تازہ ترین: ۷۶ویں جلسہ سالانہ امریکہ کا دوسرا روز

دوسرا دن: ہفتہ، ۴ جولائی ۲۰۲۶ء
(رپورٹ: سید شمشاد احمد ناصر اور مطیع اللہ جوئیہ مربیان سلسلہ و نمائندگان الفضل انٹرنیشنل)
جماعت احمدیہ امریکہ کے ۷۶ویں جلسہ سالانہ کے دوسرے دن کا بابرکت آغاز نماز تہجد سے ہوا، جو صبح پونے چار بجے جلسہ گاہ میں مکرم حافظ مبارک کوکوئی صاحب، نیشنل سیکرٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی، نے پڑھائی۔ اس کے بعد مکرم احمد سلمان شیخ صاحب، مربی سلسلہ جماعت احمدیہ لاس اینجلس، نے نماز فجر پڑھائی اور بیعت کی پہلی شرط کے تناظر میں شرک سے اجتناب کے موضوع پر درس دیا۔
صبح سات بجے شاملین جلسہ کے لیے ڈائننگ ہال میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا، جبکہ رجسٹریشن کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری رہا۔ ٹریفک کنٹرول کے کارکنان بھی بروقت اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ گئے اور نہایت مستعدی سے خدمت میں مصروف ہو گئے۔

دوسرے دن کا پہلا اجلاس: ہفتہ کا پہلا اجلاس صبح دس بجے مکرم ندیم ملک صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم مکرم ہاشم عثمان صاحب، مربی سلسلہ ریاست ہوائی، نے پیش کی، جبکہ اس کا ترجمہ مکرم شمس الدین لطیف صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم خالد منہاس صاحب آف ڈیٹرائٹ جماعت نے نظم پیش کی، جس کا ترجمہ مکرم جلیس ڈار صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔

اس اجلاس میں کل پانچ تقاریر پیش کی گئیں۔ پہلی تقریر مکرم زکریا احمد سید صاحب نے ’’ایک مومن کا فریضہ۔ جھوٹ کے خلاف جہاد کرنا اور ہر حال میں سچائی پر قائم رہنا‘‘ کے عنوان پر کی۔ موصوف نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا کہ حقیقی نیکی کی بنیاد سچائی پر ہے۔ آپ نے یہ بھی بیان کیا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عملی نمونہ سے ہمیشہ سچائی، دیانت اور قول سدید کو اختیار کرنے کی تعلیم دی۔
بعد ازاں مکرم عرفان چودھری صاحب نے ’’دنیاوی بتوں سے منہ موڑ کر اسوہ حسنہ کو اپنانا‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ موصوف نے بیان کیا کہ بطور احمدی مسلمان ہمیں دنیاوی اور سوشل میڈیا شخصیات کے غیر ضروری اثرات سے اپنے دلوں کو محفوظ رکھنا چاہیے اور صرف رسول کریمﷺ کی سیرت مبارکہ کو اپنے لیے حقیقی نمونہ بنانا چاہیے۔

تیسری تقریر مکرم مدیل عبد اللہ صاحب نے ’’ریاء: خود نمائی کے دور میں نیت کی پاکیزگی کی اہمیت‘‘ کے عنوان پر کی۔ آپ نے سامعین کو توجہ دلائی کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں حقیقی احمدی کو ریاکاری سے بچتے ہوئے اپنی زندگی صرف خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے بسر کرنی چاہیے۔

اجلاس کی چوتھی تقریر مکرم حبیب محمد شفیق صاحب نے ’’آنے والی نسل میں ہمدردی، خدمت خلق اور بلند عزم و ہمت قائم کرنے کے لئے والدین کا فرض‘‘ کے عنوان پر کی۔ آپ نے تربیت اولاد کے حوالہ سے اس امر پر روشنی ڈالی کہ آئندہ نسل کو کس طرح نڈر، بااخلاق اور دینی اقدار کا حامل بنایا جا سکتا ہے۔
اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم طلحہ علی صاحب مربی سلسلہ نے ’’رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ: صحابہ کرام (رضوان اللہ علیھم اجمعین) کے اخلاص فی التوحید کے بے مثال نمونے‘‘ کے عنوان پر کی۔ آپ نے اپنی تقریر میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توحید سے عشق، اس کے قیام کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں اور ان کے اخلاص کا نہایت مؤثر انداز میں ذکر کیا۔

اجلاس کے اختتام پر چند اہم اعلانات کیے گئے۔ نماز ظہر و عصر مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب مربی سلسلہ نے تقریباً ڈیڑھ بجے پڑھائیں۔ نمازوں کے فوراً بعد آپ نے تین نکاحوں کا اعلان بھی کیا۔ بعد ازاں شاملین جلسہ نے دوپہر کا کھانا تناول کیا۔
دوسرے دن کا دوسرا اجلاس: دوسرا اجلاس شام تقریباً چار بجے مکرم بلال رانا صاحب، نائب امیر جماعت احمدیہ امریکہ، کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جو مکرم محمد البراقی صاحب نے پیش کی، جبکہ اس کا ترجمہ مکرم خالد اسد صاحب نے پڑھا۔ بعد ازاں مکرم زبیر عبیداللہ صاحب نے خوش الحانی کے ساتھ نظم پیش کی، جس کا ترجمہ مکرم مبارک بشیر صاحب نے پیش کیا۔
اس کے بعد مکرم قاسم رشید صاحب نے ’’عدل و انصاف۔ امریکہ کے آئین کی روشنی میں انسانی حقوق کا احیائے نو‘‘ کے عنوان پر جامع تقریر کی۔ آپ نے نہایت احسن انداز میں اسلام کی عدل و انصاف پر مبنی بے نظیر تعلیمات کا ذکر کیا اور اس امر پر روشنی ڈالی کہ امریکہ بھی انہی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر دوبارہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔

