متفرق مضامین

ہمارے خاندان میں احمدیت کا نفوذ

(’ابو احمد‘)

دئیے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے

تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لیے

وہ جس پہ رات ستارے لیے اترتی ہے

وہ ایک شخص دعا ہی دعا ہمارے لیے

وہ سعید فطرت اور مقدس وجود قابل رشک ہیں جن کو اس زمانے کے امام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو نہ صرف دیکھنے بلکہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ حضور علیہ السلام کے صحابہؓ میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے، کوئی دینی لحاظ سے اوج کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ تو کوئی دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے اپنے وقت کا نامور انسان بنا۔ مگر کچھ ایسے احباب بھی تھے کہ جب انہوں نے آپؑ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیا تو گویا اپنا سارا وجود اس مامور الٰہی کے پاس رہن مطلق رکھ دیا پھر اسی مصفّٰی پاک وجود کی صحبت اور تعلیم نے ہر فدائی کو ایک ایسا روشن چراغ بنا دیا جو گھپ اندھیرے میں کسی منزل کے متلاشی کو صحیح راہ دکھا دے اور یوں چراغ سے چراغ جلتا جائے۔ اس ورثہ کو محفوظ کرنے کا ایک ذریعہ اپنے آباء و اجداد میں جن کو صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہونے کا شرف حاصل ہوا ان کے حالات زندگی محفوظ کر لینا ہے پھر والدین یا خاندان کا کوئی فرد جسے کسی رنگ میں خدمت دین کا موقع ملا ہو اپنی آنے والی نسلوں کے لیے وہ یادیں محفوظ کر لینا چراغ سے چراغ جلانے والی بات ہی تو ہے۔

خاکسار اپنے مقدس آقا کے خادم کا ذکر کرنے چلا ہے جو کسی بھی لحاظ سے دنیاوی طور پر کوئی نامور انسان نہ تھے ہاں اس لحاظ سے اپنا سر ہمیشہ فخر سے اونچا رکھتے تھے کہ انہوں نے اس مقدس اور بابرکت صحبت کو پایا اور غلاموں میں ان کا بھی نام آیا۔

میرے پڑدادا حضرت حاجی ملک غلام حسین صاحب اعوانؓ موضع گھو گھیاٹ پرانا ضلع شاہپور حال سرگودھا تحصیل بھلوال نزد بھیرہ میانی کے رہنے والے تھے۔ حضرت پڑ دادا جان کے والد کا نام ملک گوہر خان تھا وہ دوالمیال ضلع جہلم (حال ضلع چکوال)سے آکر گھو گھیاٹ میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ حضرت پڑدادا جان برٹش آرمی میں حوالدار ملازم تھے پہلی جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات تھے اس زمانے میں حکومت ہر یونٹ میں مسلمانوں کے لیے امام الصلوٰۃ مقرر کرتی تھی۔

حضرت پڑدادا جان قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کرتے تھے۔ ایک نوجوان ان کی یونٹ میں امام الصلوٰۃ مقرر ہو کر آئے۔ ان سے پڑدادا جان نے سوال کیا کہ کیا آپ قرآن کا ترجمہ جانتے ہیں؟ امام صاحب نے جواب دیا میں جانتا ہوں۔اس پر پڑدادا جان نے کہا مجھے ترجمہ سکھا دیں۔اس طرح ان سے ان کا تعلق شاگرد اور استاد کا ہو گیا۔ایک ماہ بعد امام صاحب نے پڑدادا جان کو کہا کہ آپ آج رات کا کھانا میرے گھر کھائیں۔ کھانا کھا کر پڑدادا جان نے کہا کیا کوئی خاص بات تھی جس کی وجہ سے آپ نے مجھے گھر بلایا ہے؟ اس پر امام صاحب نے کہا کہ خاص بات جو لوگوں سے آپ کو معلوم ہو میں خود بتاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے اور ہمارے خاندان نے ان کی بیعت کرلی ہے اور لوگ ہمیں قادیانی، مرزائی اور کافر کہتے ہیں اس پر پڑدادا جان نے انہیں جواب دیا کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ میں نے آپ میں کوئی عمل قرآن اور سنت نبوی کے خلاف نہیں پایا مجھے لوگوں کے کہنے سے کچھ اثر نہیں ہوگا۔ اس پر امام صاحب نے کہا آپ کو تبلیغ کی ضرورت نہیں آپ سجدے میں یہ دعا کریں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام نے بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت عطا کرے۔ قریباً چالیس دن کے بعد آپ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواب میں زیارت عطا فرمائی۔ امام صاحب کو اس دوران مخالفت کی وجہ سے تبدیل کر دیا گیا۔

