تازہ ترین: ۳۲ویں جلسہ سالانہ جماعت احمدیہ بیلجیم کا دوسرا دن

(۴؍جولائی ۲۰۲۶ء لیون، بیلجیم، نمائندہ الفضل انٹرنیشنل) جلسہ سالانہ بیلجیم کے دوسرے روز کا آغاز ۳ بج کر ۴۵ منٹ پر نماز تہجد سے ہوا جو کہ مکرم حافظ جہانزیب احمد صاحب قریشی نے پڑھائی۔ بعد ازاں مکرم وقاص مبشر احسان صاحب مربی سلسلہ نے نماز فجر پڑھائی اور درس قرآن دیا۔
دوسرا اجلاس: دوسرے اجلاس کا آغاز زیر صدارت مکرم ظفراللہ سلام صاحب مبلغ انچارج جماعت احمدیہ بیلجیم سے ہوا۔ مکرم محمد اعظم بھاگٹ صاحب نے تلاوت قرآن کریم مع اردو ترجمہ کی سعادت حاصل کی۔ جبکہ مکرم طارق حسین صاحب نے نظم پیش کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم انورالعمری صاحب نے ڈچ زبان میں سنو اللہ ہی کے ذکر سے دل اطمینان پکڑتے ہیں کے موضوع پر کیا۔ اس اجلاس کی دوسری تقریر مکرم ڈاکٹر نعمان احمد صاحب نے ہستی باری تعالیٰ سائنس کی نقطہ نگاہ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد نظم مکرم منیب احمد باجوہ صاحب نے پیش کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر حافظ برہان محمد خان صاحب نے تعلیم القران کی اہمیت اور متمتع ہونے کے ڈھنگ کے موضوع پر کی۔ اس طرح دوسرے دن کا پہلا اجلاس اختتام پزیر ہوا۔الحمدللہ

تیسرا اجلاس: طعام و نماز ظہر و عصر کے بعد تیسرا اجلاس مکرم شیخ وسیم احمد صاحب صدر مجلس انصار اللہ بیلجیم کی زیرصدارت شروع ہوا مکرم محمد الغزاوی صاحب کو تلاوت کریم کرنے کی سعادت ملی۔ خاکسار کو اردو ترجمہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔ مکرم احتشام احمد ہاشمی صاحب نے نظم پیش کی۔ اس اجلاس کی پہلی تقریر بعنوان بدظنی کا معاشرہ کی بدامنی میں کردار مکرم شہریار اکبر صاحب مربی سلسلہ نے پیش کی۔ اس کے بعد اجلاس کی دوسری تقریر مکرم انور حسین صاحب نائب امیر جماعت احمدیہ بیلجیم نے بعنوان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عشق الٰہی کی۔ اس اجلاس کی تیسری تقریر ڈچ زبان میں حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام بطور مسیح موعود ومہدی مکرم نظیم واندن بروک صاحب کی تھی۔
اس کے بعد سیکرٹری امورِ خارجہ بیلجیم مکرم شریف احمد صاحب نے جلسہ میں شریک دیگر معزز مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ اس اجلاس میں بیلجیم کے مختلف شہروں سے متعدد سیاسی نمائندگان، ممبر آف پارلیمنٹ، کونسلرز بھی شامل ہوئے انہوں نے اپنی تقاریر میں کہا کہ بڑے پیارے اور احسن طریق سے ان کو اس پروگرام میں خوش آمدید کہا گیا، جس کی وجہ سے لگا کہ وہ اپنے ہی لوگوں میں آئے ہیں ہمیں اس جلسہ میں شامل ہوکر بہت خوشی ہوئی ہے۔احمدیہ کمیونٹی کے ساتھ ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ احمدیہ کمیونٹی اسی طرح انسانیت کی بھلائی وبہبود کے لیے کام کرتی چلی جائے۔

تبلیغی میٹنگ: تبلیغی میٹنگ کا آغاز زیرصدارت مکرم فیروز عالم صاحب مرکزی نمائندہ سے ہوا۔ مکرم عطاالمصور صاحب نے تلاوت قرآن کریم پیش کی۔ مکرم امیر صاحب نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مہمانان کو خوش آمدید کہتے ہوئے غیر از احباب جماعت کے سامنے بڑے احسن رنگ سے جماعت کا تعارف کروایا اس کے بعد مکرم آصف بن اویس صاحب مربی سلسلہ وصدر خدام الاحمدیہ نے اپنی تقریر میں ایک خدا پر ایمان اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی حقیقت پر روشنی ڈالی۔ آخر پر مکرم Dirk Godecharle صاحب، جو ٹرن ہاؤٹ شہر کے پادری ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے احمدیہ جماعت سے خوبصورت کوئی جماعت نہیں دیکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پچھلے کئی سالوں سے جماعت کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہوں اور جو جماعت احمدیہ کے لوگ دعوٰی کرتے ہیں ویسے ہی ان کے عمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے بہت سی خوبصورت باتیں سیکھی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کسی پروگرام کا آغاز کرتی ہے تو خدا کے نام سے شروع کرتے ہیں۔ ان کو دیکھ کر میں بھی نے بھی یہ شروع کیا کہ جب بھی میں چرچ میں عبادت شروع کرتا ہوں تو میں بسم اللہ کا ترجمہ پڑھ کر شروع کرتا ہوں جو مجھے بہت تسلی اور سکون دیتا ہے۔ اس تبلیغی میٹنگ میں ۱۱۰؍افرادنے شرکت کی۔ الحمدللہ۔

بنگلہ تبلیغی سیمینار: پروگرام کا آغاز زیر صدارت مرکزی نمائندہ صاحب سے ہوا۔ مکرم وثیق الرحمٰن صاحب نے تلاوت قرآن کریم کی سعادت حاصل کی۔ مکرم امیر صاحب نے افتتاحی تقریر کی اس کا بنگالی ترجمہ مکرم این اے شمیم صاحب نے کیا اس کے بعد مکرم سلطان احمد صاحب نے جماعت کا تعارف پیش کیا۔اس کے بعد مکرم فیروز عالم صاحب نے تقریر کی جس میں آپ نے جماعت کے بنیادی عقائد اور اختلافی مسائل پر روشنی ڈالی۔ پھر سوال و جواب کے سیشن کے دوران انہوں نے غیر احمدی مہمانوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف سوالات کے جوابات فراہم کیے جس سے انہوں نے اسلام احمدیت کی حقیقی تعلیمات کے بارے میں بہتر اور گہری سمجھ حاصل کی۔ اس پروگرام میں بیلجیم کے مختلف حصوں سے ۵۰ بنگالی بولنے والے غیراحمدی مہمان شامل ہوئے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس جلسہ کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس جلسے کی برکات وفضائل سمیٹنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین ثم آمین۔