بعد ازاں مکرم امجد محمود خان صاحب، نیشنل سیکرٹری امور خارجہ، نے ان مہمانان کرام کا تعارف کروایا جنہوں نے جلسہ سالانہ سے خطاب کرنا تھا۔ اسی موقع پر احمدیہ مسلم ہیومینٹیرین ایوارڈ ریاست ٹیکساس کے کانگریسی نمائندہ گریگ کیزار صاحب (Greg Casar, D-Texas) کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دینے کا اعلان کیا گیا۔ موصوف خود جلسہ میں حاضر نہ ہو سکے، تاہم ان کا خصوصی ویڈیو پیغام تمام شاملین جلسہ کو سنایا گیا۔
دیگر مہمانان کرام میں سے درج ذیل احباب نے حاضرین جلسہ سے خطاب کیا:
- HON. JOSHUA COLE, MEMBER, VIRGINIA HOUSE OF DELEGATES
- KURT WERTHMULLER, SUPERVISORY POLICY ANALYST, U.S. COMMISSION ON INTERNATIONAL RELIGIOUS FREEDOM
- KNOX THAMES, EXECUTIVE DIRECTOR, EVERETT CENTER FOR GLOBAL RELIGIOUS FREEDOM, DASSAS BAPTIST UNIVERSITY
- CHRISTOPHER FRELKE, DIRECTOR, DEPARTMENT OF PARKS AND RECREATION, CITY OF RICHMOND
یہ اجلاس شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں جلسہ گاہ میں قرآن کریم کا پہلا دور مکمل کرنے والے بچے اور بچیوں کی تقریب آمین منعقد کی گئی جس میں مکرم مبارک کوکوئی صاحب، نیشنل سیکٹری تعلیم القرآن و وقف عارضی نے ان سے قرآن سنا اور دعا کرائی۔اس موقع پر کل ۲۵ بچے اور ۱۷ بچیوں کی آمین ہوئی۔ اس دوران دیگر شعبہ جات کے خصوسی پروگرام مختلف مقامات پر منعقد ہوئے جن میں سے بعض میں مکرم و محترم امیر صاحب جماعت احمدیہ امریکہ نے بھی شرکت کی۔
نماز مغرب و عشاء سے قبل مکرم شمشاد احمد ناصر صاحب نے امریکہ میں گزشتہ سال وفات پانے والے احباب و خواتین کے اسماء بغرض دعا پڑھ کر سنائے۔ اس کے بعد مکرم عمر نیر صاحب مربی سلسلہ نے نماز مغرب و عشاء پڑھائیں۔
اجلاسات مستورات:
لجنہ اماء اللہ امریکہ نے مورخہ ۴؍جولائی بروز ہفتہ اپنے علیحدہ جلسہ کے پروگرام کا آغاز کیا۔ یہ اجلاس محترمہ دیا طاہرہ بکر صاحبہ، نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ امریکہ، کی زیر صدارت صبح دس بجے شروع ہوا۔
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا، جس کے بعد پہلی تقریر محترمہ لبنیٰ ملک صاحبہ نے ’’دین کے ساتھ وطن سے بھی وفا کا عہد ‘‘ کے موضوع پر کی۔ دوسری تقریر محترمہ امۃ الرحمن احمد صاحبہ نے ’’اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد‘‘ کے عنوان پر پیش کی۔ تیسری تقریر محترمہ ربیعہ انور صاحبہ کی تھی، جنہوں نے ’’شیطانی وساوس اور نفسانی خواہشات کے خلاف جہاد اکبر‘‘ کے موضوع پر نہایت بصیرت افروز خطاب کیا۔
اجلاس کی اختتامی تقریر محترمہ زونا احمد صاحبہ نے ’’اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ إحساس شکر پیدا کرنا‘‘ کے موضوع پر کی۔ اس کے بعد امتیازی طالبات میں انعامات اور اسناد تقسیم کی گئیں۔
نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد تمام شاملات جلسہ نے دوپہر کا کھانا تناول کیا۔
مستورات کا دوسرا اجلاس
شام چار بجے مستورات کے دوسرے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا۔ اس اجلاس کی پہلی مقررہ مکرمہ ماہا ملک صاحبہ تھیں، جنہوں نے ’’بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔
بعد ازاں اختتامی تقریر مکرمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ امریکہ نے ’’وصیت۔ محبت اور قربانی کا عہد‘‘ کے عنوان سے کی۔
آخر میں نو مبائعات کے استقبال کی غرض سے چند بچیوں نے خوش الحانی کے ساتھ قصیدہ پیش کیا۔ اعلانات کے بعد شام کا کھانا چھ بجے پیش کیا گیا، جبکہ نماز مغرب و عشاء رات پونے نو بجے ادا کی گئیں۔