اس زمانے میں فوجیوں کو سال میں ایک ماہ کی چھٹی ملتی تھی اور جو لوگ یونٹ میں ایک ضلع کے ہوتے ان کو اکٹھی چھٹی دی جاتی تھی اور وہ سب اکٹھے آتے اور جاتے تھے۔ جب ان کی ٹرین لاہور پہنچی تو لالٰہ موسیٰ جانے والی ٹرین جا چکی تھی۔ اگلی ٹرین دوسرے دن جانی تھی پڑدادا نے اپنا سامان ساتھیوں کے ساتھ پلیٹ فارم پر رکھا اور کہا میں مسجد جاتا ہوں نماز اور قرآن کریم کی تلاوت کروں گا۔ جب آپ باہر آئے تو ایک اشتہار پڑھا کہ آج رات ایک جلسہ منعقد ہو رہا ہے جس میں تمام مذاہب والوں نے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنی ہیں یہ پڑھ کر آپ واپس پلیٹ فارم پر آگئے اور ساتھیوں سے کہا کہ ایک آدمی سامان کے پاس بیٹھ جائے اور باقی سب جلسے میں شامل ہوتے ہیں۔

اس پر انہوں نے جواب دیا آپ چلے جائیں ہم نہیں جاتے۔ جب پڑدادا جان جلسہ گاہ پہنچے تو وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر دیکھی تو یاد آیا کہ یہ تو وہی بزرگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں دکھایا تھا۔ جلسہ میں شرکت کرنے کے بعد پلیٹ فارم پر آگئے اور دوسرے دن اپنے گاؤں آگئے۔کچھ دن بعد غالباً ۱۸۹۷ء کے شروع میں گھر والوں کو بتایا کہ مَیں اپنی یونٹ کے ہیڈ کوارٹر لاہور اپنا حساب دیکھنے جا رہا ہوں لیکن دل میں ارادہ تھا کہ قادیان جاؤں گا اور واپسی پر اپنا حساب دیکھوں گا۔ ؎

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

قادیان پہنچ کر حضرت امام مہدیؑ کی زیارت نصیب ہوئی۔ تین دن بعد حضرت مسیح موعودؑ سے بیعت کی عرض کی تو آپؑ نے قبول فرمائی۔بیعت کے بعد چار دن مزید وہاں رہے اور حضورؑ سے واپسی کی اجازت چاہی جو آپ علیہ السلام نے عطا فرمائی۔

