حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب خواص ظاہر ہوتے ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ’’ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ147۔ جدید ایڈیشن)

یہ وہ بنیادی چیز ہے جس کی گہرائی کو ایک حقیقی مومن کو سمجھنا چاہئے اور سمجھتا ہے۔ دعاؤں کے بغیر اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکے بغیر تو ایمان لانے کا دعوٰی ہی بے معنی ہے۔ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: ’’ہمارا خدا تو دعاؤں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔‘‘ یہی آج ہر احمدی کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے۔ نہ صرف ابتلاؤں میں بلکہ سہولت اور آسائش اور امن کے دنوں میں بھی اپنے رب کے آگے جھکنے والے اور اس کو سب طاقتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہوئے اس کا حقیقی خوف دل میں رکھنے والے ہی حقیقی مومن ہیں اور جب ابتلاؤں کے دور آتے ہیں تو پہلے سے بڑھ کر مومن اُس پر ایمان مضبوط کرتے ہیں اور نہ صرف ایمان مضبوط کرتے ہیں بلکہ چھلانگیں مارتے ہوئے ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش میں وہ پہلے سے بڑھ کر تیز ہو جاتے ہیں۔ عارضی ابتلاء اور روکیں ان کے قدم ڈگمگانے والی نہیں ہوتیں۔ بلکہ ان ابتلاؤں اور روکوں کی وجہ سے وہ اور زیادہ عبادت میں بڑھتے ہیں۔ پس یہ انقلاب ہے جو ایک احمدی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پیدا کیا ہے اور جب تک ہم مستقل مزاجی کے ساتھ اس حالت پر قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں گے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں : ’’دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلاء پر ابتلاء آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلاء بھی آ جاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں۔ مگر مستقل مزاج، سعیدالفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک سِرّیہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی۔ اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔ پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کبھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہو گی یا نہیں ہوتی، ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ707-708۔ جدید ایڈیشن)

(خطبہ جمعہ ۸؍ فروری ۲۰۰۸ء ، الفضل انٹرنیشنل مورخہ ۲۹ فروری ۲۰۰۸ء صفحہ ۵)

مزید پڑھیں: لغویات سے پرہیز

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button