کلام حضرت مصلح موعود ؓ

بخش دو رحم کرو شکوے گلے جانے دو

(منظوم کلام حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ)

بخش دو رحم کرو شکوے گلے جانے دو
مر گیا ہجر میں مَیں پاس مجھے جانے دو

دوستو! کچھ نہ کہو مجھ سے مجھے جانے دو
خنجرِ ناز سے تم سر مجھے کٹوانے دو

پڑ گئی جس پہ نظر ہو گیا مدہوش
میرے دلدار کی آنکھیں ہیں کہ خمخانے دو

دوستو! رحم کرو کھول دو زنجیروں کو
جا کے جنگل میں مجھے دل ذرا بہلانے دو

سر ہے پر فکر نہیں ، دل ہے پر اُمید نہیں
اب ہیں بس شہر کے باقی یہی ویرانے دو

تمہیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ
غم ہی اچھا ہے مجھے تم مجھے غم کھانے دو

دوستو! سمجھو تو ہے زندگی اس موت کا نام
یار کی راہ میں اب تم مجھے مر جانے دو

دل کی دل جانے مجھے کام نہیں کچھ اس سے
اپنی ڈالی ہوئی گتھی اسے سُلجھانے دو

نفس پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہو گی اصلاح
اونٹ لدتے ہیں یونہی چیخنے چلانے دو

فکر پر فکر تو غم پر ہے غموں کی بوچھاڑ
سانس تو لینے دو تھوڑا سا تو سستانے دو

اک طرف عقل کے شیطان ہے تو اک جانب نفس
ایک دانا کو ہیں گھیرے ہوئے دیوانے دو

کبھی غیرت کے بھی دکھلانے کا موقع ہو گا
یا یونہی کہتے چلے جاؤ گے تم جانے دو

کٹ گئی عمر رگڑتے ہوئے ماتھا در پر
کاش تُم کہتے کبھی تو کہ اسے آنے دو

مجھ سے ہے اور تو غیروں سے ہے کچھ اور سلوک
دلبرا آپ بھی کیا رکھتے ہیں پیمانے دو

(کلام محمود صفحہ ۱۲۸)

مزید پڑھیں: فضل الٰہی کے غیبی سامان

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button