وہ آیا جس کی آمد دیکھنے کو

نگاہ شوق سوئے آسماں ہے

مسیح وقت آیا قادیاں میں

جبھی تو قادیان دارالاماں ہے

نماز فجر ادا کرنے کے بعد آپ قادیان سے روانہ ہوئے۔ اور شام کو اپنے گاؤں پہنچ گئے۔ اسی دن نماز عشاء ادا کرنے مسجد گئے تو ملک نادر نے پوچھا آپ سات روز کہاں چلے گئے تھے؟ پڑ دادا جان نے کہا آپ نماز پڑھ کر بیٹھیں میں بتاؤں گا کہاں گیا تھا۔ نماز سے فارغ ہو کر ملک نادر کے سامنے بیٹھ گئے اور بتایا کہ میں قادیان گیا تھا حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو چکا ہے میں نے ان کی زیارت کی ہے اور دستی بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ یہ سنتے ہی جلدی میں ملک نادر نے کہا اٹھ اٹھ! جب پڑ دادا جان اٹھے تو دل میں خیال آیا کہ اب یہ مجھے کہے گا کہ مسجد سے نکل ہماری مسجد تو تُو نے ناپاک کر دی ہے لیکن ملک نادر تو ان سے بغل گیر ہو گئے اور رونے لگے اس پر پڑدادا جان نے کہا پہلے اٹھ اٹھ کہا اور اب روتے کیوں ہو؟ اس پر ملک نادر نے کہا کہ غلام حسین آپ بہت دلیر انسان ہیں آتے ہی پہلے دن احمدی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔مَیں بھی ایک ماہ پہلے بیعت کر آیا ہوں لیکن کسی کو بتایا نہیں۔

پھر ملک نادر نے کہا اب ہم دو احمدی ہو گئے ہیں صبح فجر کی نماز الگ پڑھیں گے۔ یہ موضع گھو گھیاٹ میں حضرت امام مہدی علیہ السلام کے دو صحابہ کی پہلی باجماعت نماز تھی۔ جلسہ سالانہ قادیان پر اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر جاتے تھے ان کا قیام حضرت حافظ حاجی نورالدین صاحبؓ کے گھر ہوتا تھا جب وہ آرام کے لیے لیٹتے تو آپ ان کے پاؤں دباتے جب وہ کروٹ بدلتے تو کسی دعا کے لیے درخواست کر دیتے۔ ایک دن آپ نے عرض کی کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے معرفت قرآن کریم عطا فرمائے۔ یہ سنتے ہی حضرت حافظ صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا غلام حسین! آپ نے کیسی اچھی دعا کے لیے کہا ہے۔

جب نظام وصیت کا اجرا ہوا تو خود اور اپنی اہلیہ (محترمہ بی بی) نے وصیت کر دی آپ کا وصیت نمبر ۱۸۷۱؍ہے۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے تحریک شدھی کا اعلان کیا تو آپ نے اس میں حصہ لیا۔آپ نے حصہ جائیداد اپنی زندگی میں ہی ادا کر دیا تھا۔ گاؤں میں اپنے ڈیرے کے ساتھ مسجد بنوائی اور ایک کُھوئی بنوائی۔ طہارت خانہ اور وضو کے لیے ٹوٹیاں لگوائیں اس کھوئی سے آتے جاتے مسافر اور گاؤں کے لوگ بھی پانی بھرتے تھے۔

تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ ۱۹۷۳۔۷۴ء کے سیلاب میں مسجد کافی خستہ حال ہو گئی تھی جس کو بعد میں مکرم گلزار احمد ملک صاحب سابق امیر شہر و ضلع سرگودھا جو حضرت ملک گوہر خان صاحبؓ کے پوتے ہیں، انہوں نے اسے دوبارہ دو منزلہ تعمیر کروایا جس میں غسل خانہ، طہارت خانہ اور وضو کی جگہ بنوائی۔ بالائی منزل پر ایک کمرہ برائے مستورات بنوایا۔ ان کے بیٹے ملک کاشف گلزار صاحب نے بعد ازاں تعمیر مسجد میں مالی مدد کی۔ یہ مسجد اس وقت بھی ہمارے خاندان کی ملکیت میں ہے اور لوکل جماعت کے زیراستعمال ہے۔

احمدیت قبول کرنے کے بعد پڑدادا جان گاؤں کے لوگوں کو تبلیغ کرتے تھے خاص طور پر اپنے دو بھائیوں امام بخش اور بدر دین کو۔ دونوں بھائی آپ کا مذاق اڑاتے اور تمسخر کرتے تھے، دونوں بعد ازاں طاعون کا شکار ہو کر وفات پاگئے۔ بعد میں امام بخش کے دو بیٹے ولی محمد اور گل شیر اور بدر دین کے بیٹے غلام محمد اور فتح محمد نے پڑدادا جان کی تبلیغ سے احمدیت قبول کرلی اور اب ان کی اولاد در اولاد اللہ کے فضل سے احمدی ہیں۔

