سب سے بڑھ کر انبیاء و اولیاء پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں
وہ ابتلاء کہ جو شیر ببر کی طرح اور سخت تاریکی کی مانند نازل ہوتا ہے اس لئے نازل ہوتا ہے کہ تا اس برگزیدہ قوم کو قبولیت کے بلند مینار تک پہنچاوے اور الٰہی معارف کے باریک دقیقے ان کو سکھا وے۔ یہی سنت اللہ ہے۔ جو قدیم سے خدائے تعالیٰ اپنے پیاروں، بندوں کے ساتھ استعمال کرتا چلا آیا ہے زبور میں حضرت دائودؑ کی ابتلائی حالت میں عاجزانہ نعرے اس سنت کو ظاہر کرتے ہیں اور انجیل میں آزمائش کے وقت میں حضرت مسیح ؑکی غریبانہ تضرعات اسی عادت اللہ پر دال ہیں اور قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں جناب فخرالرسلؐ کی عبودیت سے ملی ہوئی ابتہالات اسی قانون قدرت کی تصریح کرتے ہیں اگر یہ ابتلا ء درمیان میں نہ ہوتا تو انبیاء اور اولیاء ان مدارج عالیہ کو ہرگز نہ پا سکتے کہ جو ابتلاء کی برکت سے انہوں نے پا لئے۔ ابتلاء نے ان کی کامل وفاداری اور مستقل ارادے اور جانفشانی کی عادت پر مہر لگا دی اور ثابت کردکھایا کہ وہ آزمائش کے زلازل کے وقت کس اعلیٰ درجہ کا استقلال رکھتے ہیں اور کیسے سچے وفادار اور عاشق صادق ہیں کہ ان پر آندھیاں چلیں اور سخت سخت تاریکیاں آئیں اور بڑے بڑے زلزلے ان پر وارد ہوئے اور وہ ذلیل کئے گئے اور جھوٹوں اور مکاروں اور بے عزتوں میں شمار کئے گئے اور اکیلے اور تنہا چھوڑے گئے یہاں تک کہ ربانی مددوں نے بھی جن کا ان کو بڑا بھروسہ تھا کچھ مدت تک منہ چھپا لیا اور خداتعالیٰ نے اپنی مربیانہ عادت کو بہ یکبار گی کچھ ایسا بدل دیا کہ جیسے کوئی سخت ناراض ہوتا ہے اور ایسا انہیں تنگی و تکلیف میں چھوڑ دیا کہ گویا وہ سخت مورد غضب ہیں۔ اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلائوں کا سلسلہ بہت طول کھنچ گیا۔ ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلاء نازل ہوا۔ غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں پر وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادہ سے باز نہ آئے اور سست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب و شدائد کا بار ان پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور جس قدر وہ توڑے گئے اسی قدروہ مضبوط ہوتے گئے اور جس قدر انہیں مشکلات راہ کا خوف دلایا گیا اسی قدر ان کی ہمت بلند اور ان کی شجاعت ذاتی جوش میں آتی گئی۔ بالآخر وہ ان تمام امتحانا ت سے اول درجہ کے پاس یافتہ ہو کر نکلے اور اپنے کامل صدق کی برکت سے پورے طور پر کامیاب ہو گئے اور عزت اور حرمت کا تاج ان کے سر پر رکھا گیا اور تمام اعتراضات نادانوں کے ایسے حباب کی طرح معدوم ہو گئے کہ گویا وہ کچھ بھی نہیں تھے غرض انبیاء و اولیاء ابتلاء سے خالی نہیں ہوتے بلکہ سب سے بڑھ کر انہیں پر ابتلاء نازل ہوتے ہیں اور انہیں کی قوت ایمانی ان آزمائشوں کی برداشت بھی کرتی ہے عوام الناس جیسے خداتعالیٰ کو شناخت نہیں کر سکتے ویسے اس کے خالص بندوں کی شناخت سے بھی قاصر ہیں بالخصوص ان محبوبانِ الٰہی کی آزمائش کے وقتوں میں تو عوام الناس بڑے بڑے دھوکوں میں پڑ جاتے ہیں گویا ڈوب ہی جاتے ہیں اور اتنا صبر نہیں کر سکتے کہ ان کے انجام سے منتظر رہیں۔ عوام کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ جل شانہ جس پودے کو اپنے ہاتھ سے لگاتا ہے اس کی شاخ تراشی اس غرض سے نہیںکرتا کہ اس کو نابود کر دیوے بلکہ اس غرض سے کرتاہے کہ تا وہ پودا پھول اور پھل زیادہ لاوے اور اس کے برگ اور بار میں برکت ہو۔ پس خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء کی تربیت باطنی اور تکمیل روحانی کے لئے ابتلاء کا ان پر وارد ہونا ضروریات سے ہے اور ابتلاء اس قوم کے لئے ایسا لازم حال ہے کہ گویا ان ربّانی سپاہیوں کی ایک روحانی وردی ہے جس سے یہ شناخت کئے جاتے ہیں۔
(سبز اشتہار ۔ روحانی خزائن جلد دوم صفحہ ۴۵۸ تا ۴۶۰)
مزید پڑھیں: مومن اپنے دل کو لغو خیالات اور لغو شغلوں سے پاک کرے



