کا لیکچر ہوتا تو آتے تھے اور وہاں ہر احمدی کو جا کر ملا کرتے تھے اور اگر کوئی بھائی بیمار ہوتا تو ان کے مکان پر جاتے، اُن کی بیمارپرسی کرتے اور بعض دفعہ تقریباً ہر روز ان بیماروں کو دیکھنے جایا کرتے۔ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحبؓ سخت بیمار ہوگئے تو مرحوم کئی روز تک مفتی صاحب کے لئے ان کے مکان میں رہے اور رات دن ان کی خدمت کی اور ان کی ساری جوبیماری کی حالت میں بعض دفعہ گند بھی اٹھانا پڑتا تھا تو وہ بھی اٹھا لیا کرتے تھے۔ (مفہوماًازاصحاب احمد۔ جلد۱۔ صفحہ ۹۸۔ مطبوعہ ۱۹۹۷ء)
پھر حضرت چوہدر ی ظفر اللہ خا ن صاحبؓ اپنی والدہ کے بارہ میں لکھتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ اگردشمن نہ ہوتو کوئی دشمن کیا بگاڑ سکتاہے۔ اور اس لحاظ سے مَیں تو کسی کو دشمن نہیں سمجھتی۔ اوردشمنوں کے ساتھ حسن سلوک بہت کیا کرتی تھیں۔ فرماتی تھیں کہ جس سے دل خوش ہوتاہے اس کے ساتھ تو حسن سلوک کے لئے خود ہی دل چاہتاہے۔ اس میں ثواب کی کونسی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے توانسان کوچاہئے کہ ان لوگوں سے بھی احسان اورنیکی سے پیش آئے جن پر دل راضی نہ ہو۔
(وہ لکھتے ہیں کہ ڈسکہ میں رہتی تھیں تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ بڑا فیاضانہ سلوک تھا اور لوگ بھی بڑی عزت و احترام سے انہیں دیکھتے تھے )۔ جب احرارکا جھگڑا شروع ہؤا تو اس کا اثر ان کے علاقہ میں بھی پڑا اوروہی لوگ جو مدد لیا کرتے تھے دشمنیاں کرنے لگ گئے۔ لیکن اس دشمنی کا بھی ان کی والدہ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور اگر ان کے رشتہ داروں میں سے کوئی یہ بھی کہتاکہ آ پ فلاں شخص کی مدد کررہی ہیں جبکہ وہ ہماری مخالفت کر رہاہے، احرار میں شامل ہے تو بڑا برا منایا کرتی تھیں کہ تم مجھے اس خدمت سے کیوں روک رہے ہو۔
ایک دفعہ بیان کرنے والے لکھتے ہیں کہ کچھ پارچات،کپڑے وغیرہ تیار کررہی تھیں تو انہوں نے جاکر ان کو کہا کہ آپ کس کے لئے تیار کررہی ہیں تو چوہدری صاحب کی والدہ نے فرمایاکہ یہ فلاں شخص کے بچوں کے لئے کررہی ہیں۔ تواس شخص نے کہا کہ آپ بھی عجیب ہیں وہ تو احراری ہے اور جماعت کی بڑی مخالفت کرتاہے، اس کے لئے آپ یہ کپڑے تیار کررہی ہیں۔ تو آپ نے فرمایاکہ اگر وہ شرارت کرتے ہیں تو اللہ میاں ہماری حفاظت کرتاہے اور جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے مخالف کی شرارتیں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ لیکن یہ شخص مفلس ہے۔ اس کے اپنے بچوں اورپوتوں کے بدن ڈھانکنے کے لئے کپڑے مہیاکرنے کا سامان نہیں ہے تو اس کو ضرورتمند سمجھتے ہوئے مَیں اس کے لئے یہ کپڑے تیار کررہی ہوں۔ اور تم جو یہ اعتراض کررہے ہوتو تمہاری سزا یہ ہے کہ جب مَیں یہ کپڑے تیار کرلوں گی تو تم ہی اس کے گھر جا کر پہنچا کر آئو گے۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ یہ ا حراری ہے اور اس پر تو دوسرے احراریوں کی نظر بھی ہوگی تو رات کے وقت جانا تاکہ اس کو کوئی تنگ نہ کرے کہ تم نے احمدیوں سے کپڑے وصول کئے۔ (اصحاب احمد۔ جلد۱۱۔ صفحہ ۱۷۵-۱۷۶۔ مطبوعہ ۱۹۶۲ء)
بیوائوں اور یتامیٰ کی نگہداشت بھی آپ کا دل پسند مشغلہ تھا۔ اور لکھنے والے کہتے ہیں کہ بچیوں کے جہیز تیار کررہی ہوتیں تو بڑے انہماک سے اپنے ہاتھوں سے ساری تیاری کیا کرتی تھیں، کپڑے تیار کیا کرتی تھیں۔ (ملخّصاً از اصحاب احمد۔ جلد۱۱۔ صفحہ ۱۸۶۔ مطبوعہ ۱۹۶۲ء)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۵۵تا۲۵۸)
مزید پڑھیں: ہر احمدی کے لئے درود شریف کثرت سے پڑھنا ضروری ہے