ہماری پڑدادی جان محترمہ بیگم بی بی صاحبہ اور دادی اللہ رکھی صاحبہ پڑدادا جان کی تبلیغ سے احمدی ہوئیں۔ ہماری پڑدادی اور دادی دوالمیال کے اس خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جہاں کئی نسلوں سے قرآن کریم پڑھایا جاتا تھا۔

ہمارے دادا جان ملک محمد احمد صاحب پڑدادا جان کی واحد نرینہ اولاد تھے۔ دادا جان نے جب میٹرک پاس کیا تو پڑدادا جان ان کو ساتھ لے کر قادیان حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے پاس وقف کی نیت سے گئے تو حضور رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابھی جماعت کی اتنی طاقت نہیں کہ خرچ برداشت کرسکے۔ دادا جان بعد میں ریلوے میں بطور اسسٹنٹ ماسٹر ملازم ہوئے۔ حضرت پڑدادا جان کی وفات ۲۳؍مارچ ۱۹۳۷ء کو ہوئی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔ محترمہ پڑدادی جان کی وفات ۱۹۴۶ء میں ہوئی۔ ملک میں بد امنی کی وجہ سے میت کو قادیان نہ لے جایا جا سکا۔ ان کی تدفین گھوگھیاٹ میں ہوئی اور ان کی یادگاری تختی بہشتی مقبرہ قادیان میں لگی ہوئی ہے۔

دادا محترم ملک محمد احمد صاحب ۱۹۵۶ء میں اسٹیشن ماسٹر راولپنڈی سے ریٹائر ہوئے۔ آپ کو ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۵ء تک بطور صدر احمدیہ جماعت کام کرنے کی توفیق ملی۔ ۱۹۷۴ء کے فسادات کے دوران ڈٹ کر جماعتی مخالفت کا مقابلہ کیا اور جماعت کو متحد رکھا۔ جب مخالفت زیادہ بڑھی تو چند جماعت کے افراد نماز عشاء کے بعد محترم دادا جان کے پاس آئے (آپ اس وقت علیل تھے) انہوں نے کہا ہمارے تعلقات ایک سُنّی مفتی کے ساتھ ہیں، یہ مشکل وقت ہے وقتی طور پر ہم اعلان کر دیتے ہیں کہ آپ کے ساتھ شامل ہوتے ہیں یا ہمارے تعلقات سیّدوں کے ساتھ ہیں ہم شیعہ ہو جاتے ہیں۔ یہ سنتے ہی دادا جان یک دم چارپائی پر اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا کیا آپ نے سچے کی بیعت کی ہے یا جھوٹے کی؟ جواب میں انہوں نے کہا ہم نے سچے کی بیعت کی ہے۔ اس پر دادا جان نے کہا جو بھی مشکل آئے گی ہم اس کا مقابلہ کریں گے اور احمدیت پر ہمیشہ قائم رہیں گے اور کہا سچا ہو کر مرنا اچھا ہے یا مرتد ہو کر۔

دادا جان خلافت کے جاں نثار اور فدائی وجود تھے خلافت سے آپ کا کامل وفا، محبت اور اطاعت کا تعلق تھا آپ ہمیشہ اپنی اولاد کو اطاعت خلافت اور خلیفہ وقت سے مضبوط تعلق کی تاکید کرتے۔

ہماری دادی جان کو نصف سے زائد قرآن پاک حفظ تھا۔ گھریلو کام کرتے وقت تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ جب میکے جاتیں تو رشتے داروں کو تبلیغ کرتی تھیں۔ اللہ کے فضل سے گھر میں الفضل اور دیگر تمام جماعتی رسالہ جات باقاعدگی سے آتے تھے۔ گاؤں کے بچے بچیوں کو قرآن شریف پڑھاتی تھیں ۔گھر میں ہر قسم کی ادویات رکھتیں اور ضرورت مندوں کو دیتی تھیں غریبوں کو گندم اور لباس بھی دیتیں۔دادی تقریباًً ۲۰؍سال صدر لجنہ گھوگھیاٹ رہیں۔ لجنہ اور ناصرات کو گھر بلا کر تربیت کرتیں اور دینی معلومات یاد کرواکر پھر ان کا امتحان بھی لیتی تھیں۔ ان کی وفات ۱۹۹۵ءمیں ہوئی۔

ہمارے دادا محترم ملک محمد احمد اکلوتے نرینہ اولاد تھے۔ آگے آپ کی اولاد میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ان سب کی شادیاں احمدی گھرانوں میں ہوئیں چار بیٹے اور دو بیٹیاں وفات پا چکی ہیں۔ اس وقت ایک بیٹے گلزار احمد صاحب حیات ہیں۔ ان سب کو اللہ کے فضل سے کسی نہ کسی رنگ میں جماعت کی خدمت کا موقع ملا۔ سب کا خلافت سے اطاعت اور محبت کا تعلق تھا جماعتی چندوں اور مختلف تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ آپ کی اولاد کا ذکر خیر کرتا ہوں۔

میرے والد ملک محمد بشیر احمد صاحب ۱۹۸۴ء میں پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کینٹ سے جنرل مینیجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ۱۹۸۷ء میں اسٹیڈیم روڈ سرگودھا میں مستقل سکونت اختیار کی تو حضرت مرزا عبدالحق صاحب مرحوم نے آپ کو اپنی عاملہ میں شامل کرلیا۔ ۱۶؍سال تک آپ صدر حلقہ اسٹیڈیم روڈ اور سیکرٹری مال کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔

جب تک حضرت مرزا عبدالحق صاحب درس قرآن اور عربی گرائمر کلاس لیتے رہے آپ صبح فجر کی نماز کے بعد سائیکل پر اس درس اور عربی گرائمر کی کلاس میں باقاعدگی کے ساتھ شامل ہوتے رہے ۔تہجد گزار تھے تلاوت قرآن بآواز بلند روزانہ کرتے تھے۔ مجھے نہیں یاد کہ انہوں نے خلیفہ وقت کا کوئی خطبہ براہ راست نہ دیکھا ہو۔ اپنی جماعت کے مرکز نماز میں قریباً ۳۰؍سال امام الصلوٰۃ رہے۔ اپنے تمام پوتے پوتیوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ ان کی وفات ۱۱؍جولائی ۲۰۲۱ء میں کو ۹۳؍سال کی عمر میں ہوئی اور ربوہ میں تدفین ہوئی۔

ملک محمد مبارک احمد صاحب مرحوم ریلوے سے ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ جہاں بھی ان کی پوسٹنگ ہوتی جماعت سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔ نمازوں کے پابند اور تہجد گزار تھے۔ کم بینائی کے باوجود بھی سینٹر پر جا کر نماز ادا کرتے اور بآواز بلند قرآن کی تلاوت کرتے تھے ۔آپ کی وفات ۱۷؍جنوری ۲۰۱۸ء کو ۸۷؍سال کی عمر میں ہوئی اور تدفین ربوہ میں ہوئی۔

ملک ڈاکٹر محمد اقبال ڈینٹل سرجن تھے۔ آپ کا کلینک گول چوک سرگودھا میں تھا۔ ۱۹۷۴ء کے فسادات کے دوران آپ کے کلینک کے سامان کو شر پسندوں نے لوٹا اور پھر باہر نکال کر آگ لگا دی۔ اللہ کے فضل سے احمدیت پر ثابت قدم رہے۔ تہجد گزار، نیک فطرت، نمازوں کے پابند تھے۔ قرآن مجید کا بیشتر حصہ زبانی یاد تھا۔ آپ کی وفات ۶۱؍سال کی عمر میں ۲۴؍جون ۱۹۹۵ء کو ہوئی اور گھوگھیاٹ میں تدفین ہوئی۔

گلزار احمد صاحب کو بھی اللہ نے جماعتی خدمت کی توفیق عطا فرمائی ۔ آپ نے دنیاوی کاموں سے فراغت کے بعد ستمبر ۱۹۹۷ء میں حضرت مرزا عبدالحق صاحب کے پاس حاضری دی اور عرض کیا کہ میری خواہش ہے کہ میں جماعت کی خدمت کروں۔ حضرت مرزا صاحب نے آپ کو سیکرٹری جائیداد ضلع سرگودھا مقرر کیا آپ نے ضلع کی تمام مساجد اور مربی ہاؤسز کا ریکارڈ مرتب کیا۔ دسمبر ۱۹۹۷ء میں محترم امیر صاحب نے آپ کو سیکرٹری امورعامہ مقرر کیا۔ جولائی ۱۹۹۸ء میں نگران امیر شہر مقرر کیا۔ ۱۹۹۹ء میں امیر صاحب نے آپ کو صدر اصلاحی کمیٹی مقرر کیا۔ محترم امیر صاحب کی غیرموجودگی میں قائم مقام امیر ضلع سرگودھا اور بعد میں نائب امیر ضلع سرگودھا کے طور پر خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ یکم مئی ۲۰۱۲ء میں سیدنا حضور انور نے آپ کو امیر جماعت ضلع سرگودھا مقرر فرمایا۔ بعد میں حضور انور نے آپ کو امیر شہر سرگودھا بھی مقرر فرمادیا۔ مارچ ۲۰۲۰ء تک آپ بطور امیر ضلع سرگودھاو شہر خدمات بجالاتے رہے۔ آپ نے ہمیشہ اپنی گاڑی کو جماعتی خدمت کے لیے اور لجنہ کے دوروں کے لیے وقف رکھا آپ تہجدگزار، نمازوں کے پابند اور خلافت سے وفا اور پیار کا پختہ تعلق رکھنے والے ہیں۔ ان کے ایک بیٹے کو بھی بطور امیر شہر سرگودھا خدمت کی توفیق ملتی رہی ہے۔

خاکسار کے ایک چچا ملک ممتاز احمد اوائل عمری سے ہی بیماریوں کا شکار رہے لیکن اس کے باوجود جماعتی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے خدمت خلق کا جذبہ بہت تھا گاؤں کے لوگ آپ سے مشورہ کرنے آتے آپ انہیں بہترین مشورہ دیتے گاؤں کے بیماروں کے لیے ادویات ہر وقت اپنے پاس رکھتے اور وقت پر ان کے کام آتے۔ گاؤں کے لوگ خط لکھوانے، پڑھانے، ٹیکہ لگوانے انہی کے پاس آتے تھے۔ جماعتی اور غیر جماعتی حلقہ میں یکساں مقبول تھے آپ نے ۴۲؍سال کی عمر میں ۲۳؍ستمبر ۱۹۸۴ء کو وفات پائی اور تدفین گھوگھیاٹ میں ہوئی۔

آج ہمارے پڑدادا حضرت حاجی غلام حسین صاحبؓ  کی نسلیں دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ جماعتی خدمات بھی سر انجام دے رہے ہیں اور دنیاوی لحاظ سے بھی آسودہ حال ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ خلافت سے ہمارا اور ہماری اولاد در اولاد کا پختہ تعلق قائم فرمائے اور اسے مزید بڑھاتا چلا جائے۔

کروں کیوں کر ادا میں شکر باری

فدا ہو اس کی رہ میں عمر ساری

مرے سر پر ہے منت اس کی بھاری

چلی اس ہاتھ سے کشتی ہماری

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: بیرونِ قادیان کے پہلے موصی حضرت مولوی عنایت اللہ مدرِّسؓ آف چَبّہ سَندھواں ضلع گوجرانوالہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button